Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label کلام پیر نصیر الدین نصیر شاہؒ. Show all posts
Showing posts with label کلام پیر نصیر الدین نصیر شاہؒ. Show all posts

8/28/25

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے | lahad men wo soorat dikhai gai hai | Kuliyat e Naseer


 

لحد میں وہ صورت دکھائی گئی ہے

مری سوئی قسمت جگائی گئی ہے

 

نہیں تھا کسی کو جو منظر پہ لانا

تو کیوں بزمِ عالم سجائی گئی ہے

 

صبا سے نہ کی جائے کیوں کر محبت

بہت اُن کے کوچے میں آئی گئی ہے

 

یہ کیا کم سند ہے مری مغفرت کی

ترے در سے میت اُٹھائی گئی ہے

 

وہاں تھی فدا مصر میں اک زلیخا

یہاں صدقے ساری خدائی گئی ہے

 

گنہگار اُمت پہ رحمت کی دولت

سرِحشر کھل کر لٹائی گئی ہے

 

شراب طہور اُن کے دست کرم سے

سرِ حوض کوثر پلائی گئی ہے

 

تہ خاک ہو شاد کیوں کر نہ اُمت

نبی کی زیارت کرائی گئی ہے

 

کسے تاب نظارہ جالی کے آگے

نظر احتراماً جھکائی گئی ہے

 

نصیر اب چلوقبرسے تم بھی اُٹھ کر

اُنہیں دیکھنے کو خدائی گئی ہے

Share:

8/31/24

Aye Khusrave Khooban | اے خسروِ خوباں شانِ من | kalam peer naseer


 

اے خسروِ خوباں ! شانِ من

قربان نگاہت ، جانِ من

آے صفات حمیدہ کے مالک لوگوں کے سردار آپ میری شان ہیں آپ کی نگاہوں پر میری جان قربان ہو

 

 انوارِ جمالت ، رزقِ نظر

دیدارِ رُخت ، ایمانِ من

آپ کے جمال کے انوار میری نظر کا رزق ہیں آپ کے چہرے کا دیدار میرا ایمان ہے

 

 شہکارِ خُدا ، مختارِ عطا

 اے تاجورِ ذی شانِ من

اے قدرت کے شاہکار اور عطا کرنے پر قادر (محبوب کبریاء) اے میرے عظت و شان والے تاجدار

 

 بر جلوہِ تو کونین فدا

اے جان ِ من و جانانِ من

آپ کے ایک جلوہ پر کائنات قربان ہو اے میرے دل وجان

 

 اے ناقہِ سوارِ راہِ قُبا

 یک روز بیا مہمانِ من

اے اونٹنی (ناقہ) پر سوار ہو کر قبا کی طرف جانے والے کبھی مجھے بھی مہمان نوازی کا شرف عطا فرمائیں

 

 از یک قدمت آباد شود

ایں غمکدہ ویرانِ من

آپ کے ایک قدم سے آباد ہو جائے گا میرا ویران غم کدہ (یعنی میرے بیت حزیں میرا ویران گھر)

 

 اے راحتِ قلبِ نصیرِ حزیں

 من بندہ و تُو سلطانِ من

اے نصیر کے غمگین دل کی راحت ! (یعنی آپ نصیر کے پریشان دل کی راحت ہیں) میں ااپ کا غلام ہوں اور آپ میرے بادشاہ ہیں

 

کلام : پیر نصیر الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

گولڑہ شریف اسلام آباد (پاکستان)

Share:

1/16/24

ظلم کر دے نہ تیرا مائلِ فریاد مجھے | نصیریات | کلام پیر نصیر الدین نصیر ؒ | کلیات پیر نصیر

 

ظلم کر دے نہ تیرا مائلِ فریاد مجھے

اس قدر بھی نہ ستا او ستم ایجاد مجھے

 

رات پڑتی ہے تو آتا ہے کوئی یاد مجھے

تو نے رکھا نہ کہیں قابلِ ناشاد مجھے

 

جو خوشی آپ کی وہ میری خوشی بسم اللہ

آپ کرتے ہیں توکر دیجیے برباد مجھے

 

پوچھتے کیا ہو میرا حالِ پریشاں مجھ سے

ایسا کھویا ہوں کہ کچھ بھی نہ رہا یاد مجھے

 

میں قفس ہی سے گلستاں کا نظارہ کر لوں

اتنی رخصت نہیں دیتا میرا صیاد مجھے

 

رکھ سکے ہاتھ بھلا کون کسی کے منہ پر

لوگ کہتےت ہیں تیرا کشتۂِ بے داد مجھے

 

لینے دیجیے ابھی اس دل کو اسیری کے مزے

ابھی کیجیے نہ خمِ زلف سے آزاد مجھے

 

بھول جاؤں میں زمانے کو تیری چاہت میں

یاد تیری رہے اللہ کرے یاد مجھے

 

اس کی یادوں سے نصیرؔ آج بھی دل ہے آباد

بھول کر بھی نہ کیا جس نے کبھی یاد مجھے


Share:

4/14/23

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے | پیر نصیر الدین نصیر | manzar faza e dahar me lyrics


 

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے

جس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے

 

مرحب دو نیم ہے سرِ خیبر پڑا ہوا

اٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے

 

کل کا جمال جزو کے چہرے سے ہے عیاں

گھوڑے پہ ہیں حسین نظارہ علی کا ہے

 

تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں

دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے

 

ہم فقر مست چاہنے والے علی کے ہیں

دل پر ہمارے صرف اجارا علی کا ہے

 

اصحابی کالنجوم کا ارشاد بھی بجا

سب سے مگر بلند ستارا علی کا ہے

 

اہلِ ہوس کی لقمہ تر پر رہی نظر

نان جویں پہ صرف گزارا علی کا ہے

 

اے ارض پاک تجھ کو مبارک کہ تیرے پاس

پرچم نبی کا چاند ستارا علی کا ہے

 

آثار پڑھ کے مہدی دوراں کے یوں لگا

جیسے ظہور وہ بھی دوبارہ علی کا ہے

 

تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بساط

تجھ پر کرم نصیر یہ سارا علی کا ہے

 

پیر سید نصیر الدین نصیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ

 گولڑہ شریف

Share:

3/28/23

اک میں ہی نہیں ان پر | ik men hi nahi un par lyrics | کلام پیر نصیر لادین نصیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ | کلیات نصیر گیلانی

 

اک میں ہی نہیں ان پر قربان زمانہ ہے

 جو رب دو عالم کا محبوب یگانہ ہے

 

کل پُل سے ہمیں جس نے خود پار لگانا ہے

زہرہ کا وہ بابا ہے حسنین  کا نانا ہے

 

 اُس ہاشمی دولہا پر کونین کو میں واروں

جو حُسن و شمائل میں یکتائے زمانہ ہے

 

عزت سے نہ مر جائیں کیوں نام محمد پر

ہم نے کسی دن یوں بھی دنیا سے تو جانا ہے

 

آو ٔدرِ زہرہ پر پھیلائے ہوئے دامن

ہے نسل کریموں کی لجپال گھرانہ ہے

 

ہوں شاہ مدینہ کی میں پشت پناہی میں

 کیا اس کی مجھے پرواہ دشمن جو زمانہ ہے

 

یہ کہ کے درِ حق سے لی موت میں کچھ مہلت

میلاد کی آمد ہے محفل کو سجانا ہے

 

سو بار اگر توبہ ٹوٹی بھی تو حیرت کیا

بخشش کی روائت میں توبہ تو بہانہ ہے

 

 ہر وقت وہ ہیں میری دُنیائے تصور میں

 اے شوق کہیں اب تو آنا ہے نہ جانا ہے

 

پُر نور سی راہیں ہیں گنبد پہ نگاہیں ہیں

 جلوے بھی انوکھے ہیں منظر بھی سہانا ہے

 

 ہم کیوں نہ کہیں اُن سے رُو داد الم اپنی

 جب اُن کا کہا خود بھی اللہ نے مانا ہے

 

محروم ِکرم اِس کو رکھیئے نہ سرِ محشر

جیسا ہے نصیر آخر سائل تو پرانا ہے


Share:

2/24/23

چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے chand tare hi kia dekhty reh gay | naseer ul din naseer shah


 

چاند تارے ہی کیا دیکھتے رہ گئے

​ ان کو ارض و سماء دیکھتے رہ گئے​

 

​ ہم درِ مصطفیٰ دیکھتے رہ گئے​

نور ہی نور تھا دیکھتے رہ گئے​ ​

 

جب سواری چلی جبرئیل امیں​

صورتِ نقشِ پا دیکھتے رہ گئے​ ​

 

وہ گئے عرش پر اور روح الامیں​

سدرۃ المنتہی دیکھتے رہ گئے​ ​

 

نیک و بد پہ ہوا ان کا یکساں کرم

​ لوگ اچھا برا دیکھتے رہ گئے​ ​

 

وہ امامت کی شب وہ صفِ انبیا​

مقتدی مقتدا دیکھتے رہ گئے​

 

​ پڑھ کے روح الامیں سورہ ء والضحی​

چہرہ ء مصطفیٰ دیکھتے رہ گئے​ ​

 

ہم گنہگار تھے مغفرت ہو گئی​

خود نِگر پارسا دیکھتے رہ گئے​

 

​ میں نصیر آج لایا وہ نعتِ نبی​

نعت گو منہ میرا دیکھتے رہ گئے​ ​

 

سید نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ​

Share:

2/8/23

کلیات نصیر گیلانی سے انتخاب | سب کچھ ان کا ہے ، ہمارا کچھ نہیں | چار تنکوں کا سہارا کچھ نہیں | naseer ul din naseer gilani | ghazliyat


 

چار تنکوں کا سہارا کچھ نہیں

صحنِ گلشن میں ہمارا کچھ نہیں

 

بے وفائی بھی ترا احسان ہے

اس سے بڑھ کر حق ہمارا کچھ نہیں

 

ہم سے دل لے کریہ ظالم نے کہا

جاؤ ، رستہ لو ، تمہارا کچھ نہیں

 

اک نگاہِ لطف ہم پر بھی کبھی

عرض  ہے اپنی، اِجارہ کچھ نہیں

 

سارے عالم میں وُہی وہ ہیں نصیرؔ

سب کچھ ان کا ہے ، ہمارا کچھ نہیں

 

کلیاتِ نصیر گیلانی سے انتخاب

Share:

1/20/23

مرا جہاں میں ظہور و خفا معینی ہے moeeni hy naseer shah golra نصیرؔ! تو تو بڑے کام کا معینی ہے

 

مرا جہاں میں ظہور و خفا معینی ہے

میں وہ ہوں جس کی فنا و بقا معینی ہے

 

ہیں اہل چشت ہیں خواجہ کے چاہنے والے

ہمارے شہر کی آب و ہوا معینی ہے

 

کھلا ہوا ہے در غوث پاک و خواجہ معیں

یہ تاج تو وہ دارالشفا معینی ہے

 

ولائے خواجہ سے سرشار ہیں تمام ولی

خدا گواہ کہ ہر بار خدا معینی ہے

 

جلو میں اپنے ہجوم تجلیات لئے

یہ کوئی تاج بیٹھا ہے، یا معینی ہے

 

گدائے خواجۂ اجمیر اجمیر ہوں بحمداللہ

مری حیات کا رنگ غنا معینی ہے

 

مرے طریق سے خارج ہے مصلحت کوشی

فقیر، قول و عمل میں کھلا معینی ہے

 

مثال آئینہ شفاف ہے مری فطرت

خدا کا شکر کہ جوہر مرا معینی ہے

 

مری سرشت میں شامل ہے خوئے بت شکنی

مرا مزاج بہ فضل خدا معینی ہے

 

یہ ناقدانہ تخاطب بجا، مگر حضرت !

رہے خیال کہ بندہ ذرا معینی ہے

 

وہ جس نے پھول کھلائے ہیں لفظ و معنیٰ کے

وہ ایک شاعر رنگیں نوا معینی ہے

 

نصیرؔ دین متیں خود کو کر دیا ثابت

نصیرؔ! تو تو بڑے کام کا معینی ہے


Share:

آج اک اک بادہ کش مسرور میخانے میں ہے | بادہ کش میخانہ رند | kalam pir naseer ul din naseer shah


آج اک اک بادہ کش مسرور میخانے میں ہے

تازہ تازہ اِس کے، اُس کے، سب کے پیمانے میں ہے

 

شیخ جل اتھے گا تُو، وہ شعلہ میخانے میں ہے

مے نہیں یہ، اک دہکتی آگ پیمانے میں ہے

 

اپنا دیوانہ بنا لیتا ہے ساری خلق کو

اک ادائے خاص ایسی ان کے دیوانے میں ہے

 

دیر بوتل کے اٹھانے میں لگے گی کچھ نہ کچھ

مجھ کو اُتنی ہی بہت ہے جتنی پیمانے میں ہے

 

میکدے میں آنے والو! میکدہ مت چھوڑنا

مرنے جینے کا مزہ کچھ ہے، تو میخانے میں ہے

 

پی رہا ہوں، جی رہا ہوں ، شاد ہوں، مسرور ہوں

زندگی ہی زندگی لبریز پیمانے میں ہے

 

دل کی بے کیفی  کا یہ عالم ہوا بعدِ جُنوں

لطف جینے کا نہ گلشن میں، نہ ویرانے میں ہے

 

دھیان ہے آہٹ پہ ، حسرت دل میں ہے، آنکھوں میں دم

ہم چلے دنیا سے ، اُن کو دیر اگر آنے میں ہے

 

جاگ اٹھی قسمت ، مقدر جگمگا اٹّھا نصیرؔ

جلوہ فرما آج کوئی میرے کاشانے میں ہے


کلام :: پیر نصیر الدین نصیر گیلانی

انتخاب از:: کلیاتِ نصیرگیلانی


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive