Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label History. Show all posts
Showing posts with label History. Show all posts

10/7/25

جشنِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ والہ وسلم عقلی و نقلی دلائل کی روشنی میں

یوم میلاد اور جشن میلاد کے حوالے سے راہ نمائی  (اعتراضات کے تناظر میں )

انبیائےکرام علیھم السلام کی ولادت کے دن پر سلام

·      وَ سَلٰمٌ عَلَیْهِ یَوْمَ وُلِدَ وَ یَوْمَ یَمُوْتُ وَ یَوْمَ یُبْعَثُ حَیًّا(سورہ مریم :15) یحیی علیہ السلام

·      وَ السَّلٰمُ عَلَیَّ یَوْمَ وُلِدْتُّ وَ یَوْمَ اَمُوْتُ وَ یَوْمَ اُبْعَثُ حَیًّا(سورہ مریم:33) عیسی علیہ السلام

·      وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ (صحیح مسلم :ترقیم عبد الباقی:1162، ترقیم شاملہ :2747)

نبی کریم ﷺنے ہر پیر کو روزہ رکھا  اور ذکر کیا اپنی ولادت کا اور اپنی نعمتوں کا یعنی نبوت وغیرہ  لوگ کہتے ہیں کہ کیا کبھی صحابہ نے ایسا  وغیرہ وغیرہ بندہ ان سے سوال کرے آپ لوگوں کی مت ماری گئی ہے کہ کیا ہم پر صحابہ کی اتباع فرض ہے یا رسول اللہ ﷺ کی اتباع فرض ہے۔؟جب ایک کام نبی نے کیا ہو اور امت کو اس کام سے منع نہ کیا ہو یعنی جیسے بیک وقت چار عدد نکاح سے زیادہ نکاح امت کو منع کیا (یعنی ایک وقت میں چار بیویوں سے زیادہ)لیکن خود کیا اس طرح اگر امت کو منع نہیں کیا تو پھر یہ دلیل نہیں دیکھی جائے گی کہ صحابہ نے کیا یا نہیں کیا ۔ ۔ ۔ ۔  ۔اس حدیث سے یہ بات تو واضح ہو گئی کہ نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا یہ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے، (اب صحابہ نے کیوں نا کیا اس کا جواب دینے کا میں پابند نہیں ہوں صحابہ سے پوچھیں اور یاد رکھیں اس طرح کے سوالات کے جوابات دینے میں اٹکل بچو نہ لگایا کریں اور اپنی عقل کے گھوڑے نہ دوڑائیں ایسا نہ ہو کہ گمراہی مقدر بن جائے۔ اپنے آپ سے نتائج اخذ نہ کریں )

قرآن مجید میں اللہ تعالی کا یحیٰی علیہ السلام کے پیدائش کے دن پر اور عیسٰی علیہ السلام کا خود اپنی پیدائش کے دن پر سلام بھیجنا اس دن کی اہمیت اور فضیلت پر دلالت کرتا ، مطلب یہ کہ صر ف  پیدا ہونے والی شخصیت پر ہی سلام نہیں اس دن پر بھی سلام جس دن وہ پیدا ہوئے اس لیے بارہ ربیع الاول اور پیر کے دن پر سلام ہو۔

اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ

اعتراض : میلاد تو حضرت ابو بکر صدیق رضی للہ عنہ کے دور میں دو بار آیا ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں دس بار جناب عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں گیارہ مرتبہ آیا  حضرت علی رضی اللہ عنہ کے زمانے میں پانچ بار آیا پھر اسی طرح ا سلاف کا نام لیتے ہیں کہ فلاں کے زمانے میں اتنی بار فلاں کے زمانے میں ا تنی بار کسی نے میلاد نہیں منایا  اگر میلاد منانا ہوتا تو یہ مناتے۔

ذیل میں چند ایسی صورتیں بطور دلائل رکھیں گے کہ اس جھٹلانا ناممکن ہو گا : توجہ سے پڑھیے:

·       ایک سادہ سا سوال ہے ان معصوم اور جید علما کی بارگاہ میں کہ قرآن مجید نے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت فرض کی ہے اور اسی اطاعت کی وضاحت اور شرح میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی پیروی کو لازم قرار دیا ہے۔ شریعت رسول  اللہ ﷺ کی سیرت اور اطاعت کا نام ہے صحابہ اور ان اسلاف کی سیرت کو شریعت اور اطاعت نہیں کہا جا سکتا ہے ۔ تو جناب انہوں نے میلاد کیوں نہیں منایا ؟ یہ سوال ان سے پوچھیں کہ کیوں نہیں منایا ۔ ہم ان کے جواب دہ نہیں اپنے کردار کے جواب دہ ہیں۔

·       ایک سوال معترضین سے یہ پیدا ہو سکتا ہے : کہ جب ان اسلاف نے نہیں منایا تو اس کا مطلب ہے کہ میلاد منانے کا تصور ہے ہی نہیں ، تو اب ہمیں جانا ہو گا سیرت النبی ﷺ کی طرف اور دیکھنا ہو گا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ولادت کے حوالے سے کسی قسم کی خوشی کا اظہار کیا یا نہیں ۔

·       اصل حقیقت تک پہنچنے کے لیے سارے معاملے کو چند پہلووں میں تقسیم کرتے ہیں :

§       میلاد پر خوشی ہونا

§       میلاد پر خوشی کا اظہار کرنا

§       میلاد پر ایسے خوشی کا اظہار کرنا  جس طرح رسول اللہ ﷺ نے اظہار کیا

§       مروجہ اندازِ اظہارِ خوشی ( میلاد کی محفلیں، جلوس اور کھانے وغیرہ)

§       ان محافل پر ہونے والی غیر شرعی حرکتیں اور رسومات

میلاد پر خوشی ہونا:       نبی کریم ﷺ کی ولادت باسعادت پر خوشی کا ہونا اور بندہ مومن کا خوش ہونا بالکل ایک فطری عمل ہے اور یقینا سب خوش ہوتے ہیں کوئی اختلاف نہیں ہے۔ سبھی یہ دعوی کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت کی خوشی ہمیں ہے۔

میلاد پر خوشی کا اظہار کرنا:             اس پہلو میں لوگوں کو اعتراض ہے کہ میلاد پر خوشی کا اظہار کرنا بدعت ہے یعنی سنت سے اور اسلاف کے طرز عمل سے یہ ثابت نہیں ہے اس لیے اس پر بدعت کا فتوی لگایا جاتا ہے۔

میلاد پر خوشی کا اظہار کرنا جس طرح نبی کریم ﷺ نے خود کیا:          یہ عموما بات مجبورا کہی جاتی ہے مخالفین کی طرف سے کہ اگر آپ کو میلاد ہر خوشی کا اظہار کرنا ہی ہے تو پھر جس طرح جناب رسالت ماب ﷺ نے روزہ رکھ کر کیا تھا تم بھی اسی طرح کرو۔(( اگر یہ کہو گے کہ پھر آپ لوگ بھی روزہ رکھیں کیوں کہ وہ سنت ہے اور روزے کے علاوہ کوئی دوسرا عمل نہ کریں تو جناب اگر آپ مغرب کی نماز میں سورہ رحمن کا کچھ حصہ تلاوت کرتے ہیں  تو  آپ کو بھی یہ ثابت کرنا پڑے گا کہ نبی کریم ﷺ نے   کبھی ان آیات کی تلاوت مغرب کی نماز میں کی ہو۔ آپ فتوی ضرور دیں گے کہ جہاں سے مرضی پڑھیں یہ حکم عام ہے تو جب اس حکم کی موجودگی میں نبی کریم ﷺ سے یہ عمل ثابت ہی نہیں  تو آپ کیسے اس کو جائز قرار دے سکتے ہیں ۔ ( یاد رہے یہ اعتراض آپ پر التزامی کیا گیا ہے ورنہ عام حکم ہے اور نماز جائز ہے)اب آپ ہم پر گئے اعتراض کے اصول کے تحت نماز مغرب میں سورہ رحمن کا کچھ حصہ پڑھنا جائز ہے یہ ثابت کرنا ہے۔ہم پر گئے اعتراض کے اصول کے تحت یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ نماز مغرب میں نبی کریم ﷺ نے جن جن سورتوں کی تلاوت کی ہے ان سورتوں کے علاوہ کوئی دوسری سورت پڑھنا جائز نہیں ہے۔ ))

مروجہ انداز اظہار خوشی (میلاد کی محفلیں، جلوس اور کھانے وغیرہ):    ان اعمال کو بدعت اور گمراہی کا خطاب دیا جاتا ہے اور سختی سے ایسے اعمال کی تردید کی جاتی ہے اور ایسے اعمال کرنے والوں کو اہل بدعت کہا جاتا ہے۔ (یہ اعتراض سراسر ضد اور ہٹ دھرمی ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ اس تفصیل پڑھنے کے لیے ذیل کی عبارت پر توجہ دیں۔

     جلسہ : 

·       لوگوں کو ایک جگہ پر بلانا  یا جلسہ اور ریلی یعنی جلوس کا اہتمام کرنا

·       کسی خاص مناسبت سے(یعنی کسی خاص وجہ سے) (اگر میں یہ کہوں کہ حضرت عمر فاروق ؓ کے دور میں یوم وصال صدیق اکبر دس بار آیا ، ایسے ہی تمام اصحاب کے نام لے کر کہ اتنی اتنی بار آیا انہوں نے کبھی منایا ہو، اسی طرح ختم قرآن  کا جلسہ کسی صحابی نے کیا ہو خود حساب لگا لیں کہ کتنی کتنی بار آیا صحابہ کی زندگی میں ، ستائسویں کی شب کے قرآن مجید کے ختم قرآن وغیرہ جو جناب بڑے شوق سے بڑے بڑے اشتہار لگا کر کرتے ہیں تو صحابہ کے دور میں کتنی بار یہ نماز تراویح میں قرآن مجید مکمل کیے گئے کسی صحابی سے کوئی مثال ملتی ہو تو ؟؟؟؟؟ حقیقت یہ ہے کہ صرف دوسروں کو گمراہ ثابت کرنے کے لیے اس طرح کے شگوفے گھڑے جاتے ہیں اور بس۔۔اسی طرح جناب کے بڑے بڑے اشتہار چھپتے ہیں جمعہ کے خطبہ کے لیے کہ فلاں جگہ فلاں فلاں جگہ فلاں تو اس کی مثال کسی صحابی کے دور سے ملتی ہو ، جمعہ مبارک صحابہ کی زندگیوں میں کتنی کتنی بار آیا ہے۔ حساب لگا لیں حساب کے ماہرین ہیں آپ ۔۔۔۔۔ یہ سب شگوفے ہیں جو میلاد کےمہینے میں چھوڑے جاتے ہیں ۔ یہ ڈرامے بازیاں اب ختم کریں اور فیوچر کا سوچیں اپنی جماعت کا فیوچر نہیں امت محمدیہ کا فیوچر اور مستقبل میں امت کو کن کن امتحانات کا سامنا ہے اس پر بات کریں(بالکل اسی طرح سیرت النبی ﷺ کی کانفرنسز اور اجتماعات وغیرہ ،

·       کوئی خاص نام دے کر

·       باقاعدہ اشتہار اور اعلانات کروانا

·       اس کام کے لیے فنڈ ریزی کرنا

·       لوگوں کو ثواب ہی کاکہہ کر برانگیختہ کرنا

·       اس میں تلاوت ، نعت ، مقرر کی تقریر، نعرے لگانا

·       اختتامی دعا کرنا

·       کھانا وغیرہ بانٹنا

·       یہ سارے کام منظم انداز میں  کرنا

تمام مکاتب فکر کے لوگ یہ کام کر رہے ہوتے ہیں اور کیا ہی مضحکہ خیز بات ہے کہ اسی طرح کی مجلس سجا کر مقرر شیر بیان دوسرے کی اسی طرح کی مجلس کو گمراہی اور بدعت کہہ رہے ہوتے ہیں ۔۔ ہے نا مضحکہ خیز فیصلہ ،،۔۔۔ یہ سب شگوفے ہوتے ہیں جو لوگوں کو بے وقف بنا کر چورن بیچا جاتا ہے اور نظریاتی وابستگی اس چورن کا بھاؤ بڑھا دیتی ہے ۔

ان محافل پر ہونے والی غیر شرعی حرکتیں اور رسومات:          غیر شرعی حرکات کو دیکھتے ہوئے ان نیک اور اچھے اور مستحسن اعمال کو بھی مسترد کیا جاتا ہے اور ایسے اعمال کے مرتکبین کو اہل سنت کے ساتھ جوڑا جاتا ہے اور میلادی بدعتی کہا جاتا ہے اور ممکنہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج بھی تصور کیا جاتا ہے اور تمام تر بدعت کی مذمت میں وارد رویات کا ایسے لوگوں کی وجہ سے اچھے اعمال کرنے والوں پر اطلاق کیا جاتا ہے۔

        جس پہلو پر فریقین متفق ہیں (میلاد پر خوشی ہونا) اس پر بحث کرنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ جہاں تک سوال ہے خوشی کا اظہار کرنے کا تو یاد رہے قرآنی آیات اور نبی کریم ﷺ کی سیرت سے روزِ روشن کی طرح ثابت ہے کہ نعمت پر خوشی کا اظہار کرنا چاہیے نہ کہ خاموش رہ کر منعم کی بے قدری اور بے توقیری کی جائے اس لیے قرآن مجید میں اللہ جل شانہ نے خود فرمایا :

1.     وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ یٰقَوْمِ اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ اِذْ جَعَلَ فِیْكُمْ اَنْۢبِیَآءَ (سورۃ المائدہ: 20)

اور یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا: اے میری قوم! اللہ کا احسان اپنے اوپر یاد کرو جب اس نے تم میں سے انبیاء پیدا فرمائے

2.     قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ(سورۃ یونس: 58)

تم فرماؤ اللہ ہی کے فضل اور اسی کی رحمت اور اسی پر چاہیے کہ خوشی کریں وہ ان کے سب دھن دولت سے بہتر ہے۔

3.     وَ اَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّكَ فَحَدِّثْ(سورۃ الضحیٰ:11)

اور اپنے رب کی نعمت کا خوب چرچا کرو۔

پیر یعنی سوموار کے روزے کے حوالے سے وارد نبی کریم ﷺ کی حدیث مبارک ہے:

4.   وَسُئِلَ عَنْ صَوْمِ يَوْمِ الِاثْنَيْنِ، قَالَ: " ذَاكَ يَوْمٌ وُلِدْتُ فِيهِ، وَيَوْمٌ بُعِثْتُ أَوْ أُنْزِلَ عَلَيَّ فِيهِ: (صحیح مسلم:ترقیم عبد اباقی:1162، ترقیم شاملہ:2747)

اور آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے (رسول بنا کر) بھیجا گیا، یا مجھ پر (قرآن) نازل کیا گیا۔

§       انبیا ئے کرام کا دنیا میں مبعوث ہونا اللہ تعالی کی نعمت ہوتا ہے جسے یاد رکھنے ، ذکر کرنے کی تلقین (حکم) کی گئی ہے۔

§       اللہ تعالی کے فضل اور رحمت پر خوشی کا اظہار کرنے کی تلقین(حکم) کی گئی ہے۔

§       اللہ تعالی کی نعمت پر چرچہ کرنے کی تلقین یعنی حکم دیا گیا ہے ۔

نوٹ اور اہم بات: نعمت، فضل اور رحمت یہ تینوں قرآن مجید میں اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے لیے الگ الگ بیان کیے ہیں جیسے :

موسی علیہ السلام کے ضمن میں انبیا ئے کرام علیھم السلام (نبی کریم ﷺبدرجہ اتم اس حکم میں شامل ہیں اور اس سے انکار کی گنجائش ہی نہیں ہے)کی آمد کو نعمت کہا گیا ، اسی طرح سورۃ الاحزاب کی آیت : وَ بَشِّرِ الْمُؤْمِنِیْنَ بِاَنَّ لَهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَضْلًا كَبِیْرًا(47) میں نبی کریم ﷺ کی بعثت اور آمد کو فضل کبیر فرمایا گیا ہے اور سورۃ الانبیا کی آیت : وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ(107) میں نبی کریم ﷺ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیا گیا ہے۔ 

حدیث مبارک میں نبی کریم ﷺ نے پیر کے روزے کا سبب بتایا کہ کیوں رکھتا ہوں؟ تین باتیں ارشاد فرمائیں :

1.   ولادت با سعادت

2.   بعثت

3.   نزول وحی

یقینا روزہ خوشی کے اظہار کے لیے اور اللہ جل شانہ کی بارگاہ میں شکرانہ کے طور پر رکھا گیا ہے ، اس کے علاوہ دوسرا کوئی مقصد نہیں ہے اور نہ ہی کوئی شخص یہ دعوی کر سکتا ہے کہ فلاں یا فلاں مقصد تھا ۔ صرف خوشی اور شکرانہ کا اظہار تھا۔ تو گویا یہ تینوں اللہ تعالی کی نعمتیں آپ ﷺ پر ہوئیں اور ان نعمتوں کے شکرانے کے طور پر روز رکھا ۔تینوں میں سے سب سے پہلی بات آپ ﷺ کا میلاد مبارک ہے اور میلاد کی خوشی کے اظہار اور اللہ تعالی کا شکر ادا کرنے کے لیے روزہ رکھا تو گویا اس حدیث سے یہ بات تو طے ہوئی کہ نعمت پر خوشی کااظہار کرنا سنت رسول ﷺ ہے نا کہ بدعت ہے۔

خلاصہ : اللہ تعالی کی رحمت ، نعمت اور فضل پر اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا اور اس پر خوشی کا اظہار کرنا عین قرآنی حکم اور اطاعت رسول ﷺ ہے۔

 

تحقیق و تدوین : محمد سہیل عارف معینیؔ (پی ایچ ڈی سکالر ، یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

 

Share:

6/21/25

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا | Iran vs izrael war 2025 | Prof Dr Muhammad Shahbaz Manj

یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا

 تحریر: پروفیسر ڈاکٹرمحمد شہباز منج

 ایران ازرایل جنگ کے پہلے تین چار دنوں کی صورت حال یہ تھی کہ ایران کی جانب سے   کوئی بیچ کا راستہ نکال کر  سیز فائر  کرنے کی کئی بار درخواست کی گئی  مگر بدمعاش ریاستوں نے اس درخواست کو رعونت سے  ٹھکرا دیا۔ اب صورت حالات یکسر الٹ ہو چکی ہے، ازرائلی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز اپنے ایرانی ہم منصب سے سیز فائر کی درخوست کرتے ہیں اور وہ آگے سے کہتے ہیں کہ اس مقصد کے لیے امریکی ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز سے کہیں وہ ہم سے بات کریں۔ جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ کو امریکہ سے بات کا  کہا جاتاہے تو وہ کہتے ہیں امریکہ خود ہم سے بات کرے، ہم اس سے کیوں بات کریں! حالات  کا یہ پھیرجسے قرآن کی زبان میں ""تلک الایام نداولھا بین الناس" اور  "و مکروا و مکرا للہ واللہ خیر الماکرین"  "  کا مصداق کہا جا سکتا ہے،  زمین پر دنیاے اسباب میں کیسے رونما ہوا؟ آیے اس پر ایک نظر ڈالتے  ہیں: جنگ کے ابتدائی دنوں میں اسرائیل نے روایتی جنگی اصولوں کی بجائے ہائبرڈ وارفیئر (Hybrid Warfare) کے منصوبے کو اپناتے ہوئے ایران کو بے بس کرنے کی کوشش کی۔ میزائل حملوں کے ساتھ ساتھ موساد نے ایران کے اندرونی حلقوں میں اپنے ایجنٹس اور سہولت کاروں کی مدد سے ایسی خفیہ کارروائیاں انجام دیں جن کا مقصد ایران کی دفاعی کمان کو مفلوج کرنا تھا۔ان کارروائیوں میں خاص طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کے سینئر افسران، اسٹریٹجک مشیروں اور حساس ایٹمی تنصیبات میں کام کرنے والے سائنس دانوں کو ٹارگٹ  کیا گیا، جس  کے نتیجے میں متعدد اہم افسران اور سائنس دان شہید ہوئے۔ ایران کے سیکیورٹی اداروں نے تسلیم کیا کہ ان حملوں میں اندرونی معاونت بھی شامل تھی۔ ان حملوں  کے نتیجے میں ایک طرف بین الاقوامی میڈیا میں یہ بیانیہ مضبوط ہوا کہ ایران داخلی طور پر کمزور ہو چکا ہے، اور اسے میدانِ جنگ میں شکست دینا آسان ہو گا۔ دوسری طرف ایران  نے بھی خاصا دباؤ محسوس کیا۔ ان حالات میں ابتدائی تین چار دنوں میں دنیا کو لگا کہ ایران اس جنگ کو جاری نہیں رکھ پائے گا۔ ازرائیلی میڈیا اور امریکی تھنک ٹینکس کی رپورٹس میں یہ تاثر شدت سے اُبھارا گیا کہ ایران کا ڈھانچہ کمزور ہو چکا ہے اور اب صرف ایک آخری دھچکا باقی ہے۔ اسی تاثر کے تناظر میں ازرائل اور امریکہ  رعونت  اور تکبر کی انتہاؤں کو چھو رہے تھے۔ ٹرمپ  صاحب  ٹویٹ فرما رہے تھے کہ ہمیں  معلوم ہے خامنہ ای کہاں ہیں، لیکن ہم انھیں فی الحال مارنا نہیں چاہتے۔ ایران کی فضاؤں پر امریکہ کا مکمل کنٹرول ہے،  ایران کو" غیر مشروط سرنڈر" کرنا ہوگا۔ ان متکبرانہ دھمکیوں نے ایران پر واضح کر دیا کہ پسپائی کا نتیجہ مکمل تباہی ہے ۔  چناں چہ ایران نے تدبیر، صبر اور حکمت کے ساتھ جوابی حکمتِ عملی ترتیب دی۔ ازرائیل کے حساس مقامات پر مسلسل اور متواتر حملوں کے ذریعے ازرائیل  کودفاعی پوزیشن پر دھکیل دیا۔

 اسی دوران میں عالم اسباب میں کئی دیگر  اہم عوامل بھی کاررفرما ہوئے: روس نے اعلان کیا کہ اس کے کئی سو ماہرین ایرانی ایٹمی تنصیبات میں کام کر رہے ہیں، اور ان پر حملہ روس  پر حملہ تصور ہوگا۔ یہ بیان امریکہ اور اسرائیل کے لیے "ریڈ لائن" بن گیا۔ امریکہ میں امن پسند طبقات، لبرل میڈیا، اور ری پبلکنز سمیت کئی سینیٹرز نے کھلے عام ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر تنقید کی اور کہا کہ ازرائیل کے لیے جنگ لڑنے کا مطلب امریکی عوام کو غیر ضروری تباہی میں دھکیلنا ہے۔ روس، چین اور کچھ یورپی آوازوں نے ایران کے خلاف جنگی عزائم کی مخالفت کی، جس سے ایران کو عالمی سفارتی سطح پر بھی اخلاقی برتری حاصل ہوئی۔ ان حالات نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا ہے۔ اور ابھی کل ہی  ٹرمپ  نے جو بیان دیا ہے کہ ہم دو ہفتے میں جنگ میں شامل ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کریں گے، یہ فی الواقع پسپائی اور  ازرائل کی مدد سے ہاتھ کھینچنے کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی واضح اشارہ ہے کہ امریکا براہ راست اس جنگ میں شریک نہیں ہوگا، اور اسے اور بھی دکھ ہیں زمانے میں ازرایل کی محبت کے سوا۔ اور اب  منظرنامہ، جیسا کہ میں نے ابتدا میں عرض کیا، یہ ہے کہ سیز فائر کی وہ درخواست، جو چند دن قبل ایران کر  رہا تھا، آج ازرائیل کی طرف سے آ رہی ہے۔ ازرائیل نہ صرف جنگی دباؤ میں ہے بلکہ اس کی عسکری اور خفیہ ناکامیاں اس کے بین الاقوامی  رعب و دبدبے کو بھی بری طرح مجروح کر رہی ہیں۔ از رایل کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ ایران کی کمزور شرائط پر سیز فائر کی درخواست مان لیتا ، لیکن اس نے اپنی حماقت اور ٹرمپ کی آشیرباد کے سہارے یہ موقع ضائع کر دیا، اور اپنی سخت شرائط پر سیز فائر پر اصرار کرتا رہا ۔دوسری طرف قدرت نے اسی کو ایران کے لیے ایک غیر معمولی اپرچونٹی بنا دیا، اب وہ اپنے حق میں پہلے سے بہت بہتر شرائط پر سیز فائر کی پوزیشن میں آ چکا ہے۔ وقت کی گردش دیکھیے وہی ٹرمپ جو چند دن قبل ایران کو "کچے کے ڈاکوؤں" کی طرح دھمکیاں دے رہا تھا،  اب ایک غیر جانب دار فریق کے لہجے میں کہہ رہا ہے  ہمار اس جنگ سے کوئی تعلق نہیں، ہم ثالثی سے اس مسئلے کو حل کرانا چاہتے ہیں، اور ان دعووں اور کو ششوں کے ذریعے اپنے نوبل امن انعام  کے خوابوں میں گم ہو رہا یے۔  ایسے ہی مواقع کے لیے کہتے ہیں: یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔



Share:

5/30/25

ایامِ تشریق کی تکبیرات — مکمل فضیلت، احادیث، اور اہمیت | ایام تشریق کا مسنون ذکر

ایامِ تشریق کی تکبیرات — مکمل رہنمائی اور احادیث مبارکہ

الحمد للہ!

اسلام میں اللہ تعالی کی بڑائی اور ذکر کے بے شمار مواقع ہیں، اور ایامِ تشریق ان میں سے خاص دن ہیں جن میں ہمیں تکبیرات کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔

 🌸 ایامِ تشریق کیا ہیں؟

 ایامِ تشریق ذوالحجہ کی 11، 12، 13 تاریخوں کو کہتے ہیں، جن میں حاجی منٰی میں قیام کرتے ہیں اور باقی مسلمان بھی سنت کے طور پر تکبیرات کہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:

 وَاذْكُرُوا اللّٰهَ فِي أَيَّامٍ مَّعْدُودَاتٍ 📘 [البقرہ: 203] یعنی ان گنتی کے دنوں میں اللہ کا ذکر کرو۔

🌸 تکبیراتِ تشریق کا مسنون طریقہ

ہر فرض نماز کے بعد بلند آواز سے کہنا:

 اللّٰهُ أَكْبَر، اللّٰهُ أَكْبَر، لَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَر، اللّٰهُ أَكْبَر، وَلِلّٰهِ الْحَمْد           یہ تکبیر عرفہ (9 ذوالحجہ) کی فجر سے لے کر 13 ذوالحجہ کی عصر تک پڑھی جاتی ہے۔

🌸 اہم احادیثِ مبارکہ

 1:      صحیح بخاری : كَانَ ابْنُ عُمَرَ وَأَبُو هُرَيْرَةَ يَخْرُجَانِ إِلَى السُّوقِ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ يُكَبِّرَانِ وَيُكَبِّرُ النَّاسُ بِتَكْبِيرِهِمَا۔ 📘 [صحيح البخاري، رقم: 970]

ترجمہ: ابن عمر اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم دسویں دن (یعنی ایامِ تشریق میں) بازار کی طرف نکل جاتے اور وہ دونوں اللہ کی بڑائی کا اعلان کرتے (تکبیر پڑھتے) اور لوگ ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہتے۔

 2:    السنن الكبرى للبيهقي :عليٌّ رضي الله عنه كان يُكَبِّرُ مِنْ صَلَاةِ الفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى العَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ۔ 📘 [السنن الكبرى للبيهقي، رقم: 6240]

ترجمہ: علی رضی اللہ عنہ فجر کی نماز کے بعد (یوم عرفہ سے) شروع کر کے ایامِ تشریق کے آخری دن کے عصر تک تکبیر پڑھتے رہتے تھے۔

🌸 تکبیراتِ تشریق کی حکمت

یہ شعائر اللہ میں سے ہے، اللہ کی بڑائی کا اعلان اور شکر گزاری کا اظہار ہے۔ مرد اونچی آواز میں پڑھیں، عورتیں آہستہ، اور سب اس میں شامل ہوں — مسافر یا مقیم۔

🌸 آج کے دور میں ہماری ذمہ داری

 ہمیں چاہیے کہ اس سنت کو زندہ کریں، گھروں میں، مساجد میں، اور بچوں کو سکھائیں۔ اس سنت کو زندہ کرنا سنتِ نبوی ﷺ کی محبت کا اظہار ہے۔

🌸 دعا اَللّٰهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ يُعَظِّمُونَ شَعَائِرَكَ، وَيُكَبِّرُونَكَ حَقَّ تَكْبِيرِكَ، وَيَذْكُرُونَكَ فِي كُلِّ حِينٍ، آمِين


ایام تشریق, تکبیرات تشریق, ذوالحجہ کی تکبیرات, ایام تشریق کی فضیلت, احادیث ایام تشریق, تکبیرات کا مسنون طریقہ, اسلامی شعائر, سنت نبوی

Share:

11/16/23

علامہ ابن خلدون | مقدمہ ابن خلدون | علمی مقام و مرتبہ

علامہ ابن خلدون کا تعارف اور علمی مقام

علامہ ابن خلدون کا مختصر تعارف:                     

                   ابن خلدون کا اصل نام عبد الرحمن بن محمد بن محمد  ہے ان کے اجداد میں ایک خلدون  نام آتا ہے  آپ انہیں کی نسبت سے ابن خلدون کے نام سے مشہور ہوئے۔ ابن خلدون تیونس میں بروز بدھ پہلی رمضان المبارک 732 ہجری[1] میں پیدا ہوئے بچپن میں  ہی ابو عبد اللہ محمد بن سعد بن بُرَّال انصاری سے قرآن مجید حفظ کیا جو قراءت میں امام مانے جاتے  تھے ۔ حفظ کے بعد ابن خلدون نے سبع قراءت پڑھی اور کمال حاصل کیا ۔ قرآن مجید حفظ اور قراءت کا علم حاصل کرنے کے بعد ابن خلدون عربی زبان و ادب کی طرف متوجہ ہوئے اس میدا ن کے عظیم ائمہ لغت سے عربی زبان و ادب کی تعلیم  حاصل کی۔ عربی زبان و ادب کے بعد علم حدیث اور علم فقہ حاصل کیا اور اپنے اساتذہ سے روایت کی سند حاصل کی۔ [2] آپ ایک بھرپور علمی زندگی گزارنے کے بعد 76 سال کی عمر میں 808 ہجری دار فانی سے رخصت ہو گئے۔

          ابن خلدون ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ذہانت و متانت ، فکر و تدبر ابن خلدون کا خاصہ تھے ۔وہ ایک ماہر تعلیم ،ماہر زبان و ادب ،عظیم محدث ،قابل فقیہ ،ماہر عمرانیات ومعاشیات اور عظیم مورخ تھےاور جدید عمرانیات کے بانی تصور کیے جاتے ہیں۔ تاریخ  میں ایسی شخصیات کم ہی ملتی ہیں جو علوم ِعقلیہ و نقلیہ میں کمال درجہ کو پہنچی ہوں اور لوگوں نے ان کے کام سے کما حقہ استفادہ کیا ہو۔ ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ماہر نفسیات بھی تھے ،انہوں نے حصول تعلیم کے لیے نفسیات کےکردار کو واضح کیا ہے۔

علامہ ابن خلدون کا علمی مقام ومرتبہ

          ابن خلدون کی تصنیف مقدمہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فاضل مصنف کا اس زمین کے جغرافیائی خدو خال، انسانی معاشرے، علوم انسانی ، سلاطین اور سلطنتوں ، ریاست کی ضروریات اور اس کے اداروں  سے متعلق کتنا گہرا مطالعہ تھامزید برآں مسلم مفکر ، تاریخ دان اورماہر معاشیات و عمرانیات ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم یعنی قرآن اور تفسیر قرآن، حدیث اور اصول حدیث ، فقہ اور اصول فقہ ، علوم اللسان ، علوم تصوف اورعلم الکلام  پر بھی دسترس حاصل تھی۔ علم الاعداد و ہندسہ پر بھی ید طولی حاصل تھا۔ علامہ ابن خلدون کے سیاسی افکار ان کے  عملی سیاسی مطالعہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔علامہ ابن خلدون کے مقدمہ سے چند ایک اقتباسات ان کے علمی مقام و مرتبہ کے بیان کے لیے ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں:

جغرافیائی تقسیم :

          علامہ ابن خلدون کے افکار کے مطابق جغرافیہ کا اثر  انسانی نفسیات ، رنگ و نسل پر بہت زیادہ ہوتا ہے  ۔اسی طرح اقالیم میں آنے والی قدرتی آفات کا بھی انسانی احوال پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے علامہ نے جغرافیہ کو ہفت اقلیم میں تقسیم کیا اور وہاں کی آبادی کے خواص ان کے رہن سہن اور تہذیب و تمدن کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان اقالیم میں آبادی کا تناسب اور آبادیوں کے رجحان ، علاقوں کے ماہیت یعنی پہاڑ ، دریا ، ریگستان اور میدانی علاقے کہاں کہاں پائے جاتے ہیں ، یہ تفصیلات مختلف مورخین اور تاجروں کے مشاہدات کی روشنی میں درج کی ہے۔

آبادی کی تقسیم:

          علامہ ابن خلدون نے آبادی کی تقسیم دو طرح سے کی ایک حضری آبادی یعنی شہروں میں آباد اقوام اور دوسرے بدوی لوگ ہیں یعنی دیہاتوں ، پہاڑوں اور ریگساتوں میں  رہنے والے لوگ۔علامہ نے بدوی لوگوں کو حضری لوگوں پر ترجیح دی اور بہت تعریف کی ہے کہ یہ لوگ نیکی کرنے میں حضریوں سے زیادہ  بہتر ہوتے ہیں اسی طرح شجاعت و بہادری کا عنصر میں زیادہ پایا جاتا ہے اور عصبیت جو کہ سلطنت کی مضبوطی کی بنیادی اکائی ہوتی ہے ان بدوی لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ دوسری علامہ طرف علامہ لکھتے ہیں کہ بدوی نظام زندگی چلانے کے  شہریوں کے محتاج اور مغلوب ہوتے ہیں کہ انہیں زندگی کی ضروریات شہروں ےس پوری کرنا پڑتی ہیں انہیں اپنا ساز و سامان بیچنے کے لیے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔کھیتی باڑی کے آلات خریدنے کے لیے شہروں میں جانا پڑتا ہے۔

علم تاریخ:

          علامہ ابن خلدون نے  علم تاریخ کی اہمیت بیان کی اور اس کی فضیلت میں لکھتے ہیں کہ یہ ایسا علم ہے کہ اس کے ذریعے ہمیں پہلے لوگوں کے حالات ان کے رہن سہن کے انداز ، مختلف سلطنتوں اور سلاطین کے احوال جاننے کو ملتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمیں انبیا ئے کرام علیھم السلام کے حالات زندگی اور تعلیمات بھی سیکھنے کو ملتی ہیں ۔ تاریخ کی تدوین کے حوالے سے علامہ نے جو  اسلوب اپنائے ہیں وہ ماقبل مورخین میں ناپید ہیں ۔ علامہ ابن خلدون نے تدوین تاریخ سے متعلق لکھتے ہیں کہ : فللعمران طبائع فی احوالہ ترجع الیھا الاخبار و تحمل علیھا الروایات و الآثار [3]۔ترجمہ: تاریخی روایات کا تعلق عمرانی احوال و طبائع سے ہوتا ہے اس لیے ان آثار اور روایات کو عمرانی احوال و طبائع پر پرکھا جاتا ہے۔  اس اصول کے تحت علامہ نے مختلف مورخین کی تعریف کی ہے جن میں ابن اسحاق ابن جریر طبری وغیرہ اور کچھ مورخین پر جرح بھی کی اور ان کی مختلف روایات پر تبصرہ بھی درج کیا ہے۔ جیسے مسعودی اور واقدی پر بڑی تنقید کی ہے ، مسعودی کے حوالے سے لکھتے ہیں مسعودی نے فرعون سے آزادی کے وقت بنی اسرائیل کی فوج کی تعدا 6 لاکھ بتائی ہے جبکہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے تک کا عرصہ، اس وقت کے جغرافیائی خد و خال اور عمرانی احوال اس بات کی تصدیق نہیں کرتے ۔ اسی طرح سلاطین یمن و عرب اور سلاطین فارس کے احوال میں ایسے ایسے واقعات بیان کیے گئے جنہیں نا عقل تسلیم کرتی ہے نا جغرافیہ اورنا عمرانی احوال ۔علامہ نے تدوینِِ تاریخ میں روایات کو قبول کرنے اور درج کرنے میں ہونے والی اغلاط کے اسباب بھی بڑی تفصیل سے درج کیے ہیں۔

علم اللسان 

علوم لسانیات میں آپ نے عربی و غیر عربی اور دیہاتی و شہری زبانوں میں فرق بیان کیا۔ زبان کی ترقی کے مراحل زبان کی خصوصیات و نقائص کھول کھول کر بیان کیے ہیں۔علوم لسانیات میں فن شعر و نثر، شعر کی جملہ اصناف،شہری اور دیہاتی شعرا کے کلام کی خصوصیات اور باہمی فرق، شعر اور نثر کے تعلم کے طریقہ کار ، اسلوب ، زباندانی میں کلام یعنی تکلم کی اہمیت کو بیان کیا۔علامہ نے شعری اصناف کا ذکر کرتے ہوئے اشعار بیان کر کے اس کی مثالیں دی ہیں۔

علم الکلام

علم الکلام اور عقلی دلائل سے عقیدہ اسلامیہ پر بحث کی اور عقیدہ توحید کو آسان عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے۔بعد ازاں علم الکلام کی ضرورت و اہمیت اور اس علم کو اپنانے کی وجوہات تفصیل سے ذکر کی ہیں۔ اس بحث میں قرآنی آیات کو ذکر کر کے مزید جازب بنایا ہے۔علم الکلام، منطق ،فلسفہ کے جملہ جزئیات اور مہارتیں، علم الکلام کی صفات، استدلال اور استدلال کے طریقہ کار، جواب اوراس کے جملہ خواص کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ آپ نے علم الکلام کے ذریعے فرقہ معتزلہ ، امامیہ کے عقائد کی عقلی دلائل سے نفی کی ہے آخر میں علم الکلام کے حوالے سے جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ‘‘طالبان علم کو یہ علم ضرور مفید ہےاس لیے کہ حاملان سنت کو اپنے مذہب کےادلہ عقلیہ  سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے’’۔[4]

علم الاعداد و سحر

ابن خلدون سحر اور طلسمات کو بھی زیر بحث لائے اور خاطر خواہ معلومات درج کی ہیں ۔اسی ضمن میں علم الاعداد اور اعداد سے زائچے نکالنے کے انداز اور طریقہ کار کو باقاعدہ زائچے اور نقوش بنا کر ان کی وضاحت کی ہے۔

تصوف

تصوف کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں تصوف کا معنی و مفہوم بیان کیا ،کہ تصوف صوف سے مشتق ہے صوفیہ نے اپنے لیےیہ لفظ اس لیے استعمال کیا کہ وہ عام لوگوں سے ہٹ کر سادہ اور موٹے اونی کپڑے پہنتے تھے اس لیے صوفیہ کہلائے۔ پھر آپ نے اہلِ تصوف کے  انداز تربیت اورصوفیہ کے مشاہدات و مجاہدات کا ذکر کیا۔ اہلِ شریعت و طریقت اور صوفیہ کے انداز تعلیم و تربیت میں فرق کا ذکر کیا ہے۔مقدمہ میں آپ نے  متقدمین و متاخرین کے ہاں مروج تصوف کے احوال تحریر کیے ہیں۔ امام غزالی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے شریعت و طریقت اور تصوف کو یکجا کر دیا۔[5]

علم تفسیر:

علم تفسیر ، حدیث ، فقہ اور منطق پر آپ نے قرآنی آیات اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے بحث کی۔  آپ نے قرآنی تفسیر کی بنیادی طور پر دو اقسام بیان کی ہیں۔ ایک نقلی تفسیر یعنی صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں اور دوسری قسم کی وہ تفسیر ہےجس میں علم الکلام علم اللسان کا سہارا لیا جاتا ہے اور حروف و الفاط پر بحث کرتے ہوئے مفاہیم اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس میں آپ نے علامہ جار اللہ زمحشری کی تفسیر کشاف کا ذکر کیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں چونکہ علامہ زمحشری معتزلی تھے تو معتزلہ کے ہاں مروج کلم الکلام کا غلبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے عموماً اہل سنت نے اس تفسیر کو پسند نہیں کیا۔قرآں مجید کی تفسیر میں درج چند تاریخی واقعات(باغ ِارم اور شداد) درج کرنے پر مفسرین  پر بھی علامہ نے جغرافیائی اور عمرانی احوال کو سامنے رکھتے ہوئے تنقید کی ۔

علم حدیث:

علم حدیث کے ضمن میں ناسخ و منسوخ کا تذکرہ کیا اور اس پر جن علما نے کام کیا اور اس کی تفصیلات درج کیں ان کا تذکرہ کیا جن میں خاص   امام شافعی اور امام زہری کا ذکر کیا۔جرح و تعدیل اور فن حدیث پر بات کرتے ہوئے صحیح اورضعیف احادیث پر تبصرہ کیا ہے۔احادیث کے قبول ہونے یا ناقابل قبول ہونے کے حوالے سے اصولِ حدیث کے ائمہ کی بیان کردہ اقسام کو بھی زیرِ بحث لائے ہیں۔

Writer: Muhammad Sohail Arif Moeeni (Doctoral Student at University of Education Lahore)

[1]  الحنبلی، عبد الحیی بن العماد، شذرات الذھب ، دار المسیرہ ، بیروت ، لبنان 1979، ج 7 ص76

[2]  ابن خلدون، عبد الرحمن، التعریف بابن خلدون ورحلتہ غربا وشرقا، دارالکتاب اللبنانی ، 1979، صفحہ 20

[3]  ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، مقدمہ ابن خلدون ، دار الھلال، بیروت لبنان  ،1984، ص 4

[4]  مقدمہ ابن خلدون ، ص467

[5]   ایضاً ، صفحہ 469

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive