Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label محمد عاصم مہاروی چشتی. Show all posts
Showing posts with label محمد عاصم مہاروی چشتی. Show all posts

1/30/23

intellectual limitations | Leo Tolstoy | war and peace | meer marabit | ہک ہے ہک ہے ہک ہے | صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

روس میں گزرے زمانہ طالب علمی کے دوران کاؤنٹ لیو نیکالوچ ٹالسٹائی  جنہیں غیر روسی دنیا Leo Tolstoy لیو ٹالسٹائی کے نام سے جانتی ہے مشہور روسی دانشور اور ناول نگار  کا شہرہ آفاق ناول war and peace  پڑھنے کا موقع ملا۔ اُس ناول میں جہاں بہت سی باتیں خالص باطنی و روحانی تعبیرات پر مبنی ہیں وہی  لیو ٹالسٹائی کا خالص متصوفانہ جملہ:

 “All we can know is that we know nothing. And that’s the height of human wisdom.”

میں جانتا ہوں کہ اپنی انا کے بُت کو ایک طرف رکھے بغیر عقل کی محدود فطرت  limited nature نظر نہیں آتی اور یہ ایمان یعنی faith کے راستے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے۔ کیوں یہ جملہ بار بار سننے کو ملتا ہے کہ سادہ لوگ ایمان کے بڑے پکے ہوتے ہیں۔ کبھی سوچا بھی ہے کہ انکا faith کیوں اتنا strong ہوتا ہے؟ صرف اس لیے کہ اُنہوں نے کوئی بہت مضبوط انا کے بُت نہیں بنا رکھے ہوتے اور فطرت کے قریب رہنے سے عقل کی محدودیت ( intellectual limitations ) کا ادراک ہوتا ہے۔

ایمان کے لیے علم کی ضرورت نہیں ہوتی۔کون کہتا ہے کہ عالم ہونے سے ایمان مضبوط ہوتا ہے؟ کیا اسلامی تاریخ میں سارے عالم مظبوط ایمان والے لوگ تھے؟اب اس بحث میں کاہے کو پڑنا ۔ صاحبو!ایمان  جھوٹی انا کے بُت کو پاش پاش کرنے سے مظبوط ہوتا ہے۔ وہ جسے مولانا روم کہتے ہیں کہ بیٹا عقل کی عیاری کو بیچ اور عشق کی حیرانی کو خرید۔ جہاں حیرانی کے میدان شروع ہوتے ہیں وہی سے ذاتِ حق کے عرفان کا آغاز ہوتا ہے۔

میرا اللہ سائیں کوئی آسمان پر بیٹھا بوڑھا آدمی نہیں ہے جو ہر لمحہ آدم کے بیٹے پر صرف اس لیے نگاہ رکھے ہے کہ کب یہ غفلت کرے اور کب وہ اسے اسکی سزا میں دوزخ میں ڈال دے یا غفلت نہ کرے اور وہ اس پر جنت کے باغ کا دروازہ، چند پرندہ نما ہوا میں اُڑتے وجود  ( ملائکہ) سے کھلوا کر اُس کو جزا کے طور پر اس میں داخل کر دے۔ نہ ہی میرا اللہ سائیں کو سناتا کلاز ہے جو آپ کی احمقانہ wish list کو پورا کرتا پھر رہا ہو۔

میرا اللہ سائیں تو اس کائنات کا اس cosmos کا خالق ہے  وہ جس کی رحمت نے اپنی لپیٹ میں ہر ایک مخلوق کو لے رکھا ہے ،ہر دل کو تھام رکھا ہے، وہ جس کے ہاتھ میں میرے ہر زخم ،میرے ہر درد کی شفا ہے ۔وہ جس کا چہرہ؛ میں جہاں نگاہ دوڑاتا ہوں دیکھتا ہوں۔ وہ جو ہر وقت میرے ساتھ رہتا ہے۔ وہ جس کے حضور میں اپنی کمیوں کوتاہیوں پر معافی مانگنے میں سست ہو جاتا ہوں اور وہ مجھے بخشنے اور میری ستاری کرنے میں ہمیشہ جلدی کرتا ہے۔ وہ میرا غفور وہ میرا ستار۔  بی بی رابعہ بصری علیہ رحمتہ نے کیا ہی خوب ارشاد فرمایا:

‘‘صالح! تمہیں کس نے کہا کہ کبھی اللہ کا دروازہ بھی بند ہوتا ہے۔ اللہ کا دروازہ تو ہمیشہ کھلا رہتا ہے۔’’

 میرا اللہ سائیں تو وہ ہے جس کا دروازہ کھلا رہتا ہے وہ جو میرا غفور و ستار ہے۔ اُس سمیع کے سامنے فریاد کرنے میں جھجک کیسی جو البصیر ہے۔ اور اس کے سامنے جھوٹ کیسا جو العلیم ہے۔ میرا اللہ سائیں وہ قدیر ہے جسے چاہے عزت بخش دے جسے چاہے ذلت۔

ہک ہے ہک ہے ہک ہے

ہک دی دم دم سک ہے

سمع خراشی کی معذرت

التماس دُعا : صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

 

Share:

11/12/22

صراط مستقیم کیا ہے؟ | صاحبزادہ محمدعاصم مہاروی | سیدھا راستہ | کوہ بہ کوہ نمی رسد ولے

کوہ بہ کوہ نمی رسد ولے

آدم بہ آدم می رسد

پہاڑ پہاڑ سے نہیں مل سکتا مگر آدمی آدمی سے مل سکتا ہے

 

 مُجھ سے دوست پوچھتے ہیں کہ کیسے معلوم ہو کہ ہم صحیح سمت میں جا رہے ہیں؟

تو یاد رکھیے:

رحمت العالمین سرکارِِ دو عالم ﷺ کی سمت ہی صحیح سمت ہے۔یہی اللہ تعالی کا راستہ ہے اور یہی صراطِ مستقیم ہے:

جب آپ کو خالق کی طرف سے دی گئی یہ زندگی ایک مسئلہ نہیں بلکہ ایک تحفہ اور رحمت محسوس ہونے لگے۔

جب تم یہ رحمت دوسروں میں بانٹنے لگو تو یاد رکھنا کہ یہی صحیح سمت ہے۔

جب چھوٹی چھوٹی باتیں حیران کن اہمیت پانے لگیں۔

جب ساری دنیا ہر روز زیادہ سے زیادہ راز بھری معلوم ہونے لگے۔

جب تم اپنے آپ کو کم سے کم علم والا محسوس کرنے لگو۔

جب تم تتلیوں کے پیچھے کسی معصوم بچے کی طرح بھاگنے لگو۔

جب تمہاری زبان اور تمہارے اعضاء کسی کو ضرر پہچانے سے قاصر ہونے لگیں۔

جب تم دوسروں کے لیے بھی وہ چاہنے لگو جو اپنے لیے چاہتے ہو۔

جب تم اپنے کسی بھی عمل سے قبل اپنی نیت کو ترازو میں رکھنے لگو۔

جب تم اُس بات پر دھیان دینا کم کر دو جس سے تمہارا لین دین نہیں۔ Which is not your Business

جب تم کھانا زبان کے ذائقہ کی خاطر نہیں بلکہ پیٹ کو بھرنے کے لیے کھانا شروع کر دو۔

جب تم بوڑھوں کی عزت کرنا شروع کر دو۔

جب یتیموں کے سر پر ہاتھ رکھنے سے تم اپنے آپ کو مکمل محسوس کرنے لگو۔

جب تمہاری آنکھیں حیا کا تعارف بننے لگیں۔

جب تم دوسروں کے لیے خیر کی دعائیں مانگنے لگو۔

جب تمہارے دل سے فخر اور غرور رخصت ہونے لگ جائیں ۔

جب تم لوگوں کی پیٹھ پیچھے باتیں کرنا ترک کر دو۔

جب تم دوسرے کی مدد یوں کرنے لگو کہ تمہارے دوسرے ہاتھ کو بھی اس کا علم نہ ہونے پائے۔

جب تم اصل امارت مال و دولت کو نہیں بلکہ اصل امارت دل کے اطمینان کو سمجھنے لگو۔

جب تم طاقت کے ہوتے ہوئے معاف کرنے لگو۔

جب غصہ تمہیں اپنی کمزوری نظر آنے لگے۔

جب تم لوگوں کو ان کے مرتبہ کے مطابق عزت دینے لگو ۔

جب تم موت کو اکثر یاد رکھنے لگو۔

جب تم خدائے مُحَمَّد ﷺ کی یوں پرستش کرنے لگو کہ وہ تمہیں ہر لمحہ دیکھ رہا ہے اور ہر لمحہ تمہارے قریب ہے۔

تو یاد رکھنا کہ تم صحیح سمت پر ہو۔

صاحبزادہ محمدعاصم مہاروی 

Share:

7/15/22

اصل خبر اندر کی ہوتی ہے | جا جا وڈدا مندر مسیتی | صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی

آپ کس کے ساتھ ہیں؟

صاحبو! آپ جس کسی کے بھی ساتھ ہیں اگر آپ اپنے ساتھ نہیں ہیں تو یقین جانیے کہ آپ کسی کے بھی ساتھ نہیں ہیں ۔ جیسے انسان اپنے اردگرد کی خبر رکھتا ہے، اردگرد میں ہونے والے واقعات سے باخبر رہتا ہے مگر انسان اپنے اندر کی خبر نہیں رکھتا۔۔۔اپنے اندر ہونے والے واقعات سے بے خبری میں رہتا ہے۔۔

ویسے خبر ہوتی کیا ہے؟

صاحبو ! خبر تو اندر کی ہی ہوتی ہے

اور اگر اندر کی نہ ہو تو خبر ہی کیا۔۔۔۔

بڑے صحافی یا بڑے صحافتی ادارے “ اندر” کی خبریں دینے کی وجہ سے ہی معتبر ٹھہرائے جاتے ہیں۔

تو خبر اندر کی ہوتی ہے ۔۔۔

واقعہ تو کہیں اندر ہوتا ، باطن میں ، داخل میں ہے ، باہر یا خارج میں یا جسے ظاہر کہتے ہیں اُس میں تو صرف اُس اندرونی واقعہ کا اظہار ہو رہا ہوتا ہے ۔

اندر کا واقعہ ہے کہ انسان کو طاقت کی خواہش یا دولت کا لالچ جکڑ لیتا ہے۔۔۔ یہ سب اندر ہو رہا ہوتا ہے۔ جو باہر یا خارج میں باپ کی آنکھیں نکالنے اور زندان میں ڈالنے کے بعد ایسا کرنے والے بیٹے کو تخت نشین کر دیتا ہے۔

جو یتیم بھتیجے کی جائیداد پر قابض ہو جاتا ہے

جو زیادہ منافع کمانے کے لیے خوراک کی زخیرہ اندوزی کر کے مصنوعی قلت پیدا کر دیتا ہے۔

جو دودھ میں پانی ملا دیتا ہے۔۔۔

واقعہ تو اندر ہوتا ہے میری جان

باہر تو صرف اظہار ہے

تو جب صوفی کہتا ہے کہ

جا جا وڈدا مندر مسیتی

کدی من اپنے اچ وڑیا ای نہیں

‘‘دوڑ دوڑ کر مندر اور مسجد جاتے ہیں مگر اپنے من میں کبھی داخل ہونے کی کوشش نہیں کرتے’’

تو صوفی یہی اشارہ کرتا ہے کہ اصل واقعہ تو اندر ہو رہا ہوتا ہے۔۔۔ اور تُم باہر ڈھونڈ رہے ہوتے ہو۔ اور یہ اپنے اندر نہ دیکھنے اور صرف باہر ہی دیکھتے رہنے کی وجہ سے ہے کہ نہ دل میں جستجو، نہ بات میں خوشبو، نہ آنکھ میں آنسو، نہ طبعیت میں دُعا، نہ لمس میں شفا، نہ نظر میں حیا، نہ بات میں اثر۔۔۔۔ بڑے بڑے کشادہ محل بنانے کے چکروں میں اُس “ محل ربانی” اپنے دل کو ہی تنگ کر بیٹھا ہے۔انسان ، انسان پر طاقت ور رہنے کے لیے “ القوی” سے براہ راست جنگ کر بیٹھا ہے۔

انسان چیزوں کے پیچھے بھاگتے بھاگتے خود ایک چیز ایک commodity بن گیا ہے ۔

انسان ظاہر میں اسی لیے پریشان ہے کہ اُس نے باطن کو پراگندہ کر دیا ہے

جیسے ہی باطن مطمئن ہونے لگتا ہے، توازن میں آتاہے ظاہر کے جھگڑے ختم ہونے لگتے ہیں۔

محبت راج کرنے لگتی ہے

محبت کا راج کیا ہوتا ہے

خدمت محبت کی راجدھانی ہے

پھر ریاست ماں بن جاتی ہے

پھر مخدوم ہی اصل خادم ہوتا ہے

خوشی کا نسخہ کیمیاء Alchemy of Happiness یہی ہے ۔ مخلوق کی خدمت اور خالق کا ذکر۔۔۔

ہتھ کار ولے ، دل یار ولے۔۔

انسان سُنتا ہے اور بھول جاتا ہے

انسان دیکھتا ہے اور یاد رکھتا ہے

انسان کرتا ہے اور سمجھ جاتا ہے

التماس دُعا

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

 

 

Share:

7/6/22

انسان اللہ تعالی کا خلیفہ ہے | ادراک | صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبو ! آپ پوری طرح سے ایک پہیلی ہیں۔

کوئی حادثاتی زندگی نہیں ہے۔ وہ جسے آپ حادثہ سمجھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی کچھ ایسا حادثہ نہیں ہوتا ۔۔۔بس جسے آپ حادثہ کہہ رہے ہوتے ہیں اسکے متعلق جزئیات کا مکمل ادراک نہیں رکھتے۔۔اور اپنی اس لاعلمی کے باعث اسے حادثہ کہہ دیتے ہیں۔۔۔

فطرت کے جزئیات میں ہم آہنگ کمال کے پیچھے ایک ریاضی دان ہے جو میری شریانوں کے اندر ناچنے اور گھومنے والے خلیوں میں اپنی محبت ڈالتا ہے اور مٹی کے سانچے میں، مشت خاک میں روح پھونک دیتا ہے۔۔۔ غلاظت سے لُتھڑی خاک میں روشنی ڈال دیتا ہے اور میری داستان کو رحمت کے قلم سے لکھتا ہے۔

وہ جو سمندروں کی گہرائیوں ، ستاروں کی کہکشاؤں ، پہاڑوں کی چوٹیوں اور صحراؤں کی وسعتوں اور نہ جانے کیا کیا بنانے کے بعد محسوس کرتا ہے کہ یہ دنیا آپ کے اور میرے بغیر نامکمل ہو گی۔۔۔ خلیفہ ۔۔۔

انسان ۔۔

آپ زمین پر خدا کی خوبصورتی کا عکس ہیں۔ آپ اُس سے کہیں زیادہ خوبصورت ہیں جس کے بارے میں روزانہ آپ کو آئینہ آگاہ کرتا ہے۔۔

آپ فنا کی مٹی میں رکھی ہوئی ایک لازوال بقا ہیں۔

آپ محدود حساب کے ساتھ اپنی قیمت لگاتے ہیں۔۔۔

دعا گو و دعا جُو

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

 

Share:

4/26/22

زندگی تو میری جان حال کا نام ہے | حال، ماضی ، مستقبل ، انسان |صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

جب آپ زندگی کو ایک تماشا کے طور پر لیں گے تو انا مر جائے گی۔ اس کا وجود نہیں رہے گا۔ زندگی کو بازیچہ اطفال سمجھۓ

آپ پوچھتے ہیں کہ مستقبل کے بارے میں میرا کیا خیال ہے؟ سچی بات ہے کہ میں مستقبل کی فکر نہیں کرتا۔ میرے لیے حال ہی کافی ہے۔ اگر حال خوبصورت ہے تو مستقبل کا خوبصورت ہونا یقینی ہے کیونکہ مستقبل نے حال ہی کے بطن سے جنم لینا ہے۔ ہمیں مستقبل بارے فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں۔ مستقبل کے بارے میں پیشینگوئی کی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں لمحہ موجود سے خوشی کشید کرنا چاہیے اور اگلا لمحہ اسی لمحہ موجود سے پیدا ہو گا۔


کچھ لوگ مستقبل کے ہی خواب بُنتے رہتے ہیں۔ ایسا مستقبل کبھی رونما نہیں ہوتا۔ ایسا مستقبل احمقوں کی جنت ہوتا ہے۔ مستقبل ایک غیر متعلق چیز ہے۔ میری ساری جدوجہد کا دائرہ یہاں تک محدود ہوتا ہے کہ حال کو کیسے خوشگوار بنایا جائے؟ لوگوں کے چہروں پر کیسے ہنسی کی کرن لائی جائے اور لوگوں کی زندگیوں میں کیسے حسین رنگ بکھیرے جائیں۔

درحقیقت عرصہ ہوا آپ اپنی آواز بھول چکے ہیں ۔ آپ کو کبھی اتنی آزادی نہیں ملی کہ اپنی رائے کا اظہار کر سکیں۔ آپ کی آواز ہمیشہ دبی رہی ہے اور دوسری آوازیں بہت بلند تھیں، تحکمانہ تھیں کیونکہ وہ احکامات تھے اور آپ ان کو مانتے رہے۔ آپ انہیں نہیں ماننا چاہتے تھے مگر مانتے رہے کیونکہ آپ عزت کروانا چاہتے تھے، قابل قبول بننا چاہتے تھے، محبت کروانا چاہتے تھے۔ آپ کے اندر صرف اپنی آواز کی کمی ہے۔ ایک آواز کہتی ہے “یہ کرو” دوسری آواز کہتی ہے “ایسا ہرگز نہ کرنا”۔ اور آپ الجھن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ ان آوازوں سے پیچھا چھڑانا ہوتا ہے۔ آپ کو ان سب آوازوں کو خُداحافِظ کہنا پڑے گا۔ ایک بات تو یقینی ہے کہ یہ آپ کی آوازیں نہیں ہیں۔ یہ اُن کی آوازیں ہیں جو اپنا دور گزار چکے ہیں اور انہیں مستقبل کی خبر نہیں تھی۔

لہذا اس بابرکت مہینے میں خاموش ہو جائیں اور اپنے آپ کو دریافت کریں۔ جب تک آپ اپنی ذات کو تلاش نہیں کرتے یہ ہجوم نہیں چھٹے گا ۔

حال تب بہتر ہوتا ہے جب انسان ماضی سے جان چھڑا لیتا ہے اور زندگی میں سب سے مشکل کام ماضی سے خلاصی حاصل کرنا ہے۔ کیونکہ ماضی سے دستبردار ہونے کا مطلب ہے کہ اپنی پوری شناخت سے، اپنے سارے حوالوں اور شخصیت کو چھوڑ دیا جائے۔ یہ اپنے آپ کو چھوڑ دینے کے مترادف ہوتا ہے۔

بلھے شاہ چل اُتھے چلیے جتھے سارے انے

نہ کوئی ساڈی ذات پہچانے ، نہ کوئی سانوں منے

یہ عمل کپڑے تبدیل کرنے کی طرح نہیں ہے بلکہ یہ ایسا ہے جیسے جلد کو چاقو سے چھیلا جائے۔ آپ اپنے آپ کو ماضی ہی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ ماضی سے خلاصی حاصل کرنا سب سے مشکل کام ہے لیکن صرف وہی حقیقی زندگی بسر کرتے ہیں جو اس بوجھ کو اتار پھینکتے ہیں۔ ماضی سے نکلے بغیر آپ حال میں نہیں آ سکتے۔

زندگی تو میری جان حال کا نام ہے۔ ماضی اور مستقبل دونوں کچھ نہیں۔ آپ کو اپنے باطن کا مشاہدہ کرنا ہو گا کہ آپ ماضی سے کچھ غذا حاصل کر رہے ہیں یا اس کے برعکس یہ آپ کا خون چوستے رہا ہے؟

خود کلامیاں ہیں ان کی تائید کرنا یا تنقید کرنا مفید نہیں ہوتا ان کو صرف پڑھ کر مزا لینا چاہیے۔

سلامت رہیں

دُعاگو، دُعا جُو

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی


 

Share:

کچھ چیزیں دل کا معاملہ ہوتی ہیں | دل ، دماغ ، انسان | صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

بس بہت ہو چکا اب اسے دھو ڈالیے۔

یہ مت سوچیں کہ آپ وہی ہیں جو آپ ہیں۔ آپ اس سے بڑھ کر ہیں اور آپ ہمیشہ اس سے بڑھ کر رہیں گے۔ آپ میں عظیم صلاحیت ہے ۔ ایک ایسی صلاحیت جس سے آپ بے خبر ہیں ۔ آپ کی یہ صلاحیت ، آپ کا یہ پوٹیشنل ( potential) کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ 

زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جن کو صرف اندر سے جانا جا سکتا ہے۔ اگر آپ یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ آپ صرف اس وقت محبت میں گرفتار ہوں گے جب آپ محبت کے معنی سمجھ لیں گے تو آپ کبھی بھی محبت میں مبتلا نہیں ہوں گے۔ محبت کے بارے میں جاننے کا اس کے سوا کوئی طریقہ نہیں کہ آپ اس میں گرفتار ہوں۔ آپ لائبریریوں میں جا سکتے ہیں اور محبت پر لکھی گئی ہزاروں کتابوں کو دیکھ سکتے ہیں۔ آپ ان کتابوں کو پڑھ سکتے ہیں اور محبت کے بارے میں پی ایچ ڈی PhD کے مقالے تحریر کرسکتے ہیں لیکن اس کے باوجود آپ محبت کے بارے میں کچھ نہیں جانیں گے۔

لوگ میرے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں: پہلے یہ ثابت کرنا ہوگا کہ خدا ہے، اسی صورت میں ہم اس کی تلاش کے لیے جائیں گے۔ وہ کبھی تلاش کے لیے نہیں جائیں گے۔ اُنہیں خدا کبھی  نہیں ملے گا۔ ظاہر ہے کہ آپ کیسے تلاش کرسکتے ہیں؟ اب خدا کو بحث کے طور پر ثابت کرنا ممکن نہیں۔

آپ کو ایک چیز کی تلاش کے لیے جانا ہوگا جسے آپ بالکل نہیں جانتے اور جس کے بارے میں آپ سرے سے یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتے۔ درحقیقت تلاش کا اصل مزا بھی یہی ہے، یہی لُطف ہے کہ آپ ایک ایسی چیز کی تلاش میں جا رہے جو نجانے ہے یا نہیں ہے۔ یہ ایک جوا ہے ۔ لیکن یہی وہ جوا ہے جس میں آپ نمو پاتے ہیں ۔ اور اسی نمو کے عمل میں خدا قریب آتا ہے، اور جب آپ تلاش جاری رکھتے ہیں اور رسک لیتے ہیں تو اچانک ایک دن آپ جان لیتے ہیں کہ خدا ہے۔ صرف خدا ہے۔

دراصل آپ کے دماغ کو اس حد تک conditioned مشروط کر دیا گیا ہے کہ آپ دماغ کو صاف کیے جانے سے خوفزدہ ہیں۔ آپ کو سوچ کی صورت میں چمٹنے کے چیز ملی ہوئی ہے۔ آپ کے دماغ میں بہت سا کچرا ہے۔ کیا آپ نے کبھی نہیں سوچا کہ اسے ایک اچھی دھلائی کی ضرورت ہے؟ تو آپ اس مائینڈ واش ( mind wash) سے اس قدر خوفزدہ کیوں ہیں؟ یہ خطرناک لگے گا لیکن رسک لیں۔ درحقیقت آپ کے پاس کھونے کو کیا ہے؟ آپ کے دماغ میں کیا ہے؟ آپ اس قدر فکرمند کیوں ہیں کہ اس میں کوئی ایسی قابل قدر چیز ہے۔ سب کچرا ہے اور آپ جانتے ہیں۔

یاد رکھیے کہ ایمان کا اقرار باللسان اور بالقلب ہے نہ کہ دماغ کہ ساتھ۔ آپ اپنے دماغ کو جانیں کہ یہ کیا ہے جس حالت میں آپ اسے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ ایک پاگل خانہ ہے۔ ایک ھزار ایک چیز چل رہی ہے اس میں، شور ، ہجوم، فضولیات۔۔اس میں بیش قیمت کیا ہے؟

آپ کو بتایا گیا ہے کہ آپ کے جسم میں سب سے قیمتی پرزہ دماغ ہے۔ مگر یہ کس نے بتایا ہے؟ خود دماغ نے ہی بتایا ہے ناں۔ آپ ایک ایسے دماغ میں مقید ہے جو اپنی تعریف پسند کرتا ہے اور تنقید برداشت نہیں کر سکتا۔ جو صرف اُن چیزوں سے چمٹا ہے جو معاشرے یا اس تعلیمی نظام نے اس کو feed کی ہیں اور جن کے بار بار دہرائے جانے سے یہ اسے اپنا حاصل کردہ علم سمجھے بیٹھا ہے۔ مستعار لی گئی معلومات علم نہیں ہوتیں۔

تصوف ایک محبت کا معاملہ ہے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں کہ جسے پہلے ثابت کرنا ہوتا ہے اور پھر اسے آپ پا لیتے ہیں۔

آپ پرانے طریقے میں زندگی جی چکے ہیں اور اس سے کچھ بھی نہیں ہوا اور اگر کچھ ہوا بھی ہے تو وہ مصنوعی اور بے کار ہے۔

دماغ میں اتنا مت جائیں۔ کچھ چیزیں دل کا معاملہ ہوتی ہیں۔ دل کے اپنے دلائل ہوتے ہیں جن کو دماغ نہیں جانتا۔ دل کو اجازت دیں۔ یہ دل کا معاملہ ہے۔ یہ دماغ سے کیا جانے والا فیصلہ نہیں کہ آپ اس کے فائدے اور نقصان کے بارے میں سوچیں، فلاں طریقے اور فلاں طریقے کے بارے میں سوچیں اور پھر دماغ کی جانب سے منظوری ملنے کے بعد فیصلہ کریں۔ ایسا نہیں ہے۔ یہ دل کا معاملہ ہے اور آپ فائدے اور نقصان کے بارے میں نہیں سوچتے ہیں۔

بس اب اسے دھو ڈالیے۔ آپ ہی اسے دھو سکتے ہیں ۔ کچھ صابن ہم مہیا کردیں گے ۔

ہمت کیجیے۔                                               دُعاگو

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی



 

Share:

انسانی شعور | آئنہ صفت انسان | صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

انسانی شعور کو بھی آئنہ کی ضرورت رہتی ہے:

جس طرح آپ کا ہاتھ متعدد اشیاء کو پکڑ سکتا ہے مگر خود اپنے آپ کو گرفت میں نہیں لے سکتا اور جس طرح انسانی آنکھ دنیا کو دیکھ سکتی ہے مگر اپنے آپ کو نہیں۔ شاید بالکل اسی طرح انسانی شعور کائنات کے بارے میں جان پاتا ہے شاید اپنے آپ کو جاننے میں معذور رہتا ہے۔ اور بالکل جیسے آنکھ کو خود اپنا آپ دیکھنے کے لیے آئینہ کی ضرورت پڑتی ہے۔ بالکل اسی طرح انسان کو اپنے اندرونی شعور کو بطور بیرونی دنیا کے جاننے والے اور تفتیش کرنے والے کے، اس کے لیے بھی انسانی شعور کو  بیدار اور آئینہ صفت انسانوں کی ضرورت پڑتی ہے۔

دُعاگو!

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

 

Share:

3/29/22

آٓج کا استاد | استاد کے مسائل | استاد کا مقام | پاکستانی معاشرے میں استاد کا مقام | صاحبزادہ محمد عاصم چشتی مہاروی

ستم ظریفی دیکھیے آج کے بچے کو جس اُستاد نے اس دنیا میں جینے کا علم اور فن سیکھانا ہے وہ صرف اپنے” سر” میں جی رہا ہے( living in his head) . اُس کے لیے جسم صرف “ سر” کو اُٹھانے اور ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے ، transport کرنے کے زریعے کے علاوہ کچھ نہیں۔۔۔ صبح سویرے “سر” کو اُٹھائے گھر سے اسکول، کالج ، پھر اُسی “ سر” کو اُٹھائے ٹیوشن سینٹر اور رات کو وہی سر، lesson plan, student assignments یا پھر امتحانوں کے پرچے بنانے یا پرچوں کی چیکنگ کرنے کے بوجھ کو سر پر اُٹھائے گھر چلا جاتا ہے اور تھک ہار کر وہی سر ، بستر کے تکیہ پر دھر کر سو جاتا ہے۔ وہ جی کہاں رہا ہے۔۔۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ وہ “ سر” میں جی رہا ہے تو لوگ نہ جانے ناراض کیوں ہو جاتے ہیں ۔ شاید اس لیے کہ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ وہ لوگ جو صرف “ سر” میں جیتے ہیں ان کے لیے شعبہ صحت میں علاج کی خاطر الگ ہسپتال بنائے جاتے ہیں۔ اور کیونکہ ہمیں ہمیشہ اُستادوں کا احترام کرنے کا درس دیا جاتا ہے تو ہمارے لیے اس حقیقت کو تسلیم کرنے میں دقّت ہو جاتی ہے کہ اُستاد کیسے نفسیاتی مریض ہو سکتے ہیں۔

انہیں نفسیاتی مریض بنانے میں جہاں استادوں کے اپنے مسائل اور انکی لاتعداد وجوہات ہوں گی خود ہمارا یعنی والدین کا بہت بڑا کردار ہے۔

ایک بہت ہی دلچسپ اور عمومی رویہ ہے کہ اگر کسی تقریب میں یا عشائیہ یا ڈنر پر ۔۔اوّل تو کسی ڈنر پر استاد کو بلایا ہی نہیں جاتا مگر کھبی ایسا اتفاقاً ہو جائے کہ آپ کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے والے شخص کے تعارف میں آپ کو پتہ چلے کہ وہ teacher ہے یا اُستاد ہے تو آپ کا فوری رد عمل کیا ہوتا ہے۔۔۔

“ آہ! آج کی شام کا کباڑہ ہو گیا” اور پھر اپنی اسی اندرونی اور ان کہی خفت کو مٹانے کے لیے لایعنی سا مکالمہ شروع کرتے ہیں جس میں نہ آپ کی دلچسپی ہوتی ہے نہ اُس مہمان کی جو اتفاقاً اُستاد نکلا۔۔۔ “ موسم کیسا ہے” امتحانات کب ہو رہے ہیں” فیسیں بہت ہو گئی ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔

ایسا کیوں کرتے ہیں ہم؟ کبھی یہ بھی سوچا ؟

شاید اس لیے کہ ہم سمجھ بیٹھے ہیں کہ اُستاد “ سر” میں جیتا ہے اور اسکے اندر کچھ تخلیقیت نہیں، کچھ creativity نہیں، teacher is not dynamic, he is not interesting…

صورتحال اور بھی دلچسپ ہو جاتی ہے جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ تقریباً سب لوگوں کو ہی تعلیم میں دلچسپی ہے مجھے تو دلچسپی ہے کیا آپ کو نہیں ہے؟ باوجود تعلیم میں عالمگیر دلچسپی کے باوجود ہمیں “ معلم” دلچسپ نہیں لگتے ۔

ایک اور زاویہ سے اگر ہم اسی معاشرتی رویہ کو دیکھیں ۔ کیا آپ کے بچوں کے اُستاد آپ کے دوست ہیں؟ کیا ایسا نہیں ہے کہ آپ نے بچوں کے اُستاد کو صرف ایک سہولت کار کے طور پر لیا ہے اور اس سہولت کاری یا facilitation کا معاوضہ دیتے ہیں مگر وہ میرے دوست نہیں ہیں ۔۔۔۔

میں اپنی متاع عزیز یعنی اولاد کی ذہن سازی ایک ایسے فرد کے حوالے کیے بیٹھا ہوں جو میرا دوست نہیں ہے۔۔۔۔۔

آپ درویشوں سے پریکٹیکل step پوچھتے ہیں تو وہ تو یہی ہے کہ اپنے بچوں کے اُستاد کے ساتھ دوستی کریں اُنکے ساتھ friendly ہو جائیں۔ یقین مانیں یہ جو صرف اپنے “ سر” میں جیے چلے جا رہے ہیں اور جنہیں آپ نے بچوں کو تعلیم دینے کا سہولت کار بنا رکھا ہے یہ بہت قیمتی لوگ ہیں۔ ان سے آپ دوستی کر لیں۔۔۔let them join you ۔۔۔ یہی تو آپ کا بہترین دوست ہے جس نے آپ کے بچہ کو اس دنیا کا علم اور جینے کا ڈھنگ دینا ہے۔  انہیں ڈنر پر بلائیں، انکے ساتھ outing پر جائیں۔ چھٹیوں میں اکٹھے سیر کو نکلیں ۔۔۔ اور جب اس “سر” میں پھنسے سہولت کار facilitator کو دوست بنائیں گے اور انکو “ سر” سے نکلنے میں مدد دیں گے تو پھر آپ دیکھیں گے کہ آپ کا یہ دوست کس بہترین طریقہ سے آپ کے بچہ کے زہن سازی کرتا ہے۔ وہ پھر آپ کے بچوں کو ادھار لیے گئے جوابات دستیاب نہیں کرے گا ، وہ بچوں کے ازہان میں خوابیدہ سوالات کو جگائے گا، انکے اندر تجسس کو اُبھارے گا اور آپ کے بچوں کو اپنے سوالات کے جواب خود تلاش کرنے کے لیے تیار کرے گا۔

علاج اور مسلۂ کا حل ۔۔۔ پیار میں ہے اور دوستی میں ہے۔ الولی اور الودود سے اپنا بھی علاج کریں اور اپنے مسائل کا بھی۔۔

دُعاگو:صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

 

 

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive