Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

9/29/26

وینس شہر پانی میں کیوں ڈوب رہا ہے؟ تاریخ، لکڑی کے ستون اور نہروں کے حقائق The Sinking City Built on Wood

پانی پر تیرتے شہر کی سحر انگیز تاریخ اور پوشیدہ حقائق

دنیا میں کئی شہر اپنی خوبصورتی اور فنِ تعمیر کی وجہ سے مشہور ہیں، لیکن اٹلی (اطالیہ) کا شہر وینس (Venice) ایک ایسا عجوبہ ہے جس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی۔ نہ سڑکیں، نہ گاڑیاں اور نہ ہی دھواں۔ یہ ایک ایسا شہر ہے جہاں سڑکوں کی جگہ نیلگوں نہریں بہتی ہیں اور گاڑیوں کی جگہ لکڑی کی خوبصورت کشتیاں جنہیں گُنڈولا (Gondola) کہا جاتا ہے، روان دوان رہتی ہیں۔ لیکن یہ شہر صرف سیاحت کا مرکز نہیں، بلکہ انسان کی عزم، انجینئرنگ اور دشمنوں سے بقا کی ایک عظیم داستان ہے۔

وینس کی پیدائش: خوف سے جنم لینے والی عظیم سلطنت

وینس کی آبادی کی کہانی دشمنوں کے خوف، نقل مکانی اور انسانی عقل و حکمت کی ایک زبردست مثال ہے۔ یہ شہر کسی منصوبہ بندی کے تحت ایک دن میں نہیں بسایا گیا، بلکہ ہنگامی حالات اور ضرورت کے تحت وجود میں آیا۔وینس کے آباد ہونے کی شروعات 5ویں صدی عیسوی (تقریباً 421ء) سے ہوئی۔ اطالوی روایت اور مورخین کے مطابق، وینس کا پہلا چرچ (San Giacomo di Rialto) 25 مارچ 421ء کو قائم ہوا تھا، اور اسی دن کو وینس کے قیام کی رسمی تاریخ مانا جاتا ہے۔

پس منظر:     وحشی قبائل کا حملہ: پانچویں صدی عیسوی میں جب مغربی رومن سلطنت کمزور ہو رہی تھی، تو اتر سے بربر اور وحشی قبائل :جیسے ہنز (Huns) جن کا قائد اٹلا (Attila the Hun) تھا، اور گوٹھس (Goths/Lombards) نے شمال مشرقی اٹلی کی سرسبز و شاداب سرزمین اور شہروں پر ہولناک حملے شروع کر دیے۔ حملہ آوروں کے ظلم و ستم، قتل و غارت اور لوٹ مار سے بچنے کے لیے مقامی رومن شہریوں اور کسانوں نے خشکی کے شہر چھوڑ کر سمندر کے قریب واقع دلدلی جھیل (Venetian Lagoon) کے چھوٹے چھوٹے جزائر کا رخ کیا۔ یہ جزیرے کیچڑ، دلدل اور کم گہرے سمندری پانی سے گھیرے ہوئے تھے۔ حملہ آوروں کے پاس گھوڑے اور خشکی کی فوج تھی، ان کے پاس نہ کشتیاں تھیں اور نہ ہی انہیں دلدل میں راستہ معلوم تھا، اس لیے وہ ان جزائر پر حملہ نہیں کر سکتے تھے۔ یہ دلدل مقامی لوگوں کے لیے ایک قدرتی ڈھال بن گئی۔ شروع میں لوگ ان جزائر کو صرف عارضی پناہ گاہ سمجھتے تھے اور حملے ختم ہونے پر واپس خشکی پر چلے جاتے تھے، لیکن جب 6ویں اور 7ویں صدی میں حملے مسلسل جاری رہے تو لوگوں نے یہاں مستقل رہنے کا فیصلہ کر لیا۔زمین چونکہ نرم اور دلدلی تھی، اس لیے انہوں نے اطرافی جنگلات سے ملین کی تعداد میں درخت کاٹ کر ان کے تنے (Wood Logs) کیچڑ کے اندر سخت چٹان تک ٹھونک دیے۔ان لکڑیوں کے اوپر پتھر رکھ کر مضبوط پلیٹ فارم بنائے گئے جن پر بعد میں گھر، محل اور چرچ تعمیر کیے گئے۔ چونکہ جزائر پر کھیتی باڑی کے لیے زمین نہیں تھی، اس لیے وینس کے لوگوں نے مچھلی پکڑنے، نمک بنانے اور کشتی رانی پر توجہ دی۔ رفتہ رفتہ یہ لو گ بہترین بحری قزاق، تاجر اور کشتی بان بن گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے وینس قرونِ وسطیٰ کا سب سے امیر اور طاقتور بحری جمہوریہ (Republic of Venice) بن گیا۔ یہ شہر جو کبھی خوف کے مارے بھاگے ہوئے پناہ گزینوں نے بنایا تھا، آگے چل کر دنیا کی سب سے بڑی بحری اور تجارتی طاقت بنا۔

پورے تاریخی شہر وینس کے نیچے لکڑی کے ستون (Piles/Pillars) موجود ہیں :  صرف نہروں میں ہی نہیں، بلکہ تمام عمارتوں، سڑکوں اور چوکوں کے نیچے بھی۔ اصل میں وینس کا پورا شہر پانی کے اوپر لکڑی کے ایک بہت بڑے اور مضبوط ڈھانچے پر کھڑا ہے۔وینس ایک دلدلی جھیل (Lagoon) میں بنایا گیا تھا جہاں زمین انتہائی نرم، ریتلی اور مٹی والی تھی۔ اتنی نرم زمین پر پتھر کی وزنی عمارتیں تعمیر کرنا ناممکن تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے انجینئرز نے لاکھوں کی تعداد میں لکڑی کے ستون پانی اور مٹی کے نیچے گہرے گھسیڑ کر ایک مضبوط بنیاد (Foundation) تیار کی۔ پہلے لکڑی کے نوک دار اور لمبے تناوں (پائلز) کو نرم مٹی اور کیچڑ سے گزار کر نیچے موجود سخت مٹی/چٹان (Caranto) کی تہہ تک ٹھونک دیا گیا۔ ان ستونوں کے اوپر لکڑی کے تختے (Wooden Planks) رکھے گئے۔ ان تختوں کے اوپر پتھر کی تہہ بنائی گئی اور پھر ان پتھروں پر عمارتیں، سڑکیں اور پل تعمیر کیے گئے۔  یہ ایک سائنسی معجزہ ہے! لکڑی کے گلنے کے لیے آکسیجن اور بیکٹیریا/پھپھوندی (Fungus) کا ہونا ضروری ہوتا ہے۔ چونکہ یہ ستون کیچڑ اور پانی کے اتنے نیچے دبے ہوئے ہیں کہ وہاں آکسیجن (ہوا) بالکل نہیں پہنچتی۔ ہوا نہ ہونے کی وجہ سے نہ تو لکڑی سڑتی ہے اور نہ ہی لکڑی کو کھا جانے والے کیڑے یا بیکٹیریا زندہ رہ سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، پانی میں موجود معدنیات (Minerals) صدیوں کے دوران لکڑی کے مساموں میں جذب ہو گئی ہیں، جس کی وجہ سے یہ لکڑی وقت کے ساتھ ساتھ پتھر کی طرح سخت (Petrified) ہو چکی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق صرف سینٹ مارکس باسیلیکا (St. Mark's Basilica) اور اس کے چوک کی بنیادوں میں 10 لاکھ سے زائد لکڑی کے ستون استعمال کیے گئے ہیں، اور پورا شہر ایسی ہی لاکھوں لکڑیوں پر قائم ہے۔

وینس کے وسط سے گزرنے والی سب سے بڑی اور اہم نہر کو "گرینڈ کینال" (Grand Canal / Canal Grande) کہا جاتا ہے۔ یہ نہر وینس کا مرکزی واٹر وے (آبی راستہ) ہے اور پورا شہر اسی کے ارد گرد آباد ہے۔یہ نہر انگریزی کے حرف 'S' کی شکل میں پورے شہر کے درمیان سے گزرتی ہے۔ اس کی لمبائی تقریباً 3.8 کلومیٹر اور چوڑائی 30 سے 90 میٹر کے درمیان ہے۔ گُنڈولا (Gondola): یہاں کی روایتی اور مشہور سیاحتی کشتی، جسے چپو سے چلایا جاتا ہے۔ واپوریٹو (Vaporetto): یہ پانی پر چلنے والی بسیں (Water Busses) ہیں جو مقامی لوگ اور سیاح عام نقل و حمل کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ واٹر ٹیکسی: تیز رفتار نجی کشتیاں۔ اس نہر کے دونوں کناروں پر 13ویں سے 18ویں صدی کے دوران تعمیر کیے گئے 170 سے زائد خوبصورت اور تاریخی محل (Palazzi) واقع ہیں، جو وینس کی قدیم عظمت کی عکاسی کرتے ہیں۔ گرینڈ کینال کے اوپر چار اہم پل بنے ہوئے ہیں، جن میں سے سب سے پرانا اور معروف ریالٹو برج (Rialto Bridge) ہے۔ یہ تمام نہریں اور آبی راستے اصل میں وینس کی سڑکیں ہیں، جہاں گاڑیوں کا کوئی وجود نہیں اور ہر قسم کی نقل و حمل صرف کشتیوں کے ذریعہ ہوتی ہے۔

        وینس کی نہروں کی گہرائی ہر جگہ ایک جیسی نہیں ہے، لیکن عام طور پر یہ کافی کم گہری ہوتی ہیں:مرکزی نہر (گرینڈ کینال): شہر کی سب سے بڑی نہر کی اوسط گہرائی تقریباً 5 میٹر (16 سے 17 فٹ) ہے۔گلیوں کے درمیان کی چھوٹی نہریں: شہر کے اندرونی حصوں میں واقع چھوٹی نہروں کی گہرائی صرف 1.5 سے 2 میٹر (4 سے 6 فٹ) تک ہوتی ہے۔ جوار بھاٹا (Tides): سمندر میں مدوجزر کی وجہ سے نہروں میں پانی کی سطح بدلتی رہتی ہے۔ جب پانی کی سطح کم ہوتی ہے (Low Tide) تو بعض اوقات چھوٹی نہروں میں گندلا کیچڑ نظر آنے لگتا ہے اور کشتیاں چلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ صفائی اور گاد (Dredging): وقت کے ساتھ نہروں کی تہہ میں مٹی اور کیچڑ جمع ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے بلدیہ وقفے وقفے سے نہروں کا پانی روک کر ان کی صفائی اور کھدائی کرتی ہے تاکہ گہرائی برقرار رہے۔

وینس کی نہروں میں نہانا بالکل منع ہے اور ایسا کرنا غیر قانونی ہے۔ اس کی چند اہم وجوہات ہیں: بھاری جرمانہ: وینس انتظامیہ نے نہروں میں تیرنے، نہانے یا چھلانگ لگانے پر سخت پابندی عائد کر رکھی ہے۔ ایسا کرنے پر 450 یورو (تقریباً 1,35,000 پاکستانی روپے) سے زائد کا جرمانہ ہو سکتا ہے اور سیاحوں کو شہر سے باہر بھی نکالا جا سکتا ہے۔ پانی کی آلودگی: وینس کے قدیم طرزِ تعمیر کی وجہ سے زیادہ تر عمارتوں اور گھروں کا آلودہ پانی اور سیوریج بلاواسطہ یا بالواسطہ ان ہی نہروں میں جاتا ہے، اس لیے یہ پانی صحت کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ حادثات کا خطرہ: نہروں میں ہر وقت گنڈولا، واٹر بسیں (Vaporetto) اور تیز رفتار واٹر ٹیکسیاں چلتی رہتی ہیں، جس کی وجہ سے نہانے والے کے کشتی سے ٹکرانے کا شدید خطرہ ہوتا ہے۔ مقامی لوگ یا سیاح اگر نہانا چاہتے ہیں تو وہ وینس کے قریب واقع ساحلی جزیرے "لیدو" (Lido di Venezia) کا رخ کرتے ہیں، جہاں کھلے سمندر میں خوبصورت بیچز (Beaches) موجود ہیں۔

پینے کے پانی کا قدیم اور شاہکار نظام

        وینس کے ارد گرد سمندر کا کھارا اور نہروں کا آلودہ پانی تھا، جبکہ زیرِ زمین پینے کے پانی کا کوئی قدرتی چشمہ یا کنواں موجود نہیں تھا۔ اس مسئلے کے حل کے لیے وینس کے لوگوں نے ایک ذہین اور منفرد انجینئرنگ کا نظام تیار کیا جسے "پانی کے سانچے والے کنویں" (Vera da Pozzo) کہا جاتا ہے۔بارش کے پانی کا زیرِ زمین فلٹریشن نظام وینس کے ہر کھلے چوک (Campi) اور محلے کے نیچے ایک خاص قسم کا واٹر فلٹر اور واٹر ٹینک بنایا جاتا تھا: کیچمنٹ اور گراؤنڈ فلور: چوک کے فرشی پتھروں میں ڈھلوان بنائی جاتی تھی اور سوراخ دار پتھر رکھے جاتے تھے تاکہ بارش کا پانی نالیوں کے ذریعے نیچے جائے۔ دریا کی ریت کا فلٹر (River Sand Filter): چوک کے نیچے ایک بڑا گڑھا کھود کر اس میں ندی/دریا کی صاف ریت بھری جاتی تھی۔ بارش کا پانی جب اس ریت سے گزرتا تھا تو قدرتی طور پر صاف اور فلٹر ہو جاتا تھا۔ مکئی کی شکل کا حوض (Clay Cistern): ریت کے چاروں طرف چکنی مٹی (Clay) کی ایک موٹی تہہ بنائی جاتی تھی تاکہ باہر سے سمندر کا نمکین پانی اندر نہ آ سکے اور اندر کا صاف پانی باہر نہ ضائع ہو۔ مرکزی اینٹوں کا کنواں: اس گڑھے کے بالکل درمیان میں اینٹوں کا ایک گہرا کنواں بنایا جاتا تھا۔ فلٹر شدہ پانی اینٹوں کے مساموں سے رس کر اس کنویں میں جمع ہو جاتا تھا، جسے لوگ ڈول سے باہر نکالتے تھے۔ ناؤ کے ذریعے پانی کی ترسیل (Acquaroli) جب بارشیں نہ ہوتیں یا خشک سالی ہوتی، تو وینس کے لیے خاص کشتیاں جنہیں Acquaroli کہا جاتا تھا، خشکی سے قریبی ندیوں (جیسے Brenta River) کا میٹھا پانی بھر کر وینس لاتی تھیں اور ان کنوؤں میں ڈال دیتی تھیں۔ 1884ء میں خشکی سے وینس تک پہلی جدید واٹر پائپ لائن بچھائی گئی، جس کے بعد اس قدیم نظام کی ضرورت ختم ہو گئی، لیکن یہ خوبصورت کنویں آج بھی وینس کے چوکوں میں تاریخی یادگار کے طور پر موجود ہیں۔

وینس شہر ہر سال پانی میں کیوں ڈوب رہا ہے اور اس کے بچاؤ کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟

وینس کا پانی میں ڈوبنا ایک تاریخی اور سائنسی حقیقت ہے۔ ماہرین کے مطابق وینس ہر سال تقریباً 1 سے 2 ملی میٹر نیچے دھنس رہا ہے۔   اس شہر کے ڈوبنے کی دو بنیادی وجوہات ہیں:   1. وینس کے ڈوبنے کی وجوہات   زمین کا بیٹھنا (Subsidence):   عمارتوں کا بوجھ: وینس کی وزنی اور قدیم عمارتیں صدیوں سے دلدلی مٹی اور ریت پر دباؤ ڈال رہی ہیں، جس سے زمین آہستہ آہستہ نیچے بیٹھ رہی ہے۔   زیرِ زمین پانی کا اخراج (ماضی کی غلطی): 20ویں صدی میں صنعتی ضرورتوں کے لیے وینس کے نیچے سے وافر مقدار میں میٹھا پانی پمپ کر کے نکالا گیا، جس سے زمین کی نچلی تہیں بیٹھ گئیں۔ اگرچہ 1970ء کی دہائی میں یہ عمل روک دیا گیا تھا، لیکن اس کی وجہ سے شہر کو کافی نقصان پہنچا۔   زمین کی قدرتی پلیٹیں: وینس جس ٹیکٹونک پلیٹ (Tectonic Plate) پر واقع ہے، وہ قدرتی طور پر بھی ہلکی سی جھک رہی ہے۔سمندر کی سطح میں اضافہ (Sea Level Rise):   ماحولیاتی تبدیلیوں (Climate Change) اور گلوبل وارمنگ کی وجہ سے دنیا بھر کے سمندروں کی سطح بلند ہو رہی ہے۔   وینس کے ارد گرد ایڈریئٹک سمندر (Adriatic Sea) کی سطح بڑھنے سے اونچی لہریں اور طوفان (Acqua Alta) شہر کے اندر تک داخل ہو جاتے ہیں۔.

وینس کو بچانے کے لیے کیا کیا جا رہا ہے؟ وینس کو پانی کی نذر ہونے سے بچانے کے لیے اطالوی حکومت اور بین الاقوامی اداروں نے کئی بڑے اور جدید اقدامات کیے ہیں: الف) "موسے" پروجیکٹ (MOSE Project): Rustic Pathways یہ وینس کو بچانے کا سب سے بڑا اور اہم انجینئرنگ شاہکار ہے: کیا ہے؟ سمندر اور وینس کی جھیل (Lagoon) کے ملنے والے تین اہم راستوں پر پانی کے نیچے 78 مصنوعی فولادی دروازے (Mobile Floodgates) نصب کیے گئے ہیں۔ Medium + 1 کیسے کام کرتا ہے؟ عام دنوں میں یہ دروازے سمندر کی تہہ میں سوئے رہتے ہیں۔ جب بھی سمندر میں پانی کی سطح خطرناک حد (1.1 میٹر سے اوپر) تک بلند ہوتی ہے، تو ان دروازوں میں ہوا بھر کر انہیں اوپر اٹھا دیا جاتا ہے، جس سے سمندر کا پانی شہر میں داخل ہونے سے رک جاتا ہے۔ نتیجہ: اکتوبر 2020ء میں پہلی بار کامیابی سے استعمال ہونے کے بعد سے اس پروجیکٹ نے شہر کو کئی بڑے سیلابوں اور تباہی سے بچایا ہے۔ Rustic Pathways ب) بڑے کروز جہازوں پر پابندی: حکومت نے وینس کی مرکزی نہر اور تاریخی مرکز کے قریب سے بڑے کروز شپ (کروز جہازوں) کے گزرنے پر مکمل پابندی لگا دی ہے۔ ان بڑے جہازوں کی تیز لہریں نہروں کی بنیادوں اور دیواروں کو شدید نقصان پہنچاتی تھیں۔ Medium ج) عمارتوں اور ساحلی بنیادوں کی مضبوطی: تاریخی عمارتوں کے زیرِ زمین پتھروں کی کیمیکل ٹریٹمنٹ اور اینٹوں کی مرمت کی جا رہی ہے تاکہ نمکین پانی سے ان کی تنزل پذیری کو روکا جا سکے۔ شہر کے چوکوں اور سڑکوں کی اونچائی کو تھوڑا بلند کیا جا رہا ہے تاکہ پانی آسانی سے اوپر نہ آ سکے۔ د) قدرتی دلدل اور دلدلی زمین (Salt Marshes) کی بحالی: وینس کی جھیل میں موجود قدرتی دلدلی زمینیں اور پودے سمندری لہروں کا زور توڑنے کا کام کرتے ہیں۔ حکومت ان قدرتی ماحولیاتی حصاروں کو دوبارہ بحال کر رہی ہے۔

وینس میں جہاں آپ کو درخت، پارک یا چھوٹے باغ نظر آتے ہیں، وہاں کے نیچے کا نظام عام عمارتوں سے تھوڑا مختلف ہوتا ہے:درخت لکڑی کے ستونوں کے اوپر نہیں اگائے جاتے: عمارتوں کی بنیاد میں ٹھونکے گئے لکڑی کے ستون صرف وزنی عمارتوں اور ساختوں کا بوجھ اٹھانے کے لیے ہوتے ہیں۔ جن جگہوں پر باغ، گراس یا درخت ہیں، وہاں کی زمین میں لکڑی کے ستون نہیں ٹھونکے گئے۔قدرتی مٹی اور مٹی کے کٹاؤ سے بچاؤ: یہ سرسبز علاقے جزیروں کے اندرونی حصے ہوتے ہیں جہاں قدرتی مٹی اور کیچڑ جمع ہوتا ہے۔ ان باغوں کی حدود میں گردونواح میں پتھر کی دیواریں اور نہر کی رکاوٹیں (Sea Walls) بنائی جاتی ہیں تاکہ سمندر کا پانی باغ کی مٹی کو بہا کر نہ لے جائے۔تازہ پانی اور درختوں کی قسم: چونکہ نہروں کا پانی نمکین ہوتا ہے، اس لیے درختوں کی جڑیں گہرائی میں جانے کے بجائے اوپر کی مٹی میں پھیلتی ہیں جو بارش کے پانی سے نم رہتی ہے۔ وینس میں صرف وہی درخت اور پودے اگ سکتے ہیں جو نمکین ہوا اور نچلی سطح کے نمکین پانی میں بھی زندہ رہ سکیں۔وینس میں زمین کی شدید کمی کی وجہ سے بڑے باغات انتہائی کم ہیں اور جو چھوٹے باغ موجود ہیں (انہیں مقامی زبان میں Giardini کہا جاتا ہے)، وہ زیادہ تر جزیرے کی قدرتی سطح کے اوپر مٹی کی اوپری تہہ میں قائم ہیں۔

کیا وینس شہر میں اب نئی عمارتیں بنائی گئی ہیں؟

 وینس کے تاریخی مرکز (Historic Center) میں اب نئی جدید عمارتیں بنانے کی اجازت بالکل نہیں ہے، لیکن کچھ مخصوص طریقوں سے تبدیلی اور جدید کاری کی گئی ہے۔ 1:تاریخی مرکز میں نئی تعمیرات پر پابندی: وینس کا مرکزی اور تاریخی حصہ یونیسکو (UNESCO) کی عالمی ثقافتی میراث (World Heritage Site) میں شامل ہے۔ شہر کی تاریخ اور پرانے طرزِ تعمیر کو محفوظ رکھنے کے لیے انتظامیہ نے سخت قوانین بنائے ہیں: طرزِ تعمیر میں تبدیلی کی ممانعت: تاریخی جزیروں پر کوئی نئی اونچی یا جدید شیشے والی عمارت (اسکائی اسکریپر) نہیں بنائی جا سکتی۔ بیرونی خدوخال کی بحالی: پرانی عمارتوں کی مرمت اور بحالی (Restoration) کرتے وقت بھی یہ لازمی ہے کہ عمارت کا بیرونی ڈیزائن، اینٹیں، کھڑکیاں اور رنگ بالکل اصل اور تاریخی طرز پر برقرار رکھے جائیں۔ 2. تاریخی عمارتوں کی اندرونی جدید کاری (Adaptive Reuse) اگرچہ باہر سے نئی عمارتیں نہیں بنائی جاتیں، لیکن صدیوں پرانے محلوں اور گوداموں کے اندرونی حصے (Interior) کو جدید سہولیات کے ساتھ ڈھالا گیا ہے: ہوٹل اور میوزیم: کئی تاریخی محلوں (Palazzi) کو اندر سے لگژری ہوٹلوں، آرٹ گیلریوں اور میوزیمز میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ فنِ تعمیر کا شاہکار (Fondaco dei Tedeschi): گرینڈ کینال پر واقع 13ویں صدی کے ایک تاریخی تجارتی مرکز کو اندر سے مشہور بین الاقوامی معمار ریم کولہاس (Rem Koolhaas) نے جدید شاپنگ مال میں تبدیل کیا، جبکہ باہر کی تاریخی شکل کو بالکل نہیں چھیڑا گیا۔ 3. جدید اور نئی عمارتیں کہاں ہیں؟ وینس کی تمام نئی اور جدید عمارتیں اس کے خشکی والے حصے (Mainland) پر بنائی گئی ہیں: میسترے (Mestre) اور مارغیرا (Marghera): یہ وینس کا وہ حصہ ہے جو پل کے ذریعے خشکی کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ یہاں تمام جدید عمارتیں، شاپنگ مالز، اپارٹمنٹس، فیکٹریاں اور جدید M9 میوزیم جیسی تعمیرات موجود ہیں۔ تاریخی وینس کو ایک "زندہ میوزیم" کی طرح محفوظ رکھا گیا ہے، اسی لیے وہاں نئی تعمیرات کے بجائے پرانی عمارتوں کو ہی سنبھالا اور سنوارا جاتا ہے۔

وینس میں عمارتوں کے اندر اور ان کے بالکل نیچے پانی کا ہونا

وینس میں عمارتوں کے اندر اور ان کے بالکل نیچے پانی کا ہونا اس شہر کے منفرد نظام اور ساخت کا حصہ ہے: کشتیوں کا گیراج (Water Garage): تاریخی محلوں اور عمارتوں کا نچلا حصہ جسے "Portego" یا واٹر اینٹرنس کہا جاتا ہے، خاص طور پر اس لیے ڈیزائن کیا گیا ہے تاکہ کشتیاں براہِ راست عمارت کے اندر یا اس کے نیچے پارک ہو سکیں۔ لوگ نہر کے راستے سے آ کر سیدھے اپنے گھر یا عمارت کے اندر قدم رکھتے ہیں۔ عمارت کا بنیادی ڈھانچہ (Istrian Stone Base): عمارتوں کی جو دیواریں پانی کو چھوتی ہیں، ان کے لیے ایک خاص قسم کا سخت اور پانی سے محفوظ رہنے والا سفید پتھر "استرین اسٹون" (Istrian Stone) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ پتھر پانی کو جذب نہیں کرتا، جس کی وجہ سے نہر کا پانی عمارت کی اوپر والی اینٹوں اور لکڑی کی ساخت تک نہیں پہنچ پاتا اور عمارتیں صدیوں سے محفوظ ہیں۔ زمینی سطح اور گراؤنڈ فلور: وینس میں عمارتوں کا گراؤنڈ فلور (نچلی منزل) عام طور پر رہائش کے لیے استعمال نہیں ہوتا کیونکہ اونچی لہروں (Acqua Alta) یا پانی کی سطح بلند ہونے سے وہاں پانی آ جاتا ہے۔ اسی لیے گراؤنڈ فلور کو صرف سامان کی ترسیل، کشتیوں کی پارکنگ یا گودام کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ رہائشی کمرے اوپر والی منزلوں پر ہوتے ہیں۔









 

Share:

9/3/26

جب سے سخن کا سلسلہ ان کی ثنا سے جا ملا | Jab se sukhan ka silsila un ki sana

 

جب سے سخن کا سلسلہ ان کی ثنا سے جا ملا

فکر کو تازگی ملی لفظ کو حوصلہ ملا

 

اپنی دعاوں میں اثر شہر نبی میں دیکھیے

ہم کو تو جا بجا وہاں باب اثر کھلا ملا

 

جس کے خمیر میں نہیں حب رسول کی نمی

سارا جہاں اگر اسے مل بھی گیا تو کیا ملا

 

دل کو سکوں کی چاہ تھی مل نہ سکا کہیں مگر

آنکھوں کو بند کر کے جب نامِ نبی ﷺ لیا ملا

 

ان سے جدا اگر ہوئے سمجھو کہ در بدر ہوئے

سوئے مدینہ جب چلے خلد ملی خدا ملا

 

مدح حبیب کے سبب ملتے ہیں لوگ مجھ سے جب

کہتے ہیں آج ہم کو بھی آقا کا اک گدا ملا

 

نسبت نعت حشر میں وجہ نجات بن گئی

میری بساط سے کہیں بڑھ کے مجھے صلہ ملا

Share:

کسی کو کچھ نہیں ملتا تری عطا کے بغیر | kisi ko kuch nahi milta teri ata k baghair


 

کسی کو کچھ نہیں ملتا تری عطا کے بغیر

خدا بھی کچھ نہیں دیتا تری رضا کے بغیر

 

کہو گدا سے، نہ دستِ طلب دراز کرے

یہ در وہ ہےجہاں ملتا ہےالتجا کے بغیر

 

ہےذرّےذرّے میں بےشک ظہورِنورِ قدیم

مگرملے گا نہیں کوئے مصطفیٰ کے بغیر

 

نماز میں نہیں شامل اگر سرور حضورﷺ

تو جان لو یہ کشتی ہے ناخدا کے بغیر

 

اسی سبب سے انہیں درگزر کی عادت ہے

وہ جانتے ہیں کہ انساں نہیں خطا کے بغیر

 

ہر ایک چیز میسروطن میں تھی لیکن یہ دل

بہل نہ سکا کوئے مصطفیٰ کے بغیر

 

میں سوچتا ہوں کہ اعظم شب طویل حیات

کٹے گی کیسے کسی درد آشنا کے بغیر

Share:

راستے نکھر نکھر گئے | raste nikhar nikhar gay


 

راستے نکھر نکھر گئے

مصطفیٰﷺ جدھر جدھر گئے

 

جبرائیل بھی حیران ہیں کھڑے

مصطفیٰ ﷺ کدھر کدھر گئے

 

خود بتا رہی ہیں خوشبوئیں

مصطفیٰ ﷺ ادھر ادھر گئے

 

اتنے دل نشیں  ان کے بول ہیں

روح میں اتر اتر گئے

 

خوش نصیب ان کی راہ میں

جان سے گزر گزر گئے

Share:

8/4/26

aakhen sohnay nu waay ni |آکھیں سوہنے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہووے


 

آکھیں سوہنے نوں وائے نی جے تیرا گزر ہووے

میں مر کے وی نئیں مردا جے تیری نظر ہووے

 

دم دم نال ذکر کراں میں تیریاں شاناں دا

تیرے نام توں واردیاں جنی میری عمر ہووے

 

دیوانیو! بیٹھے رہو محفل نوں سجا کے تے

شاید میرے آقا دا ایتھوں وی گزر ہووے

 

او کیسیاں گھڑیاں سن مہمان ساں سوہنے دے

دل فیر وی کردا اے طیبہ دا سفر ہووے

 

جے جیون دا چا رکھنا ایں توں راہیا مدینے دیا

سوہنے دے دوارے تے مر جاویں جے مر ہووے

 

کیوں فکر کریں یارا ماسہ دی اگیرے دا

اوہنوں ستےّ ای خیراں نیں جدا سائیں مگر ہووے

 

ایہہ دل وچ نیازی دے اک آس چروکنی اے

سوہنے دے شہر اندر میری وی قبر ہووے

Share:

q chand men khoay ho | کیوں چاند میں کھوئے ہو اُلجھے ہو ستاروں میں


 

کیوں چاند میں کھوئے ہو اُلجھے ہو ستاروں میں

آقاﷺ کو میرے ڈھونڈو قرآن کے پاروں میں

 

جبریل امیں بولے سدرہ کے مکیں بولے

تجھ سا نہ کوئی دیکھا لاکھوں میں ہزاروں میں

 

اےکاش کبوتر ہی ہم بن کے رہے ہوتے

اس گنبدِ خضریٰ کے پُرنور میناروں میں

 

ان کے ہی پسینے کی خوشبو ہے بہاروں میں

ان کی ہی تجلی ہے ان چاند ستاروں میں

 

سرکارِ دو عالمﷺ کی الفت میں جو مرتے ہیں

اللہ کے وہ بندے زندہ ہیں مزاروں میں

 

رضواں تیری جنت کو فرصت جو ملے دیکھوں

کھوئی ہیں ابھی نظریں طیبہ کے نظاروں میں

 

ہم تجھ کو بتائیں گے جنت کسے کہتے ہیں

آ بیٹھ ذرا مل کر ہم درد کےماروں میں

 

طیبہ کے فقیروں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے

تاریخ بتاتی ہے یہ راؔز اشاروں میں

 

Share:

7/20/26

جگ تارن ماہ راج معین الدین موری بھی نیا پار کرو | jag taran mahraj moeen ul din


 

جگ تارن ماہ راج معین الدین موری بھی نیا پار کرو

میں بلہاری او گن ہاری کرپا نظر سرکار کرو

 

خواجہ نے مورا گھونگھٹ کھولا تن من کر دیو نورو نور

من کی کھڑکی کھول کے دیکھو خواجہ کا دیدار کرو

 

چھیل چھبیلے اس پریتم کی صورت ایشور جیسی ہے

آؤنی سکھیو جوبن اپنا خواجہ پہ بلہار کرو

 

بھاگ سہاگ کی رین ہے آئی دیکھو پریتم آئے ہیں

میں بھی تم سے پیار کرت ہوں تم بھی مجھ سے پیار کرو

 

پوجا کی ہر ریت کے اندر نین انہیں کو دیکھیں گے

کاشی جاؤ متھرا جاؤ تیرتھ کے ہردوار کرو

Share:

7/16/26

اشتغال مفعول بہ کے فعل کا حذف | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

اشتغال (مفعول بہ کے فعل کے حذف کی تیسری صورت)

تعریف

اشتغال کا لغوی معنی "مشغول ہونا" ہے اور نحو کی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ ایک اسم پہلے آئے، اس کے بعد ایسا فعل آئے جو ضمیر یا ضمیر سے متصل اسم میں عامل ہو اور وہ ضمیر اسمِ مذکور کی طرف لوٹ رہی ہو، اس حیثیت سے کہ اگر اس مذکور فعل کو مابعد معمول (ضمیر یا ضمیر سے متصل اسم) سے فارغ کر دیا جائے تو ماقبل اسم میں عمل کرے، اسے *اشتغال* کہتے ہیں اور اس اسمِ متقدم کو *مشغول عنہ* کہتے ہیں۔ جیسے: *اَلْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ، **اَلْمُخْلِصَ اَکْرَمْتُ اَخَاہُ*۔ ان مثالوں میں *اَلْقَمَرَ* اور *اَلْمُخْلِصَ* مشغول عنہ ہیں، اور دونوں ایسے فعلِ محذوف کے مفعول بہ ہیں، جن کی تفسیر ان کے مابعد فعل بیان کر رہے ہیں۔ اصل عبارت یوں تھی۔ *قَدَّرْنَا الْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ، **اَکْرَمْتُ الْمُخْلِصَ اَکْرَمْتُ اَخَاہُ*۔ ایک کلام میں دو فعلوں کا تکرار آ گیا، پہلے فعل کو حذف کر دیا، اسے اضمار علیٰ شرط التفسیر بھی کہتے ہیں یعنی وہ اسم، جس کے فعل کو اس شرط پر حذف کیا گیا ہے کہ مابعد فعل اس کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔

مشغول عنہ کے اعراب کی صورتیں

اس کے اعراب کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ رفع واجب ۲۔ نصب واجب ۳۔ رفع اور نصب دونوں جائز

۱۔ رفع واجب:* اگر مشغول عنہ ایسے حروف کے بعد آئے جو صرف اسم پر ہی داخل ہوتے ہیں یا وہ ایسے حروف سے پہلے آ جائے جن کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا تو مبتدا ہونے کی وجہ سے اسے رفع دینا واجب ہے۔ جیسے *خَرَجْتُ فَاِذَا زَیْدٌ یَّضْرِبُهُ عَمْرٌو، **خَالِدٌ هَلْ رَاَیْتَهُ۔ ان مثالوں میں **زَیْدٌ* اور *خَالِدٌ* مشغول عنہ ہیں۔

۲۔ نصب واجب:* اگر مشغول عنہ ایسے حروف کے بعد واقع ہو جو صرف فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ جیسے حروفِ تحضیض *اَلَّا، **هَلَّا، **لَوْلَا* وغیرہ اور کلماتِ شرط، جیسے *اِنْ، **لَوْ، **حَیْثُمَا* وغیرہ تو اسے فعلِ محذوف کے ساتھ نصب دینا واجب ہے۔ جیسے * هَلَّا ضَیْفَکَ اَکْرَمْتَهُ، اس مثال میں  *ضَیْفَکَ* مشغول عنہ ہے  جس پر نصب واجب ہے، نیز یہاں فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔

۳۔ رفع اور نصب جائز:* جب دونوں مذکورہ صورتیں نہ ہوں تو مشغول عنہ پر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں۔ جیسے *اَلْمُخْلِصُ اَمْجِدْهُ، **المخلصَ* کو مرفوع پڑھنا بھی جائز ہے۔

سوالات

۱۔ اشتغال کا معنی کیا ہے؟

 ۲۔ مشغول عنہ پر کب رفع واجب ہے اور کب نصب؟

 ۳۔ درج ذیل فقرات میں مشغول عنہ  کوپہچانیں اور اس کے رفع اور نصب کا حکم بیان کریں:

* ۱۔ *اَلسَّیَّارَۃَ رَکِبْتُهَا* * ۲۔ *هَلَّا وَاجِبًا لِّوَطَنِکَ اَدَّیْتَهُ* * ۳۔ *اَلشِّعْرُ مَا اَحْلَاہُ* * ۴۔ *جَلِیْسُکَ اَنْصِفْهُ* * ۵۔ *اَلشَّرِیْرَ اِجْتَنِبْهُ* * ۶۔ *حَیْثُمَا الْمَالُ نِلْتَهُ فَدَعِ الْبُخْلَ* * ۷۔ *وَطَنُکَ اَلَا تَرْفَعُهُ*

 ۴۔ کیا مشغول عنہ کو رفع اور نصب دونوں جائز ہیں؟

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive