جب سے سخن کا سلسلہ
ان کی ثنا سے جا ملا
فکر کو تازگی ملی لفظ
کو حوصلہ ملا
اپنی دعاوں میں اثر
شہر نبی میں دیکھیے
ہم کو تو جا بجا وہاں
باب اثر کھلا ملا
جس کے خمیر میں نہیں
حب رسول کی نمی
سارا جہاں اگر اسے مل
بھی گیا تو کیا ملا
دل کو سکوں کی چاہ
تھی مل نہ سکا کہیں مگر
آنکھوں کو بند کر کے
جب نامِ نبی ﷺ لیا ملا
ان سے جدا اگر ہوئے
سمجھو کہ در بدر ہوئے
سوئے مدینہ جب چلے
خلد ملی خدا ملا
مدح حبیب کے سبب ملتے
ہیں لوگ مجھ سے جب
کہتے ہیں آج ہم کو
بھی آقا کا اک گدا ملا
نسبت نعت حشر میں وجہ
نجات بن گئی
میری بساط سے کہیں بڑھ کے مجھے صلہ ملا













