اغراء و تحذیر *(مفعول بہ کے فعل
کے حذف کی دوسری صورت)*
۱۔ اغراء
(اکسانا) اس سے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو کوئی پسندیدہ کام کرنے پر اکسایا جائے،
جس پر اکسایا جائے، اسے منصوب ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے پہلے *اِلْزَمْ*
فعل محذوف ہوتا ہے۔ جیسے *اَلصِّدْقَ* اصل میں *اِلْزَمِ
الصِّدْقَ* تھا۔
اس کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ مفرد، ۲۔ معطوف علیہ،
۳۔ مکرر
مفرد: اس
سے مراد یہ ہے کہ جس کام پر اکسایا جائے، اسے اکیلا ذکر کیا جائے۔ جیسے مذکور
مثال۔
معطوف علیہ:اس سے مراد یہ ہے کہ جو اسم اغراء کے لیےلایا جائے، اسے
معطوف علیہ اور معطوف کی شکل میں ذکر کیا جائے۔ جیسے *اَلْعَمَلَ وَالْعَزْمَ* اصل میں *اِلْزَمِ
الْعَمَلَ وَالْعَزْمَ* تھا۔
مکرر: یہ
کہ اغراء کے لیےلائے ہوئے اسم کو دوبارہ ذکر کیا جائے۔ جیسے *اَلْإِحْسَانَ اَلْإِحْسَانَ* اصل میں *اِلْزَمِ
الْإِحْسَانَ اَلْإِحْسَانَ*
تھا۔
نوٹ:* آخری دونوں صورتوں میں فعل کو حذف کرنا واجب ہے اور پہلی
صورت میں جائز ہے۔
۲۔ تحذیر (ڈرانا) تحذیر کا مطلب ہے کہ مخاطب کو ناپسندیدہ اور خطرناک چیز سے
ڈرایا جائے، جس چیز سے ڈرایا جائے، اسے محذر منہ اور جسے ڈرایا جائے اسے محذر کہتے
ہیں۔ محذر منہ فعلِ محذوف کا مفعول بہ ہوتا ہے۔ یہ *اِتَّقِ،
**بَاعِدْ* اور *اِحْذَرْ* وغیرہ ہیں۔
محذر منہ کی تین
صورتیں ہیں: مفرد، مکرر اور معطوف علیہ۔
مفرد کی مثال:* *اَلْكَسَلَ* اصل میں *اِحْذَرِ الْكَسَلَ* ہے۔ * *مکرر کی مثال:* *اَلْكَذِبَ
اَلْكَذِبَ* اصل میں *اِحْذَرِ الْكَذِبَ اَلْكَذِبَ*
ہے۔
معطوف علیہ کی مثال: *رَأْسَكَ وَالسَّيْفَ* اصل میں *بَاعِدْ
رَأْسَكَ وَاحْذَرِ السَّيْفَ*
ہے۔ مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ تحذیر کی ایک اور صورت بھی ہے کہ محذر منہ سے
پہلے ضمیرِ منصوب منفصل ذکر کی جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ وَالرِّيَاءَ* اصل میں *إِيَّاكَ
بَاعِدْ وَاحْذَرِ الرِّيَاءَ*
ہے۔ ضمیر کے بعد محذر منہ کے استعمال کی تین صورتیں ہیں اور ان تینوں صورتوں میں
*فعل کو حذف کرنا واجب ہے:
۱۔ محذر منہ واؤ
عاطفہ کے بعد ذکر کیا جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ
وَالْأَسَدَ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ وَاحْذَرِ الْأَسَدَ* ہے۔
۲۔ محذر منہ *مِنْ* حرفِ جر کے بعد ذکر کیا جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ مِنَ الشَّرِّ* یعنی *إِيَّاكَ
بَاعِدْ مِنَ الشَّرِّ* ہے۔
۳۔ محذر منہ مصدرِ مؤول ہو۔ جیسے *إِيَّاكَ أَنْ تَكْسَلَ* یعنی *إِيَّاكَ
بَاعِدْ مِنْ أَنْ تَكْسَلَ*
ہے۔
نوٹ: تحذیر کی اس
آخری صورت میں محذر منہ سے پہلے واؤ عاطفہ یا *مِنْ*
حرفِ جر کا ہونا ضروری ہے، لفظاً ہو یا تقدیراً جیسے مذکور مثال۔
سوالات
۱۔ اغراء اور تحذیر کے معنی میں کیا فرق ہے؟
۲۔ اغراء اور تحذیر
کی کتنی صورتیں مشترک ہیں؟
۳۔ تحذیر کی علیحدہ
صورت کیا ہے، اور اس کی شرط کیا ہے؟
۴۔ درج ذیل فقرات کی
ترکیب کریں:
۱۔ *إِيَّاكُمْ
وَالْأَشْرَارَ* * ۲۔ *اَلتَّدْبِيرَ وَالْاِقْتِصَادَ* * ۳۔ *اِنْجَازَ
الْوَعْدِ* * ۴۔ *إِيَّاكَ أَنْ تَطْمَعَ فِي مَا لَيْسَ لَكَ* * ۵۔ *اَلْإِخْلَاصَ*
۵۔ اغراء اور تحذیر کی کن صورتوں میں فعل کو حذف کرنا واجب
ہے؟









0 comments:
Post a Comment
Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You