Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label کلام بیدم وارثی. Show all posts
Showing posts with label کلام بیدم وارثی. Show all posts

3/20/24

12/16/23

صوفیانہ طرز زندگی | صوفی کون ہوتا ہے | Who is a Sufi

 

صوفیانہ طرزِزندگی تو اپنی انا کے قتل کا نام ہے

 ــــــ  ذاتی مفاد کی قربانی کا نام ہے

 ــــــ  اللہ کی مخلوق سے پیار کا نام ہے

 ـــــ  اللہ کی یاد میں ہر وقت رونے کا نام ہے

 ـــــ محبوب کے وصل میں خود فراموشی کا نام ہے

 ـــــ محبوب کی رضا میں نفی ذات کا نام ہے

 ـــــ محبوب کے طرف کان لگائے رکھنے کا نام ہے

 ـــــ محبوب کے اک اشارے پر زندگی لٹا دینے کا نام ہے

 ــــــ محبوب کے رنگ میں ڈھل جانے کا نام ہے

 

کاش کوئی  سالکِ مخلص ہو۔۔۔ کاش متمنیِٔ ذات ہو

 

صوفیانہ طرزِزندگی میں نگاہ کسی کے تعاقب میں نہیں اپنے گریبان میں گم ہوتی ہے

 ـــــ  دھیان کسی کے بڑے بڑے جرموں کی طرف نہیں اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ہوتی ہے

 ـــــ  دوسروں پر تنقید نہیں ہوتی اپنے کرتوتوں کا قتل عام ہوتا ہے

 ـــــ  اپنی نیکیاں بھی ناقابلِ قبول لگتی ہیں

 ـــــ  دوسروں کی غفلت بھی مقبول لگتی ہے

 

کاش ہم کچھ اپنے حال پر نظر کریں

 

ــــ باخدا لاتعداد کیڑے نظر آئیں گے

 ـــــ  دامن تار تار نظر آئے گا

 ـــــ ضمیر چھلنی نظر آئے گا

 

باہروں مل مل دھوندیے کدی اندروں وی مل دھو

تیرا باہر دا دھونا کی دھونا جے اندروں صاف نہ ہو

 

Share:

7/9/22

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے | غزلیات بیدم وارثی | bedam warsi kalam


 

اپنے دیدار کی حسرت میں تو مجھ کو سراپا دل کر دے

ہر قطرۂ دل کو قیس بنا ہر ذرے کو محمل کر دے

 

دنیائے حسن و عشق مری کرنا ہے تو یوں کامل کر دے

اپنے جلوے میری حیرت نظارے میں شامل کر دے

 

یاں طور و کلیم نہیں نہ سہی میں حاضر ہوں لے پھونک مجھے

پردے کو اٹھا دے مکھڑے سے برباد سکون دل کر دے

 

گر قلزم عشق ہے بے ساحل اے خضر تو بے ساحل ہی سہی

جس موج میں ڈوبے کشتئ دل اس موج کو تو ساحل کر دے

 

اے درد عطا کرنے والے تو درد مجھے اتنا دے دے

جو دونوں جہاں کی وسعت کو اک گوشۂ دامن دل کر دے

 

ہر سو سے غموں نے گھیرا ہے اب ہے تو سہارا تیرا ہے

مشکل آساں کرنے والے آسان مری مشکل کر دے

 

بیدمؔ اس یاد کے میں صدقے اس درد محبت کے قرباں

جو جینا بھی دشوار کرے اور مرنا بھی مشکل کر دے

 

Share:

1/10/19

بے خود کیے دیتے ہیں انداز حجابانہ | be khud kiye dete hen lyrics | کلام بیدم وارثی

بے خود کیے دیتے ہیں انداز حجابانہ
آدل میں تجھے رکھ لوں اے جلوہ جاناناں
کیوں آنکھ ملائی تھی کیوں آگ لگائی تھی
اب رخ کو چھپا بیٹھے کر کے مجھے دیوانہ
اتنا تو کرم کرنا اے چشم کریمانہ
جب جان لبوں پر ہو تم سامنے آ جانا
اب موت کی سختی تو برداشت نہیں ہوتی
تم سامنے آ بیٹھو دم نکلے گا آسانہ
دنیا میں مجھے اپنا  جو تم نے بنایا ہے
محشر میں بھی کہ دینا یہ ہے میرا دیوانہ
جاناں تجھے ملنے کی تدبیر یہ سوچی ہے
ہم دل میں بنا لیں گے چھوٹا سا صنم خانہ
میں ہوش حواس اپنے اس بات پہ کھو بیٹھا
اآپ نے جو کہا ہس کے یہ ہے میرا دیوانہ
پینے کو تو پی لوں گا پر عرض ذرا سی ہے
اجمیر کا ساقی ہو بغداد کا میخانہ
کیا لطف ہو محشر میں شکوے میں کیا جاؤں
وہ ہس کے یہ فرمائیں دیوانہ ہے دیوانہ
جی چاہتا ہے تحفے میں بھیجوں میں انہیں آنکھیں
درشن کا تو درشن ہو نذرانے کا نذرانہ
بیدم تیری قسمت میں سجدے ہیں اسی در کے
چھوٹا ہے نہ چھوٹے گا سنگ درِ جاناناں
گر پڑ کے یہاں پہنچا مر مر کے اسے پایا
چھوٹے نہ الہی اب سنگ درِ جاناناں
سنگ درِ جاناناں کی کرتا ہوں جبیں سائی
سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ
رو رو کے میں کھو دوں گا بینائی جو ہے باقی
جا پردے میں کیوں بیٹھے ذرا سامنے آؤ نا
بیمار کی حالت اب دیکھی نہیں جاتی ہے
بس آخری خواہش ہے جلوہ تو دیکھاؤ نا
سب رنگ ہیں گلشن کے اور فصل بہاری بھی
ترے دم سے ہے یہ رونق بخدا مسکراؤ نا


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive