Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

10/11/26

مفعول مطلق اور نائب مفعول مطلق کی تعریف، اقسام اور مثالیں | علم النحو | arabic grammar |

مفعول مطلق

 (جو حرفِ جر کی قید کے بغیر بولا جائے)

تعریف: وہ مصدر منصوب ہے، جو فعلِ مذکور کا مصدر ہو اور فعلِ مذکور ہی اسے نصب دے۔ جیسے كَلَّمَ اللهُ مُوٰسَى تَكْلِيْمًامیں تَكْلِيْمًا مفعول مطلق ہے۔

ذکر کرنے کی غرض: مفعول مطلق کو ذکر کرنے کے تین مقصد ہوتے ہیں:

 1. تاکید

2. بیانِ نوع

3. بیانِ عدد

۱۔ تاکید: اپنے ماقبل فعل کی تاکید کے لیے ذکر کیا جاتا ہے، اور مصدر کے الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی بلکہ اپنے مشہور وزن پر آتا ہے۔ جیسے  لَاعَبَ الْحَسَنُ مُلَاعَبَةً  (حسن خوب کھیلا)  فَرِحْتُ فَرَحًا  (میں واقعی خوش ہوا)  مُلَاعَبَةً  اور  فَرَحًا  مفعول مطلق ہیں۔

۲۔ بیانِ نوع: اپنے فعل کے واقع ہونے کی حالت اور نوعیت بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے۔ جیسے  وُثُوْبَ النَّمِرِ   وُثُوْبَ الْأَسَدِ    (چیتا/شیر کے جھپٹنے کی طرح جھپٹا) اور عموماً یہ  فِعْلَةٌ  کے وزن پر آتا ہے۔ جیسے  جَلَسَ التَّلْمِيْذُ جِلْسَةَ الْأُسْتَاذِ  (طالبِ علم استاد کے بیٹھنے کی طرح بیٹھا)  وُثُوْبَ الْأَسَدِ  اور  جِلْسَةَ الْأُسْتَاذِ  مفعول مطلق ہیں۔

 ۳۔ بیانِ عدد:  اپنے فعل کے واقع ہونے کی تعداد بیان کرنے کے لیے لایا جاتا ہے اور عموماً  فَعْلَةٌ  کے وزن پر آتا ہے۔ جیسے  أَكَلَ عَلِيٌّ أَكْلَتَيْنِ  (علی نے دو دفعہ کھانا کھایا)،  ضَرَبْتُ الْخَادِمَ ضَرْبَةً  (میں نے خادم کو ایک دفعہ مارا)  أَكْلَتَيْنِ  اور  ضَرْبَةً  مفعول مطلق ہیں۔

جب قرینہ پایا جائے تو مفعول مطلق سے پہلے فعل حذف ہو جاتا ہے، کبھی اس کا فعل وجوباً حذف ہوتا ہے اور کبھی جوازاً۔

 اس کے وجوبِ حذف کی مثال۔ جیسے قِیَامًا وَّلَا قُعُوْدًا اصل میں قُمْ قِیَامًا وَّلَا تَقْعُدْ قُعُوْدًا تھا، فَاِمَّا مَنًّا وَّ اِمَّا فِدَآءً اصل میں فَاِمَّا تَمُنُّوْنَ مَنًّا وَّ اِمَّا تَفْدُوْنَ فِدَآءً تھا۔ اسی طرح سُبْحَانَ اللهِ، مَعَاذَ اللهِ، رَعْیًا، سَقْیًا وغیرہ سے پہلے فعل کا حذف کرنا واجب ہے۔

فعل کے جوازِ حذف کی مثال، جیسے باہر سے آنے والے کو خَیْرَ مَقْدَمٍ کہا جائے تو اس سے پہلے فعل کا حذف کرنا جائز ہے، اصل میں قَدِمْتَ قُدُوْمًا خَیْرَ مَقْدَمٍ تھا۔

نائب مفعول مطلق: وہ اسماء جو مصدر تو نہیں مگر مفعول مطلق کے قائم مقام استعمال ہوتے ہیں اور انہیں نصب دی جاتی ہے، یہ ہیں: مرادف، صفت، عدد، آلہ، کل، بعض وغیرہ اور اسمائے اشارہ

مرادف: اس سے مراد وہ مصدر ہے، جو مفعول مطلق کا ہم معنی ہو اور اس کی جگہ آ جائے۔ جیسے اَقْرَرْتُ بِلَذَّتِیْ اِعْتِرَافًا، فَقَعَدْتُ جُلُوْسًا

 صفت: وہ اسم، جو اپنے سے پہلے فعل کے مصدر کی صفت بنے۔ جیسے جَرَى التِّلْمِیْذُ سَرِیْعًا اصل میں جَرَیًّا سَرِیْعًا تھا۔

 عدد: مصدر کی بجائے اسمائے اعداد ذکر کیے جائیں۔ جیسے ضَرَبْتُ زَیْدًا ثَلَاثًا

آلہ: وہ اسم ہے، جس سے مذکور فعل صادر ہو۔ جیسے ضَرَبَ اللَّاعِبُ الْكُرَةَ قَدَمًا

کل اور بعض: جب مذکور فعل کے مصدر کی طرف مضاف ہوں۔ جیسے جَدَّ الطَّالِبُ كُلَّ الْجِدِّ یَا بَعْضَ الْجِدِّ

اشارہ: جس کا مشارالیہ مذکور فعل کا مصدر ہو۔ جیسے اَحْسَنَ الْعَامِلُ هٰذَا الْاِحْسَانَ

 نوٹ: مذکورہ بالا اسماء کے علاوہ اور بھی چند اسماء ہیں، جو مفعول مطلق کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ مثلاً الْقُرْفُصَاءَ اور وہ ضمیر، جس کا مرجع فعلِ مذکور کا مصدر ہو۔ جیسے جَامَلْتُكَ مُجَامَلَةً لَّا اُجَامِلُهَا اَحَدًا

 

مفعول مطلق کی تعریف

 مفعول مطلق کی اقسام

 نائب مفعول مطلق

مفعول مطلق کی مثالیں

 مفعول مطلق اور نائب مفعول مطلق

 علم النحو اردو میں

 Arabic Grammar in Urdu

Mafool Mutlaq in Arabic Grammar

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive