Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

8/10/25

دین اسلام اور ہمارا مزاج | اہل مغرب دین سے متنفر کیوں؟ |نوجوان دین سے متنفر کویں؟

دین کے معاملات میں شخصی مزاج کی شمولیت

جب آپ دین کے معاملات میں اپنے مزاج کو داخل کرتے ہیں تو نظام بگڑ جاتا ہے ۔ الجھنیں پیدا ہوتی ہیں ، تشویش لاحق ہونے لگتی ہے، سوالات جنم لیتے ہیں اور دین کا اپنا حقیقی مزاج مجروح ہونے لگتا ہے!!!!

ان الفاظ سے سوال پیدا ہوتا ہے دین کے معاملات میں مزاج کے داخل ہونے سے کیا مراد ہے؟

تو سنیے!! اللہ تعالی نے ہر انسان کو عقل اور شعور سے نوازا ہے اور ایک دماغ دیا ہے جو کہ ہر انسان کا اپنے ماحولیاتی، خاندانی اور سماجی اثررات کی بدولت مختلف ہے اور بغیر کسی اختلاف رائے کے ہر انسان کی سوچ اور سوچ کا زاویہ مختلف ہے، ہر انسان اپنی ترجیحات ، خواہشات ، پسند و ناپسند اور رجحانات کے حوالے سے ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ (اس پر بے شمار سائنسی ،نفسیاتی ، مذہبی اور معاشرتی دلائل موجود ہیں)

بلکل ایسے ہی جیسے پانی اور مٹی ایک ہی قسم کے ہوتے ہیں لیکن زمین سے مختلف قسم کی نباتات وجود میں آتی ہیں۔  اسی طرح جب ایک حدیث اور قرآنی آیت اس دماغ میں جاتی ہے تو اس کا عکس دماغ اپنے مزاج سے لیتا ہے۔ (ممکن ہے دماغ وہی عکس لے رہا ہو جو دین کا مزاج ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ بلکل اس کے بر عکس ہو) ۔ معاشرے میں موجود  مذہبی اختلافات اور لڑائی جھگڑے میرے اس دعوے کا ثبوت ہیں۔

جو میں نے سمجھا وہی درست ہے

اس دور میں رسوائی والی بات یہ ہے کہ ہر شخص یہ کہتا ہے کہ جو میں نے سیکھا جو میں نے سمجھا وہی درست اور کامل ہے اور اس حقیقت کو ماننے کے لیے تیار ہی نہیں کہ جس طرح آپ کے دماغ نے عکس بنایا ہے  اسی طرح کوئی اور دماغ بھی عکس بنا سکتا ہے، اب یہ فیصلہ کون کرے گا کہ حقیقت میں درست کیا ہے؟ (اس سوال کا جواب ہے:  دین کا مزاج فیصلہ کرے گا)

یہی تصور کہ جو میں نے سمجھا یا سیکھا یا جو میرے اسلاف نے سمجھا اور سیکھا وہی حقیقت ہے یہ تصور ہی مزاج ہے جو دین میں داخل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور لوگوں کو مجبور کیا جاتا ہے  (یاد رہے میری اس تحریر میں علما اور عوام کے درمیان جو ایک خلا پیدا ہو رہا ہے اس کے آر پار دونوں گروہوں کی آپس کی کشمکش ہے)

 

دین میں شخصی مزاج کی کوئی گنجائش نہیں

          جناب رسالت ماب ﷺ نے بھی اللہ تعالی سے آنے والےاحکامات میں اپنے مزاج کو داخل نہیں ہونے دیا، جس طرح اللہ جل شانہ سے نازل ہوا اسی طرح لوگوں کو پہنچا دیا ، کمال کی دیانت داری ہے کمال کی امانت داری ہے ، کمال کی صاف گوئی اور حق بیان کرنے میں بے باکی ہے، کمال ہے کہ سورہ عبس کی ابتدائی آیات بھی امت کو سنا دیں، اپنے بیٹی کا نام لے کر فرما دیا کہ اگر چوری کرے گی تو ہاتھ کاٹے جائیں گے ، کمال کی دیانت داری ہے ایسے واقعات اور بیانات ہمیں بتاتے ہیں کہ دین میں اپنے مزاج کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ دین کو ویسے ہی لینا ہو گا جیسے یہ نازل ہوا ہے  اسی لیے تو حکم دیا گیا ہے ، ادخلوا فی السلم کافۃ۔۔۔۔۔۔اسی لیے تو کہا گیا ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو اور اگر جھگڑا ہو جائے تو  اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو۔۔۔ یعنی اللہ اور اس کے رسول کا مزاج جھگڑے ختم کرتا ہے مگر یہاں الٹی گنگا بہہ رہی ہے جھگڑے ہی اللہ اور اس کے رسول کے  نام پر ہو رہے ہیں اور انہیں معاملات میں جھگڑے جن معاملات نے جھگڑے ختم کرنے ہیں تو یہ جھگڑوں کا ہونا اور معاملات کا دن بدن  دیگر گوں ہونا اس بات کی واضح دلیل ہے کہ ہم دین میں اپنا مزاج داخل کرنے کے چکر میں ہیں ۔۔۔

جب یہ کہا جائے کہ!!  اس حدیث کا مطلب یہ نہیں، یہ ہے، اس آیت سے مراد یہ نہیں یہ ہے ۔چار بندے مختلف نکتہ نظر رکھتے ہوں تو اس کا مطلب ہے ہر کوئی اپنے مزاج کی پیروی کر رہا ہے، ہر کوئی اپنے مزاج کو درست منوانے پر تُلا ہوا ہے۔۔۔۔ اگر کوئی یہ کہے کہ اس حدیث یا آیت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے یہ بھی ہو سکتا ہے ، اس حکم کو اس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے اُس طرح بھی دیکھا جا سکتا ہے ، پھر بھی بات قابلِ برداشت ہے لیکن جو یہ دعوی کر دیا جاتا ہے کہ نہیں اس کا صرف یہی درست مطلب ہے جو میں بیان کر رہا ہوں یا میرے اسلاف نے جوبیان کیا ہے اس کے علاوہ سب غلط ہیں تو یہ رویہ نہ تو دین ہے اور نہ ہی دین کی عکاسی کرنے والا ہ۔

 اس بحث میں یہ دعوی کیا جا سکتا ہے کہ اس طرح تو کچھ لوگ احکام دین کی غلط تعبیرات لیتے ہیں تو پھر وہ بھی درست ہوئے جیسا کہ ہر دور میں اسلام دشمن طاقتیں کرتی رہی ہیں خاص طور پر مستشرقین اور منکرین حدیث مفہوم لیتے ہیں اور عقل کی پیروی میں دین کا حلیہ ہی بگاڑ کر رکھ  دیتے ہیں تو اس کے جواب میں گزارش یہ ہے کہ ۔۔۔۔ غلط اور صحیح کی صورت میں نتیجہ حاصل کرنے کے لیے ہمیں دین کا مزاج سیکھنا ہو گا ، دین کا اسلوب سیکھنا ہو گا  ۔

 یقینا یہ کام انتہائی مشکل ہے  اس کام کے لیے آپ کو !!!!!!! مسلکی ، گروہی ، خاندانی ، شخصی بنیادوں سے بہت اوپر جا کر سوچنا ہو گا ۔۔۔۔ ایک لمحے کے لیے تجدید ایمان کرتے ہوئے کلمہ پڑھ کر خود کو نچلی سطح پر بیٹھا کر جیسے ابھی ابھی کلمہ پڑھ کر مسلمان ہوئے ہیں ایسی سوچ لے کر بیٹھنا ہو گا نہ  یہ کہ میں نے دس سال درس نظامی پڑھا ہے، میں شیخ الحدیث و التفسیر ہوں، مجھے پچاس سال ہو گئے دین پڑھاتے ہوئے،میں پی ایچ ڈی ڈاکٹر بن گیا ہوں ، میں نے مفتی کورس کر لیا ،میں نے پوسٹ ڈاکٹریٹ کر لیا، لوگ میرے ہاتھ چومتے ہیں ، میرے دائیں بائیں گھومتے ہیں یہ سب باتیں انسان کو گمراہ کرنے میں ایک منٹ نہیں لگاتیں۔

مغرب میں اہل مغرب دین سے متنفر کیوں ہوئے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟

          اس سوال کا جواب لینے کے لیے کبھی اس اندز میں بھی سوچیں کہ آیا وہ مذہب جو مذہب کے پیشواوں نے پھیلایا تھا ، جس کی تعلیم اس مذہب کے پیشوا نے دی تھی  اگر سیدھی بات کی جائے تو کیا اہل مغرب کے ہاں اس وقت وہی مسیحیت (کہ جس سے اہل مغرب متنفر ہوئے تھے اور مذہب کو چھوڑا تو ترقی کی)  رائج تھی جو جناب مسیح عیسیٰ علیہ السلام نے پھیلائی تھی ، کیا اس وقت مذہب کے ٹھیکیدار مسیحیت کے مزاج کے مطابق فیصلے کرتے تھے یا اپنے مزاج کو ہی مذہب بنا کر پیش کرتے تھے ، جو اندھیر نگری یورپ میں ’’ڈارک ایجز‘‘ میں مچی ہوئی تھی اور پاپائیت اپنے عروج پر تھی کیا وہ  وہی مذہب تھا جس کی تعلیمات جناب مسیح ابن مریم علیھما السلام دے کر گئے تھے۔ ہر گز نہیں اس وقت لوگ اس مذہب سے متنفر ہوئے تھے جس میں پاپاوں کے مزاج  کی پیروی ہوتی تھی ، مذہبی تعلیمات مفقود تھیں اور مذہبی رہنماوں کی انائیں اور من مرضیاں ہی مذہب کا روپ دھار کر  معاشرے پر مسلط تھیں ۔ اس وقت لوگوں نے اسے ہی مذہب جانا اور اس سے متنفر ہوئے۔

                ہر گز کوئی الہامی مذہب فطرتی اصولوں کے خلاف نہیں ہوتا ۔

          اس دور میں دین اسلام کے حوالے سے لوگ چند طبقات میں تقسیم ہو گئے ہیں:

·       پہلا طبقہ وہ جو روایت پسند اور حقیقی معنوں میں اسلام کی پیروی چاہتا اور کرتا ہے

·       وہ طبقہ جو اپنی جہالت کی وجہ سے دین اسلام سے متنفر نظر آتا ہے

·       وہ طبقہ جو  چند مذہبی رہنماوں کے رویے کی وجہ سے دین سے دور نظر آتا ہے

·       وہ طبقہ جو دشمن کا آلہ کار نظر آتا ہے اور اس طبقے کے پھیلائے ہوئے تشکیک و تنقید کے ہتھکنڈے سے چند لوگ دین کواس سائنسی ترقی کے دور میں ترقی کا ذریعہ نہیں سمجھتے اور مثال یورپ کی پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے دین سے دوری اختیار کی تو ترقی کی (حالانکہ یہ سراسر غلط نظریہ ہے)

نتیجہ اور عملی تجاویز

 دین کی اصل روح تبھی باقی رہ سکتی ہے جب ہم:

·       شخصی مزاج کو دین سے الگ رکھیں۔

·       دین کو اصل مصادر (قرآن و سنت) سے سیکھیں۔

·       مسلکی یا ذاتی تعصبات سے بالاتر ہو کر تحقیق کریں۔

·       اختلافِ رائے میں عاجزی اختیار کریں دوسروں کی رائے کا احترام کریں۔

·       دین کا مزاج سمجھنے کے لیے رسول اللہ ﷺ کے طرزِ عمل کو معیار بنائیں۔


تحریر : محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر، یونیورسٹی آپ ایجوکیشن لاہور)


Share:

علما کو اپنا رویہ بدلنا ہو گا | Scholars Must Change Their Approach — Guiding Today’s Youth with the Qur’an and Sunnah


علما کو اپنا یہ رویہ بدلنا ہو گا!

نوجوانوں کے سوالات اور علما کا موجودہ طرزِ عمل

جب کوئی نوجوان کسی مسئلے پر سوال کرتا ہے تو اکثر دیکھا گیا ہے کہ علامہ صاحب اس کا جواب اپنی ذاتی فہم یا اپنے مخصوص مسلک کی روشنی میں دیتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی نوجوان قرآن و حدیث سے واضح حوالہ مانگتا ہے، تو بجائے خوشی محسوس کرنے کے، بعض علما برا مان جاتے ہیں، غصے میں آ جاتے ہیں، یا ناراضگی کے ساتھ محض ایک آدھ حدیث سنا دیتے ہیں یا کسی بزرگ کا قول پیش کر کے بات ختم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پھر نوجوان سے اس پر عمل کرنے کا مطالبہ بھی کرتے ہیں، چاہے وہ مطمئن ہو یا نہ ہو۔

اکیسویں صدی کے نوجوان — تحقیق، سوال اور حوالہ کی عادت

یہ اکیسویں صدی کے نوجوان ہیں۔ سوشل میڈیا اور جدید ذرائع نے انہیں سوال کرنے، تحقیق کرنے اور حوالہ تلاش کرنے کا عادی بنا دیا ہے۔ ممکن ہے وہ اس مسئلے سے متعلق احادیث پہلے ہی پڑھ کر آیا ہو، یا آپ کا علم جانچنا چاہتا ہو۔ اس لیے آج کے دور میں ضروری ہے کہ علما اپنی پرانی عادت چھوڑ کر نوجوانوں کی ضرورت کے مطابق بات کریں اور بات ہمیشہ قرآن و سنت کے واضح دلائل کے ساتھ کریں۔

انا سے بڑھ کر قرآن و سنت کی اہمیت

یاد رکھیں! آپ کی علمی انا یا ذاتی تشریح سے زیادہ اہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا اصل فرمان ہے۔ اگر کوئی حدیث مانگتا ہے تو اس پر ناراض ہونے کی کوئی وجہ نہیں، کیونکہ اسی نبی ﷺ کی احادیث کی بدولت ہی آپ کو عزت ملی ہے۔ تو پھر اس نوجوان کو اپنی ذاتی تاویلات کے بجائے براہِ راست نبی ﷺ کی بات کیوں نہ بتائیں؟

دیانت داری سے حوالہ دینے کی ضرورت

اگر کسی وقت حوالہ یاد نہ ہو تو دو ٹوک اور سچائی سے کہہ دیں کہ "میں دیکھ کر بتاؤں گا"۔ اس میں نہ آپ کی عزت کم ہوتی ہے، نہ علم۔ بلکہ یہ آپ کی دیانت اور شرافت کی دلیل ہو گی۔ اور اگر آپ کو معلوم ہے تو واضح اور صحیح حوالہ دے کر بات ختم کر دیں۔

مثبت رویہ — دین کی عزت اور نوجوانوں کا احترام

یہی طرز عمل آج کے دور میں دین کی عزت، عالم کی وقعت اور نوجوان کے دل میں احترام پیدا کرے گا۔

محمد سہیل عارف معینیؔ ( پی ایچ ڈی سکالر : یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)


Share:

عربی گرامر | تسہیل النحو | لا نفی جنس | Arabic Grammar | La Nafi Jins

لا نفی جنس

لا نفی جنس وہ حرف ہے ، جو اسم نکرہ کی جنس سے خبر کی نفی کرتا ہے، یہ اپنے اسم کو نصب بغیر تنوین اور خبر کو رفع دیتا ہے جیسے ، لَاسُرُوْرَ دَائِمٌ (کوئی خوشی ہمیشہ رہنے والی نہیں)۔

اس کے اسم کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ مضاف، ۲۔ مشابہ مضاف ، ۳۔مفرد نکرہ،

۱۔ مضاف: وہ اسم نکرہ ہے جو دوسرے اسم نکرہ کی طرف مضاف ہو جیسے لَاغُلَامَ رَجُلٍ ظَرِیْفٌ( آدمی کا کوئی غلام ظریف نہیں)

۲۔ مشابہ مضاف: اس سے مراد وہ اسم ہے جو مضاف نہیں ہوتا مگر جس طرح مضاف ، مضاف الیہ کا محتاج ہوتا ہے اسی طرح وہ بھی اپنا معنی مکمل کرنے کے لیے مابعد کا محتاج ہوتا ہے اگرچہ وہ اس کا معمول ہو۔ جیسے لَارَاکِبًا فَرَسًا ذَاھِبٌ (کوئی گھوڑا سوار جانے والا نہیں)

۳۔ مفرد نکرہ: وہ اسم ہے جو نہ مضاف ہو اور نہ ہی مشابہ مضاف ہو اس صورت میں یہ مبنی بر فتح ہوتا ہے: جیسے لَابُسْتَانَ مُثْمِرٌ

 

عمل کی شرائط

۱۔ اس کا اسم اور خبر دونوں نکرہ ہوتے ہیں جیسے مذکورہ مثالیں، اگر ان میں کوئی معرفہ آ جائے تو اس کا عمل باطل ہو جاتا ہے، جیسے

لَا الرَّجُلُ فِی الدَّارِ وَلَا ابْنُہٗ

۲۔ اس کی خبر سے پہلے الا یا بل کا لفظ نہیں آتا ورنہ عمل باطل ہو جاتا ہے جیسے لَا شَجَرَۃٌ اِلَّا مُثْمِرَۃٌ

۳۔ اس کے اور اس کے اسم کے درمیان فاصلہ نہیں ہوتا اگر فاصلہ آ جائے تو عمل باطل ہو جاتا ہے جیسے لَا فِی الْحَدِیْقَۃِ صِبْیَانٌ وَلَا بَنَاتٌ

۴۔ اس سے پہلے حرف جر نہیں آتا ، اگر آ جائے تو عمل باطل ہو جاتا ہے۔وُضِعَ الْاَثَاثُ فِی الْحُجْرَۃِ بِلَا تَرْتِیْبٍ (سامان کمرے میں بلا ترتیب رکھا گیا ہے)

نوٹ : اگر لا نفی جنس کے بعد اسم نکرہ ہو اور اس کا دوسرے نکرہ کے ساتھ تکرار آ جائے تو اس کو بغیر تنوین کے نصب اور تنوین کے ساتھ رفع دینا ، دونوں جائز ہیں۔ جیسے لَا رَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ اس کو لَارفثٌ وَلَافُسُوْقٌ پڑھنا بھی جائز ہے۔

نوٹ: لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ میں پانچ وجہیں جائز ہیں اگر پہلے اسم نکرہ کو فتح دیں تو دوسرے کو فتح ، نصب اور رفع تینوں جائز ہیں لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ ، وَلَا قُوَّۃً، وَلَا قُوَّۃٌ ، اِلَّا بِاللہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ ، اور اگر پہلے اسم کو رفع دیں تو دوسرے کو مفتوح اور مرفوع پڑھنا جائز ہے جیسے لَاحَوْلٌ وَلَا قُوَّۃَ اور وَلَا قُوَّۃٌ

سوالات

۱۔ لا نفی جنس اور لا مشابہ بلیس میں کیا فرق ہے؟

۲۔ لا نفی جنس کے کی کیا شرائط ہیں؟

۳۔ لا نفی جنس کے اسم کی کتنی صورتیں ہیں؟

۴۔ درج ذیل فقرات میں لا نفی جنس کے اسم اور خبر کی پہچان کریں

لَا عَاقِلَیْنِ مُتَشَاتِمَانِ ۔۔۔۔۔۔ لَا مُتَنَافِسِیْنَ فِی الْخَیْرِ نَادِمُوْنَ۔۔۔۔۔۔، لَا عَمَلَ خَیْرٍ ضَائِعٌ۔۔۔۔۔۔ لَا عَاصِیاً  اَبَاہُ مُوَفَّقٌ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا فَوَّارَاتِ فِی الْبُسْتَانِ

۵ درج ذیل فقرات میں لا نفی جنس نے عمل کیوں نہیں کیا؟

لَا تِلْمِیْذٌ غَائِباً بَلْ تِلْمِیْذَانِ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا فِی الْقَصِیْدَۃِ ھِجَاءٌ وَلَا مَدِیْحٌ۔۔۔۔۔۔۔۔ اِشْتَرَیْتُ الْحِصَانَ بِلَا سَرْجٍ۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا فِیْھَا غَوْلٌ وَلَا ھُمْ عَنْھَا یُنْزَفُوْنَ (سورۃ الصّٰٓفّٰٓتِ:۴۷)۔۔۔۔۔۔۔۔ لَا الْمُؤْمِنُوْنَ قَانِطُوْنَ

 

Share:

8/7/25

سرکار کا روضہ ہے چپ چاپ کھڑے رہنا | Sarkar ka roza hai chup chaap


 

سرکار کا روضہ ہے چپ چاپ کھڑے رہنا

جب تک نہ ملے معافی قدموں میں پڑے رہنا

 

کرنا نا صلح یارو گستاخ محمدﷺ سے

سرکار کے دشمن سے ہر وقت لڑے رہنا

 

ابلیس تو روکے گا کہ نہ جانا مدینے میں

اے زائر بطحا تم بس آگے بڑھے رہنا

 

بڑھنے دو محمدﷺ کے سجدے کی طوالت کو

اے ابن علی دیکھو کاندھوں پہ چڑھے رہنا

 

عباس یہ کہتے تھے شبیر کے جھنڈے سے

ہے قسم تجھے میری تا حشر گڑے رہنا

 

سرکار کی نسبت سے ہوتا ہے بڑا بندہ

تم ہو تو بڑے حاکم ایسے ہی بڑے رہنا

 

Share:

7/19/25

نصیحت میں اثر کیوں نہیں ہوتا؟ ایک اہم نفسیاتی اور دعوتی پہلو Win Hearts Before You Preach – The Prophetic & Sufi Approach to Effective Advice

بات میں اثر کیوں نہیں ہوتا؟ ایک قرآنی اور صوفیانہ راز

اچھی بات بھی کیوں بے اثر ہو جاتی ہے؟ جانئیے اصل وجہ

نصیحت میں اثر کیوں نہیں ہوتا؟ ایک اہم نفسیاتی اور دعوتی پہلو

اکثر ہم دیکھتے ہیں کہ کوئی شخص کتنی ہی عمدہ، مدلل اور خیرخواہانہ نصیحت کیوں نہ کرے، مخاطب کے دل پر اس کا اثر نہیں ہوتا۔ بسا اوقات انسان سچی بات کہتا ہے، حق بات پر زور دیتا ہے، لیکن مخاطب کے دل میں وہ بات اُترتی نہیں، بلکہ کبھی الٹا ردعمل بھی سامنے آتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوتا ہے؟

اس کی ایک بہت بڑی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم جس کو نصیحت کر رہے ہوتے ہیں، وہ ہماری ذات سے مانوس نہیں ہوتا، اس کے اور ہمارے درمیان کوئی تعلق، انسیت، یا اعتماد کا رشتہ موجود نہیں ہوتا۔ وہ ہمیں "مشورہ دینے والا" تو سمجھتا ہے، لیکن "خیرخواہ" نہیں سمجھتا، کیونکہ وہ ہمارے باطن سے واقف نہیں، وہ ہماری محبت کو محسوس نہیں کر پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری بات میں اثر پیدا نہیں ہوتا، چاہے وہ بات کتنی ہی عمدہ اور سچی کیوں نہ ہو۔

مانوسیت: نصیحت کی بنیاد

یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے کہ انسان سب سے پہلے بات سے زیادہ "بات کرنے والے" کو دیکھتا ہے۔ اگر بات کرنے والا اس کے لیے نیا، اجنبی، یا ناصح بن کر اچانک سامنے آ جائے، تو مخاطب کے دل میں ایک طرح کی مدافعت (defensiveness) پیدا ہو جاتی ہے۔ لیکن اگر وہی بات اس شخص کی طرف سے آئے جس سے دل میں محبت ہو، مانوسیت ہو، انسیت ہو، تو وہ بات دل میں اُتر جاتی ہے۔

اس لیے مؤثر نصیحت کا پہلا زینہ یہ ہے کہ انسان پہلے اپنی ذات کو مانوس بنائے۔ مخاطب کو یہ محسوس ہو کہ یہ شخص میری خیرخواہی چاہتا ہے، میری اصلاح کا سچا ارادہ رکھتا ہے، میری شخصیت کو رد نہیں کر رہا بلکہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔

نبوی حکمت: "لقد لبثت فیکم عمراً من قبلہ"

قرآنِ کریم کی آیت "لَقَدْ لَبِثْتُ فِیکُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِ" (القرآن، سورۃ یونس : 16) میں ایک گہری دعوتی حکمت چھپی ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ نے توحید کا پیغام دیا تو قریش نے اعتراضات اٹھائے، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "میں تو تمہارے درمیان ایک عمر تک رہا ہوں، اس سے پہلے (میں نے کوئی جھوٹ یا گمراہی کی بات نہیں کی)، تو تم کیوں نہیں سمجھتے؟"

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے یہ حقیقت بیان فرمائی کہ نبی ﷺ کی بات میں اس لیے اثر تھا کہ وہ قوم آپ ﷺ سے پہلے سے مانوس تھی، آپ کی سچائی، دیانت، شرافت، اور حسنِ اخلاق سے واقف تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولتا، کبھی دھوکہ نہیں دیتا۔ اس لیے جب آپ ﷺ نے کلمۂ توحید پیش کیا تو اگرچہ ان کے مفادات کی وجہ سے انکار کیا، لیکن دلوں میں آپ کی سچائی کا اعتراف موجود تھا۔ یہی مانوسیت، یہی تعلق، دعوت کی کامیابی کی پہلی شرط ہے۔

نصیحت کا اثر کن پر ہوتا ہے؟

کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ہمیں جانتا تک نہیں، نہ ہم نے کبھی اسے دیکھا نہ اس سے کوئی سابقہ رہا، لیکن اس کی بات دل میں اُتر جاتی ہے، اس کی زبان میں عجب کشش ہوتی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ شخص عمومی طور پر لوگوں کے دلوں میں محبوب ہوتا ہے، اس کی شخصیت میں اخلاص، انکساری، حسنِ اخلاق، اور خیرخواہی کی جھلک ہوتی ہے۔ گویا وہ اپنی پوری زندگی سے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا چکا ہوتا ہے۔ تب اُس کی بات دلوں پر اثر ڈالتی ہے، اگرچہ سننے والا اُس سے مانوس نہ بھی ہو۔

یہی وجہ ہے کہ کچھ شخصیات کا صرف بولنا ہی نہیں، خاموش رہنا بھی متاثر کرتا ہے، کیونکہ ان کی شخصیت کی بنیاد اخلاص، محبت، اور سچائی پر قائم ہوتی ہے۔

دعوت و اصلاح کا اصل اصول

اسلامی دعوت کا اصول یہی ہے کہ پہلے تعلق بناؤ، دل میں جگہ پیدا کرو، اعتماد قائم کرو، پھر بات کرو۔ یہ ایک مسلسل عمل ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے 40 سالہ کردار سے اس اصول کو اپنایا۔ دعوت کے میدان میں کامیابی کی کنجی یہی ہے کہ انسان اپنے دل کو اتنا صاف کرے کہ دوسرے دل اس کی طرف مائل ہو جائیں۔ اسی حکمتِ عملی کی عظیم مثال ہمیں برصغیر (ہندوستان) میں آنے والے اولیاء اللہ اور صوفیاء کرام کی زندگیوں میں ملتی ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ، حضرت بہاؤالدین زکریاؒ، حضرت لعل شہباز قلندرؒ، اور دیگر عظیم ہستیاں جب ہندوستان کے مختلف علاقوں میں آئیں تو انہوں نے براہِ راست وعظ و تلقین یا مناظروں سے دعوت نہیں دی، بلکہ پہلے اپنے کردار، اخلاق، سخاوت، محبت، اور عوام سے بے لوث تعلقات کے ذریعے دلوں میں جگہ بنائی۔ انہوں نے بھوکے کو کھانا دیا، بیمار کو دعا دی، مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوئے، اور امیر و غریب سب سے شفقت و مساوات کا برتاؤ کیا۔

 یہی وہ مانوسیت تھی جس نے ہندوؤں، سکھوں، اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کے دلوں کو نرم کیا اور انہیں سوچنے پر مجبور کیا کہ یہ کیسا دین ہے جس کے پیروکار صرف زبانی نہیں، عملی محبت دیتے ہیں۔ پھر جب ان صوفیاء کرام نے اسلامی دعوت پیش کی تو وہ دلوں میں اُتر گئی۔ یہی وجہ ہے کہ برصغیر میں اسلام کسی تلوار کے زور سے نہیں بلکہ اخلاق و انسیت کے ذریعے پھیلا۔

نصیحت تبھی مؤثر ہوتی ہے جب شخصیت محبوب ہو

نصیحت وہی مؤثر ہوتی ہے جس کے پیچھے اخلاص، خیرخواہی، محبت اور مانوسیت ہو۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی بات سنی جائے، اس پر غور ہو، اس سے فائدہ اٹھایا جائے، تو سب سے پہلے اپنی ذات کو قابلِ اعتماد بنائیں، اپنے اخلاق و معاملات کو سنواریں، لوگوں کے دکھ درد میں شریک ہوں، اُن سے محبت کریں، پھر اللہ تعالیٰ آپ کی زبان سے نکلی ہوئی باتوں میں تاثیر پیدا فرما دے گا۔

تحریر: محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

Share:

7/17/25

Online Quran & Islamic Classes for Sisters and Brothers | Moeeni Educare Online Services

Online Quran & Islamic Classes for Sisters and Brothers

📖 Are you searching for online Quran classes with expert guidance and proper Tajweed?

Your search ends here! We offer Quran online classes, specially designed for sisters and brothers from all backgrounds. Whether you're just starting out or wish to enhance your recitation and understanding, we are here to help!

✨ What We Offer:

✅Quran Tutor Online >> Learn from qualified teachers

✅ Tajweed Classes >> Step-by-step improvement in recitation

✅ Female Quran Teachers >>  For comfort and privacy of sisters

✅ Islamic Classes >> Covering essential beliefs and daily practices

✅ Flexible Timings >> Learn at your convenience

✅ One-on-One & Group Sessions >> Based on your preference

✅ Safe Online Environment >> Learn from home with peace of mind

🔍 Looking for “Tajweed classes near me” or a reliable Quran online teacher?

Join hundreds of students already learning with us!

📲 Contact Now to Join: 📞 WhatsApp: 0300-5262557

🌐 Website: Click Here to Contact
🕌 "The best among you are those who learn the Quran and teach it." – Prophet Muhammad ﷺ

Start your journey of knowledge, faith, and transformation today

 

Share:

7/16/25

مکالمہ بین المذاہب | بنیادی اصول | Interfaith Dialogue

مکالمہ بین المذاہب  کو موثر بنانے کے لیے فقل تعالوا الی کلمۃ سواء کی روشنی میں دو اہم اصول:

·       مکالمہ شروع کرنے سے پہلے متعلقہ موضوع سے متعلق ایسے پہلووں کو زیر بحث لایا جائے اور ان پر اتفاق کیا جائے جو  فریقین کے ہاں مشترکہ اقدار پر مبنی ہوں۔

·       مختلف مکاتب فکر کے درمیان معاشرتی حوالے سے رواداری کی راہ تلاش کرنی ہو اور بقائے باہمی کے لیے رستہ ہموار کرنا ہو تو ایسے پہلو کو تلاش کرنے چاہئیں جو متفقہ اور مشترک ہوں

یہ دونوں نکات نہایت اہم، گہرے اور بین المذاہب یا بین المکاتب مکالمہ کی حکمت عملی کے اصولی خدوخال پر مبنی ہیں۔ ان نکات کو مفہوم، حکمت، اور تدریج کے پہلو سے درج ذیل تجزیے میں سمویا جا سکتا ہے:

 1. مشترکہ اقدار کو بنیاد بنانا: تدریجی حکمت کی علامت پہلے نکتے میں کہا گیا ہے کہ "مکالمہ شروع کرنے سے پہلے متعلقہ موضوع سے متعلق ایسے پہلووں کو زیر بحث لایا جائے اور ان پر اتفاق کیا جائے جو  فریقین کے ہاں مشترکہ اقدار پر مبنی ہوں۔" یہ نکتہ قرآن مجید کے اس عظیم اصول کی عملی شکل ہے جو آیت: "تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءِ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ" میں بیان ہوا ہے۔ اس اصول کی بنیاد "تدریج" (gradualism) پر ہے، جو کہ حکیمانہ مکالمہ کا بنیادی قاعدہ ہے۔ جب مختلف المذاہب یا المکاتب گروہ آپس میں بات چیت کرتے ہیں، تو سب سے پہلے انہیں وہ بات چیت شروع کرنی چاہیے جو نقاطِ اتفاق پر مبنی ہو۔ یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ مکالمہ تناؤ کے بجائے اعتماد اور احترام کی فضا میں شروع ہو، تاکہ کسی بھی پیچیدہ یا متنازع پہلو تک پہنچنے سے پہلے نفسیاتی قبولیت اور بنیادی فکری ہم آہنگی پیدا ہو جائے۔ یہ طریقہ محض فکری چال نہیں، بلکہ ایک تربیتی اسلوب ہے جو مخاطب کو نرمی، تدبر اور سچائی کے قریب لانے میں مدد دیتا ہے۔ یہی تدریج انبیاء کی سنت بھی رہی ہے۔

 2. بقائے باہمی کے لیے مشترکہ نکات کی تلاش: رواداری کا عملی راستہ دوسرے نکتے میں فرمایا گیا: "اگر مختلف مکاتب فکر کے درمیان معاشرتی حوالے سے رواداری کی راہ تلاش کرنی ہو اور بقائے باہمی کے لیے رستہ ہموار کرنا ہو تو ایسے پہلو کو تلاش کرنے چاہئیں جو متفقہ اور مشترک ہوں۔" یہ نکتہ سماجی سطح پر مکالمے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ اس میں مقصود یہ ہے کہ ہم صرف نظریاتی گفتگو پر ہی نہ رکیں، بلکہ معاشرتی بقا اور پرامن بقائے باہمی کو بھی مدنظر رکھیں۔ اس کے لیے بنیادی شرط یہ ہے کہ ہم پہلے سے موجود مشترکہ انسانی و اخلاقی اقدار جیسے:

·       انصاف

·       احترامِ انسانیت

·       آزادیِ مذہب و ضمیر

·       خدمتِ خلق

·       سماجی بھلائی

کو بنیاد بنائیں۔ جب کسی معاشرے میں یہ مشترک قدریں مشترکہ لائحہ عمل کی صورت میں سامنے آئیں، تو نہ صرف انتہا پسندی کم ہوتی ہے بلکہ بین المذاہب/بین الفرقہ رواداری کو پائیدار بنیاد بھی ملتی ہے۔


Share:

7/9/25

Nusrat Collection | Nusrat Fateh Ali Khan’s Timeless Qawwalis & Ghazals | A Journey into Soulful and Spiritual Music

🌟 نصرت فتح علی خان: صوفی موسیقی کا جاودانی سُر 🌟

نصرت فتح علی خان، ایک ایسا نام جو صوفیانہ موسیقی، قوالی، اور غزل کو بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ ان کی آواز میں جو روحانیت، گہرائی اور جذب ہے، وہ آج بھی سننے والوں کے دلوں پر راج کرتی ہے۔ اس بلاگ میں ہم آپ کو پیش کر رہے ہیں ان کی مشہور اور دل کو چھو لینے والی قوالیوں اور غزلوں کا انتخاب، تصویروں کے ساتھ — جہاں ہر تصویر میں موجود لنک آپ کو براہِ راست اس موسیقی کے سحر میں لے جائے گا۔

Nusrat Fateh Ali Khan — a legendary name that brought Sufi music, Qawwali, and Ghazals to global recognition. His voice carries a rare depth, spiritual essence, and emotional intensity that continues to captivate hearts around the world. In this blog, we present a soulful selection of his most iconic Qawwalis and Ghazals, accompanied by visuals — each image containing a direct link that transports you into the mesmerizing world of his music.





































Share:

7/8/25

ادارہ معین الاسلام بیربل شریف، سرگودھا: ایک روحانی مرکز اور دسویں محرم کے نوافل کی منفرد روایت


ادارہ معین الاسلام بیربل شریف، سرگودھا: ایک روحانی مرکز اور دسویں محرم کے نوافل کی منفرد روایت

 ✨ تعارف:     ادارہ معین الاسلام، بیربل شریف، ضلع سرگودھا، پاکستان کا ایک روحانی، دینی اور علمی مرکز ہے جہاں علمِ دین، تزکیۂ نفس اور ذکرِ الٰہی کی محفلیں سال بھر جاری رہتی ہیں۔ یہ ادارہ صرف تعلیم کا مرکز ہی نہیں بلکہ ایک خانقاہی نظام کے تحت روحانی تربیت کا ذریعہ بھی ہے۔

پیر و مرشد کی علمی و روحانی شخصیت: اس خانقاہ کے سرپرست اور ہمارے پیر و مرشد (صاحبزادہ پروفیسر محبوب حسین چشتی زید مجدہ)  ایک جلیل القدر عالم دین اور صاحبِ سلوک ہستی ہیں جنہوں نے بے شمار مریدین کی اصلاح و تربیت فرمائی ہے۔ ان کی مجلسِ ارشاد میں قرآن و حدیث، فقہ، تصوف اور بین السطور روحانی نکات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔

 🕋 دسویں محرم اور شہدائے کربلا سے عقیدت:        محرم الحرام، بالخصوص دسویں محرم کا دن، اس خانقاہ میں انتہائی عقیدت، احترام اور روحانی وقار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔ ہر سال اس دن شہدائے کربلا کے ایصالِ ثواب کے لیے ایک عظیم عمل انجام دیا جاتا ہے، جو اس خانقاہ کی منفرد روحانی روایت ہے۔

بیس نوافل کی خاص ادائیگی:         دسویں محرم کے روز اس خانقاہ میں خصوصی بیس نوافل ادا کیے جاتے ہیں جو ایصالِ ثواب کے لیے وقف کیے جاتے ہیں۔ ان نوافل کے ذریعے شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں کو خراجِ عقیدت پیش کیا جاتا ہے۔ ہر نماز مخصوص نیت اور دعا کے ساتھ پڑھی جاتی ہے جس کی تفصیل خانقاہ کے نظام کے تحت ہوتی ہے۔

نوافل کی ترتیب اور تعداد کے لیے تصویر دیکھیں:


 💬 زائرین و طلباء  کی روحانی کیفیت:          یہ موقع صرف نوافل تک محدود نہیں بلکہ زائرین و معتقدین کا ہجوم روحانی سرور اور گریہ و زاری کی فضا پیدا کر دیتا ہے۔ دلوں کو جھنجھوڑنے والی دعائیں، ذکرِ حسینؑ، اور اجتماعی نالہ و فریاد کی محفلیں اس دن کو ایک منفرد روحانی رنگ دیتی ہیں۔

 🌙 خانقاہی روایت کا تسلسل:       ادارہ معین الاسلام میں اس روحانی روایت کا تسلسل گزشتہ کئی دہائیوں سے قائم ہے۔ یہ عمل نہ صرف ایصالِ ثواب کا ذریعہ ہے بلکہ عوام الناس کو اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت و عقیدت کے عملی مظاہرے کی ایک بابرکت صورت مہیا کرتا ہے۔




Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive