جملہ فعلیہ
جملہ فعلیہ وہ جملہ ہے جو
فعل اور فاعل سے مل کر بنتا ہے ۔فعل کو مسند اور فاعل کو مسند الیہ کہتے ہیں جیسے:
لَمَعَ
الْبَرْقُ (بجلی چمکی)۔ یَسْقُطُ
الثَّلْجُ( برف گرتی ہے )۔ہر
فعل خواہ لازم ہو یا متعدی اپنے فاعل کو
رفع دیتا ہے اور اگر متعدی ہو تو فاعل کے علاوہ مفعول بہ کو نصب بھی دیتا ہے۔
فاعل کے احکام:
فاعل وہ اسم مرفوع ہے جس سے پہلے کوئی فعل یا
شبہ فعل (اسم فاعل اسم مفعول اسم تفضیل صفت مشبہ اور مصدر )میں سے کوئی آ جائے اور
اسے رفع(پیش) دے اور اس فعل یا شبہ فعل کا قیام اس سے ہو۔ جیسے وَقَفَ
الثَّوْرُ (بیل کھڑا ہوا )شبہ فعل کی مثال الرَّجُلُ
قَائِمٌ اِبْنُہٗ ان مثالوں میں الثَّوْرُ
اور اِبْنُہ
فاعل ہیں۔
فاعل کے اقسام: اس کی دو قسمیں ہیں: اسم ظاہر اور اسم ضمیر
اسم ظاہر
:اس سے مراد یہ ہے کہ فعل یا شبہ فعل کے بعد فاعل اسم
ظاہر ہو ضمیر نہ ہو جیسے طَارَ الْعُصْفُوْرُ ۔اَکَلَ
التِّلْمِیْذُ خُبْزًا
۱۔جب فاعل اسم ظاہر ہو تو
فعل یا شبہ فعل ہمیشہ واحد ہوں گے اور تذکیر و تانیث میں فاعل کے مطابق ہوں گے اگر
فاعل مذکر ہو تو فعل مذکر ہوگا اگر فاعل مونث ہو تو فعل مونث ہوگا جیسے قَذَفَ
الطِّفْلُ الْكُرَةَ (بچے نے گیند پھینکی ) لَعِبَتْ
فَاطِمَةُ (فاطمہ کھیلی )
لَعِبَ الطِّفْلُ لَعِبَ الطِّفْلَانِ لَعِبَ الْاَطْفَالُ
لَعِبَتِ الْبِنْتُ لَعِبَتِ الْبِنْتَانِ لَعِبَتِ الْبَنَاتُ
اسم ضمیر
:اس سے مراد یہ ہے کہ فاعل اسم ظاہر نہ ہو بلکہ ضمیر
مرفوع متصل ہو خواہ ’’ بَارِزٌ‘‘
یعنی ظاہر ہو یا’’
مُسْتَتِرٌ ‘‘یعنی پوشیدہ ہو
تو فعل یا شبہ فعل واحد تثنیہ جمع و تذکیر و تانیث میں ضمیر کے مرجع کے مطابق
ہوگا جیسے فَاطِمَةُ
لَعِبَتْ اس مثال میں ھِیَ
ضمیر فاعل ہے۔
الطِّفْلُ لَعِبَ الطِّفْلَانِ لَعِبَا الْاَطْفَالُ لَعِبُوا
الْبِنْتُ لَعِبَتْ الْبِنْتَانِ لَعِبَتَا الْبَنَاتُ لَعِبْنَ
ان مثالوں میں الطِّفْلُ
اور الْبِنْتُ مبتدا
، لَعِبَتْ فعل میں ھِیَ
اور لَعِبَ میں
ھُوَ ضمیر مستتر، فاعل فعل و
فاعل مل کر خبر ، مبتدا اور خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا باقی مثالوں کی بھی یہی صورت ہے۔
فاعل کا فعل پر اثر:
۱۔
جب فاعل مونث ہو تو فعل یا شبہ فعل مونث ہوتے ہیں اور جب فاعل مذکر ہو تو مذکر
ہوتے ہیں مگر درج زیل صورتوں میں فاعل مونث ہو تو فعل کا مونث لانا واجب ہے جب
فاعل موئنث حقیقی ہو اور فعل و فاعل کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو جیسے لَعِبَتْ
فَاطِمَةُ ۔ حَازَتْ
لَيْلَى جَائِزَةً ( لیلی نے انعام پایا)
۲۔جب فاعل ضمیر ہو اور اس
کا مرجع مونث حقیقی یا غیر حقیقی ہو ۔جیسے الشَّمْسُ
طَلَعَتْ
فعل کی تذکیر و تانیث
وہ مقامات جہاں فعل کی
تذکیر و تانیث جائز ہے درج ذیل ہیں:
۱۔جب فاعل مونث حقیقی ہو
اور فعل اور فاعل کے درمیان فاصلہ آجائے جیسے ۔ حَضَرَتِ
الْيَوْمَ فَاطِمَةُ ،یہاں حَضَرَ
پڑھنا بھی جائز ہے۔
۲۔فاعل مونث غیر حقیقی ہو
اور اسم ظاہر ہو جیسے ۔ طَلَعَتِ الشَّمْسُ
، یہاں پر طَلَعَ
پڑھنا بھی جائز ہے۔
۳۔فاعل جمع مکسر ہو ،خواہ
مذکر عاقل کی ہو یا غیر عاقل کی جیسے جَاءَتِ الرِّجَالُ ،
ذَهَبَتِ الْاَيَّامُ ،یہاں جَآءَاور
ذَھَبَ پڑھنا جائز ہے ۔
نوٹ :۱۔جب فاعل ضمیر ہو
اور اس کا مرجع غیر عقل کی جمع مکسر ہو تو فعل واحد مونث اور جمع مونث ذکر کرنا
جائز ہے جیسے اَلْاَيَّامُ ذَهَبَتْ یا ذَهَبْنَ ،مگر
جب ضمیر کا مرجع مذکر عاقل کی جمع مکسر ہو تو فعل جمع مذکر بھی آسکتا ہے ،جیسے الرِّجَالُ
ذَهَبُوا
۲۔ترکیب کلام میں پہلے
فعل پھر فاعل اس کے بعد مفعول ذکر کیا جاتا ہے جیسے قَذَفَ
اللَّاعِبُ الْكُرَةَ (کھلاڑی نے گیند پھینکا )مگر کبھی
مفعول فاعل سے بھی پہلے آجاتا ہے اور کبھی مفعول فعل سے پہلے آ جاتا ہے جیسے اَكَلَ
خُبْزًا زَيْدٌ مگر فاعل کو فعل سے پہلے ذکر کرنا جائز نہیں
ہے ۔
فاعل کی تقدیم
درزیل صورتوں میں فاعل کو
مفعول سے پہلے ذکر کرنا واجب ہے :
۱۔جب فاعل اور مفعول
دونوں اسم مقصور ہوں اور التباس کا اندیشہ ہو ۔جیسے ضَرَبَ
مُوْسٰى عِيْسٰى اور التباس کا اندیشہ نہ ہو تو مفعول
کی تقدیم جائز ہے جیسے اَكَلَ الْكُمَّثْرٰى يَحْيٰى
(یحی نے امرود کھایا )
۲۔ جب فاعل ضمیر مرفوع
متصل ہو جیسے حَفِظْتُ
دَرْسِي
جب مفعول الاکے بعد واقع
ہو جیسے مَا حَفِظَ التِّلْمِيذُ اِلَّا دَرْسًا
فعل اور فاعل کا حذف
۱۔ جب قرنیہ پایا جائے تو
فعل کا حذف کرنا جائز ہے جیسے کوئی سوال کرے مَنْ جَلَسَ؟تو
جواب میں صرف مُعَلِّمٌ
کہہ دیا جائے تو صحیح ہے اس سے پہلے جَلَسَ
فعل محذوف ہے ۔
۲۔ اگر فاعل کسی ایسے حرف
شرط کے بعد آجائے جو صرف افعال پر داخل ہوتا ہے جیسے اِنْ،
لَوْ، لَوْلَا، هَلَّا وغیرہ تو فعل خذف کرنا
واجب ہے جیسے وَاِنْ اَحَدٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
اسْتَجَارَكَ ، اَحَدٌ
سے پہلے اسْتَجَارَكَ
فعل محذوف ہے۔
۳۔ جب سوال کا جواب نَعَمْ
یا بَلٰى سے دیا جائے تو فعل فاعل
اور مفعول یہ تینوں حذف ہوتے ہیں جیسے اَحَفِظْتَ دَرْسًا؟
اس کے جواب میں نَعَمْ
یا بَلٰى
کہہ دیا جائے ۔اس میں فعل فاعل اور مفعول تینوں حذف ہیں ۔
نائب فاعل
وہ اسم مرفوع ہے جسے فاعل کی جگہ رکھا
جائے اور فعل مجہول کو اس کی طرف منسوب کیا جائے جیسے شُرِبَ
مَاءٌ ، شُرِبَ
فعل مجہول اور مَاءٌ
نائب فاعل ہے اس کو مَفْعُولٌ مَا لَمْ يُسَمَّ فَاعِلُهٗ
بھی کہتے ہیں، جیسے ایسے فعل کا مفعول جس کا فاعل معلوم نہ ہو
یہ
تمام احکام میں مثل فاعل کے ہے یعنی اگر
نائب فاعل اسم ظاہر ہو تو فعل ہمیشہ واحد ہوگا اورتذکیر و تانیث میں نائب فاعل کے مطابق ہوگا اور اگر اسم ضمیر
ہو تو فعل واحد تثنیہ جمع و تذکیر و تانیث
میں ضمیر کے مرجع کے مطابق ہوگا جیسے الرِّجَالُ اُخِذُوا
(مرد پکڑے گئے)













