Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label فارسی کلام. Show all posts
Showing posts with label فارسی کلام. Show all posts

7/9/25

Nusrat Collection | Nusrat Fateh Ali Khan’s Timeless Qawwalis & Ghazals | A Journey into Soulful and Spiritual Music

🌟 نصرت فتح علی خان: صوفی موسیقی کا جاودانی سُر 🌟

نصرت فتح علی خان، ایک ایسا نام جو صوفیانہ موسیقی، قوالی، اور غزل کو بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ ان کی آواز میں جو روحانیت، گہرائی اور جذب ہے، وہ آج بھی سننے والوں کے دلوں پر راج کرتی ہے۔ اس بلاگ میں ہم آپ کو پیش کر رہے ہیں ان کی مشہور اور دل کو چھو لینے والی قوالیوں اور غزلوں کا انتخاب، تصویروں کے ساتھ — جہاں ہر تصویر میں موجود لنک آپ کو براہِ راست اس موسیقی کے سحر میں لے جائے گا۔

Nusrat Fateh Ali Khan — a legendary name that brought Sufi music, Qawwali, and Ghazals to global recognition. His voice carries a rare depth, spiritual essence, and emotional intensity that continues to captivate hearts around the world. In this blog, we present a soulful selection of his most iconic Qawwalis and Ghazals, accompanied by visuals — each image containing a direct link that transports you into the mesmerizing world of his music.





































Share:

4/5/25

تو کریمی من کمینہ بردہ ام | tu kremi man kmena lyrics | nusrat fateh ali khan


 تو کریمی من کمینہ بردہ ام

لیکن از لطفِ شما پروردہ ام

یا اللہ تو رحیم و کریم ہے اور میں کم ظرف انسان ہوں لیکن تیرے لطف و کرم سے ہی میری بقا ہے


زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

مقصدِ حیات خدا کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے، خدا کے احکامات سے رو گردانی میں خسارہ ہی خسارہ ہے


یادِ او سرمایۂ ایمان بود

ہر گدا از یادِ او سلطان بود

خدا کی یاد دین و ایمان کی دولت ہے، ایک ادنیٰ انسان اس کے احکامات پر علم پیرا ہو کر سلطان بن جاتا ہے


سید و سرور محمد نورِ جاں

مہتر و بہتر شفیعِ مجرماں

ہمارے سردار حضرت محمد پاک کائنات کی جان اور نور ہیں، آپ گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں


چوں محمد پاک شد از نارو دود

ہر کجا رو کرد وجہہ اللہ بود

حضرت محمد پاک کائنات کی مصفہ ترین پاک ترین ہستی ہیں، آپ جس چیز کا بھی حکم دیں وہ حکمِ خداوندی ہے


شہبازی لا مکانی جانِ او

رحمتہ اللعٰلمیں در شانِ او

آپ کو عرشِ معلیٰ پر معراج کرائی گئی، آپ دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں


مہترین و بہترینِ انبیا

جز محمد نیست در ارض و سما

آپ انبیا کے سردار امام الانبیا ہیں، آپ کے مثل کائنات میں کوئی نہیں


آں محمد حامد و محمود شد

شکلِ عابد صورتِ معبود شد

وہ محمد حامد اور محمود ہیں اور عابد کی صورت معبود کی صورت میں تبدیل ہو گئ ہے


اؤلیااللہ ہو اللہ اؤلیا

یعنی دیدِ پیر دیدِ کبریا

جو خدا کے ولی ہیں، خدا ان کا ولی ہے یعنی پیرِ کامل کو دیکھنے سے خدا کی یاد آ جاتی ہے


ہر کہ پیرِ ذاتِ حق را یک نہ دید

نے مرید و نے مرید و نے مرید

جو اپنے پیرِ کامل کو خدا کا ولی نہیں سمجھتا، وہ مرید نہیں ہو سکتا وہ مرید نہیں ہو سکتا


مولوی ہرگز نہ شد مولائے روؔم

تا غلامِ شمس تبریزی نہ شد

مولوی کبھی بھی مولانا روم نہ ہوتا اگر حضرت شمس الدین تبریزی کا مرید نہ ہوتا


Share:

8/31/24

Aye Khusrave Khooban | اے خسروِ خوباں شانِ من | kalam peer naseer


 

اے خسروِ خوباں ! شانِ من

قربان نگاہت ، جانِ من

آے صفات حمیدہ کے مالک لوگوں کے سردار آپ میری شان ہیں آپ کی نگاہوں پر میری جان قربان ہو

 

 انوارِ جمالت ، رزقِ نظر

دیدارِ رُخت ، ایمانِ من

آپ کے جمال کے انوار میری نظر کا رزق ہیں آپ کے چہرے کا دیدار میرا ایمان ہے

 

 شہکارِ خُدا ، مختارِ عطا

 اے تاجورِ ذی شانِ من

اے قدرت کے شاہکار اور عطا کرنے پر قادر (محبوب کبریاء) اے میرے عظت و شان والے تاجدار

 

 بر جلوہِ تو کونین فدا

اے جان ِ من و جانانِ من

آپ کے ایک جلوہ پر کائنات قربان ہو اے میرے دل وجان

 

 اے ناقہِ سوارِ راہِ قُبا

 یک روز بیا مہمانِ من

اے اونٹنی (ناقہ) پر سوار ہو کر قبا کی طرف جانے والے کبھی مجھے بھی مہمان نوازی کا شرف عطا فرمائیں

 

 از یک قدمت آباد شود

ایں غمکدہ ویرانِ من

آپ کے ایک قدم سے آباد ہو جائے گا میرا ویران غم کدہ (یعنی میرے بیت حزیں میرا ویران گھر)

 

 اے راحتِ قلبِ نصیرِ حزیں

 من بندہ و تُو سلطانِ من

اے نصیر کے غمگین دل کی راحت ! (یعنی آپ نصیر کے پریشان دل کی راحت ہیں) میں ااپ کا غلام ہوں اور آپ میرے بادشاہ ہیں

 

کلام : پیر نصیر الدین شاہ رحمۃ اللہ علیہ

گولڑہ شریف اسلام آباد (پاکستان)

Share:

11/20/23

ہر لحظہ بہ شكلے بتِ عيار بر آمد، دل برد و نہاں شد | وحدۃ الوجود پر کلام رومی


 

ہر لحظہ بہ شكلے بتِ عيار بر آمد، دل برد و نہاں شد

ہر دم بہ لباس دگر آں يار بر آمد، گہہ پير و جواں شد

 ہر لحظہ وہ بتِ عیار ایک نئی ہی شکل میں ظاہر ہوتا ہے،دل چھینتا ہے اور غائب ہو جاتا ہے۔ ہر دم وہ یار دوسروں کے لباس میں ظاہر ہوتا ہے، کبھی بوڑھے کے روپ میں اور کبھی جوان کے۔

خود کوزہ و خود کوزہ گر و خود گلِ کوزہ، خود رندِ سبوکش

خود بر سرِ آں کوزہ خریدار برآمد، بشکست رواں شد

 وہ خود ہی کوزہ ہے، خود ہی کوزہ بنانے والا اور خود ہی کوزہ کی مٹی اور خود ہی کوزہ توڑ دیا اور چل دیا۔ خود وہ اس پیالے کا خریدار بن کر آتا ہے، اور اسے  توڑ کر چلا جاتا ہے۔

نے نے كہ ہمو بود كہ می آمد و می رفت، ہر قرن كہ ديدے

تا عاقبت آں شكلِ عرب وار برآمد، دارائے جہاں شد

نہیں ، نہیں ! وہی تھا جو ہر زمانے میں آتا رہا اور جاتا رہا کہ جسے ہر زمانے  نے دیکھا۔ لیکن با لآخر وہ ایک عرب کی شکل میں ظاہر ہوا اور وہی جہان کے بادشاہ ہیں۔

نے نے كہ ہمو بود كہ می گفت اناالحق، در صوت الٰہی

منصور نبود آں كہ بر آں دار برآمد، ناداں بہ گماں شد

 نہیں ، نہیں !وہی تھا کہ جس نے کہا کہ میں ہی حق ہوں، خدا کی آواز میں۔ وہ منصور نہیں تھا جو سولی پر ظاہر ہوا، نادان اور نہ جاننے والوں کو یہی لگتا ہے کہ وہ منصور تھا۔

حقا کہ ہم او بود کہ اندر یدِ بیضا، می کرد شبانی

در چوب شد و بر صفتِ مار برآمد، زاں فخرِ کیاں شد

 وہی تھا کہ یدِ بیضا کے روپ میں تھا، بھیڑ بکریاں چراتا تھا۔ پھر وہ لکڑی (لاٹھی) بنا اور سانپ کی شکل میں برآمد ہوا اور بادشاہوں کا افتخار بنا۔

می گشت دمی چند بریں روئے زمین او، از بہر تفّرج

عیسیٰ شد و بر گنبدِ دوّار برآمد، تسبیح کناں شد

 اس نے کچھ عرصہ زمین پر سیر کی، تفریح کے لئے۔ عیسیٰ ہوا اور آسمان پر چلا گیا، تسبیح پڑھتا ہوا۔

منسوخ چہ باشد نہ تناسخ کہ حقیقت، آں دلبرِ زیبا

شمشیر شد و در کفِ کرّار برآمد، قتّالِ زماں شد

 اس نے منسوخ کیا یا وہ تناسخ تھا یا خوبرو دلبر کی حقیقت تھا۔ تلوار بنا اور حضرت علی کرّار کی شکل اختیار کی اور ایک بڑے ہجوم کو قتل کیا۔

رومیؔ سخنِ كفر نگفتہ است و نگويد، منكر نشويدش

كافر بود آں كس كہ بہ انكار برآمد، از دوزخياں شد

 رومیؔ نے کبھی کفر کی بات نہیں کی اور نہ وہ کرتا ہے، وہ منکر نہیں ہے۔ کافر تو وہ ہے جس نے انکار کیا تھا یعنی شیطان اور وہی دوزخیوں میں سے ہے۔

Share:

10/24/22

چشمے مستے عجبے زلف درازے عجبے | غزلیات امیر خسرو chashme maste ajabe


 

چشم مستے عجبے زلف درازے عجبے

مے پرستے عجبے فتنہ طرازے عجبے

 

اس کی چمِ ناز کے کیا کہنے اس کے دراز گیسو کے کیا کہنے

اس مئے پرست کے کیا کہنے اور اس فتنہ پرور کی فتنہ پردازیوں کے کیا کہنے

 

بوالعجب حسن و جمال و خد و خال و گیسو

سروقدِّ عجبے قامتِ ناز عجبے

 

وہ اپنے حسن و جمال خد و خال اور گیسو کی خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔

اس کی سرو قامتی کے کیا  کہنے اور اس کے قد و قامت کے کیا کہنے۔

 

وقت بسمل شُدنم آب نہ نوشانِ ورا

مہربانِ عجبے بندہ نوازِ عجبے

 

 اس نے میرے تڑپنے کے وقت بھی مجھ سے کھانے پینے کی چیزیں دور نہیں کیں۔

وہ اس کی مہربانی اور اس کی بندہ نوازی کے کیا کہنے۔

 

بہر قتلم چوں کشد تیغ نہم سر بسجود

او بہ نازِ عجبے من بہ نیاز عجبے

 

مجھے قتل کرنے کے لیے جب اس نے تلوار کھینچی تو میں نے اپنی گردن سجدے میں رکھ دی

اس کا تلوار کھینچنے کا انداز بھی کیا کہنے ار میرا نیاز مندی کا انداز بھی کیا عجب ہے یعنی کیا کہنے۔

 

نہ قیامے ، نہ قعودے ، نہ رکوعے نہ سجود

بر درِ یار گزاریم نمازے عجبے

 

ایک اسی نماز کہ جس میں نہ قیام ، نہ قعدہ نہ رکوع اور سجدہ تھا

وہ نماز میں نے درِ یار پر پڑھی اس نماز کے کیا کہنے

 

 

ترک تازی عجبے،شو بہ بازِ عجبے

کج کلاہِ عجبے، ابر ادا سازِ عجبے

 

 

حق مگو کلمۂ کفر است در ایں جا خؔسرو

راز دانِ عجبے، صاحبِ الرّاز عجبے

Share:

10/21/22

کرد تاراج دِلَم، فتنہ نگاہے عَجَبے | پیر سیّد نصیر الدین نصیر شاہ | فارسی کلام نصیر الدین نصیر شاہ


 

سید نصیر الدین نصیر شاہ مرحوم کی یہ غزل، امیر خسرو علیہ الرحمہ کی خوبصورت غزل "چشمِ مستے عجَبے، زلف درازے عجَبے" کی زمین میں ہے

کرد تاراج دِلَم، فتنہ نگاہے عَجَبے

شعلہ روئے عجَبے، غیرتِ ماہے عَجَبے

میرا دل (دل کی دنیا) تاراج کر دیا، اُس کی نگاہ میں عجب فتنہ ہے، اس کے چہرے کا شعلہ عجب ہے، اس ماہ کی غیرت عجب ہے۔

با ہمہ نامہ سیاہی نہ ہراسَم از حشر

رحمتِ شافعِ حشر است، پناہے عجبے

میں اپنے اعمال نامے کی اس تمام تر سیاہی کے باوجود حشر سے نہیں ڈرتا کہ حشر کے دن کے شافع (ص) کی رحمت کی پناہ بھی عجب ہے۔

رُوئے تابانِ تو در پردۂ گیسوئے سیاہ

بہ شبِ تار درخشانیِ ماہے عجبے

تیرا تاباں چہرہ تیرے سیاہ گیسوؤں کے پردے میں ایسے ہی ہے جیسے تاریک شب میں چاند کی درخشانی،  اور یہ عجب ہی سماں ہے۔

رہزنِ حُسن ربایَد دل و دیں، ہوش و خرَد

گاہ گاہے سرِ راہے بہ نگاہے عجبے

راہزنِ حسن دل و وین اور ہوش و خرد کو لوٹ کر لے جاتا ہے، کبھی کبھی سرِ راہے اپنی عجب نگاہ سے۔

نقدِ جاں باختہ و راہِ بَلا می گیرَند

ہست عشاقِ ترا رسمے و راہے عَجَبے

نقدِ جان فروخت کر دیتے ہیں اور راستے کی بلاؤں کو لے لیتے ہیں، تیرے عاشقوں کی راہ و رسم بھی عجب ہے۔

خواستَم رازِ دِلَم فاش نہ گردَد، لیکن

اشک بر عاشقیم گشت گواہے عجَبے

میں چاہتا ہوں کہ میرے دل کا راز فاش نہ ہو، لیکن ہم عاشقوں پر (ہمارے) آنسو عجب گواہ بن جاتے ہیں۔

ذرّۂ کوچۂ آں شاہِ مدینہ بُودَن

اے نصیر از پئے ما شوکت و جاہے عَجَبے

اُس شاہِ مدینہ (ص) کے کوچے کا ذرہ بننا، اے نصیر میرے لیے ایک عجب ہی شان و شوکت ہے۔

 پیر سیّد نصیر الدین نصیر شاہ مرحوم

Share:

ما آئینۂ جمال یاریم | مولانا رومی غزلیات


 

ما آئینۂ جمال یاریم

نظیر بے جمال آں نگریم

ہم اپنے یار کی خوبصورتی کا آئینہ ہیں ہم اس محبوب کا نمونہ ہیں

مستغرق حسن آں چنانیم

پروائے جہان و جاں نہ داریم

ہم اس کے حسن میں اس طرح مست ہیں کہ جان وجہان کی کوئی فکر نہیں

ما غرقۂ بحر بے کرانیم

از بحر اگرچہ بر کناریم

ہم سمندر سے دور ہیں لیکن اتھاہ سمندر میں غوطہ لگائے ہوئے ہیں

پنہاں بہ حقیقتیم از عیاں

در عین عیاں ظہور داریم

لوگ سچائی سے دور معلوم پڑتے ہیں لیکن وہ سچی آنکھوں میں ظاہر ہے

بیروں ز جہات و در جہاتیم

افزوں ز شمار و در شماریم

ہم جہات سے دور ہیں لیکن جہات کے اندر بھی ہیں ہمارا شمار ممکن نہیں ہے

در ہستیٔ عشق نیست گشتیم

وز ہستیٔ خویش یاد ناریم

ہم نے ہستیٔ عشق کی خاک نہیں چھانی ہم کو اپنی ہستی کی خبر نہیں

بے شمسؔ چو شمس نور باشیم

با شمس چو ابر در غباریم

ہم شمسؔ کی طرح بغیر سورج کے روشن ہیں ہم شمسؔ کے ساتھ بادلوں کی طرح دھول مٹی جیسے ہیں

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive