Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

10/21/26

مفعول فیہ کی تعریف، اقسام اور مثالیں | ظرفِ زمان و ظرفِ مکان Arabic Grammar, Mafool fihi

 مفعول فیہ

جس سے پہلے فی حرفِ جر محذوف ہوتا ہے

تعریف: مفعول فیہ وہ اسمِ منصوب ہے، جو اس زمان یا مکان پر دلالت کرے، جس میں فعل واقع ہوتا ہے، اسے ظرف بھی کہتے ہیں، اس کی دو قسمیں ہیں:

۱- ظرفِ زمان ۲- ظرفِ مکان

۱- ظرفِ زمان: وہ اسمِ ظرف ہے، جو ایسے زمانہ پر دلالت کرے، جس میں فعل واقع ہو۔ جیسے   حَفِظْتُ دَرْسًا صَبَاحًا  ،  جِئْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ان مثالوں میں  صَبَاحًا  اور  يَوْمَ الْجُمُعَةِ مفعول فیہ ہیں۔

  ۲- ظرفِ مکان:  وہ اسمِ ظرف ہے، جو ایسی جگہ پر دلالت کرے، جس میں فعل واقع ہو۔ جیسے  وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ  (میں شیشے کے سامنے کھڑا ہوا)  جَلَسَتِ الْهِرَّةُ تَحْتَ الْمَائِدَةِ  (بلی دسترخوان کے نیچے بیٹھی)

    اقسام 

ظرفِ زمان کی دو قسمیں ہیں:

 ۱- غیر محدود زمانہ

۲- محدود زمانہ  

غیر محدود زمانہ:  جس کی حد متعین نہ ہو۔ جیسے  دَهْرٌ  (زمانہ)  حِيْنٌ  (جب)  

محدود زمانہ:  جس کی حد متعین ہو۔ جیسے  يَوْمٌ  (دن)  لَيْلَةٌ  (رات)

ظرفِ زمان، خواہ محدود ہو یا غیر محدود، دونوں  في  حرفِ جر کے حذف کے ساتھ منصوب ہوتے ہیں۔ جیسے  مَكَثْتُ فِي الْمَدْرَسَةِ شَهْرًا  (میں مدرسہ میں ایک ماہ تک ٹھہرا رہا)،  قُمْتُ دَهْرًا  (میں ایک زمانہ کھڑا رہا) یہ اصل میں  فِي شَهْرٍ  اور  فِي دَهْرٍ  تھے۔

 ظرفِ مکان کی بھی دو قسمیں ہیں:

۱- محدود جیسے  السُّوْقُ  (بازار)  الدَّارُ  (گھر)

۲- غیر محدود جیسے  خَلْفَ  (پیچھے)،  فَوْقَ  (اوپر)،  أَمَامَ  (سامنے)

ظرفِ مکان غیر محدود میں  فِيْ  کا حذف کرنا ضروری ہے۔ جیسے  وَقَفْتُ أَمَامَ الْمِرْآةِ ،  طَارَتِ الْحَمَامَةُ فَوْقَ رُؤُوْسِنَا

 ظرفِ مکان محدود میں  فِيْ  کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ جیسے  مَشَيْتُ فِي السُّوْقِ ،  جَلَسْتُ فِي الدَّارِ  مگر  دَخَلَ  کے بعد  فِيْ  کا ذکر نہ کرنا بھی جائز ہے۔  دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ،  لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ    

عامل کا حذف 

جب قرینہ پایا جائے تو مفعول فیہ کے عامل کو بھی جوازاً حذف کر دیا جاتا ہے۔ جیسے کوئی کہے  مَتَى جِئْتَ  (تو کب آیا) تو اس کا جواب صرف  يَوْمَ الْجُمُعَةِ  سے دیا جا سکتا ہے، جو اصل میں  جِئْتُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ  ہے۔ اور کبھی اس کا عامل وجوباً حذف ہوتا ہے، جب کہ ظرف، حال، صفت، صلہ یا خبر واقع ہو، جیسے  مَرَرْتُ بِزَيْدٍ عِنْدَكَ ، و  مَرَرْتُ بِرَجُلٍ عِنْدَكَ  اصل میں  بِزَيْدٍ مُسْتَقِرًّا عِنْدَكَ  اور  بِرَجُلٍ مُسْتَقِرٍّ عِنْدَكَ  تھے۔

 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive