Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label Society. Show all posts
Showing posts with label Society. Show all posts

4/18/25

Top LinkedIn Hashtags | A Complete Guide to Boost Your Visibility

Top LinkedIn Hashtags: A Complete Guide to Boost Your Visibility


In today’s fast-paced digital world, hashtags are not just social media accessories — they are strategic tools. Especially on LinkedIn, using the right hashtags helps increase your content’s reach, visibility, and engagement across professional networks. Whether you’re a marketer, manager, job seeker, or entrepreneur, this guide will help you use hashtags effectively.

 

Top Hashtags for General Articles

These hashtags are highly popular across diverse industries and are perfect for thought leadership, trend analysis, and professional commentary.

#innovation #management #HumanResources #digitalmarketing #technology #creativity #Future #futurism #Entrepreneurship #Careers #Markets #Startups #Marketing #SocialMedia #VentureCapital #SocialNetworking #LeanStartups #Economy #Economics #motivation #sustainability #healthcare #education #design #sales #fundraising #construction

 

Top Hashtags in Soft Skills and Self-Development

If your content revolves around personal growth, emotional intelligence, or professional development, these hashtags will resonate with your audience.

#creativity #personaldevelopment #motivation #mindfulness #inspiration #selfhelp #management #leadership

Top Hashtags in Marketing

Are you sharing marketing insights, campaigns, or branding strategies? Learn more from HubSpot's LinkedIn Marketing Guide. Use these hashtags to target digital marketers and brand strategists.

#digitalmarketing #marketing #economy #economics #advertisingandmarketing #strategy #sales #contentmarketing

 

Top Hashtags for Managers

For team leaders, project managers, and business executives, these hashtags align perfectly with leadership and organizational strategy content.

#Management #Innovation #Technology #Sales #Strategy #Business #Hiringandpromotion #Advertisingandmarketing

 

Top Hashtags in Human Resources

HR professionals and recruiters can amplify their job-related content with these top-performing hashtags.

#humanresources #jobinterviews #hiringandpromotion #jobsearch #jobseekers #jobopening #hr #workingathome #recruiting #job #hiring #deeplearning #homeoffice #culture

 

Top Hashtags for Health and Wellness

In the post-pandemic era, health-related content is more relevant than ever. Learn about latest social media trends. These hashtags help you engage with audiences concerned about well-being.

#mentalhealth #health #stayhome #success #covid #covid19 #corona #healthcare #coronavirus #sustainability #homeoffice #staysafe

 

Top Hashtags for Lawyers

Legal professionals can showcase expertise, advice, or commentary using these specialized hashtags.

#Law #lawstudents #lawyers #lawfirmmarketing #lawyerlife #lawyering #lawsuits #lawschool #lawenforcement #lawtech

 

Top Hashtags for Job Seekers

If you're actively looking for a job or offering opportunities, these hashtags will get your posts in front of recruiters and HR teams. Here's how LinkedIn hashtags work.

#Job #Jobsearch #Jobopening #Jobposting #HR #Recruitment #Recruiting #LinkedIn #Hiring #CV #Openings #Jobvacancy #Jobalert #Interviewing #Jobhunters #wellness

 

Top Hashtags for Economics & Growth

For posts on financial markets, development strategies, or economic commentary, these are the ideal tags.

#Growth #Economics #Economicgrowth #Economicdevelopment #Jobcreation #Entrepreneurship #Innovation #Businessgrowth #Sustainabledevelopment #Economicpolicy

 

Top Hashtags for Branding and Advertising

These tags are key for showcasing brand identity, visual design, and digital presence strategies. #branding #advertising #marketing #socialmedia #design #contentmarketing #digitalmarketing #graphicdesign #webdesign #brandingstrategy

 

Top Hashtags Related to Technology

If you’re involved in IT, emerging tech, or digital trends, these hashtags will keep you relevant in tech circles.

#security #linkedin #energy #fintech #tecnologia #blockchain #marketingdigital #startup #cloud #retail #aviation #engineering #entrepreneur #management #machinelearning #lockdown #automotive #digital

 

Top Hashtags for Hiring

Hiring managers and recruiters can use these tags to make job posts more discoverable.

#Hiring #HiringAlert #HiringNow #Careers #HiringInterns #HR #Jobs #Career #Culture #JobInterviews #JobSeekers #JobSearch

 

Top Hashtags in Digital Marketing

 For digital marketers focusing on trends and engagement, explore this SEO and hashtag guide. Tailored for digital marketers, these tags are crucial for increasing visibility in online campaigns and trends.

#DigitalMarketing #Marketing #SEO #SocialMedia #SocialEntrepreneurship #Advertisement #MarketingAndAdvertising #MarketingCommunications #Branding #Storytelling #SocialNetworking #MobileMarketing #Website

Top Hashtags for Startups

If you’re running a startup or creating content for early-stage companies, these hashtags help attract attention and network effectively.

#startups #markets #leanstartups #socialentrepreneurs #startupcompany #startupquotes #entrepreneursmindset #happyfounders #digitalnomad #femaleentrepreneur #sharktank #Businessmindsets #Leanstartups #Crowdfunding

 

Final Tip Use 3–5 relevant hashtags per post to avoid clutter and maintain focus. Always mix popular hashtags with niche-specific ones for better engagement and discovery.

Stay updated with new features on LinkedIn Blog.


Share:

4/5/25

The Structure and Values of Family in Muslim Society مسلم معاشرے میں خاندان کی ساخت اور اقدار

مسلم معاشرے میں خاندان کی ساخت اور اقدار

خاندان معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ یہ وہ ادارہ ہے جو کسی بھی اچھے یا برے معاشرے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے بچے کی پہلی درسگاہ ماں کی گود ہے. انسانی زندگی پیدائش سے موت تک سیکھنے کے ایک مسلسل عمل کا نام ہے۔ جینیات, عقل ،تعلیم و تربیت ،رسوم و رواج ،عقائد ،غور و فکر ماحول اور معاشرہ یہ تمام وہ عناصر ہیں جو انسانی عقل کی نشونما اور شخصیت پر اثر انداز ہوتے ہیں جن سے انسان کی پہچان ہوتی ہے کہ وہ کیسا انسان ہے۔ انسان اپنی سوچ کا عکس ہوتا ہے جیسی سوچ ہوتی ہے ویسے رویے ہوتے ہیں اور جیسے رویے ہوتے ہیں ویسے عمل ہوتے ہیں۔ انسان کی سوچ بنتی کیسے ہے اور اسے تبدیل کیسے کیا جاسکتا ؟ زندگی کی ہر سحر کچھ سکھا کر اور ہر ڈھلتا سورج انسان کو کوئی نہ کوئی تجربہ دے کر جاتا ہے۔ اچھی تعلیم اور تربیت ہی انسانی سوچ کو تبدیل کر سکتی ہےجو انسان کو نہ صرف شعور دیتی ہے بلکہ انسانی عقل کو سوچنے پر مجبور کرتی ہے ۔ انسان بہتر طریقے سے سوچنے اور چیزوں سمجھنے لگتا ہے اور اس سے اہم بات تسلیم کرنا ہیں اور جس انسان نے تسلیم کرنا سیکھا گویا وہی کامیاب انسان ہے انسانی تاریخ نے بہت اتار چڑھاؤ دیکھے ہیں۔ ہر دور میں انسان کی پہلی فوقیت امن رہی ہے کیونکہ امن ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے انسانی اور معاشرتی ترقی ممکن ہے ۔معاشرے کی ترقی میں امن کا یقینا بہت بڑا کردار ہے لیکن اس سے بھی بڑا کردار میرا اور آپکا ہے ۔ ہم سب کا اور ہمارے خاندانوں کا ہے کہ جن پر یہ ذمہ داری آتی ہے کہ امن کو برقرار رکھنے اس کے تحفظ اور فروغ میں اپنا کردار ادا کریں ۔

امن کا سفر ایک فرد سے اور اس کے کنبہ سے شروع ہوتا ہے جس کے لیے تعلیم و تربیت اور شعور کا ہونا بہت لازمی ہیں ارسطو کا قول ہے کہ تم مجھے ایک تعلیم یافتہ ماں دو میں تمہیں ایک تعلیم یافتہ قوم دوں گا یہاں تعلیم سے مراد حقیقی سمجھ آگاہی اور شعور ہے کسی بھی چیز کو صرف جان لینا کافی نہیں بلکہ اس کی تحقیق لازمی ہے اور اس کی گہرائی انسان تب ہی جان سکتا ہے جب وہ اسے وقت اور توجہ دے امن کا یہ سفر سب سے پہلے ہمارے گھر سے شروع ہوتا ہے جب ہم اپنے بچے کو صحیح تربیت معیاری تعلیم اور چیزوں کو جاننے آگاہی شعور اور ان کو ایک سیٹ کرنے کی صلاحیت اپنے بچے میں پیدا کرتے ہیں تو وہ بچہ باسانی خیرو شر میں فرق کر سکتا ہے اپنے بچوں کو بری عادات، معاشرتی برائیوں سے بچنے میں مدد کرنی چاہئے۔ اپنے بچوں کو وقت دینا اور ان کی سرگرمیوں کو دیکھنا والدین کا فرض ہے ہمارے معاشرے میں اکثر والدین بچوں کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو معاف کر دیتے ہیں بعض اوقات بچہ اگر کوئی بڑی غلطی کر بھی لے تو والدین بجائے اس کو روکنے ٹوکنے کے ان پرپردہ ڈال دیتے ہیں جس کی وجہ سے بچہ بری راہ اختیار کرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی غلطیاں اسے غلطیاں نہیں لگتی ہیں اور بعد میں وہی غلطیاں گناہوں میں تبدیل ہو جاتی ہے جن کے نتائج پورے معاشرے کو بھگتنے پڑتے ہیں۔

بہترین معاشرہ بہترین خاندانی نظام پر منحصر ہوتا ہے۔ اور بہترین خاندان افراد کی بنیادی ذمہ داریوں ادائیگی کے سبب تشکیل پاتا ہے۔ ہم بیک وقت کسی بھی خاندان میں مختلف حیثیتوں کے مالک ہوتےہیں۔ ہم اولاد، بہن بھائی، والدین اور ایسے ہی کئی رشتوں میں خاندان سے منسلک ہوتے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر حیثیت میں اپنی ذمہ داری بطریق احسن نبھائیں۔ والدین پر لازم ہے کہ جدید تقاضوں کی روشنی میں اولاد کی تربیت کریں۔ انھیں بہترین تعلیمی سہولیات دیں۔ اسی طرح بچوں پر لازم ہے کہ وہ والدین کی رہنمائی سے استفادہ کریں اور ایک مثالی معاشرے کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کریں۔ معاشرے کی تشکیل میں ہر فرد کی حیثیت اہم ہے۔ ہر ایک شخص معاشرے کی اچھی یا بری تشکیل پر اثرانداز ہوتا ہے۔ اسی لیئے ہر فرد کو اہمیت حاصل ہے۔ اقبال اس پر یوں گویا ہوئے ہیں:

افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر

ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ

خاندان کی ابتدا مَرد اور عورت کی شادی سے ہوتی ہے، پھر ان کی اولاد کے ساتھ یہ سلسلہ مزید آگے بڑھتا رہتا ہے۔ یوں تو خاندان کو اپنی ساخت کے اعتبار سے کئی اقسام میں تقسیم کیا جاسکتا ہے، لیکن اس کی دو اقسام زیادہ مقبول اور اہم ہیں۔ ایک قسم ’’انفرادی خاندان‘‘کہلاتی ہے، جو میاں بیوی اور اُن کی اولاد پر مشتمل ہے۔ دوسری قسم ’’مشترکہ خاندان‘‘ ہے، جہاں کم از کم دو یا اس سے زیادہ نسلیں مل کر رہ رہی ہوں۔

خاندان کا ایک بڑا مفہوم قبیلہ تھا جو کہ ایک دوسرے کی مدد وتعاون کی اساس پرقائم ہو۔چاہے وہ مدد وتعاون ظلم پر ہی ہو ، توجب اسلام آیا تویہ سب غلط اشیاء کومٹا کرعدل وانصاف کرتے ہوئےہرحقدارکواسکاحقلےکردیاحتیدودھپیتےبچےکوبھیاسکاحقدلایا،حتیکہساقطہونےوالےبچہکوبھییہحقدیاکہاساسکیقدرکیجاۓاوراسپرنمازجنازہپڑہیجائے۔

اورآج کے موجودہ دورمیں یورپ کے خاندان کودیکھنے اوراس پرنظر دوڑانے والا اسے بالکل ٹوٹا پھوٹا اورجدا جدا ہوا چکے دیکھے گا والدین کوکسی قسم کوئ حق نہيں کہ وہ اولاد پرکنٹرول کرسکیں نہ توفکری اورنہ ہی خلقی اعتبار سے ۔یورپ میں بیٹے کویہ حق حاصل ہے کہ وہ جہاں چاہے اورجو چاہے کرتا پھرے اسے کو‏ئ روکنے والا نہیں ، اوربیٹی کوبھی یہ آزادی ہے کہ وہ جہاں اورجس کے ساتھ مرضی بیٹھے اورآزادی اورحقوق کی ادائیگي کے نام سے جس کے ساتھ سوتی رہے اورراتیں بسرکرتی پھرے توپھرنتیجہ کیا ہوگا ؟

بکھرے خاندان ، شادی کے بغیر پیداشدہ بچے ، اورماں باپ کا خیال رکھنے والا کو‏ئ نہیں اورنہ ان کا کوئ غمخوار ہے ، کسی عقلمند نے کیا ہی خوب کہا ہے کہ :

"اگرآپ ان لوگوں کی حقیقت کا جاننا چاہتے ہيں توآپ جیلوں اورہسپتالوں اوربوڑھے لوگوں کے گھروں میں جا کر دیکھے ، اولاد اپنے والدین کوصرف تہواروں اور کسی خاص فنگشنوں میں ہی ملتے ہیں اوروہیں ان کی ایک دوسرے سے پہچان ہوتی ہے" ۔

توشاھد یہ ہے کہ غیرمسلموں کے ہاں خاندان ایک تباہ حالی کی حیثیت رکھتا تھا جب اسلام آیاتو اس نے خاندان کواکٹھااوراسے استوار کرنے کا بہت زيادہ خیال رکھتے ہوۓاسہراسچيزسےحفاظتکیجواسکےلیےنقصاندہاوراذیتکاباعثبنسکے۔

اورخاندان کوایک دوسرے کے ساتھ ملانے کی حفاظت کرتے ہوۓاسکےہرفردکواسکیزندگیمیںاہمکرداربھیدیاجسےاداکرکےایکاچھاخاندانبنسکتاہے۔

خاندان کی ساخت

 

والدین کا کردار

والدین سے حسن سلوک کو اسلام نے اپنی اساسی تعلیم قرار دیا ہے۔ اور ان کے ساتھ مطلوبہ سلوک بیان کرنے کے لئے ’’احسان‘‘ کی جامع اصطلاح استعمال کی جس کے معانی کمال درجہ کا حسن سلوک ہے۔ہر مرد اور عورت پر اپنے ماں باپ کے حقوق ادا کرنا فرض ہے۔ والدین کے حقوق کے بارے میں قرآن حکیم میں ارشاد ہوتاہے۔

وَقَضَى رَبُّكَ أَلاَّ تَعْبُدُواْ إِلاَّ إِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا إِمَّا يَبْلُغَنَّ عِندَكَ الْكِبَرَ أَحَدُهُمَا أَوْ كِلاَهُمَا فَلاَ تَقُل لَّهُمَآ أُفٍّ وَلاَ تَنْهَرْهُمَا وَقُل لَّهُمَا قَوْلاً كَرِيمًاO وَاخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ وَقُل رَّبِّ ارْحَمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِي صَغِيرًاO[1]

’’اور آپ کے رب نے حکم فرما دیا ہے کہ تم اﷲ کے سوا کسی کی عبادت مت کرو اور والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کیا کرو، اگر تمہارے سامنے دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں ’’اف‘‘ بھی نہ کہنا اور انہیں جھڑکنا بھی نہیں اور ان دونوں کے ساتھ بڑے ادب سے بات کیا کروo اور ان دونوں کے لئے نرم دلی سے عجزو انکساری کے بازو جھکائے رکھو اور (اﷲ کے حضور) عرض کرتے رہو اے میرے رب! ان دونوں پر رحم فرما جیسا کہ انہوں نے بچپن میں مجھے (رحمت و شفقت سے) پالا تھا۔‘‘

والدین کی خدمت و اطاعت اور تعظیم و تکریم عمر کے ہر حصے میں واجب ہے بوڑھے ہوں یا جوان، لیکن بڑھاپے کا ذکر خصوصیت سے ہے کہ اس عمر میں جاکر ماں باپ بھی بعض مرتبہ چڑچڑے ہوجاتے ہیں اور عقل و فہم بھی جواب دینے لگتی ہے اور انہیں طرح طرح کی بیماریاں بھی لاحق ہو جاتی ہیں۔ وہ خدمت کے محتاج ہوجاتے ہیں تو ان کی خواہشات و مطالبات بھی کچھ ایسے ہوجاتے ہیں جن کا پورا کرنا اولاد کے لئے مشکل ہوجاتا ہے۔ اس لئے قرآن حکیم میں والدین کی دلجوئی اور راحت رسانی کے احکام دینے کے ساتھ انسان کو اس کا زمانہ طفولیت (یعنی بچپن کا زمانہ) یاد دلایا کہ کسی وقت تم بھی اپنے والدین کے اس سے زیادہ محتاج تھے جس قدر آج وہ تمہارے محتاج ہیں تو جس طرح انہوں نے اپنی راحت و خواہشات کو اس وقت تم پر قربان کیا اور تمہاری بے عقلی کی باتوں کو پیار کے ساتھ برداشت کیا اب جبکہ ان پر محتاجی کا یہ وقت آیا تو عقل و شرافت کا تقاضا ہے کہ ان کے ان سابق احسان کا بدلہ ادا کرو۔

جس طرح قرآن حکیم میں والدین کے حقوق ادا کرنے کی تاکید کی گئی ہے اسی طرح کئی احادیثِ مبارکہ میں بھی والدین کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا : اس کی ناک غبار آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو، اس کی ناک خاک آلود ہو (یعنی ذلیل و رسوا ہو)۔ کسی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! وہ کون ہے؟ حضور نے فرمایا کہ جس نے ماں باپ دونوں کو یا ایک کو بڑھاپے کے وقت میں پایا پھر (ان کی خدمت کر کے) جنت میں داخل نہ ہوا۔

حضور نبی اکرم ﷺ نے والدین کی خدمت کرنے کو جہاد سے افضل قرار دیا۔ صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں شریک جہاد ہونے کی اجازت لینے کے لئے حاضر ہوا، آپ نے اس سے دریافت کیا کیا تمہارے والدین زندہ ہیں؟ اس نے عرض کیا کہ ہاں زندہ ہیں آپ نے فرمایا فَفِيْھَا فَجَاِھد یعنی بس اب تم ماں باپ کی خدمت میں رہ کر جہاد کرو یعنی ان کی خدمت سے ہی جہاد کا ثواب مل جائے گا۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے والدین کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے کو کبیرہ گناہ قرار دیا۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ کبیرہ گناہوں میں سے ایک یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین پر لعنت کرے صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! کوئی شخص اپنے والدین پر بھی لعنت کر سکتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :

يَسُبُّ الرَّجُلُ أبَا الرَّجُلِ فَيَسُبَّ أبَاهُ، وَيَسُبُّ أمُّهُ فَيَسُبُّ أمُّهُ.

’’کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا یہ اور کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیے اور وہ (بدلے میں) اس کی ماں کو گالی دے (تو یہ اپنے والدین پر لعنت کے مترادف ہے)۔‘‘

اسی طرح آپ ﷺ نے والدین کے انتقال کے بعد بھی نیک اعمال کا ایصال ثواب اور ان کے دوستوں سے حسنِ سلوک کی صورت میں ان سے حسن سلوک جاری رکھنے کی تعلیم دی۔

بہن بھائیوں کا کردار

بہن بھائیوں کا تعلق ان رشتہ داروں سے ہے جن کے متعلق صلہ رحمی کا حکم شریعت میں دیا گیا ہے؛ جیسے کہ رسول اللہ ﷺکا فرمان ہے: (اللہ تعالی نے فرمایا: میں رحمن ہوں، اور [رشتہ داری کیلیے عربی لفظ]رحم کو میں نے اپنے نام سے کشید کیا ہے، چنانچہ جو شخص رحم [رشتہ داری کو] جوڑے گا میں اسے جوڑ دوں گا اور جو اسے توڑے گا میں اسے جڑ سے توڑ دوں گا) ۔رسول اللہﷺ کا یہ بھی فرمان ہے کہ: (جس شخص کو اچھا لگتا ہے کہ اسے لمبی عمر دی جائے اور اس کا رزق فراخ کر دیا جائے تو وہ صلہ رحمی کرے۔) دیگر مسلمانوں کے ساتھ بہن بھائیوں اور والدین کے مشترکہ حقوق جن میں والدین اور بہن بھائیوں کو واضح ترجیح حاصل ہے ان میں یہ بھی شامل ہے کہ : جب بھی آپ ان سے ملیں تو انہیں سلام کہیں، جب آپ کو دعوت دیں تو ان کی دعوت قبول کریں، جب چھینک لے کر الحمدللہ کہیں تو اس کا جواب دیں، وہ بیمار ہوں تو ان کی تیمار داری کریں، اگر فوت ہو جائیں تو ان کے جنازے میں شرکت کریں، اگر وہ آپ پر قسم ڈال دیں تو ان کی قسم کو پورا کریں، جب آپ سے مشورہ طلب کریں تو انہیں صحیح مشورہ دیں، ان کی عدم موجودگی میں ان کے حقوق کی حفاظت کریں، آپ ان کے لیے بھی وہی پسند کریں جو آپ اپنے لیے پسند کرتے ہیں، اسی طرح جو اپنے لیے اچھا نہیں سمجھتے دوسروں کے لیے بھی اچھا مت سمجھیں۔ ان تمام امور سے متعلق صحیح احادیث موجود ہیں۔اسی طرح بہن بھائیوں اور والدین میں سے کسی کو بھی عملی یا قولی کسی بھی قسم کی اذیت نہ پہنچائیں؛ اس بارے میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے: (مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر تمام مسلمان محفوظ ہوں)۔اسی طرح ایک اور لمبی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اچھے اعمال  کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: (اگر تم [کسی کا بھلا کرنے کی ] استطاعت نہیں رکھتے تو پھر لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو؛ کیونکہ یہ تمہارے لیے اپنی جان پر صدقہ ہے۔)

میاں بیوی کا کردار

واضح رہے کہ میاں بیوی کا رشتہ قاعدوں اور ضابطوں کے بجائے حسن اخلاق سے نبھایا جائے تو یہ رشتہ کامیاب رہتا ہے ،ضابطہ کی روسے جہاں بہت ساری ذمہ داریاں بیوی پر عائد نہیں ہوتیں وہیں شوہر بھی بہت سے معاملات میں بری الذمہ ہوجاتا ہے ۔  لیکن دوسری طرف حسن معاشرت کا تقاضا اور بیوی کی سعادت ونیک بختی اس میں ہے کہ وہ شوہر اور اس کے والدین کی خدمت بجالائے نیزاگر کبھی شوہر کسی خدمت کا حکم دے تو اس صورت میں بیوی پر اس کی تعمیل واجب ہوجاتی ہے۔شوہرکی خدمت ،تابعداری اوراطاعت کے سلسلہ میں رسول اللہﷺ کے بے شمارارشادات موجودہیں،چناں چہ ایک حدیث میں ہے:

''حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایا:اگرمیں کسی کویہ حکم کرتاکہ وہ کسی (غیراللہ)کوسجدہ کرے تومیں یقیناًعورت کوحکم کرتاکہ وہ اپنے خاوندکرسجدہ کرے۔"

صاحب مظاہرحق اس کے ذیل میں لکھتے ہیں:

''مطلب یہ ہے کہ رب معبودکے علاوہ اورکسی کوسجدہ کرنادرست نہیں ہے اگرکسی غیراللہ کوسجدہ کرنادرست ہوتاتومیں عورت کوحکم دیتاکہ وہ اپنے خاوندکوسجدہ کرے،کیوں کہ بیوی پراس کے خاوندکے بہت زیادہ حقوق ہیں،جن کی ادائیگی کرسے وہ عاجزہے،گویااس ارشادگرامی میں اس بات کی اہمیت وتاکیدکوبیان کیاگیاہے کہ بیوی پراپنے شوہرکی اطاعت وفرمانبرداری واجب ہے۔"

نیزشوہروں کوبھی اپنے اہل وعیال کے ساتھ حسن سلوک کی تاکیدکی گئی ہے،چنانچہ ایک روایت میں ہے:

"حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکہتی ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:تم میں بہترین شخص وہ ہے جواپنے اہل(بیوی،بچوں،اقرباء اورخدمت گاروں)کے حق میں بہترین ہو،اورمیں اپنے اہل کے حق میں تم میں بہترین ہوں۔"

اس مسئلہ میں اعتدال کی ضرورت ہے،نہ یہ  کہ تمام ذمہ داریاں بیوی پرڈال دی جائیں اورنہ یہ کہ بیوی اپنے ضرورت مندشوہریاساس،سسرکی خدمت سے بھی دامن کش ہوجائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی اورحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہماکے نکاح کے بعد کام کی تقسیم اس طرح فرمائی تھی کہ باہرکاکام اورذمہ داریاں حضرت علی رضی اللہ عنہ انجام دیں گے اورگھریلوکام کاج اورذمہ داریاں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکے سپردہوں گی۔جب سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی اس ذمہ داری سے مستثنیٰ نہیں تودوسری خواتین کے لیے کیوں کراس کی گنجائش ہوسکتی ہے؟

اسی طرح شادی کے بعد میاں بیوی دونوں پر ایک دوسرے کے حقوق کی ادائیگی ضروری ہے، ا س کے بغیر پرسکون زندگی کاحصول محال ہے، شریعتِ مطہرہ  میں میاں بیوی کے باہمی حقوق کو  بہت اہمیت  کے ساتھ  بیان  کیا گیا ہے اور  دونوں کو ایک دوسرے کے حقوق کے بہت تاکید کی گئی ہے۔



[1]۔ الاسراء: 23-24

 

Share:

10/16/24

Why should I believe in religion? | Evolution of Morality through Human Intelligence


 Why should I believe in religion? If I follow the ethics defined by society So, what need do I have for religion now?

Claim: The moral values that guide human society today are, in fact, derived from religion. The societal ethics that people speak of are actually gifts from religion. The question of which religion's ethics we are following, and which religion one should accept, is a separate matter, typically discussed under the subject of interfaith dialogue. However, it is undeniable that discussions on ethics exist within every major religion, which supports this claim.

For Urdu Version Click Here 

یہی آرٹیکل اردو میں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Counter-Argument: The Evolution of Morality through Human Intelligence

The question arises that this moral evolution is the result of human intellectual evolution. (In response, the question arises) that if moral evolution occurred due to intellectual evolution, then why hasn’t such progress happened among the millions of other creatures in this universe, which have existed for millions of years? Their way of living has remained the same since they came into existence.

For example, a lion hunts, a hyena snatches its prey, a vulture comes to the carcass, and after fighting with each other, they tear off pieces of flesh. Then other smaller animals come and fight one another to eat it. This pattern has continued from the beginning, with no moral progress.

Key Argument:

These behaviors fundamentally exist in human nature as well, as humans are also living beings like animals. But religion taught humans that someone else’s property or life is not permissible for others; it belongs only to the rightful owner. And if someone takes it without permission, it is a crime.

This teaching was later adopted by human intellect. Now, if someone claims that stealing is wrong because reason demands it, this claim will not be accepted unless they can provide an example of a society that has no connection with religion, where all ethical values are purely the product of reason.

For Urdu Version Click Here

یہی آرٹیکل اردو میں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Can Social Morality Exist Without Religion?

A challenging question related to reason and logic, not tied to any religion: Which society established these social ethics? (Are you talking about a society that is influenced by religion, where 99.99% of the people believe in and follow a religion?) Does your reason determine that the ethics of a society, where 99.99% of the people adhere to some form of religion, are inventions of reason separate from religion?

Reason tells us that in any society, the moral principles will reflect the majority of that society. This is proven by all human societies around the world.

Challenges to Secular Moral Claims

Those who do not believe in religion claim that stealing, committing adultery, using abusive language, insulting others, hitting someone, or killing are all deemed wrong by reason alone. However, this is not proven; they must first establish this claim. Disliking religion and opposing it is merely a whisper and thought from the devil. All moral teachings are gifts from religion.

Those who claim that moral teachings and principles are the products of reason have no evidence to support their claim, and a claim without evidence holds no value. (This is a rational principle.) Why should I believe in religion? Because religion, through all the concepts it teaches, organizes human ethics and helps keep people from straying off the right path.

Another point to be discussed:

Suppose a person claims that they are morally complete without religion. They say that in this human society, they don't harm anyone, and no one harms them, so they live peacefully. (However, this claim of moral completeness based solely on reason is entirely incorrect because when they opened their eyes to this world, they had no idea of what is right and what is wrong—this is undeniable.)

Then they grew up in a society where religion teaches that stealing, committing adultery, killing, and using abusive language are all wrong, while helping others and treating them well are good deeds. They learned all of this. After understanding these concepts of good and evil, they claimed, “This is what my reason has taught me.” This is sheer dishonesty and intellectual and educational theft. They should acknowledge where they learned these values and give credit to that source.

Regardless, let’s assume their reason guided them, and they are following it. Furthermore, they deny the existence of an afterlife or any life beyond this world.

For Urdu Version Click Here

یہی آرٹیکل اردو میں پڑھنے کے لیے کلک کریں

In contrast to the atheist, a person who follows a religion possesses all the same qualities and virtues that the atheist claims to have. Furthermore, the religious person believes in an afterlife, while the atheist does not. Here, we have two positions: the atheist denies the afterlife, while the religious person affirms it.

In the first case, both may seem equal because they both live good lives. However, in the second case, the religious person is at an advantage because they believe, while the atheist does not. Thus, in this regard, the atheist is at a loss, and the religious person is at a gain. Reason dictates that one should adopt the path that ensures benefit in all situations or maximizes benefits.

     It is also clear that when atheists are asked why they do not believe in an afterlife, they respond that their reason does not accept it. If asked, "What if science and rational evidence prove the existence of an afterlife?" they usually reply, "Then we will accept it."

Keep in mind that it is this very reason that could not conceive certain concepts some time ago, but today science has proven them to be true. If future discoveries validate the existence of an afterlife (this is a hypothetical scenario that atheists deny), what will happen to their beliefs? And if they claim that this is impossible, that claim itself is not accepted by reason, as it lacks rational evidence.

     There are countless matters that people before us could not even imagine, but today they are proven realities. Similarly, what we cannot conceive today may well be proven true in the future.

The essential conclusion of this discussion will be that, in any case, the person who believes in religion is at a greater advantage.

 Author: Muhammad Sohail Arif Moeeni

 

 

 

 

Share:

7/1/24

احکام خلع Ahkam-e-Khula | Divorce by Wife Via Court

احکام خلع کی تفصیل 

                 1)        خلع کا معنی و مفہوم:

لغوی معنی خلع لفظ خَلَعَ سے مأخوذ ہے اور کلامِ عرب میں خلع کا معنی نزعٌ ہے یعنی اتارنا اور ایک چیز کو دوسری چیز سے نکالنا 

لغت میں خلع کا لفظ میاں بیو ی کے درمیان علیحدگی کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے  جیسے کہتے ہیں :  خَالَعَتِ الْمَرْأَةُ زَوْجَهَا مُخَالَعَةً عورت نے اپنے خاوند سے خلع لیا ، یعنی جب عورت خاوند کو اپنی آزادی کے لیے فدیہ پیش کرے اور وہ فدیہ لے کر اسے طلاق دے دے ۔ در حقیقت اس معنی ٰ میں خلع زوجین کے درمیان جدائی بیان کرنے کے لیے ایک لطیف استعارے کے طور پر لایا گیا ہے ۔

اصطلاحی مفہوم:

فقہا نے خلع کے شرعی مفہوم کو واضح کرنے کے لیے اس کی متعدد تعریفات کی ہیں جوا یک دوسرے سے قدرے مختلف ہیں ، جس کی بڑی وجہ اُن کے ہاں خلع کی حقیقت و ماہیت میں اختلاف ہے کہ آیا خلع طلاق ہے یا فسخِ نکاح۔

خلع فقہائے احناف کی نظر میں : ابن ہمام ؒ خلع کی اس تعریف کو راجح قرار دیتے ہیں۔

اِزَالَةُ مِلْكِ النكاحِ بِبدلٍ، بِلَفْظِ الخلع.معاوضہ لے کر لفظ خلع کے ذریعے رشتۂ زوجیت کو ختم کرنا۔

ابن نجیمؒ نے درج ذیل تعریف کو اختیار کیا ہے ۔ رشتۂ زوجیت کو لفظ خلع یا اس کے ہم معنی کسی اور لفظ کے ذریعے ختم کرنا جو بیوی کے قبول کرنے پر موقوف ہو۔

مالکیہ کے ہاں خلع کی تعریف: خلع سے مراد وہ طلاق ہے جو معاوضہ پر ہو یا خلع کے لفظ کے ساتھ۔

فقہ شافعی میں خلع کی تعریف: زوجین کے درمیان لفظ طلاق یا خلع کے ذریعے تفریق جو ایسے معاوضے کے بدلے میں ہو جو مقصود(مالی قدروقیمت رکھتا) ہو اور خاوند کی طرف لوٹتا ہو۔

خلع حنابلہ کے نزدیک: خاوند کا مخصوص الفاظ کے ذریعے اپنی بیوی سے معاوضہ لے کر جدا ہونا، خواہ یہ معاوضہ بیوی سے لے یا اس کے علاوہ کسی اور سے۔

خلع کی حکمت: خلع کے ذریعے در حقیقت اسلام میں عورت کو یہ حق دیا گیا ہے کہ جب وہ خاوند سے اس کی دینی حالت، شکل و صورت، رویہ  اور طرزِ عمل ، بڑھاپے، کمزوری یا کسی اور فطری سبب کی بنا پر متنفر ہو جائے تو وہ خلع کے ذریعے خاوند سے الگ ہو سکتی ہے ۔

یہاں یہ بات واضح رہے کہ طلاق اور خلع چونکہ اسلام کے مقاصدِ نکاح کے خلاف ہیں ، اس لیے شریعت میں ان کی اجازت ایک ناپسندیدہ ضرورت اور آخری حل کے طور پر دی گئی ہے ۔ چنانچہ معمولی یا چھوٹی موٹی باتوں پر طلاق دینا یا خلع لینا شریعت کی نظر میں کوئی پسندیدہ عمل نہیں ، اس سے نہ صرف خاندانی اکائی بکھر جاتی ہے بلکہ بچوں کی پرورش بھی شدید متاثر ہوتی ہے اس لیے کہ اس کے نتیجے میں انہیں والدین میں سے کسی ایک کی شفقت سے محروم ہونا پڑتا ہے  یہی وجہ ہے کہ طلاق کو ابغض الحلال قرار دیا گیا اور بلاوجہ اور بلاعذر خلع طلب کرنے والی خاتون کے لیے احادیث مبارکہ میں شدید وعید اور تنبیہ آئی ہے ۔ سنن ابی داود ، جامع ترمذی ، سنن ابن ماجہ اور دیگر اصحاب سنن نے حضرت ثوبان ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جس عورت نے بھی بغیر سبب کے اپنے شوہر سے طلاق طلب کی تو اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔‘‘

خلع کی اقسام : خلع کی دو اقسام ہیں ۔ ۱۔ خلع بعوض    ۲۔ خلع بغیر عوض

خلع بعوض: اس سے مراد وہ خلع ہے جس میں زوجین ایک دوسرے سے اس شرط پر علیحدگی اختیار کرتے ہیں کہ بیوی خاوند کو خلع کے بدلے میں معاوضہ ادا کرے گی ۔ یہ خلع اسی وقت درست ہو گا جب یہ بیوی کی رضا مندی سے انجام پائے اور بیوی کے قبول کرتے ہی خلع کے تمام احکام خود بخود نافذ ہو جائیں گے ۔

خلع بغیر عوض:  اگر خاوند خلع دیتے وقت معاوضہ کا ذکر نہ کرے اور بیوی سے صرف اتنا کہے کہ میں نے تمہیں خلع دیا ، تو یہ خلع بغیر عوض کہلائے گا ۔ خلع بعوض کے برعکس یہاں خاوند کی نیت کا اعتبار ہو گا ۔ اگر خاوند نے خلع کے لفظ ادا کرتے ہوئے طلاق کی نیت کی تو طلاق واقع ہو جائے گی ورنہ نہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ خلع طلاق کے لیے کنایہ کے طور پر استعمال ہوا ہے اور کنائی الفاظ سے طلاق اس وقت واقع ہوتی ہے جب خاوند نے طلاق کی نیت کی ہو۔

خلع کی مشروعیت : خلع کی مشروعیت قرآن مجید کی سورہ بقرہ کی آیت ۲۲۹ سے ثابت ہے  فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا یُقِیْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِۙ-فَلَا جُنَاحَ عَلَیْهِمَا فِیْمَا افْتَدَتْ بِهٖؕ ۔۔۔ ہاں اگر زن و شوہر کو خوف ہو کہ وہ اللہ کی حدوں کو قائم نہیں رکھ سکیں گے تو اگر عورت (خاوند کے ہاتھ سے ) رہائی پانے کے بدلے میں کچھ دے ڈالے تو دونوں پر کچھ گناہ نہیں ۔

خلع سے متعلق احادیث : خلع سے متعلق جو احادیث روایت ہوئی ہیں ان میں زیادہ تر جلیل القدر صحابی حضرت ثابت بن قیس ؓ اور ان کی بیوی کے واقعہ خلع کے بارے میں ہیں جو متعدد روایات میں مختلف الفاظ سے منقول ہے۔ اسلام میں یہ نہ صرف اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ تھا بلکہ خلع کے باب میں اسے بنیاد کی حیثیت حاصل ہے۔ صحیح بخاری میں یہ واقعہ اس طرح منقول ہے :

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضرت ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کرتی ہیں : اے اللہ کے رسول ! میں ثابت بن قیس کے دین و اخلاق پر کوئی نکتہ چینی نہیں کرتی ، البتہ میں اسلام میں کفر کو ناپسند کرتی ہوں، یہ سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا: کیا وہ باغ (جو اس نے تمہیں بطور مہر کے دیا تھا) اسے انہیں واپس کرتی ہو؟ اس عورت نے عرض کیا : جی ہاں! رسول اللہ ﷺ نے حضرت ثابت بن قیسؓ سے فرمایا : کہ باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے دو۔سنن نسائی اور سنن ابی داود میں یہ واقعہ مختلف الفاظ سے منقول ہے ۔

خلع کا جواز: خلع کے جواز پر تمام فقہا بلکہ پوری ملت اسلامیہ کا اتفاق ہے ۔البتہ خلع کس بنیاد پر اور کس حالت میں جائز ہوتا ہے؟ اس کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

خلع کے ارکان و شرائط: خلع کے درج ذیل پانچ ارکان ہیں

۱۔ صیغہ ۲۔ موجِب (یعنی ایجاب کرنے والا۔خاوند) ۳۔ قابل (قبول کرنے والا) ۴۔ عوض ۵۔ مُعَوَّض۔

 

 

Share:

1/14/24

Aristotle On the 3 Types of Friendship | Three Lessons From Aristotle on Friendship

Three Lessons From Aristotle on Friendship

"Three Lessons From Aristotle on Friendship" explores the timeless wisdom of Aristotle regarding the essence of genuine companionship. Aristotle, the ancient Greek philosopher, imparts invaluable insights on the importance of mutual goodwill, shared virtues, and the principles of equality and reciprocity in fostering meaningful and lasting friendships. These lessons emphasize the significance of authentic connections built on trust, common values, and a balanced exchange of care and support, resonating with the enduring qualities that characterize true friendships throughout history.

Mutual Goodwill: Aristotle emphasized the importance of mutual goodwill in friendships. True friendships are based on a genuine desire for the well-being of the other person, creating a reciprocal bond of trust and support.

Mutual goodwill, according to Aristotle, refers to the genuine and sincere desire for the well-being and happiness of the other person in a friendship. It involves a reciprocal intention to support and contribute positively to each other's lives. In Aristotle's view, true friendships are built on this foundation of mutual care and concern for the other person's flourishing, creating a bond based on genuine affection and goodwill.

Shared Virtue: Aristotle believed that the best friendships are those where individuals share virtues and values. When friends have common ethical principles and goals, it strengthens the bond and contributes to a more meaningful and lasting relationship.

Shared virtue, according to Aristotle, refers to the idea that the best and most fulfilling friendships are those in which individuals share similar ethical principles, values, and virtues. In Aristotle's ethical philosophy, virtues are qualities that contribute to a person's moral excellence, such as honesty, integrity, and kindness. When friends possess common virtues, it strengthens their connection and contributes to a more meaningful and harmonious relationship. The shared commitment to living a virtuous life becomes a unifying factor, fostering trust and understanding between friends.

Equality and Reciprocity: Aristotle highlighted the importance of equality and reciprocity in friendships. For a friendship to thrive, there should be a balanced give-and-take, where both parties contribute to the relationship in a fair and reciprocal manner, avoiding any sense of exploitation or imbalance.

Equality: Aristotle emphasized that true friendships are based on a sense of equality between individuals. This doesn't necessarily mean equal talents, resources, or abilities, but rather an equal regard for each other's well-being and a balanced give-and-take within the relationship. In an equal friendship, both parties contribute to the relationship, and there's a sense of fairness.

Reciprocity: Aristotle believed that friendships involve a reciprocal exchange of goodwill, support, and benefits. Friends give and receive from each other in a balanced manner, fostering a mutual understanding and harmony. Reciprocity in actions and emotions helps maintain the equilibrium in the friendship, preventing feelings of exploitation or one-sidedness.

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive