Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label سورتوں کا تعارف. Show all posts
Showing posts with label سورتوں کا تعارف. Show all posts

8/9/23

سورہ النساء کا تعارف | سورہ النساء کے فضائل | Introduction of soorah al Nisa

تعارف:

سُوْرَۃُ النِّسَآءِ قرآن مجید کی ترتیب توقیفی کے اعتبار سے چوتھی  سورت ہے۔ اور ترتیب نزولی کے اعتبار سے 92 نمبر پر ہے۔ یہ سورت چوتھے پارے سے شروع ہو رہی ہے اور چھٹے پارے میں ختم ہوتی ہے۔ سُوْرَۃُ النِّسَآءِ میں 24 رکوع اور 176 آیات ہیں ۔ یہ سورت سُوْرَۃُ الْمُمْتَحِنَۃِ کے بعد اور سُوْرَۃُ الزِّلْزَالِ سے پہلے  مدینہ منورہ میں 3 ہجری سے 5 ہجری کے اوائل تک نازل ہوئی ، یعنی ہجرت کے بعد نازل ہونے کی وجہ سے اس کا شمار مدنی سورتوں میں ہوتا ہے۔ سُوْرَۃُ النِّسَآءِ، سُوْرَۃُ الْبَقَرَۃِ کے بعد قرآن مجید کی سب سے بڑی سورت ہے۔ قرآن مجید کی سات بڑی سورتوں کو سبع طوال کہا جاتا ہے ، سُوْرَۃُ النِّسَآءِ سبع طوال کا حصہ ہے۔

وجہ تسمیہ :

اس سورت مبارک میں عورتوں کے حقوق اور اہم مسائل و معاملات کی تفصیلات موجود ہیں،  اس لیے اس سورت کا نام   سُوْرَۃُ النِّسَآءِہے۔ اس سورت کی پہلی آیت میں ہی لفظ  (نساء) موجود ہے جس سے اس سورت کا نام اخذ کیا گیا ہے۔

سُوْرَۃُ النِّسَآءِ کی فضیلت:

وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ: «اقْرَأْ عَلَيَّ» . قُلْتُ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟ قَالَ: «إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي» . فَقَرَأْتُ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ إِلَى هَذِهِ الْآيَةِ (فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلَاءِ شَهِيدا) قَالَ: «حَسْبُكَ الْآنَ» . فَالْتَفَتُّ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ (مشکوٰة المصابیح #2195)

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں ، رسول اللہ ﷺ منبر پر تھے کہ آپ ﷺ نے مجھے فرمایا :’’ مجھے قرآن سناؤ ۔‘‘ میں نے عرض کیا ، میں آپ کو قرآن سناؤں ، جبکہ وہ آپ پر نازل کیا گیا ہے ، آپ ﷺ نے فرمایا :’’ میں اپنے علاوہ کسی اور سے اسے سننا چاہتا ہوں ۔‘‘ میں نے سورۃ النساء تلاوت کی حتیٰ کہ جب میں اس آیت «(فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاء شَهِيْدًا )» پر پہنچا تو آپ ﷺ نے فرمایا :’’ اب بس کرو ۔‘‘ میں نے آپ کی طرف دیکھا تو آپ کی آنکھیں اشکبار تھیں ۔ متفق علیہ ۔

 

>

عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا  اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  قَالَ: ((مَنْ اَخَذَ السَّبْعَ الْاُوَلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَھُوْ حِبْرٌ)) (مسند احمد#8336)

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا  بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو قرآن پاک سے پہلی سات سورتیں یاد کرے وہ ایک بڑا عالم ہے۔

عن سعید بن جبیر قال قال عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ : مَنْ قَرَاَ الْبَقَرَۃَ وَ آلَ عِمْرَانَ وَ النِّسَآءَ کُتِبَ عِنْدَ اللہِ مِنَ الْحُکَمَاْءِ (شعب الایمان : 2201)

حضرت سعید بن جبیر کہتے ہیں حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے فرمایا جس نے سورۃ البقرہ ، آل عمران اور النساء پڑھی وہ اللہ کے نزدیک دانا (حکمت والے )  لوگوں میں لکھا جائے گا۔

 

Share:

2/16/23

سورہ ال عمران کا تعارف سورہ ال عمران کی فضیلت سورۃ ال عمران کے نام the intoduction of soorah al imran

تعارف:

سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرَانَ قرآن مجید کی ترتیب توقیفی کے اعتبار سے تیسری سورت ہے۔ اور ترتیب نزولی کے اعتبار سے 89 نمبر پر ہے۔ یہ سورت تیسرے پارے سے شروع ہو رہی ہے اور چوتھے پارے میں ختم ہوتی ہے۔ سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرَانَ میں 20 رکوع اور 200 آیات ہیں ۔ یہ سورت سُوْرَۃُ الْاَنْفَالِ کے بعد  مدینہ منورہ میں کچھ غزوہ بدر اور کچھ غزوہ احد کے بعد نازل ہوئی۔اس سورت کا آغاز حروف مقطعات الم سے ہو رہا ہے۔

The intoduction of soorah al imran

وجہ تسمیہ :

        اس سورت میں آیت 33 سے آیت 56 تک اللہ تعالی نے حضرت مریم سلام اللہ علیھا کے والدین کا ذکر کیا ۔ عمران حضرت حضرت مریم علیہا السلام کے والد کا نام ہے ۔ حضرت مریم علیہا السلام کی پیدائش ، مسجد اقصی میں سکونت اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کی بشارت کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے اس وجہ سے اس سورت کا نام سورۃ اٰل عمران  رکھا گیا ہے۔لفظ اٰل عمران آیت نمبر 33 میں  مذکور ہے۔

        سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرَانَ کے اور بھی متعدد نام احادیث مبارکہ میں مذکور ہیں: چند ایک درج ذیل ہیں :

        1: زہرا

        2: طیبہ

        3: الکنز

سُوْرَۃُ اٰلِ عِمْرَانَ کی فضیلت:

النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا (صحیح مسلم: 1876)

ترجمہ: حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے ، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ان کے آگے آگے ہوں گی ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں دیں جن کو ( سننے کے بعد ) میں ( آج تک ) نہیں بھولا ، آپ نے فرمایا :’’ جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں ، وہ اپنے صاحب ( صحبت میں رہنے والے ) کی طرف سے مدافعت کریں گی ۔‘‘

 

Share:

11/16/22

سورۃ البقرہ کا تعارف | سورہ بقرہ کے فضائل | سورہ بقرہ کے نام | soorah baqara ka taaruf

سُوْرَۃُ الْبَقَرَہِ قران مجید میں  پہلے پارے سے شروع ہو رہی ہے۔ اس سورت میں دو سو چھیاسی (286) آیات اور چالیس (40) رکوع ہیں۔ سُوْرَۃُ الْبَقَرَہِ ہجرت مدینہ کے بعد ابتدائی زمانے میں نازل ہوئی۔سورۃ البقرہ قرآن مجید کی طویل ترین سورت ہے۔  اس سورت میں بنی اسرائیل کی ایک گائے کا تذکرہ ہے جس وجہ سے اس سورت کا نام سُوْرَۃُ الْبَقَرَہِ رکھا گیا ہے۔ اس سورت کے چند نام اور بھی احادیثِ مبارکہ میں ملتے ہیں۔

۱:       سنام القرآن

۲:       فسطاط القرآن

۳:       ذروۃ القرآن

۴:       سید القرآن

فضائل:

          سُوْرَۃُ الْبَقَرَہِ میں عبادات اور معاملات سے متعلق احکام بیان ہوئے ہیں اس سورت کا سیکھنا بہت فضیلت والا عمل ہے۔ ذیل میں چند ایک احادیث مبارکہ ذکر کی جارہی ہیں:

1:      عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ مَقَابِرَ إِنَّ الشَّيْطَانَ يَنْفِرُ مِنْ الْبَيْتِ الَّذِي تُقْرَأُ فِيهِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ (صحیح مسلم:1824(

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ ، شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں سورہ بقرہ پڑھی جاتی ہے ۔‘‘

2:      أَبُو أُمَامَةَ الْبَاهِلِيُّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ يَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ شَفِيعًا لِأَصْحَابِهِ اقْرَءُوا الزَّهْرَاوَيْنِ الْبَقَرَةَ وَسُورَةَ آلِ عِمْرَانَ فَإِنَّهُمَا تَأْتِيَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا غَيَايَتَانِ أَوْ كَأَنَّهُمَا فِرْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ أَصْحَابِهِمَا اقْرَءُوا سُورَةَ الْبَقَرَةِ فَإِنَّ أَخْذَهَا بَرَكَةٌ وَتَرْكَهَا حَسْرَةٌ وَلَا تَسْتَطِيعُهَا الْبَطَلَةُ قَالَ مُعَاوِيَةُ بَلَغَنِي أَنَّ الْبَطَلَةَ السَّحَرَةُ۔(صحیح مسلم:1874(

حضرت ابوامامہ باہلی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا :’’ قرآن پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اصحاب قرآن ( حفظ و قراءت اور عمل کرنے والوں ) کا سفارشی بن کر آئے گا ۔ دو روشن چمکتی ہوئی سورتیں : البقرہ اور آل عمران پڑھا کرو کیونکہ وہ قیامت کے دن اس طرح آئیں گی جیسے وہ دو بادل یا دو سائبان ہوں یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑتے پرندوں کی دو ڈاریں ہوں ، وہ اپنی صحبت میں ( پڑھنے اور عمل کرنے ) والوں کی طرف سے دفاع کریں گی ۔ سورہ بقرہ پڑھا کرو کیونکہ اسے حاصل کرنا باعث برکت اور اسے ترک کرنا باعث حسرت ہے اور باطل پرست اس کی طاقت نہیں رکھتے ۔‘‘ معاویہ نے کہا : مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ باطل پرستوں سے ساحر ( جادوگر ) مراد ہیں

3:      النَّوَّاسَ بْنَ سَمْعَانَ الْكِلَابِيَّ يَقُولُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يُؤْتَى بِالْقُرْآنِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَأَهْلِهِ الَّذِينَ كَانُوا يَعْمَلُونَ بِهِ تَقْدُمُهُ سُورَةُ الْبَقَرَةِ وَآلُ عِمْرَانَ وَضَرَبَ لَهُمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَمْثَالٍ مَا نَسِيتُهُنَّ بَعْدُ قَالَ كَأَنَّهُمَا غَمَامَتَانِ أَوْ ظُلَّتَانِ سَوْدَاوَانِ بَيْنَهُمَا شَرْقٌ أَوْ كَأَنَّهُمَا حِزْقَانِ مِنْ طَيْرٍ صَوَافَّ تُحَاجَّانِ عَنْ صَاحِبِهِمَا ( صحیح مسلم: 1876)

حضرت نواس بن سمعان کلابی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا :’’ قیامت کے دن قرآن اور قرآن والے ایسے لوگوں کو لایا جائے گا جو اس پر عمل کرتے تھے ، سورہ بقرہ اور سورہ آل عمران ان کے آگے آگے ہوں گی ۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے ان سورتوں کے لیے تین مثالیں دیں جن کو ( سننے کے بعد ) میں ( آج تک ) نہیں بھولا ، آپ نے فرمایا :’’ جیسے وہ دو بادل ہیں یا دو کالے سائبان ہیں جن کے درمیان روشنی ہے یا جیسے وہ ایک سیدھ میں اڑنے والے پرندوں کی دو ٹولیاں ہیں ، وہ اپنے صاحب ( صحبت میں رہنے والے ) کی طرف سے مدافعت کریں گی

4:      عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    مَنْ قَرَأَ الْآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ الْبَقَرَةِ فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ  ۔(جامع ترمذی : 2881)

 رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے رات میں سورۃ البقرہ کی آخری دو آیتیں پڑھیں وہ اس کے لیے کافی ہو گئیں“

5:      عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    لِكُلِّ شَيْءٍ سَنَامٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّ سَنَامَ الْقُرْآنِ سُورَةُ الْبَقَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏وَفِيهَا آيَةٌ هِيَ سَيِّدَةُ آيِ الْقُرْآنِ هِيَ آيَةُ الْكُرْسِيِّ 

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر چیز کی ایک چوٹی ہوتی ہے ۱؎ اور قرآن کی چوٹی سورۃ البقرہ ہے، اس سورۃ میں ایک آیت ہے یہ قرآن کی ساری آیتوں کی سردار ہے اور یہ آیت آیۃ الکرسی ہے“۔ (جامع ترمذی : 2878)

6:      عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ:‏‏‏‏    بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْثًا وَهُمْ ذُو عَدَدٍ فَاسْتَقْرَأَهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَاسْتَقْرَأَ كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ مَا مَعَهُ مِنَ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَأَتَى عَلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ مِنْ أَحْدَثِهِمْ سِنًّا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ مَا مَعَكَ يَا فُلَانُ ؟ قَالَ:‏‏‏‏ مَعِي كَذَا وَكَذَا وَسُورَةُ الْبَقَرَةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَمَعَكَ سورة البقرة ؟ فَقَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَاذْهَبْ فَأَنْتَ أَمِيرُهُمْ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَشْرَافِهِمْ:‏‏‏‏ وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏مَا مَنَعَنِي أَنْ أَتَعَلَّمَ سورة البقرة إِلَّا خَشْيَةَ أَلَّا أَقُومَ بِهَا، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ وَاقْرَءُوهُ، ‏‏‏‏‏‏فَإِنَّ مَثَلَ الْقُرْآنِ لِمَنْ تَعَلَّمَهُ فَقَرَأَهُ وَقَامَ بِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَثَلِ جِرَابٍ مَحْشُوٍّ مِسْكًا يَفُوحُ رِيحُهُ فِي كُلِّ مَكَانٍ، ‏‏‏‏‏‏وَمَثَلُ مَنْ تَعَلَّمَهُ فَيَرْقُدُ وَهُوَ فِي جَوْفِهِ، ‏‏‏‏‏‏كَمَثَلِ جِرَابٍ وُكِئَ عَلَى مِسْكٍ   (جامع ترمذی:2876)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے گنتی کے کچھ لشکری بھیجے  ( بھیجتے وقت )  ان سے  ( قرآن )  پڑھوایا، تو ان میں سے ہر ایک نے جسے جتنا قرآن یاد تھا پڑھ کر سنایا۔ جب ایک نوعمر نوجوان کا نمبر آیا تو آپ نے اس سے کہا: اے فلاں! تمہارے ساتھ کیا ہے یعنی تمہیں کون کون سی سورتیں یاد ہیں؟ اس نے کہا: مجھے فلاں فلاں اور سورۃ البقرہ یاد ہے۔ آپ نے کہا: کیا تمہیں سورۃ البقرہ یاد ہے؟ اس نے کہا: ہاں، آپ نے فرمایا: ”جاؤ تم ان سب کے امیر ہو“۔ ان کے شرفاء میں سے ایک نے کہا: اللہ کے رسول! قسم اللہ کی! میں نے سورۃ البقرہ صرف اسی ڈر سے یاد نہ کی کہ میں اسے  ( نماز تہجد میں )  برابر پڑھ نہ سکوں گا۔ آپ نے فرمایا: ”قرآن سیکھو، اسے پڑھو اور پڑھاؤ۔ کیونکہ قرآن کی مثال اس شخص کے لیے جس نے اسے سیکھا اور پڑھا، اور اس پر عمل کیا اس تھیلی کی ہے جس میں مشک بھری ہوئی ہو اور چاروں طرف اس کی خوشبو پھیل رہی ہو، اور اس شخص کی مثال جس نے اسے سیکھا اور سو گیا اس کا علم اس کے سینے میں بند رہا۔ اس تھیلی کی سی ہے جو مشک بھر کر سیل بند کر دی گئی ہو“۔ 

 

Share:

11/5/22

سورۃ الفاتحہ کا تعارف | سورہ فاتحہ کے نام | سورۃ فاتحہ کے فضائل soorah fatiha ke fazail

سورۃ الفاتحۃ قرآن مجید کی ترتیب  توقیفی کے لحاظ سے پہلی سورت ہے۔ترتیب نزولی کے اعتبار سے اس سورت کا  نمبر پانچ (5) ہے یہ سورت سورۃ المدثر کے بعد نازل ہوئی۔یہ قرآن مجید کے پہلے پارے میں ہے۔ اس سورت میں ایک (1) رکوع اور سات(7) آیات ہیں۔ اس سورت میں پہلی آیت تسمیہ یعنی بسم اللہ الرحمن الرحیم کو شامل کیا جاتا ہے۔ یہ سورت دو مرتبہ نازل ہوئی ایک مرتبہ مکہ مکرمہ میں اور دوسری مرتبہ مدینہ منورہ میں  تحویل قبلہ کے وقت ،پہلی بار مکہ مکرمہ میں نازل ہونے کی وجہ سے مکی ہی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کے بہت سے نام ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:

          1:      ام القرآن

          2:      ام الکتاب

          3:      سورۃ الحمد

          4:      السبع المثانی

          5:      فاتحہ الکتاب

          6:      الکافیہ

          7:      الوافیہ

          8:      الشفاء

          9:      سورۃ الدعاء

          10:    سورۃ الالصلوٰۃ                                   (ان اسماء کی تشریح کے لیے تفاسیر کا مطالع کریں)

سورۃ الفاتحۃ کے بے شمار فضائل زبان نبویہ ﷺ سے وارد ہوئے ہیں۔

          عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَن رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏    يَا أُبَيُّ وَهُوَ يُصَلِّي فَالْتَفَتَ أُبَيٌّ وَلَمْ يُجِبْهُ وَصَلَّى أُبَيٌّ فَخَفَّفَ ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَعَلَيْكَ السَّلَامُ مَا مَنَعَكَ يَا أُبَيُّ أَنْ تُجِيبَنِي إِذْ دَعَوْتُكَ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ:‏‏‏‏ يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏إِنِّي كُنْتُ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَفَلَمْ تَجِدْ فِيمَا أَوْحَى اللَّهُ إِلَيَّ أَنِ اسْتَجِيبُوا لِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ إِذَا دَعَاكُمْ لِمَا يُحْيِيكُمْ سورة الأنفال آية 24، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ بَلَى، ‏‏‏‏‏‏وَلَا أَعُودُ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ أَتُحِبُّ أَنْ أُعَلِّمَكَ سُورَةً لَمْ يَنْزِلْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ نَعَمْ، ‏‏‏‏‏‏يَا رَسُولَ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ كَيْفَ تَقْرَأُ فِي الصَّلَاةِ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ فَقَرَأَ أُمَّ الْقُرْآنِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا أُنْزِلَتْ فِي التَّوْرَاةِ وَلَا فِي الْإِنْجِيلِ وَلَا فِي الزَّبُورِ وَلَا فِي الْفُرْقَانِ مِثْلُهَا، ‏‏‏‏‏‏وَإِنَّهَا سَبْعٌ مِنَ الْمَثَانِي، ‏‏‏‏‏‏وَالْقُرْآنُ الْعَظِيمُ الَّذِي أُعْطِيتُهُ  

ترجمہ:  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابی بن کعب رضی الله عنہ کے پاس سے گزرے وہ نماز پڑھ رہے تھے، آپ نے فرمایا: ”اے ابی  ( سنو )  وہ  ( آواز سن کر )  متوجہ ہوئے لیکن جواب نہ دیا، نماز جلدی جلدی پوری کی، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا: السلام علیک یا رسول اللہ!  ( اللہ کے رسول آپ پر سلامتی نازل ہو ) ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: وعلیک السلام  ( تم پر بھی سلامتی ہو )  ابی! جب میں نے تمہیں بلایا تو تم میرے پاس کیوں نہ حاضر ہوئے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میں نماز پڑھ رہا تھا۔ آپ نے فرمایا: ” ( اب تک )  جو وحی مجھ پر نازل ہوئی ہے اس میں تجھے کیا یہ آیت نہیں ملی استجيبوا لله وللرسول إذا دعاكم لما يحييكم ”اے ایمان والو! تم اللہ اور رسول کے کہنے کو بجا لاؤ، جب کہ رسول تم کو تمہاری زندگی بخش چیز کی طرف بلاتے ہوں“  ( انفال ۲۴ ) ، انہوں نے کہا: جی ہاں، اور آئندہ إن شاء اللہ ایسی بات نہ ہو گی۔ آپ نے فرمایا: ”کیا تمہیں پسند ہے کہ میں تمہیں ایسی سورت سکھاؤں جیسی سورت نہ تو رات میں نازل ہوئی نہ انجیل میں اور نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں؟“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول!  ( ضرور سکھائیے )  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز میں تم  ( قرآن )  کیسے پڑھتے ہو؟“ تو انہوں نے ام القرآن  ( سورۃ فاتحہ )  پڑھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے۔ تورات میں، انجیل میں، زبور میں  ( حتیٰ کہ )  قرآن اس جیسی سورت نازل نہیں ہوئی ہے۔ یہی سبع مثانی ۲؎  ( سات آیتیں )  ہیں اور یہی وہ قرآن عظیم ہے جو مجھے عطا کیا گیا ہے“۔(جامع ترمذی: 2875)

          عَنْ أَبِي سَعِيدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ :    انْطَلَقَ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرُوهَا حَتَّى نَزَلُوا عَلَى حَيٍّ مِنْ أَحْيَاءِ الْعَرَبِ ، فَاسْتَضَافُوهُمْ ، فَأَبَوْا أَنْ يُضَيِّفُوهُمْ ، فَلُدِغَ سَيِّدُ ذَلِكَ الْحَيِّ ، فَسَعَوْا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ ، لَا يَنْفَعُهُ شَيْءٌ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : لَوْ أَتَيْتُمْ هَؤُلَاءِ الرَّهْطَ الَّذِينَ نَزَلُوا لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَ بَعْضِهِمْ شَيْءٌ فَأَتَوْهُمْ ، فَقَالُوا : يَا أَيُّهَا الرَّهْطُ ، إِنَّ سَيِّدَنَا لُدِغَ وَسَعَيْنَا لَهُ بِكُلِّ شَيْءٍ لَا يَنْفَعُهُ ، فَهَلْ عِنْدَ أَحَدٍ مِنْكُمْ مِنْ شَيْءٍ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَعَمْ ، وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرْقِي ، وَلَكِنْ وَاللَّهِ لَقَدِ اسْتَضَفْنَاكُمْ فَلَمْ تُضَيِّفُونَا ، فَمَا أَنَا بِرَاقٍ لَكُمْ حَتَّى تَجْعَلُوا لَنَا جُعْلًا فَصَالَحُوهُمْ عَلَى قَطِيعٍ مِنَ الْغَنَمِ ، فَانْطَلَقَ يَتْفِلُ عَلَيْهِ ، وَيَقْرَأُ : الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سورة الفاتحة آية 2 ، فَكَأَنَّمَا نُشِطَ مِنْ عِقَالٍ فَانْطَلَقَ يَمْشِي وَمَا بِهِ قَلَبَةٌ ، قَالَ : فَأَوْفَوْهُمْ جُعْلَهُمُ الَّذِي صَالَحُوهُمْ عَلَيْهِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : اقْسِمُوا ، فَقَالَ : الَّذِي رَقَى ، لَا تَفْعَلُوا حَتَّى نَأْتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَنَذْكُرَ لَهُ الَّذِي كَانَ فَنَنْظُرَ مَا يَأْمُرُنَا ، فَقَدِمُوا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرُوا لَهُ ، فَقَالَ : وَمَا يُدْرِيكَ أَنَّهَا رُقْيَةٌ ، ثُمَّ قَالَ : قَدْ أَصَبْتُمُ اقْسِمُوا وَاضْرِبُوا لِي مَعَكُمْ سَهْمًا ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ:  نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ رضی اللہ عنہم سفر میں تھے۔ دوران سفر میں وہ عرب کے ایک قبیلہ پر اترے۔ صحابہ نے چاہا کہ قبیلہ والے انہیں اپنا مہمان بنا لیں، لیکن انہوں نے مہمانی نہیں کی، بلکہ صاف انکار کر دیا۔ اتفاق سے اسی قبیلہ کے سردار کو سانپ نے ڈس لیا، قبیلہ والوں نے ہر طرح کی کوشش کر ڈالی، لیکن ان کا سردار اچھا نہ ہوا۔ ان کے کسی آدمی نے کہا کہ چلو ان لوگوں سے بھی پوچھیں جو یہاں آ کر اترے ہیں۔ ممکن ہے کوئی دم جھاڑنے کی چیز ان کے پاس ہو۔ چنانچہ قبیلہ والے ان کے پاس آئے اور کہا کہ بھائیو! ہمارے سردار کو سانپ نے ڈس لیا ہے۔ اس کے لیے ہم نے ہر قسم کی کوشش کر ڈالی لیکن کچھ فائدہ نہ ہوا۔ کیا تمہارے پاس کوئی چیز دم کرنے کی ہے؟ ایک صحابی نے کہا کہ قسم اللہ کی میں اسے جھاڑ دوں گا لیکن ہم نے تم سے میزبانی کے لیے کہا تھا اور تم نے اس سے انکار کر دیا۔ اس لیے اب میں بھی اجرت کے بغیر نہیں جھاڑ سکتا، آخر بکریوں کے ایک گلے پر ان کا معاملہ طے ہوا۔ وہ صحابی وہاں گئے اور الحمد لله رب العالمين پڑھ پڑھ کر دم کیا۔ ایسا معلوم ہوا جیسے کسی کی رسی کھول دی گئی ہو۔ وہ سردار اٹھ کر چلنے لگا، تکلیف و درد کا نام و نشان بھی باقی نہیں تھا۔ بیان کیا کہ پھر انہوں نے طے شدہ اجرت صحابہ کو ادا کر دی۔ کسی نے کہا کہ اسے تقسیم کر لو، لیکن جنہوں نے جھاڑا تھا، وہ بولے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر پہلے ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کر لیں۔ اس کے بعد دیکھیں گے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں۔ چنانچہ سب حضرات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کا ذکر کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ تم کو کیسے معلوم ہوا کہ سورۃ فاتحہ بھی ایک رقیہ ہے؟ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ اسے تقسیم کر لو اور ایک میرا حصہ بھی لگاؤ۔ یہ فرما کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے (صحیح بخاری:2276)

عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَيْنَمَا جِبْرِيلُ قَاعِدٌ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمِعَ نَقِيضًا مِنْ فَوْقِهِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ فَقَالَ هَذَا بَابٌ مِنْ السَّمَاءِ فُتِحَ الْيَوْمَ لَمْ يُفْتَحْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَنَزَلَ مِنْهُ مَلَكٌ فَقَالَ هَذَا مَلَكٌ نَزَلَ إِلَى الْأَرْضِ لَمْ يَنْزِلْ قَطُّ إِلَّا الْيَوْمَ فَسَلَّمَ وَقَالَ أَبْشِرْ بِنُورَيْنِ أُوتِيتَهُمَا لَمْ يُؤْتَهُمَا نَبِيٌّ قَبْلَكَ فَاتِحَةُ الْكِتَابِ وَخَوَاتِيمُ سُورَةِ الْبَقَرَةِ لَنْ تَقْرَأَ بِحَرْفٍ مِنْهُمَا إِلَّا أُعْطِيتَهُ

ترجمہ:حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ جبریل علیہ السلام نبی اکرم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ اچانک انھوں نے اوپر سے ایسی آواز سنی جیسی دروازہ کھلنے کی ہوتی ہے تو انھوں نے اپنا سر اوپر اٹھایا اور کہا : آسمان کا یہ دروازہ آج ہی کھولا گیا ہے ، آج سے پہلے کبھی نہیں کھولا گیا ، اس سے ایک فرشتہ اترا تو انھوں نے کہا : یہ ایک فرشتہ زمین پر اترا ہے ، یہ آج سے پہلے کبھی نہیں اترا ، اس فرشتے نے سلام کیا اور ( آپ ﷺ سے ) کہا : آپ کو دو نور ملنے کی خوش خبری ہو جو آپ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دیئے گئے : ( ایک ) فاتحۃ الکتاب ( سورہ فاتحہ ) اور ( دوسری ) سورہ بقرہ کی آخری آیات ۔ آپ ان دونوں میں سے کوئی جملہ بھی نہیں پڑھیں گے مگر وہ آپ کو عطا کر دیا جائے گا ۔ (صحیح مسلم : 1877/806)

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive