Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label منظوم مناقب. Show all posts
Showing posts with label منظوم مناقب. Show all posts

8/20/25

سلام احمد رضا خان تضمین کے ساتھ | مصطفی جان رحمت پہ لاکھوں سلام | جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند


 

جب ہوا ضَوفگن دین و دنیا کا چاند

آیا خلوت سے جلوت میں اسریٰ کا چاند

نکلا جس وقت مسعودِ بطحا کا چاند

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

 اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

 

فرش پر آگیا عرشِ اعلیٰ کا چاند

خلد و فردوس گل زارِ ماویٰ کا چاند

بزمِ مخلوق میں دین و دنیا کا چاند

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

 اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں

 

آسمانِ دنا فتدلیٰ کا چاند

رشکِ خورشید چرخ فاوحیٰ کا چاند

 وہ شبِ سعد و پُرنور اسریٰ کاچاند

جس سہانی گھڑی چمکا طیبہ کا چاند

 اُس دل افروز ساعت پہ لاکھوں سلام

 

سرنگوں جملہ شاہانِ اعظم رہے

 سر جھکائے ہوئے قیصر و جم رہے

 خاک پہ کج کلاہانِ عالم ہے

جس کے آگے سرِ سروراں خم رہے

 اُس سرِ تاجِ رفعت پہ لاکھوں سلام

 

جس کارتبہ سرِ حشر بالا رہا

جس پہ شانِ کریمی کا سایہ رہا

پیشِ داور جو محشر کا دولہا رہا

جس کے ماتھے شفاعت کا سہرا رہا

اُس جبینِ سعادت پہ لاکھوں سلام

 

سائلِ در کو بہتر سے بہتر دیا

ذرّہ مانگا کسی نے تو گوہر دیا

 الغرض دامنِ زندگی بھر دیا

ہاتھ جس سمت اٹھّا غنی کردیا

 موجِ بحرِ سماحت پہ لاکھوں سلام

 

جس طرف سے بھی گذرے رسولِ حشم

ذرّۂ خاکِ طیبہ ہوا محترم

اِس قدر محترم وہ نقوشِ قدم

 کھائی قرآں نے خاکِ گذر کی قسم

 اُس کفِ پا کی حرمت پہ لاکھوں سلام

 

وہ دوعالم کے سلطان صل علیٰ

 عرشِ اعظم کے مہمان صل علیٰ

جن کا دنیا میں بستر رہا بوریا

کل جہاں مِلک اور جَو کی روٹی غذا

اُس شکم کی قناعت پہ لاکھوں سلام

Share:

10/26/24

ہن رب کوں بہوں پیارے | hin rab koon bahon piary | manqbat ailya Allah


 

ہن رب کوں بہوں پیارے رب راضی ہے انہاں تے

ایویں نئیں پیر چمدے اسی اللہ والیاں دے

 

چمن دی ریت ساکوں جبریل نے سکھائی

جبریل پیر چمے مدنی کوں جاگ آئی

چمناں جے کر گناہ ہے ونج فتوے لا اونہاں تے

 

خالق دی کل خدائی ہے اینہاں دی بادشاہی

جو چاہندے نے کردے ایہ دین دے سپاہی

بیٹھے تے ہن زمیں تے پر دیدے لامکاں تے

 

کجھ نبی کوں بشر آکھن کجھ چہوں کوں نئیں منیدے

پنجاں دے کجھ ہن منکر چمن توں تاہیں رُکیندے

اوہ ایویں سڑدے راہسن عاشق نئیں  چمنوں راہندے

نعلین مصطفے ﷺ دے چم چم اکھیں تے لاں دے

Share:

5/15/23

mother day poetry | 14 may 2023 | ماں پر اشعار | ماں سے متعلق اشعری mother day poetry collection in Urdu Hindi


 

ماں کے عالمی دن پر انتخاب

 ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

 عباس تابش

 

 سب نے مانا، مرنے والا دہشتگرد اور قاتل تھا

 ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

 احمد سلیمان

 

زمانہ دے کے دھوکہ دیکھتا ہے کب میں روتا ہوں

یہ میری ماں ہے جو مجھ کو کبھی رونے نہیں دیتی

آفتاب شاہ

 

 ایک خواب کی صورت ہی صحیح یاد ہے اب تک

ماں نے کہا!!! لے اوڑھ لے،، ،،اس شال میں ہم ہیں

 منور رانا

 

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

 انجم سلیمی

 

 اس  لیے  تم  کو  پریشان نہیں لگتا ہوں

 ماں کی عادت ہے مرے بال بنا دیتی ہے

 لطیف ساجد

 

 لاکھ رشتےہوں خون کےفیضی

ماں کا  نعم البدل  نہیں ہوتا

 اویس فیضی

 

مجھ سے پہلے میرے دکھ میں میری ماں روئی

کہ یہ لوگ ماؤں کی مشکل نہیں سمجھ سکتے

 نادیہ گیلانی

 

میں نے محسوس کیا ممتا کے پاؤں چھو کر

مجھ پہ جنت کا کوئی ایک کھلا دروازہ

 ماجد رضاامبر

 

 پردیس بسنے والوں کو معلوم ہی نہیں

 کیسے اکیلی ماں نے ہیں بچے جواں کیے

تہمینہ شوکت  تاثیر

 

مرے چھپے ہوئے غم کی زباں سمجھتی تھی

 نہیں سمجھتا کوئی جیسے ماں سمجھتی تھی

 کرن منتہی

 

تیری قسمت میں اگر ماں کی دعا ہے بھائی

 صاف ظاہر ہے' ترے ساتھ خدا ہے بھائی

 عرباض عرضی

 

یہ کارِ شعر یہ سب شہرتیں اضافی ہیں

مرے لیے مری ماں کی دعائیں کافی ہیں

عمران عامی

 

دیر کرتی گاڑیوں کو کیا خبر

 کتنی مائیں جاگتی ہیں رات سے

محمد ارشد مرزا

 

کوئی نہیں جو اترا ہو  معیار پر مرے

 "اماں میں اس اداس طبیعت کا کیا کروں

اویس فیضی

 

 جب بھی گھرسےنکلتاہوں فیضی

 ماں جی رب کے حوالے کرتی ہے

 اویس فیضی

 

فرشتے ان کی مہک سے زمیں پہ آتے ہیں

 وہ روٹیاں جو مرے گھر پہ ماں بناتی ہے

 محمد ادریس

 

 اک طرف ڈال دیا وزن محبت کا تری

 اک طرف ڈالی ہے یہ ساری خدائی میں نے

 مسعود احمد

 

 سب روشنیاں صبح کے امکاں کی طرح ہیں

ہر ماں کے خدوخال مری ماں کی طرح ہیں

 نسیم عباسی

 

تاثیر! ماں نے بیٹے کا خط جب سے ہے رکھا

 خط کیا دل و دماغ بھی   بکسے میں آ گیا

 تہمینہ شوکت تاثیر

 

کیہڑا کیہڑا خوش قسمت اے کیندی ماں

 شام دے ویلے راہ تے آنڑ کھلوندی اے

کاشفؔ اورا

 

 گھر سے رخصت پہ ماتھاچوماتھا

میری ماں نے دعائیں بھی دی تھیں

 اویس فیضی

 

 میں فقط اُن کے توسط سے فتح پاوں گا

 میرے حق میں جو دعائیں مری ماں چھوڑے گی

 مجاہد علی یاسر

Share:

4/14/23

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے | پیر نصیر الدین نصیر | manzar faza e dahar me lyrics


 

منظر فضائے دہر میں سارا علی کا ہے

جس سمت دیکھتا ہوں نظارہ علی کا ہے

 

مرحب دو نیم ہے سرِ خیبر پڑا ہوا

اٹھنے کا اب نہیں کہ یہ مارا علی کا ہے

 

کل کا جمال جزو کے چہرے سے ہے عیاں

گھوڑے پہ ہیں حسین نظارہ علی کا ہے

 

تم دخل دے رہے ہو عقیدت کے باب میں

دیکھو معاملہ یہ ہمارا علی کا ہے

 

ہم فقر مست چاہنے والے علی کے ہیں

دل پر ہمارے صرف اجارا علی کا ہے

 

اصحابی کالنجوم کا ارشاد بھی بجا

سب سے مگر بلند ستارا علی کا ہے

 

اہلِ ہوس کی لقمہ تر پر رہی نظر

نان جویں پہ صرف گزارا علی کا ہے

 

اے ارض پاک تجھ کو مبارک کہ تیرے پاس

پرچم نبی کا چاند ستارا علی کا ہے

 

آثار پڑھ کے مہدی دوراں کے یوں لگا

جیسے ظہور وہ بھی دوبارہ علی کا ہے

 

تو کیا ہے اور کیا ہے تیرے علم کی بساط

تجھ پر کرم نصیر یہ سارا علی کا ہے

 

پیر سید نصیر الدین نصیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ

 گولڑہ شریف

Share:

3/25/23

مریم از یک نسبت عیسی عزیز ترجمہ کے ساتھ | noor chashm e rahmatallilalameen | منقبت سیدہ فاطمہ زہرا علیہا السلام


 

مریم از یک نسبت عیسی عزیز

از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز

: حضرت مریم سلام اللہ علیہا  تو حضرت عیسٰی علیہ السلام  سے نسبت کی بنا پر عزیز ہیں جبکہ حضرت فاطمہ الزاھرہ سلام اللہ علیہا ایسی تین نسبتوں سے عزیز ہیں۔

 

نور چشم رحمة للعالمیں

آں امام اولین و آخریں

پہلی نسبت یہ کہ آپؓ رحمتہ للعالمینﷺ کی نورِنظر ہیں(صاحبزادی ہیں)، جو پہلوں اور آخروں کے امام ہیں۔

 

بانوی آں تاجدارِ ’’ہل اتے‘‘

مرتضی مشکل کشا شیرِ خدا

دوسری نسبت یہ کہ آپؓ   ‘‘ہل اتٰی ” کے تاجدار یعنی سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ تعالی عنہ   کی حرم ہیں (زوجہ ہیں)۔ جو اللہ کے شیر ہیں اور مشکلیں آسان کر دیتے ہیں۔

 

مادر آں مرکزِ پرکارِ عشق

مادر آں کاروانِ سالارِ عشق

تیسری نسبت یہ کہ آپؓ  اُن کی ماں ہیں جن میں سے ایک عشقِ حق کی پرکار کے مرکز بنے اور دوسرے عشقِ حق کے قافلے کے سالار بنے۔

 

مزرع تسلیم را حاصل بتول

مادراں را اسوۂِ کامل بتول

حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا تسلیم کی کھیتی کا حاصل تھیں اور آپ مسلمان ماوں کے لئے اسوہ کامل بن گئیں۔

 

رشتۂِ آئینِ حق زنجیرِ پاست

پاس فرمانِ جنابِ مصطفٰی است

اللہ تعالٰی کی قانون کی ڈوری نے میرے پاوں باندھ رکھے ہیں۔ رسول اللہﷺ کے فرمان کا پاس مجھے روک رہا ہے۔

 

ورنہ گردِ تربتش گردیدمی

سجدہ ہا بر خاکِ او پاشیدمی

ورنہ میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا کے مزار کاطواف کرتا اور ان کے مزار پر سجدہ کرتا۔

Share:

12/3/22

مرا جہاں میں ظہور و خفا معینی ہے | نصیرؔ! تو تو بڑے کام کا معینی ہے | منقبت خواجہ غریب نواز | کلام پیر نصیر الدین نصیر شاہ | pir naseer ul din naseer shah

 

مرا جہاں میں ظہور و خفا معینی ہے

میں وہ ہوں جس کی فنا و بقا معینی ہے

 

ہیں اہل چشت ہیں خواجہ کے چاہنے والے

ہمارے شہر کی آب و ہوا معینی ہے

 

کھلا ہوا ہے در غوث پاک و خواجہ معیں

یہ تاج تو وہ دارالشفا معینے ہے

 

ولائے خواجہ سے سرشار ہیں تمام ولی

خدا گواہ کہ ہر بار خدا معینی ہے

 

جلو میں اپنے ہجوم تجلیات لئے

یہ کوئی تاج بیٹھا ہے، یا معینی ہے

 

گدائے خواجۂ اجمیر اجمیر ہوں بحمداللہ

مری حیات کا رنگ غنا معینی ہے

 

مرے طریق سے خارج ہے مصلحت کوشی

فقیر، قول و عمل میں کھلا معینی ہے

 

مثال آئینہ شفاف ہے مری فطرت

خدا کا شکر کہ جوہر مرا معینی ہے

 

مری سرشت میں شامل ہے خوئے بت شکنی

مرا مزاج بہ فضل خدا معینی ہے

 

یہ ناقدانہ تخاطب بجا، مگر حضرت !

رہے خیال کہ بندہ ذرا معینی ہے

 

وہ جس نے پھول کھلائے ہیں لفظ و معنیٰ کے

وہ ایک شاعر رنگیں نوا معینی ہے

 

نصیرؔ دین متیں خود کو کر دیا ثابت

نصیرؔ! تو تو بڑے کام کا معینی ہے


کلام : پیر نصیر الدین نصیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive