Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

3/1/24

حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالی عنہ Hazrat Usman ghani (RA) سیرت عثمان غنی | صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ

1:بیئر رومہ ۔۔ یہودی سے فرمایا جنت کے چشمے کے بدلے تو اس نے انکار کر دیا تو حضرت عثمان نے خرید لیا ور عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا میرے لیے بھی چشمہ ہو گا فرمایا ہاں تو عرض کیا میں نے مسلمانوں کے لیے وقف کر دیا۔

2: لشکر پر تنگی تھی کہ حضرت عثمان کو پتہ چلا تو 14 سواریاں خرید لیں ا ور 9 حضور ﷺ کو بھیج دیں جب دیکھا تو خوش ہوئے اور راوی کہتے ہیں ایسی دعا حضور نے کسی کے لیے نہیں کی کہ یا اللہ عثمان کو یہ بھی دے دے وہ بھی دے

3: لشکر کی تیاری میں 100 پھر 200 پھر 300 پھر گھر گئے 1000 دینا حضور ﷺ کو پیش کیے حضور نے فرمایا ماضر عثمان ما عملَ بعدالیوم

4: مسجد کی جگہ تنگ پڑ گئی تو حضور نے فرمایا کتنی اچھی جگہ ہے اگر مل مسجد کے لیے مل جائے کون ہے جو جنت خریدے گا حضرت عثمان گئے جب واپس آئے تو پوچھا عثمان دیکھ آئے عرض کیا

سوہنا  نہ چمن نہ چمن کی بو پسند

ہمیں آئے وہ پسند جسے آئے تو پسند۔

 عرض کیا سوہنا غلام دیکھنے نہیں گیا تھا سوہنا میں وہ زمین خرید آیا ہوں۔

5:حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں حضرت رقیہ آئیں تو فرمایا میں نے حضور ﷺ کے بال سنوارے ہیں تو حضور نے پوچھا رقیہ عثمان کیسا ہے تو عرض کیا یاسول اللہ ﷺ بہت اچھے ہیں تو حضورﷺ نے فرمایا  قال اکرمیہ فانہ من اشبہ اصحابی بی خُلُقاً  طبرانی

6: ہر آدمی اپنے کفو کے ساتھ کھڑا ہو فرماتے ہیں کہ حضور حضرت عثمان کے ساتھ کھڑے ہو گئے اور گلے لگایا اور فرمایا عثمان تو دنیا میں بھی میرا دوست ہے او آخرت میں بھی۔

7: لکل نبی رفیق اور رفیقی یعنی فی الجنۃ عثمان

8: پنڈلی سے اپنا کپڑا درست کر لیا

9: حضورﷺ نے فرمایا کہ فرشتہ بیٹھا تھا کہ کہا  اس کو ایک جماعت شہید کرے گی اور فرمایا کہ ہم فرشتے ان کا حیا کرتے ہیں۔

10: ہر قدم پر غلام آزاد کروں گا

11: جنت میں بغیر حساب کے ۔۔ جناب مولا علی نے عرض کیا حساب کس سے شروع ہو گا تو حضورﷺ نے فرمایا قیامت میں سب سے پہلے حساب  ابو بکر پھر عمر پھر علی۔۔مگر میرا عثمان بنا حساب کے جنت میں

12: میں سوادا طے کر لیا ہے  اور وہ تاجر مجھے دس گناہ دے رہا ہے۔ مدینہ میں قحط پڑا حضرت عثمنان کے اونٹ غلے سے لدے مدینہ آئے تاجر گئے خریدنے کے لیے گئے مگر آپ نے جواب دے دیا

 

Share:

اخلاص کیا ہے ؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں What is sincerity? In the light of the Quran and Hadith

قَالَ فَبِعِزَّتِكَ لَاُغْوِیَنَّهُمْ اَجْمَعِیْنَۙ(۸۲)اِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِیْنَ(۸۳)(سورۃ ص: 82،83)

بولا تو تیری عزت کی قسم ضرور میں ان سب کو گمراہ کردوں گامگر جو ان میں تیرے چنے ہوئے بندے ہیں

﴿قَالَ رَبِّ بِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأُزَيِّنَنَّ لَهُمْ فِي الْأَرْضِ وَلَأُغْوِيَنَّهُمْ أَجْمَعِينَ ۝٣٩ إِلَّا عِبَادَكَ مِنْهُمُ الْمُخْلَصِينَ ۝٤٠﴾ [الحجر:39–40]

﴿وَلَقَدْ هَمَّتْ بِهِ وَهَمَّ بِهَا لَوْلَا أَنْ رَأَى بُرْهَانَ رَبِّهِ كَذَلِكَ لِنَصْرِفَ عَنْهُ السُّوءَ وَالْفَحْشَاءَ إِنَّهُ مِنْ عِبَادِنَا الْمُخْلَصِينَ ۝٢٤﴾ [يوسف:24].

فَادْعُوا اللهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ کَرِهَ الْکٰفِرُوْنَo (غافر، 40 : 14)

’’پس تم اللہ کی عبادت اس کے لئے طاعت و بندگی کو خالص رکھتے ہوئے کیا کرو، اگرچہ کافروں کو ناگوار ہی ہوo‘‘ 8

 وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلَّا لِیَعْبُدُوا اللهَ مُخْلِصِيْنَ لَهُ الدِّيْنَ لا حُنَفَآء وَیُقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَیُؤْتُوا الزَّکٰوةَ وَ ذٰلِکَ دِيْنُ الْقَيِّمَةِo (البینۃ، 98 : 5)

حالانکہ انہیں فقط یہی حکم دیا گیا تھا کہ صرف اسی کے لئے اپنے دین کو خالص کرتے ہوئے اللہ کی عبادت کریں، (ہر باطل سے جدا ہو کر) حق کی طرف یکسوئی پیدا کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیا کریں اور یہی سیدھا اور مضبوط دین ہےo‘‘

رأیت في منامي کأن الله تعالٰی یقول: کلکم تطلبون مني غیر أبي یزید. فإنه یطلبني و یریدني وأنا أریده.

یا أبا یزید! ماذا ترید؟

قال: یا رب! إني أرید أن لا أرید إلا ما ترید. تیرے سوا کچھ نہ چاہوں تو فرمایا میں بھی تیرے ساتھ ایسا ہوں جیسے تو میرے ساتھ ہے۔

انا لک کما انت لی

ایک مقام پر فرمایا : میں سمجھتا تھا کہ میں اللہ کو یاد کرتا ہوں پھر وہ میری طرف نظر رحمت کرتا ہے مگر جب پردے اٹھے تو پتا چلا وہ رب پہلے مجھے چاہتا ہے تو میں اسے چاہتا ہوں وہ مجھ سے پہلے میری طلب کرتا ہے

حدیث قدسی امام سہل عبد اللہ تستری  فرماتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنے بندے سے فرماتا ہے کہ میں

قال اللہ تعالی :انا خیر شریک (شراکت دار)من عمل لی عملا واشرک فیہ غیری ترکتہ لغیرہ

قَالَ : مَنْ سَأَلَ اللهَ الشَّھَادَةَ بِصِدْقٍ، بَلَّغَهُ اللهُ مَنَازِلَ الشُّھَدَاء، وَإِنْ مَاتَ عَلَی فِرَاشِهِ۔

جس نے اللہ تعالیٰ سے صدقِ دل کے ساتھ شہادت (کی موت) طلب کی تو اللہ تعالیٰ اسے شہداء کا مقام عطا فرمائے گا خواہ اسے بستر پر ہی موت (کیوں نہ) آئی ہو۔

قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ فَارَقَ الدُّنْیَا عَلَی الْإِخْلَاصِ ِللهِ وَحْدَهُ، وَعِبَادَتِهِ لَا شَرِيْکَ لَهُ، وَإِقَامِ الصَّلَاةِ، وَإِيْتَاءِ الزَّکَاةِ، مَاتَ وَاللهُ عَنْهُ رَاضٍ۔

جو شخص اللہ وحدہ لا شریک کے لئے کامل اخلاص پر اور بلا شرک اس کی عبادت پر، نماز قائم کرنے پر اور زکوٰۃ دینے پر ہمیشہ عمل پیرا رہتے ہوئے دنیا سے رخصت ہو گا اس کی موت اس حال میں ہو گی کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو گا۔

اخلاص کیا ہے ؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں What is sincerity? In the light of the Quran and Hadith

عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه أَنَّهُ قَالَ لِرَسُوْلِ اللهِ ﷺ : حِيْنَ بَعَثَهُ إِلَی الْیَمَنِ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، أَوْصِنِي۔ قَالَ : أَخْلِصْ دِيْنَکَ، یَکْفِکَ الْعَمَلُ الْقَلِيْلُ۔

یا رسول اللہ! مجھے نصیحت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : دین میں اخلاص پیدا کر، تجھے تھوڑا عمل بھی کافی ہو گا۔

عن انس بن مالك رضي الله عنه:‏‏‏‏ ان رسول الله صلى الله عليه وسلم رجع من غزوة تبوك، ‏‏‏‏‏‏فدنامن المدينة، ‏‏‏‏‏‏فقال:‏‏‏‏ "إن بالمدينة اقواما ما سرتم مسيرا، ‏‏‏‏‏‏ولا قطعتم واديا إلا كانوا معكم"، ‏‏‏‏‏‏قالوا:‏‏‏‏  يا رسول الله، ‏‏‏‏‏‏وهم بالمدينة، ‏‏‏‏‏‏قال:‏‏‏‏ "وهم بالمدينة حبسهم العذر". انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس ہوئے۔ اور مدینہ کے قریب پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ :"مدینہ میں بہت سے ایسے لوگ ہیں کہ جہاں بھی تم چلے اور جس وادی کو بھی تم نے قطع کیا وہ(اپنے دل سے)تمہارے ساتھ ساتھ تھے۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا: یا رسول اللہ! اگرچہ ان کا قیام اس وقت بھی مدینہ میں ہی رہا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" ہاں، وہ مدینہ میں رہتے ہوئے بھی(اپنے دل سے تمہارے ساتھ تھے) وہ کسی عذر کی وجہ سے رک گئے تھے

كُنَّا مَع النَّبِيِّ ﷺ في غَزَاة فَقَالَ: إِنَّ بِالْمَدِينَةِ لَرِجَالاً مَا سِرْتُمْ مَسِيراً، وَلاَ قَطَعْتُمْ وَادِياً إِلاَّ كانُوا مَعكُم حَبَسَهُمُ الْمَرَضُ وَفِي روايَةِ: إِلاَّ شَركُوكُمْ في الأَجْر رَواهُ مُسْلِمٌ.

قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:‏‏‏‏ "إذا مرض العبد او سافر كتب له مثل ما كان  يعمل مقيما صحيحا".

جب بندہ بیمار ہوتا ہے یا سفر کرتا ہے تو اس کے لیے ان تمام عبادات کا ثواب لکھا جاتا ہے جنہیں اقامت یا صحت کے وقت یہ کیا کرتا تھا ۔

وہ شہید ہوگا‘اُس کو بلایا جائے گا اور اُسے اُس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی ‘ جب وہ اُن نعمتوں کو پہچان لے گا تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے ان نعمتوں سے کیا کام لیا‘ وہ کہے گا: میں نے تیری راہ میں جہاد کیا حتیٰ کہ شہید ہوگیا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو جھوٹ بولتا ہے ‘ بلکہ تو نے اس لیے قتال کیا تھا تاکہ تو بہادر کہلائے ‘سو تجھے بہادر کہا گیا ‘پھر اُسے منہ کے بل لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک شخص نے علم حاصل کیا اور لوگوں کو تعلیم دی اورقرآن مجیدپڑھا ‘ پس اُسے لایا جائے گا اور اس کو اس کی نعمتیں دکھائی جائیں گی‘ جب وہ اُن نعمتوں کو پہچان لے گاتو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے اِن نعمتوں سے کیا کیا‘ وہ کہے گا: میں نے علم پڑھا اور پڑھایا اور میں نے تیری خاطر قرآن کی تلاوت کی ‘اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے جھوٹ بولا ‘ بلکہ تم نے علم اس لیے حاصل کیا کہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لیے پڑھا کہ تو قاری کہلائے ‘ سو تجھے (دنیا میں) عالم اور قاری کہا گیا ‘ پھر اُسے منہ کے بل لاکر جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ ایک شخص کو اللہ تعالیٰ نے وسعت عطا کی(مال) اور ہر قسم کے مال سے نوازا‘سو اُسے قیامت کے دن لایا جائے گااور اُس کی نعمتیں اسے دکھائی جائیں گی اور وہ انہیں پہچان لے گا‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تو نے اِن نعمتوں سے کیا کام لیا‘ وہ کہے گا: اے اللہ! ہر وہ راستہ جو تجھے پسند ہے‘ میں نے اُس میں اس مال میں سے خرچ کیا ‘ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: تونے جھوٹ بولا‘ تو نے تو یہ سب کچھ اس لیے کیا کہ تجھے سخی کہاجائے‘ سو (دنیا میں)تجھے سخی کہا گیا‘ پھر حکم ہوگا اور اُسے اوندھے منہ آگ میں ڈال دیا جائے گا

 اخلاص کیا ہے ؟ قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں What is sincerity? In the light of the Quran and Hadith


ابن کثیر فرماتے ہیں : انسان کا اخلاص اسے وہاں لے جاتا ہے جہاں اس کا عمل نہیں لے جا سکتا۔

عمل : ظاہر جوارح کا عمل ہے

نیت : اعمال کا باطن ہے

اخلاص : نیت کی بنیاد ہے یعنی یہ باطن الباطن ہے۔

حدیث جبریل : اسلام ، ایمان اوراحسان۔۔۔ اسلام اعمال کا نام ہے ، ایمان عقیدہ ہے جو کہ باطن ہے یعنی نیت ۔۔۔ احسان دل کی کیفیت کا نام ہے ، یعنی کانک تراہ ، یعنی تجھے لگے کہ تو اس کو دیکھ رہا ہے۔ ورنہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ انسان دیکھ بھی رہا ہوتا ہے لیکن حقیقت میں دیکھ نہیں رہا ہوتا  جیسے قرآن مجید میں مچکرین کے حوالے سے اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کو فرمایا محبوب ، وتراھم ینظرون الیک وھم لایبصرون ، کہ آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ آپ کو دیکھ رہے ہیں حالان کہ وہ آپ کو نہیں دیکھ رہے۔ ۔۔ کبھی کوئی ظاہری آنکھوں سے نہیں دیکھ رہا ہوتا لیکن وہ پھر بھی دیکھ رہا ہوتا ہے۔ جیسے اویس قرنی ہیں کہ انہیں لگتا تھا کہ وہ آپ ﷺ کو دیکھ رہے ہیں لیکن ابو جہل وغیرہ نبی کریم ﷺ کے پاس رہتے تھے ہر روز دیکھتے تھے لیکن وہ کبھی نہیں دیکھتے تھے ۔

یعنی اخلاص ، تقوی اور احسان ان سب کا تعلق باطن سے ہے دلی کیفیت کے ساتھ ہے فیلنگز کے ساتھ ہے ۔ اللہ پاک کے ہاں اعلی مقام کا کی شرط اعمال کے ساتھ نہیں ہے بلکہ انسان کی کیفیت قلبی کے ساتھ خاص ہے ۔ ان اکرمکم عند اللہ اتقاکم۔

 

فکر کر تعمیر دل کی وہ یہیں اا جائے گا

بن گیا جس دن مکان خود ہی مکیں آ جائے گا

 

باہرون مل مل دھوندیئے کدی اندروں وی مل دھو

تیرا باہر دا دھونا کی کرے جے اندروں صاف نہ ہو

 

سوچو تو سلوٹوں سے بھری ہے تمام روح

دیکھو تو اک شکن بھی نہیں ہے لباس میں (شکیب جلالی)

 

Share:

2/28/24

لجپال نبی میرے درداں دی دوا دینا lajpaal nabi mere dardan di with lyrics | nusrat fateh ali khan


 

لجپال نبی میرے درداں دی دوا دینا

جد وقتِ نزع آوے دامن دی ہوا دینا

 

مر چلیا ہاں رو رو کے وچ ہجر دے محبوبا

بے چین نگاہاں نوں دیدار کراں دینا

 

دل روندا اے جاندے نے جد لوک مدینے نوں

ہن سانوں وی یا آقا دربار وکھا دینا

 

سرکار دی محفل وچ جھولی ہاں وچھا بیٹھے

لج رکھ لویں لجپالا! خالی ناں اٹھا دینا

 

خیرات عطا کرنا سرکار دی مرضی اے

میراتے سی کم ایناں جھولی نوں وچھا دینا

 

صائمؔ دی تمنا اے رہواں آ کے مدینے وچ

خواہ طیبہ دے کتیاں دے پیراں اچ بٹھا دینا

Share:

2/27/24

اسرٰی کے دولہا ، سدرہٰ کے راہی | نور مجسم حسن الہی | ساجد نظامی | نعت شریف | نعت رسول مقبول


 

اسرٰی کے دولہا ، سدرہ کے راہی

نورِ مجسم ، حُسنِ الہٰی

 

سلطانِ ملکِ خورشید و ماہی

مسند نشینِ ، عرشِ الٰہی

 

اُن کی محبت قُربِ الٰہی

اُن کی غلامی شاہوں کی شاہی

 

از ذاتِ آدم ، تا ابنِ مریم

دی سب نے آقا تیری گواہی

 

حُورانِ جنت تیری کنیزیں

سارے ملائیک تیرے سپاہی

 

ساجد ہی کیا ایک دامن میں اُن کے

اُن کی صفت ہے عالم پناہی


 ساجدؔ نظامی

Share:

2/25/24

بخشش کی انتہا ہے دربارمصطفٰیﷺ میں صدیوں کے فاصلے بھی لمحوں میں کٹ گئے bakhshish ki intiha he darbar e mustafa men




 

بخشش کی انتہا ہے دربارمصطفٰیﷺ میں

ہر درد کی دوا ہے دربارمصطفٰیﷺمیں

 

 صدیوں کے فاصلے بھی لمحوں میں کٹ گئے

 محسوس یہ ہوا ہے دربار مصطفیﷺ میں

 

 صدیوں کے فاصلے بھی لمحے میں کٹ گئے

 کیسا یہ ماجرا ہے معراج مصطفیﷺ میں

 

سرکار سن رہے ہیں اشکوں کی التجائیں

سائل تو چپ کھڑا ہے دربار مصطفیﷺ میں

 

لعل وگوہر سے بڑھ کر ہیں قیمتی وہ آنسو

آنکھوں سے جو گرا ہے دربار مصطفیﷺ میں

 

راستہ اسے ملا ہے منزل اسے ملی ہے

جو قافلہ رکا ہے دربار مصطفیﷺ میں

 

گر پاس میرے ہوتا سینے میں تو دھڑکتا

یہ دل تو کھو گیا ہے دربار مصطفیﷺ میں

 

عیبوں کو ڈھانپتے ہیں میرے کریم آقا

مجرم کی کیا سزا ہے دربارِ مصطفی ﷺمیں

 

آنسو ستارہ بن دیکھو پئے زیارت

پلکوں پہ رک گیا ہے دربار مصطفیﷺ میں

 

صل علی کے نغمے اور آنسووں کے گجرے

اک چشن سا بپا ہے دربارمصطفی ﷺمیں

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Blog Archive

Blog Archive