دیا
گیا ہے جو کردار وہ نبھانا ہے
یہ
زندگی تو بہت مختصر فسانہ ہے
تو آگیا تو مکمل ہوا میرا ہونا
تیرا
زمین پہ آنا تو اک بہانہ ہے
یہ
لوگ کس لیے چمٹے ہوئے ہیں دنیا سے
پتہ
بھی ہے کہ سبھی کو یہاں سے جانا ہے
تجھے
تو تازہ لہو کی تلاش ہے شاید
اسے
نہ چھیڑ کہ یہ زخم تو پرانا ہے
کوئی
بھی انگلی اٹھانے تجھے نہیں دے گا
میاں
یہ تیرا نہیں ہے میرا زمانہ ہے
کوئی
چرا کے نہ لے جائے ڈر سا رہتا ہے
تو
مشکلوں سے کمایا ہوا خزانہ ہے
میں
جس مقام پہ ہوں مستقل نہیں مظہر
میری
جگہ پہ کسی اور نے بھی آنا ہے









0 comments:
Post a Comment
Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You