Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

Showing posts with label امیر خسرو. Show all posts
Showing posts with label امیر خسرو. Show all posts

4/5/25

تو کریمی من کمینہ بردہ ام | tu kremi man kmena lyrics | nusrat fateh ali khan


 تو کریمی من کمینہ بردہ ام

لیکن از لطفِ شما پروردہ ام

یا اللہ تو رحیم و کریم ہے اور میں کم ظرف انسان ہوں لیکن تیرے لطف و کرم سے ہی میری بقا ہے


زندگی آمد برائے بندگی

زندگی بے بندگی شرمندگی

مقصدِ حیات خدا کے احکامات پر عمل پیرا ہونا ہے، خدا کے احکامات سے رو گردانی میں خسارہ ہی خسارہ ہے


یادِ او سرمایۂ ایمان بود

ہر گدا از یادِ او سلطان بود

خدا کی یاد دین و ایمان کی دولت ہے، ایک ادنیٰ انسان اس کے احکامات پر علم پیرا ہو کر سلطان بن جاتا ہے


سید و سرور محمد نورِ جاں

مہتر و بہتر شفیعِ مجرماں

ہمارے سردار حضرت محمد پاک کائنات کی جان اور نور ہیں، آپ گنہگاروں کی شفاعت کرنے والے ہیں


چوں محمد پاک شد از نارو دود

ہر کجا رو کرد وجہہ اللہ بود

حضرت محمد پاک کائنات کی مصفہ ترین پاک ترین ہستی ہیں، آپ جس چیز کا بھی حکم دیں وہ حکمِ خداوندی ہے


شہبازی لا مکانی جانِ او

رحمتہ اللعٰلمیں در شانِ او

آپ کو عرشِ معلیٰ پر معراج کرائی گئی، آپ دونوں جہانوں کے لیے رحمت ہیں


مہترین و بہترینِ انبیا

جز محمد نیست در ارض و سما

آپ انبیا کے سردار امام الانبیا ہیں، آپ کے مثل کائنات میں کوئی نہیں


آں محمد حامد و محمود شد

شکلِ عابد صورتِ معبود شد

وہ محمد حامد اور محمود ہیں اور عابد کی صورت معبود کی صورت میں تبدیل ہو گئ ہے


اؤلیااللہ ہو اللہ اؤلیا

یعنی دیدِ پیر دیدِ کبریا

جو خدا کے ولی ہیں، خدا ان کا ولی ہے یعنی پیرِ کامل کو دیکھنے سے خدا کی یاد آ جاتی ہے


ہر کہ پیرِ ذاتِ حق را یک نہ دید

نے مرید و نے مرید و نے مرید

جو اپنے پیرِ کامل کو خدا کا ولی نہیں سمجھتا، وہ مرید نہیں ہو سکتا وہ مرید نہیں ہو سکتا


مولوی ہرگز نہ شد مولائے روؔم

تا غلامِ شمس تبریزی نہ شد

مولوی کبھی بھی مولانا روم نہ ہوتا اگر حضرت شمس الدین تبریزی کا مرید نہ ہوتا


Share:

12/16/23

صوفیانہ طرز زندگی | صوفی کون ہوتا ہے | Who is a Sufi

 

صوفیانہ طرزِزندگی تو اپنی انا کے قتل کا نام ہے

 ــــــ  ذاتی مفاد کی قربانی کا نام ہے

 ــــــ  اللہ کی مخلوق سے پیار کا نام ہے

 ـــــ  اللہ کی یاد میں ہر وقت رونے کا نام ہے

 ـــــ محبوب کے وصل میں خود فراموشی کا نام ہے

 ـــــ محبوب کی رضا میں نفی ذات کا نام ہے

 ـــــ محبوب کے طرف کان لگائے رکھنے کا نام ہے

 ـــــ محبوب کے اک اشارے پر زندگی لٹا دینے کا نام ہے

 ــــــ محبوب کے رنگ میں ڈھل جانے کا نام ہے

 

کاش کوئی  سالکِ مخلص ہو۔۔۔ کاش متمنیِٔ ذات ہو

 

صوفیانہ طرزِزندگی میں نگاہ کسی کے تعاقب میں نہیں اپنے گریبان میں گم ہوتی ہے

 ـــــ  دھیان کسی کے بڑے بڑے جرموں کی طرف نہیں اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں پر ہوتی ہے

 ـــــ  دوسروں پر تنقید نہیں ہوتی اپنے کرتوتوں کا قتل عام ہوتا ہے

 ـــــ  اپنی نیکیاں بھی ناقابلِ قبول لگتی ہیں

 ـــــ  دوسروں کی غفلت بھی مقبول لگتی ہے

 

کاش ہم کچھ اپنے حال پر نظر کریں

 

ــــ باخدا لاتعداد کیڑے نظر آئیں گے

 ـــــ  دامن تار تار نظر آئے گا

 ـــــ ضمیر چھلنی نظر آئے گا

 

باہروں مل مل دھوندیے کدی اندروں وی مل دھو

تیرا باہر دا دھونا کی دھونا جے اندروں صاف نہ ہو

 

Share:

2/5/23

zi haal e miskin makun | زحال مسکیں مکن تغافل | امیر خسرو | امیر خسرو کا فارسی ہندی کلام


 

زحال مسکیں مکن تغافل دورائے نیناں بنائے بتیاں

کہ تاب ہجراں ندارم اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

 

اس مسکیں کے حال سے تغافل نہ برت  آنکھیں پھیر کر باتیں بنا کر۔اب جدائی کی تاب نہیں مری جان، مجھے اپنے سینے سے کیوں نہیں لگا لیتے

 

شبان ہجراں دراز چوں زلف و روز وصلت چوں عمر کوتاہ

سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں

 

جدائی کی راتیں زلف ی مانند دراز ، وصال کے دن عمر کی مانند مختصر۔اے دوست ! محبوب کو دیکھے بغیر یہ اندھیری راتیں کیسے کاٹوں

 

یکایک از دل دو چشم جادو بصد فریبم بہ برد تسکیں

کسے پڑی ہے جو جا سناوے پیارے پی کو ہماری بتیاں

 

 

پلک جھپکنے میں وہ دوساحر آنکھیں میرے دل کا سکون لے اڑیں۔اس کسے پڑی ہے کہ جا کر ہمارے محبوب کو ہمارا حالِ دل سنائے

 

 

چوں شمع سوزاں چوں ذرہ حیراں ز مہر آں مہ بگشتم آخر

نہ نیند نیناں نہ انگ چیناں نہ آپ آوے نہ بھیجے پتیاں

 

 

میں جلتی ہوئی شمع اور ذرہ حیراں کی طرح عشق کی آگ میں جلتا ہوا گھر مر رہا ہوں۔نہ آنکھوں میں نیند اور نہ جسم کو چین نہ وہ خود آیا یہاں نہ کوئی پیغام بھیجا

 

 

بحق روز وصال دلبر کہ داد مارا غریب خسروؔ

سپیت من کے ورائے رکھوں جو جا کے پاؤں پیا کی کھتیاں

 

دلبر کا حق ہے کہ کس دن غریب خسرو کو وصال عطا کرے۔آنسؤوں کے سفید موتی سنبھال کے رکھوں جب تک پیا کا در نہ پا لوں

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive