Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label صوفیانہ شاعری. Show all posts
Showing posts with label صوفیانہ شاعری. Show all posts

7/20/26

جگ تارن ماہ راج معین الدین موری بھی نیا پار کرو | jag taran mahraj moeen ul din


 

جگ تارن ماہ راج معین الدین موری بھی نیا پار کرو

میں بلہاری او گن ہاری کرپا نظر سرکار کرو

 

خواجہ نے مورا گھونگھٹ کھولا تن من کر دیو نورو نور

من کی کھڑکی کھول کے دیکھو خواجہ کا دیدار کرو

 

چھیل چھبیلے اس پریتم کی صورت ایشور جیسی ہے

آؤنی سکھیو جوبن اپنا خواجہ پہ بلہار کرو

 

بھاگ سہاگ کی رین ہے آئی دیکھو پریتم آئے ہیں

میں بھی تم سے پیار کرت ہوں تم بھی مجھ سے پیار کرو

 

پوجا کی ہر ریت کے اندر نین انہیں کو دیکھیں گے

کاشی جاؤ متھرا جاؤ تیرتھ کے ہردوار کرو

Share:

4/23/26

سگ داتا پیا ہوں میں یہ میرا پیر خانہ ہے | Sag e Data Piya Hon lyrics


 

سگ داتا پیا ہوں میں یہ میرا پیر خانہ ہے

میری نسبت ذرا دیکھو میری نسبت شہانہ ہے

 

میں منگتا ہوں جو داتا کا یہ میری خوش نصیبی ہے

میں نے تو دیں دھرم سب کچھ فقط داتا کو جانا ہے

 

سخی ہیں اور بھی لیکن نہ آپ کے جیسا کوئی ہے

سخاوت آپ کے گھر کی ہے سخی کا آستانہ ہے

 

لٹاتے ہیں جہاں میں وہ یہ صدقہ کملی والے کا

کوئی بھی در پہ آ جائے نہیں کہتے بیگانہ ہے

 

میرا تو قبلہ کعبہ ہے در داتا پیا ساحل

جھکا لے تو جبیں اپنی اگر جنت کو جانا ہے

Share:

2/13/26

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے | Yun Muhammad hen Zamanai men Lyrics


 

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے

جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے

 

ہر خطا کار پہ رحمت کی نظر ہو جیسے

رات کے بعد زمانے میں سحر ہو جیسے

 

جس طرح گم کردہ منزل کو منزل کا سراغ

جس طرح تاریکیوں میں نورِ وحدت کا چراغ

زندگی جیسے ملے مردوں کو جینے کے لیے

جیسے طوفان میں ساحل ہو سفینے کے لیے

 

یوں محمد ہیں زمانے میں زمانے کے لیے

جیسے اک بولتا عنوان فسانے کے لیے

 

جرم کو دامنِ رحمت میں چھپانے کے لیے

ہر برے حال میں امت کو بچانے کے لیے

ہم بگڑنے کے لیے آپ بنانے کے لیے

 

ظالموں سے زیر دستوں کو چھڑایا آپ نے

آدمی سے آدمی کا حق دلایا آپ نے

دوستوں پر مہربانی ، دشمنوں پر شفقتیں

رحمت للعلمین بن کر دکھایا آپ نے

 

 

جاگتے رہتے تھے راتوں کو محمد معصوم

یوں انہیں دیکھ کر ہو جاتی تھی دائی مغموم

لوریاں گا کے مچا دیتی تھی گھر میں اک دھوم

ہائے یہ راز حلیمہ کو نہیں تھا معلوم

وہ نہیں سوتے جو آتے ہیں جگانے کے لیے

 

 

آپ سے پہلے زمانے کی عجب حالت تھی

آدمی، جہل مجسم تھا ، سراپہ وحشی

۳۶۰ خداوں سے بسی تھی بستی

شکر اللہ کا ایسے میں رسول عربی

آئے انسان کو انسان بنانے کے لیے

 

 

آدمی نے آدمی کے مرتبے کو پا لیا

آئینہ وہ آدمیت کو دکھایا آپ نے

آپ کے احسان اتنے جن کا گننا بھی محال

سچ یہ ہے کہ انسان کو انسان بنایا آپ نے

ایک ہی صف میں کھڑا کر کے گدا و شاہ کو

امتیازِ بندہ و آقا مٹایا آپ نے

 

بزم کونین سجانے کے لیے آپ آئے

شمع توحید جلانے کے لیے آپ آئے

 

Share:

2/10/26

دیا گیا ہے جو کردار وہ نبھانا ہے | Dia gia hai jo kirdar wo nibhana hai lyrics


 

دیا گیا ہے جو کردار وہ نبھانا ہے

یہ زندگی تو بہت مختصر فسانہ ہے

 

تو  آگیا تو مکمل ہوا  میرا ہونا

تیرا زمین پہ آنا تو اک بہانہ ہے

 

یہ لوگ کس لیے چمٹے ہوئے ہیں دنیا سے

پتہ بھی ہے کہ سبھی کو یہاں سے جانا ہے

 

تجھے تو تازہ لہو کی تلاش ہے شاید

اسے نہ چھیڑ کہ یہ زخم تو پرانا ہے

 

کوئی بھی انگلی اٹھانے تجھے نہیں دے گا

میاں یہ تیرا نہیں ہے میرا زمانہ ہے

 

کوئی چرا کے نہ لے جائے ڈر سا رہتا ہے

تو مشکلوں سے کمایا ہوا خزانہ ہے

 

میں جس مقام پہ ہوں مستقل نہیں مظہر

میری جگہ پہ کسی اور نے بھی آنا ہے

Share:

1/6/26

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی | Mere Khaja Pia


 

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

مولا علی کے نور نظر ہو

پیارے نبی کے لختِ جگر ہو

مجھ پہ عنایت شام و سحر ہو

سیدِ محترم کر دو کر دو کرم

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

جس نے بھی تم کو دکھ میں پکارا

اس کو دیا ہے تم نے سہارا

میرا بھی دامن بھر دو خدارا

والئی بے کساں خواجۂ خواجگاں

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

عثماں کے پیارے دکھیوں کے والی

کوئی بھکاری کوئی سوالی

در سے تمہارے لوٹا نہ خالی

تم نے سب کو دیا صدقۂ چشتیہ

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

یاد جو آئے تمری نگریا

چندا کے جیسی توری اٹریا

تڑپوں میں جیسے جل بِن مچھریا

اب تو کرپا کرو ہاتھ سر پہ دھرو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

نصرت ہے تم پر قربان خواجہ

انور کا ہے یہ ارمان خواجہ

کر دو مجاہد پہ احسان خواجہ

اک نظر ڈال دو مشکلیں ٹال دو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

Share:

12/9/25

مہاراج سنو بِنتی من چاہت درشن ہے | Maha Raaj Sunu Binti


 

مہاراج سنو بِنتی من چاہت درشن ہے

برست موری اکھین سے تورے ہجر کا ساون ہے

 

طیبہ کے سانوریا توری یاد کی اگنی میں

دن رین میں تڑپت ہوں جل بن مورا تن من ہے

 

سکھین کا (کیا)پوچھت ہو تم حال مورے من کا

بڑی دور عرب نگری مورے شاہ کا مسکن ہے

 

تورے حسن کی ایک جھلک دیکھن کو میں ترست ہوں

سپنوں میں کرو جلوہ بے تاب یہ جیون ہے

 

طہ تورے سر پگڑی یسین کا ہے شملہ

لولاک لما اس پر پھر نور کا تاجن ہے

 

والفجر تورے گالن والشمس تورا ماتھا

مکھڑا تورا صل علی اللہ کی شانن ہے

 

دانتن تورے والو لو مرجان توری مسکان

یوحی کے وہ ہونٹن پہ یاقوت کا روگن ہے

 

قوسین کما ابرو والیل تورے گیسو

مازاغ کے نینن میں قد راٰی کا چانن ہے

 

یہ والیتلطف ہے توری مانگ کا نظارہ

اور فرق بہشتن میں وہ دودھ کی نہرن ہے

 

مانگ بالوں کی جو ہے وہ ہے صراط الجنہ

فرق میں جو فرق ہے بال برابر تو نہیں

 

یہ دن کا دھوندھلکا بھی توری مانگ کا مانگت ہے

یہ رین تورے کاکُل کی پہلی بھکارن ہے

 

حیدر توری جانن ہے زہرا تورا دل شاہا

حسنین کی صورتیا تورے حسن کا جوبن ہے

 

آکاش کے مکھڑے پہ رکھی ہے جو کہکشاں

وہ عرش کے دولہا کے پاپوش کی اترن ہے

 

نعلین کے تسمت سے گانٹھن ہوں دل و جانم

جبریل تکو موہے کیسا مورا بندھن ہے

 

اللہ کے سیّاں کے ہاتھن میں موری بیّاں

ہیں ہو بت یہ ابھاگن بھی  اب خوب سہاگن ہے

 

اک جھات کرو صاحب زہرا کے صدقے میں

بڑی بلک بلک رووت پردیس میں نردھن ہے

 

Share:

8/28/25

ز رحمت کن نظر بر حال زارم یا رسول اللہ | مولانا عبد الرحمن جامی رحمۃ اللہ علیہ


 

ز رحمت کن نظر بر حال زارم یا رسول اللہ

 غریبم بے نوایم خاکسارم یا رسول اللہ

 

 میرے حالِ زار پر رحمت کی نظر کریں یارسول اللہ، میں غریب ہوں بے نوا ہوں خاکسار ہوں یارسول اللہ۔

 

 ز داغ ہجر تو کہ دل فگارم یا رسول اللہ

 بہار صد چمن در سینہ دارم یا رسول اللہ

 

 آپ کے ہجر کے داغ سے میرا دل مجروح ہے یارسول اللہ، میرے سینے میں سیکڑوں چمن کی بہاریں موجود ہیں یارسول اللہ۔

 

 توئی تسکین دل آرام جاں صبر و قرار من

 رخ پر نور بنما بے قرارم یا رسول اللہ

 

آپ ہی میرے دل کا چین، محبوب اور صبر و قرار ہیں، اپنے روۓ پرنور کی زیارت کروايۓ کہ میں مضطرب‏ ہوں یارسول اللہ۔

 

 توئی مولائے من آقائے من والی و جان من

 توئی دانی کہ جز تو کس ندارم یا رسول اللہ

 

 آپ ہی میرے آقا و مولا، میرے مالک و جان ہیں اور آپ جانتے ہیں کہ آپ کے سوا میرا کوئ سھارا نہیں ہے یارسول اللہ۔

 

دم آخر نمائی جلوۂ دیدار جامیؔ را

ز لطف تو ہمیں امیدوارم یا رسول اللہ

 

جامی کا وقت آخر نزدیک ہے اب تو اپنے دیدار سے فیضیاب کرائے کہ میں صرف آپ ہی کے لطف و کرم کا امیدوار ہوں یارسول اللہ۔

Share:

7/9/25

Nusrat Collection | Nusrat Fateh Ali Khan’s Timeless Qawwalis & Ghazals | A Journey into Soulful and Spiritual Music

🌟 نصرت فتح علی خان: صوفی موسیقی کا جاودانی سُر 🌟

نصرت فتح علی خان، ایک ایسا نام جو صوفیانہ موسیقی، قوالی، اور غزل کو بین الاقوامی شہرت کی بلندیوں پر لے گیا۔ ان کی آواز میں جو روحانیت، گہرائی اور جذب ہے، وہ آج بھی سننے والوں کے دلوں پر راج کرتی ہے۔ اس بلاگ میں ہم آپ کو پیش کر رہے ہیں ان کی مشہور اور دل کو چھو لینے والی قوالیوں اور غزلوں کا انتخاب، تصویروں کے ساتھ — جہاں ہر تصویر میں موجود لنک آپ کو براہِ راست اس موسیقی کے سحر میں لے جائے گا۔

Nusrat Fateh Ali Khan — a legendary name that brought Sufi music, Qawwali, and Ghazals to global recognition. His voice carries a rare depth, spiritual essence, and emotional intensity that continues to captivate hearts around the world. In this blog, we present a soulful selection of his most iconic Qawwalis and Ghazals, accompanied by visuals — each image containing a direct link that transports you into the mesmerizing world of his music.





































Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive