Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label میری شاعری. Show all posts
Showing posts with label میری شاعری. Show all posts

12/10/23

یہ کام ہے تیرا تو شمع جلائے جا | نغمے محبت کے ہر سو سنائے جا | محمد سہیل عارف معینی | ڈاکٹر شہباز منج


 

یہ کام ہے تیرا تو شمع جلائے جا

نغمے محبت کے ہر سو سنائے جا

 

آئیں گے طوفاں بھی رستے میں تیرے

تو رکنا نہیں تو گلشن بسائے جا

 

تدبر کی دولت فراست کی ثروت

بہاروں کی مانند تو سب پہ لٹائے جا

 

افق سے آگے نشیمن ہے تیرا

عقابوں سے آگے تو بازو پھلائے جا

 

اڑانیں چرخ میں نگاہیں زمیں پر

تو سب کو دامن میں اپنے ملائے جا

 

ہے زرخیز مٹی معینیؔ کا گلشن

کوئی پھول دائم ادھر بھی لگائے جا

محمد سہیل عارف معینیؔ

Share:

1/4/23

کاش ہم بھی اتنے بے باک ہوتے | اجداد مرے گر کوئی نواب ہوتے | معینی | کلام معینی



 

کاش ہم بھی اتنے بے باک ہوتے

اک سوال کے پھر کتنے جواب ہوتے

 

تو بات کرتا  سنبھل کے ہم سے

محلے میں اگر ہم بھی خراب ہوتے

 

مرا ہر عیب  تو خوشی سے قبول کرتا

اجداد مرے  گر کوئی نواب ہوتے

 

عیاری نے چھپا رکھے ہیں عیب ترے

تو پکڑا جاتا گر کہیں حساب ہوتے

 

ابھی دیکھا ہے چپ رہنا مرا تو نے

وقت لگتا ہے کتنا بے حجاب ہوتے

 

توڑا مان معینی کا ،دل بھی توڑا ہے

تو مجرم ہے ،کاش !مجرم کو عذاب ہوتے

Share:

2/19/22

اے کاش محبت ہو تجھے بھی ، اور خود سے ہو || محمد سہیل عارف معینی

 

اے کاش محبت ہو تجھے بھی  ، اور خود سے ہو

اے کاش شکایت ہو تجھے بھی ، اور خود سے ہو

 

تو چاہے ملاقاتیں وہ تجھ سے خفا ہی رہے

احساس اذیت ہو تجھے بھی ، اور خود سے ہو

 

اخلاص کا دعوی ہو تجھے اپنی محبت پر

پھر عالمِ نفرت ہو تجھے بھی ، اور خود سے ہو

 

غم دل کے سنانے کو اور درد مٹانے کو

اک بار ضرورت ہو تجھے بھی ، اور خود سے ہو

 

ہیں گزرے معینی ہم جس کرب کے عالم سے

نہ چاہتے نفرت ہو تجھے بھی ، اور خود سے ہو


Share:

7/13/20

فرصت جو ملے آنا کبھی بادِ صبا ہو کر


فرصت جو ملے آنا کبھی بادِ صبا ہو کر
ہم پلکیں بچھا دیں گے راہوں میں فدا ہو کر

شمع میری زندگی کی بجھنے کو ہے دیکھو تو
تم حالتِ نزع میں آنا نا ہوا ہو کر

تقدیر نے کھیل ایسا ہے کھیلا میرے سنگ یہ
خوشیاں بھی تیری آئیں مری سمت سزا ہو کر

بیمارِ محبت ہوں نہ چھیڑو طبیبو تم
کہہ دو مرے دلبر سے آ جانا دوا ہو کر

تم روٹھ کے جانا نا مہمان ہیں دو پل کے
تم جیت گئے بازی ہم ہار ے قضا ہو کر

کوئی جھوٹی تسلی تم دینا نا ہمیں جانا
کیوں آئے گا پنچھی پھر پنجرے سے رہا ہو کر

ہر آن رہی سر پر منڈلاتی اجل جاناں
رہے وعدہ وفا کرتے کیا کیا نہ کیا ہو کر

ہے مل کے بچھڑ جانا تقدیر معینیؔ کی
کیوں تم سے کریں شکوہ ہم تم سے جدا ہو کر
Share:

3/11/20

کہتا ہے مجھے جو دن رات غلط


کہتا ہے مجھے جو دن رات غلط
ہوگی اس میں بھی کوئی بات غلط

پھیلنے پہ تعفن  کے کہتا ہے وہ یوں
ہوئی ہے آسمان سے برسات غلط

سمجھ نہ پائے جو حقیقت کے راز
کہتے ہیں کہ الفاظ کی بہتات غلط

زاغ کے مقدر میں کہاں اوجِ ثریا
اور  کوئل کی بھی ہے ہر گھات غلط

ہے اپنا تو معینیؔ اند ازِ ملن اور
لگتے ہیں انہیں میرے جذبات غلط

Share:

2/25/20

تیرا یوں بعد بکھرنے کے سنور جانے کا شکریہ


تیرا یوں بعد بکھرنے کے سنور جانے کا شکریہ
صبح کا بھولا شام پلٹ آنے کا شکریہ

باخبر ہوں تیرے خیالات و احساسات سے میں
تیرا دردِ دل کی داستاں سنانے کا شکریہ

حسیں وادیوں سے گزر کر خود کو نہیں بھولتے
اپنے من میں ڈوب کر ساتھ نبھانے کا شکریہ

دلِ شکستہ لے کر آنکھیں پر نم لے کر تیرا
یوں روتے روتے اچانک مسکرانے کا شکریہ

میں اجنبی ہوں تجھ سے تو ہے نا آشنا مجھ سے
اپنی داستانِ حسرت سنانے کا شکریہ

امید وفا رکھنا یقینِ حیا رکھنا ساجدؔ  سے
بھروسہ رکھنے کا شکریہ بات بڑھانے کا شکریہ

16/02/2009

Share:

اسے جو کرنا تھا سو وہ کرتا چلا گیا



اسے جوکرنا تھا سو وہ  کرتا چلا گیا
فصل خزاں تھا ، پتا  تھا گرتا چلا گیا

دل غم زدہ تھا ہمارا ، اسے کیا مطلب
وہ تھوڑا پریشان تھا سو کہتا چلا گیا

اک آنسو بچا کے رکھا تھا وقتِ رخصت کیلیے
یاد آنے پہ ان کی وہ بھی بہتا چلا گیا

سن سن کے درد میرے آسماں بھی کیسے رویا
موسم برسات کی مانند روتا چلا گیا

پھٹ جائے گی زمیں جو سن امیرا حالِ دل
اک دل ہے جو زخم پہ زخم سہتا چلا گیا

دردِ الفت بھی ہے کیسا شیریں یارو!
چاندچاندنی بن کر میرے  گھراترتا چلا گیا

آنکھوں کی دہلیز پہ انہوں نے قدم جو رکھے ساجدؔ
اک پر سکوں سمندر تھا بپھرتا چلا گیا
15/02/2009

Share:

وہ چہرہ دل پہ چھایا ہے



رو رو کے جس کو بھلایا ہے
وہ چہرہ دل پہ چھایا ہے

گلشن سوکھے نظر آتے ہیں، پنچھی بھی اب رلاتے ہیں
کوئل کی کو کو نہ بھاتی ہے ، صرف ان کی صورت نظر آتی ہے
ہنجو جس کی خاطر بہایا ہے
وہ چہرہ دل پہ چھایا ہے

موسم سونا سونا ہے اب ، رت کو واپس ہونا ہے اب
کوئی ہنسی خوشی بھی جائے گا ، پر مجھ کو چین نہ آئے گا
کیونکہ پنچھی وپ نہ آیا ہے
وہ چہرہ دل پہ چھایا ہے

دیس بھی اپنا پردیس بنا ہے ، آنکھ کو بھی ان بہنا ہے
بادل غم کے امڈ آئے ہیں موسم بھی  خزاں کا لائے ہیں
دل میرا بیچارہ رویا ہے
وہ چہرہ دل پہ چھایا ہے

کچا گھر ہے میرا یارو ، گارا در ہے میرا یارو
مینہ برسا بہہ جائے گا  ، میدانِ کتب رہ جائے گا
رہ رہ کہ ساجد چلایا ہے
وہ چہرہ دل پہ چھایا ہے

2008/02/10 اتوار

Share:

1/29/20

غمِ دو جہاں دیا ہے عنایت ہے آپ کی



غمِ دو جہاں دیا ہے عنایت ہے آپ کی
روتے پہ ہنس دیا ہے ظرافت ہے آپ کی

تو نے جو رکھ دیا ہے دلِ ناتواں بالائے طاق
کہہ دیا ہے اس پہ یہ کہ حفاظت آپ کی

راہوں میں بیٹھ کر ہم تکتے رہے تمہیں
منہ پھیر کر گزرنا عادت ہے آپ کی

بے شک نہ بات ہم سے کرنا سرِ بازار
نظریں اٹھا کے دیکھنا سخاوت ہے آپ کی

پردہ کیا نہ ہم سے آئے نہ رو برو
اشاروں سے کرنا باتیں روایت ہے آپ کی

دو گھڑیاں ساتھ بیٹھ کے دامن چھڑا لیا
یہ جو مدہوشیاں ہیں رفاقت ہے آپ کی

معلوم ہے معینیؔ کے دل کا جو حال ہے
تجاہل یہ عارفانہ عادت ہے آپ کی

Share:

محبت سے پہلے زمانے بھلے تھے



محبت سے پہلے زمانے بھلے تھے
بنا فکر کوئی پھولے پھلے تھے

محبت میں ہم نے خفا ہو کے دیکھا
سوا بے رخی کے بھلا کیا صلے تھے

محافل میں ان کی تھی رونق بہت ہی
ہمیں جب ملے ہیں سناٹے ملے تھے

بہاروں کے موسم تھے ان کے چمن میں
ہمیں بس خزاں ہی کے موسم ملے تھے

تھا راہوں میں ان کو کھڑے تکتے رہنا
انہیں ہم سے یہ ہی شکوے گلے تھے

خموشی تمہاری کہیں مار نا دے
زمانہ ہوا ہے تیرے لب کھلے تھے

تڑپنا پھڑکنا لہو گھونٹ پینا
محبت کی راہوں میں یہ ہی صلے تھے

معینی تھے آئے جو الفت کی راہ میں
منزل ملی کب وہ خاک ملے تھے

Share:

1/27/20

خاموش ستاروں سے کچھ کہنے ہی دو



خاموش ستاروں سے کچھ کہنے ہی دو

خود کلامی کی دنیا میں خوش رہنے ہی دو


رونے کا کہتے ہو کیوں، چپ بیٹھے ہیں جو

یہ راہِ الفت کا  درد سہنے ہی دو


اک جان ہے باقی ،تمہیں اور کیا چاہیے

رگِ جاں میں بس ، خون بہنےہی دو


بھری محفل میں رسوا کیا  میرے ہمدم

جینے کا ساماں میرا کچھ رہنے ہی دو


مانا کہ سچ ہمارے جھوٹ سہی لیکن

آج سرِ شام یہ جھوٹ کہنے ہی دو


تیرے غم بنے میرا سرمایہءِ حیات

میرے پاس یہ سوغات رہنے ہی دو


مانا ہی کب تھا میری الفت کو تو نے

جنازہ ہے ارمانوں کا  بس رہنے ہی دو


 تشنہ لب رہوں گا کوئی شکوہ نہیں 

دہلیزِ لب معینیؔ بند رہنے ہی دو

Share:

1/26/20

سخا کیجیے نبھا دیجیے



سخا کیجیے
نبھا دیجیے

نہں چاہتے تو
قضا کیجیے

ہم غلط ہیں
سزا دیجیے

خطائیں ہماری
بھلا دیجیے

نہ ہو دل تو
چھڑا لیجیے

بے رخی سے پہلے
سلا دیجیے

نہ چھوڑیے بس
مٹا دیجیے

قابل نہیں ہوں
دفع کیجیے

ہم لٹ گئے
ہنسا کیجیے

ہم بکھر گئے
مزا لیجیے

آپ اچھے ہیں
وفا کیجیے

یکبار مار دیں
بھلا کیجیے

میت تیار ہے
کندھا دیجیے

موت زندگی ہے
عطا کیجیے

یادش° معینیؔ
سجا لیجیے

°(اس کی یاد)

Share:

7/18/19

جانا تو تھا ہی تجھے خدا کا امر تھا ، ماں



جانا تو تھا ہی تجھے خدا کا امر تھا ، ماں

تیری زندگانی گویا وقتِ سحر تھا ، ماں


ہر نشیب و فرازِ زندگی میں سہیل

ڈوبتی سمبھلتی ناؤ کا لنگر تھا ، ماں


میری نادانیوں کو ذرا ہس کے بھلا دینا

کتنا عظیم عفو و درگزر کا پیکر تھا ، ماں


کون سنبھالے گا مجھے زمانے کے تھپیڑوں میں

وہ راحتوں، الفتوں ، امیدوں کا مرکز تھا ، ماں


شب ِ دیجور میں دکھائے گا منزل

تو مشعلِ راہ تیرا سراپا منور تھا ، ماں


مصائب زمانے کے بہت ڈرتے تھے ہم سے

اک سایۂ رحمت اک دعاؤںسے پر بحر تھا ، ماں


کروڑوں رحمتیں خدا تیری مرقد میں اتارے

سہیل تیرے ہی دم سے تاجور تھا، ماں


محمد سہیل عارف معینی

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive