Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

7/16/26

اشتغال مفعول بہ کے فعل کا حذف | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

اشتغال (مفعول بہ کے فعل کے حذف کی تیسری صورت)

تعریف

اشتغال کا لغوی معنی "مشغول ہونا" ہے اور نحو کی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے کہ ایک اسم پہلے آئے، اس کے بعد ایسا فعل آئے جو ضمیر یا ضمیر سے متصل اسم میں عامل ہو اور وہ ضمیر اسمِ مذکور کی طرف لوٹ رہی ہو، اس حیثیت سے کہ اگر اس مذکور فعل کو مابعد معمول (ضمیر یا ضمیر سے متصل اسم) سے فارغ کر دیا جائے تو ماقبل اسم میں عمل کرے، اسے *اشتغال* کہتے ہیں اور اس اسمِ متقدم کو *مشغول عنہ* کہتے ہیں۔ جیسے: *اَلْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ، **اَلْمُخْلِصَ اَکْرَمْتُ اَخَاہُ*۔ ان مثالوں میں *اَلْقَمَرَ* اور *اَلْمُخْلِصَ* مشغول عنہ ہیں، اور دونوں ایسے فعلِ محذوف کے مفعول بہ ہیں، جن کی تفسیر ان کے مابعد فعل بیان کر رہے ہیں۔ اصل عبارت یوں تھی۔ *قَدَّرْنَا الْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ، **اَکْرَمْتُ الْمُخْلِصَ اَکْرَمْتُ اَخَاہُ*۔ ایک کلام میں دو فعلوں کا تکرار آ گیا، پہلے فعل کو حذف کر دیا، اسے اضمار علیٰ شرط التفسیر بھی کہتے ہیں یعنی وہ اسم، جس کے فعل کو اس شرط پر حذف کیا گیا ہے کہ مابعد فعل اس کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔

مشغول عنہ کے اعراب کی صورتیں

اس کے اعراب کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ رفع واجب ۲۔ نصب واجب ۳۔ رفع اور نصب دونوں جائز

۱۔ رفع واجب:* اگر مشغول عنہ ایسے حروف کے بعد آئے جو صرف اسم پر ہی داخل ہوتے ہیں یا وہ ایسے حروف سے پہلے آ جائے جن کا مابعد ماقبل میں عمل نہیں کرتا تو مبتدا ہونے کی وجہ سے اسے رفع دینا واجب ہے۔ جیسے *خَرَجْتُ فَاِذَا زَیْدٌ یَّضْرِبُهُ عَمْرٌو، **خَالِدٌ هَلْ رَاَیْتَهُ۔ ان مثالوں میں **زَیْدٌ* اور *خَالِدٌ* مشغول عنہ ہیں۔

۲۔ نصب واجب:* اگر مشغول عنہ ایسے حروف کے بعد واقع ہو جو صرف فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ جیسے حروفِ تحضیض *اَلَّا، **هَلَّا، **لَوْلَا* وغیرہ اور کلماتِ شرط، جیسے *اِنْ، **لَوْ، **حَیْثُمَا* وغیرہ تو اسے فعلِ محذوف کے ساتھ نصب دینا واجب ہے۔ جیسے * هَلَّا ضَیْفَکَ اَکْرَمْتَهُ، اس مثال میں  *ضَیْفَکَ* مشغول عنہ ہے  جس پر نصب واجب ہے، نیز یہاں فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔

۳۔ رفع اور نصب جائز:* جب دونوں مذکورہ صورتیں نہ ہوں تو مشغول عنہ پر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں۔ جیسے *اَلْمُخْلِصُ اَمْجِدْهُ، **المخلصَ* کو مرفوع پڑھنا بھی جائز ہے۔

سوالات

۱۔ اشتغال کا معنی کیا ہے؟

 ۲۔ مشغول عنہ پر کب رفع واجب ہے اور کب نصب؟

 ۳۔ درج ذیل فقرات میں مشغول عنہ  کوپہچانیں اور اس کے رفع اور نصب کا حکم بیان کریں:

* ۱۔ *اَلسَّیَّارَۃَ رَکِبْتُهَا* * ۲۔ *هَلَّا وَاجِبًا لِّوَطَنِکَ اَدَّیْتَهُ* * ۳۔ *اَلشِّعْرُ مَا اَحْلَاہُ* * ۴۔ *جَلِیْسُکَ اَنْصِفْهُ* * ۵۔ *اَلشَّرِیْرَ اِجْتَنِبْهُ* * ۶۔ *حَیْثُمَا الْمَالُ نِلْتَهُ فَدَعِ الْبُخْلَ* * ۷۔ *وَطَنُکَ اَلَا تَرْفَعُهُ*

 ۴۔ کیا مشغول عنہ کو رفع اور نصب دونوں جائز ہیں؟

 

Share:

7/13/26

Accepting Guest Posts on Our High-Traffic Website | Boost Your SEO with Do-Follow Backlinks

🚀 Accepting Guest Posts on High-Traffic Website! 🚀 Looking to boost your website’s SEO, rankings, and drive organic traffic?

We are now accepting premium guest posts on our high-traffic platform!

 📊 Website Stats: Daily Traffic: 2,500+ Unique Visitors

 Monthly Traffic: 75,000+ Organic Visitors

Niche: General

Link Type: 100% Do-Follow & Permanent

Link Indexing: Google Fast Indexing Guaranteed! 🎯

Why Choose Us?

High-quality content placement, no spammy links, and a clean link profile to give your site the ultimate SEO boost.

📩 Limited Slots Available! PM/Inbox me now with your article or pitch to get the best discounted rates!

Sohailarif89@gmail.com

 

Share:

اغراء و تحذیر Ighra wa Tahzeer ke Ahkam | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

اغراء و تحذیر *(مفعول بہ کے فعل کے حذف کی دوسری صورت)*

۱۔ اغراء (اکسانا) اس سے مراد یہ ہے کہ مخاطب کو کوئی پسندیدہ کام کرنے پر اکسایا جائے، جس پر اکسایا جائے، اسے منصوب ذکر کیا جاتا ہے اور اس سے پہلے *اِلْزَمْ* فعل محذوف ہوتا ہے۔ جیسے *اَلصِّدْقَ* اصل میں *اِلْزَمِ الصِّدْقَ* تھا۔

 اس کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ مفرد، ۲۔ معطوف علیہ، ۳۔ مکرر

مفرد:  اس سے مراد یہ ہے کہ جس کام پر اکسایا جائے، اسے اکیلا ذکر کیا جائے۔ جیسے مذکور مثال۔

معطوف علیہ:اس سے مراد یہ ہے کہ جو اسم اغراء کے لیےلایا جائے، اسے معطوف علیہ اور معطوف کی شکل میں ذکر کیا جائے۔ جیسے *اَلْعَمَلَ وَالْعَزْمَ* اصل میں *اِلْزَمِ الْعَمَلَ وَالْعَزْمَ* تھا۔

مکرر:  یہ کہ اغراء کے لیےلائے ہوئے اسم کو دوبارہ ذکر کیا جائے۔ جیسے *اَلْإِحْسَانَ اَلْإِحْسَانَ* اصل میں *اِلْزَمِ الْإِحْسَانَ اَلْإِحْسَانَ* تھا۔

نوٹ:* آخری دونوں صورتوں میں فعل کو حذف کرنا واجب ہے اور پہلی صورت میں جائز ہے۔

۲۔ تحذیر (ڈرانا) تحذیر کا مطلب ہے کہ مخاطب کو ناپسندیدہ اور خطرناک چیز سے ڈرایا جائے، جس چیز سے ڈرایا جائے، اسے محذر منہ اور جسے ڈرایا جائے اسے محذر کہتے ہیں۔ محذر منہ فعلِ محذوف کا مفعول بہ ہوتا ہے۔ یہ *اِتَّقِ، **بَاعِدْ* اور *اِحْذَرْ* وغیرہ ہیں۔

 محذر منہ کی تین صورتیں ہیں: مفرد، مکرر اور معطوف علیہ۔

مفرد کی مثال:* *اَلْكَسَلَ* اصل میں *اِحْذَرِ الْكَسَلَ* ہے۔ * *مکرر کی مثال:* *اَلْكَذِبَ اَلْكَذِبَ* اصل میں *اِحْذَرِ الْكَذِبَ اَلْكَذِبَ* ہے۔

معطوف علیہ کی مثال: *رَأْسَكَ وَالسَّيْفَ* اصل میں *بَاعِدْ رَأْسَكَ وَاحْذَرِ السَّيْفَ* ہے۔ مذکورہ بالا صورتوں کے علاوہ تحذیر کی ایک اور صورت بھی ہے کہ محذر منہ سے پہلے ضمیرِ منصوب منفصل ذکر کی جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ وَالرِّيَاءَ* اصل میں *إِيَّاكَ بَاعِدْ وَاحْذَرِ الرِّيَاءَ* ہے۔ ضمیر کے بعد محذر منہ کے استعمال کی تین صورتیں ہیں اور ان تینوں صورتوں میں *فعل کو حذف کرنا واجب ہے:

۱۔  محذر منہ واؤ عاطفہ کے بعد ذکر کیا جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ وَالْأَسَدَ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ وَاحْذَرِ الْأَسَدَ* ہے۔

۲۔ محذر منہ *مِنْ* حرفِ جر کے بعد ذکر کیا جائے۔ جیسے *إِيَّاكَ مِنَ الشَّرِّ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ مِنَ الشَّرِّ* ہے۔

۳۔ محذر منہ مصدرِ مؤول ہو۔ جیسے *إِيَّاكَ أَنْ تَكْسَلَ* یعنی *إِيَّاكَ بَاعِدْ مِنْ أَنْ تَكْسَلَ* ہے۔

نوٹ:  تحذیر کی اس آخری صورت میں محذر منہ سے پہلے واؤ عاطفہ یا *مِنْ* حرفِ جر کا ہونا ضروری ہے، لفظاً ہو یا تقدیراً جیسے مذکور مثال۔

سوالات

۱۔ اغراء اور تحذیر کے معنی میں کیا فرق ہے؟

۲۔  اغراء اور تحذیر کی کتنی صورتیں مشترک ہیں؟

۳۔  تحذیر کی علیحدہ صورت کیا ہے، اور اس کی شرط کیا ہے؟

 ۴۔ درج ذیل فقرات کی ترکیب کریں:

۱۔ *إِيَّاكُمْ وَالْأَشْرَارَ* * ۲۔ *اَلتَّدْبِيرَ وَالْاِقْتِصَادَ* * ۳۔ *اِنْجَازَ الْوَعْدِ* * ۴۔ *إِيَّاكَ أَنْ تَطْمَعَ فِي مَا لَيْسَ لَكَ* * ۵۔ *اَلْإِخْلَاصَ*

۵۔ اغراء اور تحذیر کی کن صورتوں میں فعل کو حذف کرنا واجب ہے؟

 

Share:

منادٰی مستغاث بہ مندوب کابیان | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

۱۔ منادٰی  (مفعول بہ کے فعل کے حذف کی پہلی صورت)

وہ اسم، جس سے پہلے حرفِ نداء آئے، اس کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ منادٰی ۲۔ مستغاث بہ ۳۔ مندوب

۱۔ منادٰی (جسے بلایا جائے)

 یہ نداء سے مشتق ہے جس کا معنی پکارنا یا بلانا ہے، اس سے مراد وہ اسم ہے، جسے حرفِ نداء کے بعد ذکر کیا جاتا ہے اور اسے اپنی طرف بلایا جاتا ہے۔ جیسے *يَا خَلِيلُ!* (اے خلیل) *أَيَا عَبْدَ اللهِ!* (اے عبداللہ)

 حروفِ نداء پانچ ہیں: *يَا، أَيَا، هَيَا، أَيْ، همزه۔

منادٰی اصل میں فعلِ محذوف *أَدْعُوْ* کا مفعول بہ ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے: *يَا خَلِيلُ* اصل میں *أَدْعُوْ خَلِيْلًا* ہے (میں خلیل کو بلاتا ہوں) *أَدْعُوْ* صیغہ واحد متکلم فعل مضارع معروف اس میں *اَنَا* ضمیر فاعل، *خَلِيْلًا* مفعول بہ ہے، *أَدْعُوْ* کو کثرتِ استعمال کی وجہ سے حذف کر دیا اور حرفِ نداء کو اس کے قائم مقام رکھ دیا۔

منادٰی کا اعراب

۱۔  اگر منادٰی مفرد معرفہ یا نکرہ معین ہو تو مبنی بر رفع ہوتا ہے۔ جیسے *يَا زَيْدُ، يَا تِلْمِيْذُ*۔  مفرد معرفہ سے مراد یہ ہے کہ نہ مضاف ہو اور نہ ہی مشابہ مضاف.

۲۔ اگر منادٰی مضاف یا مشابہ مضاف یا نکرہ غیر معین ہو تو منصوب ہوتا ہے۔ جیسے *يَا رَسُولَ اللهِ* (مضاف کی مثال)، *يَا رَاكِبًا فَرَسًا، يَا مُسَافِرًا إِلَى لُبْنَانَ* (مشابہ مضاف کی مثال) *يَا مُسْرِعًا فِي الْعَجَلَةِ النَّدَامَةُ* (نکرہ غیر معین کی مثال)

۳۔  اگر منادٰی مفرد معرفہ کے بعد ابن یا بنت کا لفظ آ جائے تو منادٰی مع ابن اور بنت منصوب اور بعد والا علم مجرور ہوگا۔ جیسے *يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ*

۴۔ اگر منادٰی معرف باللام ہو تو حرفِ نداء اور منادٰی کے درمیان مذکر کے لئے *أَيُّهَا* اور مؤنث کے لئے *أَيَّتُهَا* کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے * یٰٓاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ * (مذکر کی مثال)، * یٰٓاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُ* (مؤنث کی مثال)۔ مگر لفظِ اللہ سے پہلے * أَيُّهَا * نہیں بڑھاتے۔ جیسے *يَا اَللهُ* اور دعا کے موقع پر لفظِ اللہ سے پہلے حرفِ نداء کو گرا کر آخر میں میم مشدد بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے *اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ*۔ *۵۔* اگر حرفِ نداء کے بعد غلام، رب، اَب، ام اور صاحب وغیرہ کے الفاظ یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو چار طرح پڑھنا جائز ہے۔ جیسے *يَا غُلَامِيْ، يَا غُلَامِ، يَا غُلَامَ، يَا غُلَامَا*۔ کبھی *اَبِیْ* اور *اُمِّیْ* کی ی کو ت سے بدل دیتے ہیں۔ جیسے *يَا اَبَتِ* (اے میرے باپ)، *يَا اُمَّتِ* (اے میری ماں)۔ *۶۔* کبھی منادٰی سے پہلے حرفِ نداء کو حذف کر دیتے ہیں۔ جیسے *يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ* اصل میں *يَا يُوْسُفُ* اور *يَا اَيُّهَا النَّبِیُّ * تھے۔

منادٰی کی ترخیم: ترخیم کا معنی کسی چیز کی دم کاٹنا ہے اور نحویوں کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ منادٰی ہے جس کا آخری حرف تخفیفاً گرا دیا جائے، اسے منادٰی مرخم کہتے ہیں، اور اس عمل کو منادٰی کی ترخیم کہتے ہیں۔ جیسے *يَا صَفْ، يَا حَارِ، یہ اصل میں **يَا صَفْوَةُ* اور *يَا حَارِثُ* تھے۔ منادٰی مرخم میں شرط یہ ہے کہ وہ علم مفرد ہو، حروف تین سے زائد ہوں، مبنی بر ضمہ ہو جیسے *يَا جَعْفُ* کہ اصل میں *يَا جَعْفَرُ* تھا۔ منادٰی مرخم کو اپنی اصلی حالت پر رکھنا اور مبنی بر ضمہ پڑھنا دونوں جائز ہیں۔

 

مستغاث بہ

 مستغاث استغاثہ سے ہے، جس کا معنی تکلیف دور کرنے کے لئے کسی معاون کو پکارنا ہے، جسے پکارا جائے، اسے مستغاث بہ اور جس کے لیے پکارا جائے، اسے مستغاث لاجلہ کہتے ہیں۔ جیسے *يَا لَلْأَمِيْرِ لِلْفَقِيْرِ*۔ اس مثال میں *للامیر* مستغاث بہ اور *للفقیر* مستغاث لاجلہ ہے۔ استغاثہ کے لیے *يا* حرفِ نداء خاص ہے اور یہ فعل *أَلْتَجِئُ* کے قائم مقام ہوتا ہے، جو مستغاث بہ سے پہلے وجوباً محذوف ہوتا ہے۔

 مستغاث بہ کے اعراب کی حسبِ ذیل صورتیں ہیں:

۱۔مستغاث بہ مجرور ہوتا ہے جب اس سے پہلے لامِ استغاثہ ہو۔ جیسے *يَا لَلْجَوَادِ لِلْمِسْكِيْنِ۔ یہ لامِ استغاثہ مفتوح ہوتا ہے، جب یہ حرفِ نداء "یا" کے متصل بعد آئے اور اگر لامِ استغاثہ اور یاء کے درمیان حرفِ عطف کے ساتھ فاصلہ ہو تو مجرور ہوتا ہے۔ جیسے **يَا لَلْكِرَامِ وَلِلْمُحْسِنِيْنَ لِلضُّعَفَاءِ

۲۔مستغاث بہ مفتوح ہوتا ہے جب اس کے آخر میں الفِ استغاثہ آ جائے اور اس وقت اس سے پہلے لامِ استغاثہ نہیں ہوتا۔ جیسے *يَا مُحَمَّدَا، يَا قَوْمَا*

۳۔جب اس کی ابتداء میں نہ لامِ استغاثہ ہو اور نہ ہی آخر میں الفِ استغاثہ ہو تو اس کا اعراب منادٰی کے اعراب کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے *يَا عَلِيُّ، يَا أَهْلَ الْجُوْدِ*۔ مستغاث لاجلہ کا حکم یہ ہے کہ یہ مجرور ہوتا ہے، کبھی اس پر لامِ مکسور داخل ہوتا ہے، جیسے *يَا لَلرَّجُلِ الْمُرُوْءَةِ لِلْبَائِسِ، بائِس مستغاث لاجلہ ہے اور کبھی اس سے پہلے **مِنْ* حرفِ جر ہوتا ہے۔ جیسے *يَا لَلْحُكَّامِ مِنَ الْغَلَاءِ*۔ مستغاث لاجلہ اپنے جار سے مل کر اس فعلِ محذوف کے متعلق ہوتا ہے جس کے قائم مقام حرفِ نداء ذکر کیا جاتا ہے۔ جیسے *أَلْتَجِئُ

مندوب

 مندوب ندبہ سے مشتق ہے اور ندبہ کا معنی مردے کی خوبیاں شمار کرنا ہے۔ اصطلاح میں مردہ یا مصیبت زدہ کو حرفِ نداء واؤ یا یاء کے ساتھ پکار کر رونے کو ندبہ کہتے ہیں اور جسے رویا جائے یا جس پر دکھ ظاہر کیا جائے، اسے مندوب کہتے ہیں۔ جیسے *وَارَجُلُ* (ہائے مرد) یَا مُثِيْرَ الْحَرْبِ* (ہائے جنگ برپا کرنے والے)۔

مندوب مفعول بہ ہوتا ہے، اس سے پہلے *أَنْدُبُ* یا *أَتَوَجَّعُ* فعل محذوف ہوتا ہے۔ حرفِ ندبہ واؤ یا یاء کو اس فعل کے قائم مقام ذکر کیا جاتا ہے۔ *وَارَجُلُ* اصل میں *أَنْدُبُ الرَّجُلَ* تھا اور *يَا مُثِيْرَ الْحَرْبِ* اصل میں *أَتَوَجَّعُ مُثِيْرَ الْحَرْبِ* تھا۔ ان مثالوں میں *رَجُلُ* اور *مُثِيْرَ الْحَرْبِ * مندوب ہیں۔

مندوب کے استعمال کی تین صورتیں ہیں:

۱۔ اسے منادٰی کی طرح اعراب دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنُ، وَاغُلَامَ الرَّجُلِ

۲۔ اس کے آخر میں الفِ ندبہ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنَا وَيَا رَجُلَا*۔

 ۳۔اس کے آخر میں الفِ ندبہ کے بعد کبھی ہائے وقف کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنَاهُ يَا كَبِدَاهُ، وَامُصِيْبَتَاهُ* (ہائے مصیبت)۔

 * *واؤ* مندوب کے ساتھ خاص ہے اور *یاء* منادٰی اور مندوب دونوں میں مشترک ہے۔ * اور یاء مندوب کے لیے اس وقت استعمال ہوتا ہے جب التباس کا اندیشہ نہ ہو۔ * مندوب اور مستغاث بہ سے پہلے حرفِ نداء کا حذف کرنا جائز نہیں۔

سوالات

۱۔ منادٰی، مندوب اور مستغاث بہ کسے کہتے ہیں؟

۲۔ مندوب کے لئے کون سے الفاظ خاص ہیں؟

۳۔ منادٰی اور مندوب کے اعراب کی کیا صورتیں ہیں؟

۴۔ مستغاث بہ کے اعراب کی کتنی صورتیں ہیں؟

۵۔ ترخیم کا کیا معنی ہے؟

۶۔ درج ذیل جملوں میں منادٰی، مندوب اور مستغاث بہ کو متعین کریں:

* ۱۔ *يَا رِجَالُ اتَّقُنُوْا اَعْمَالَكُمْ* * ۲۔ *يَا لَا هِيًا عَنْ دَرْسِهِ* * ۳۔ *اَجِبْ دُعَائِیْ اَيَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ* * ۴۔ *يَا لَرِجَالِ الْمَالِ لِلْفُقَرَاءِ* * ۵۔ *جُوْدُوْا يَا اَهْلَ الْفَضْلِ* * ۶۔ *يَا حُفَّاظَ الْاَمْنِ لِكَثْرَةِ الْجَرَائِمِ* * ۷۔ *وَابْنَتَاهْ* * ۸۔ *يَا قَلْبَاهْ* * ۹۔ *يَا لَعَلِيٍّ لِلْيَتَامٰی*

۷۔ درج ذیل اسماء سے پہلے حرفِ نداء لگا کر اعراب لگائیں:

 * ۱۔ *اَبُو الْفَضْلِ* * ۲۔ *مُجْتَهِدٌ فِيْ دَرْسِهِ* * ۳۔ *غَافِلٌ* * ۴۔ *خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ* * ۵۔ *اَلنَّاسُ* * ۶۔ *عَلِيٌّ* * ۷۔ *اَلْكَافِرُوْنَ* * ۸۔ *اَلنِّسَاءُ*

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive