Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

7/13/26

منادٰی مستغاث بہ مندوب کابیان | Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد

۱۔ منادٰی  (مفعول بہ کے فعل کے حذف کی پہلی صورت)

وہ اسم، جس سے پہلے حرفِ نداء آئے، اس کی تین صورتیں ہیں: ۱۔ منادٰی ۲۔ مستغاث بہ ۳۔ مندوب

۱۔ منادٰی (جسے بلایا جائے)

 یہ نداء سے مشتق ہے جس کا معنی پکارنا یا بلانا ہے، اس سے مراد وہ اسم ہے، جسے حرفِ نداء کے بعد ذکر کیا جاتا ہے اور اسے اپنی طرف بلایا جاتا ہے۔ جیسے *يَا خَلِيلُ!* (اے خلیل) *أَيَا عَبْدَ اللهِ!* (اے عبداللہ)

 حروفِ نداء پانچ ہیں: *يَا، أَيَا، هَيَا، أَيْ، همزه۔

منادٰی اصل میں فعلِ محذوف *أَدْعُوْ* کا مفعول بہ ہے، جس کی تفصیل حسبِ ذیل ہے: *يَا خَلِيلُ* اصل میں *أَدْعُوْ خَلِيْلًا* ہے (میں خلیل کو بلاتا ہوں) *أَدْعُوْ* صیغہ واحد متکلم فعل مضارع معروف اس میں *اَنَا* ضمیر فاعل، *خَلِيْلًا* مفعول بہ ہے، *أَدْعُوْ* کو کثرتِ استعمال کی وجہ سے حذف کر دیا اور حرفِ نداء کو اس کے قائم مقام رکھ دیا۔

منادٰی کا اعراب

۱۔  اگر منادٰی مفرد معرفہ یا نکرہ معین ہو تو مبنی بر رفع ہوتا ہے۔ جیسے *يَا زَيْدُ، يَا تِلْمِيْذُ*۔  مفرد معرفہ سے مراد یہ ہے کہ نہ مضاف ہو اور نہ ہی مشابہ مضاف.

۲۔ اگر منادٰی مضاف یا مشابہ مضاف یا نکرہ غیر معین ہو تو منصوب ہوتا ہے۔ جیسے *يَا رَسُولَ اللهِ* (مضاف کی مثال)، *يَا رَاكِبًا فَرَسًا، يَا مُسَافِرًا إِلَى لُبْنَانَ* (مشابہ مضاف کی مثال) *يَا مُسْرِعًا فِي الْعَجَلَةِ النَّدَامَةُ* (نکرہ غیر معین کی مثال)

۳۔  اگر منادٰی مفرد معرفہ کے بعد ابن یا بنت کا لفظ آ جائے تو منادٰی مع ابن اور بنت منصوب اور بعد والا علم مجرور ہوگا۔ جیسے *يَا عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ*

۴۔ اگر منادٰی معرف باللام ہو تو حرفِ نداء اور منادٰی کے درمیان مذکر کے لئے *أَيُّهَا* اور مؤنث کے لئے *أَيَّتُهَا* کا لفظ بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے * یٰٓاَیُّهَا الْاِنْسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِیْمِ * (مذکر کی مثال)، * یٰٓاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىٕنَّةُ* (مؤنث کی مثال)۔ مگر لفظِ اللہ سے پہلے * أَيُّهَا * نہیں بڑھاتے۔ جیسے *يَا اَللهُ* اور دعا کے موقع پر لفظِ اللہ سے پہلے حرفِ نداء کو گرا کر آخر میں میم مشدد بڑھا دیتے ہیں۔ جیسے *اَللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ، اَللّٰهُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ*۔ *۵۔* اگر حرفِ نداء کے بعد غلام، رب، اَب، ام اور صاحب وغیرہ کے الفاظ یائے متکلم کی طرف مضاف ہوں تو ان کو چار طرح پڑھنا جائز ہے۔ جیسے *يَا غُلَامِيْ، يَا غُلَامِ، يَا غُلَامَ، يَا غُلَامَا*۔ کبھی *اَبِیْ* اور *اُمِّیْ* کی ی کو ت سے بدل دیتے ہیں۔ جیسے *يَا اَبَتِ* (اے میرے باپ)، *يَا اُمَّتِ* (اے میری ماں)۔ *۶۔* کبھی منادٰی سے پہلے حرفِ نداء کو حذف کر دیتے ہیں۔ جیسے *يُوْسُفُ اَعْرِضْ عَنْ هٰذَا، اَلسَّلَامُ عَلَیْکَ اَیُّهَا النَّبِیُّ* اصل میں *يَا يُوْسُفُ* اور *يَا اَيُّهَا النَّبِیُّ * تھے۔

منادٰی کی ترخیم: ترخیم کا معنی کسی چیز کی دم کاٹنا ہے اور نحویوں کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ منادٰی ہے جس کا آخری حرف تخفیفاً گرا دیا جائے، اسے منادٰی مرخم کہتے ہیں، اور اس عمل کو منادٰی کی ترخیم کہتے ہیں۔ جیسے *يَا صَفْ، يَا حَارِ، یہ اصل میں **يَا صَفْوَةُ* اور *يَا حَارِثُ* تھے۔ منادٰی مرخم میں شرط یہ ہے کہ وہ علم مفرد ہو، حروف تین سے زائد ہوں، مبنی بر ضمہ ہو جیسے *يَا جَعْفُ* کہ اصل میں *يَا جَعْفَرُ* تھا۔ منادٰی مرخم کو اپنی اصلی حالت پر رکھنا اور مبنی بر ضمہ پڑھنا دونوں جائز ہیں۔

 

مستغاث بہ

 مستغاث استغاثہ سے ہے، جس کا معنی تکلیف دور کرنے کے لئے کسی معاون کو پکارنا ہے، جسے پکارا جائے، اسے مستغاث بہ اور جس کے لیے پکارا جائے، اسے مستغاث لاجلہ کہتے ہیں۔ جیسے *يَا لَلْأَمِيْرِ لِلْفَقِيْرِ*۔ اس مثال میں *للامیر* مستغاث بہ اور *للفقیر* مستغاث لاجلہ ہے۔ استغاثہ کے لیے *يا* حرفِ نداء خاص ہے اور یہ فعل *أَلْتَجِئُ* کے قائم مقام ہوتا ہے، جو مستغاث بہ سے پہلے وجوباً محذوف ہوتا ہے۔

 مستغاث بہ کے اعراب کی حسبِ ذیل صورتیں ہیں:

۱۔مستغاث بہ مجرور ہوتا ہے جب اس سے پہلے لامِ استغاثہ ہو۔ جیسے *يَا لَلْجَوَادِ لِلْمِسْكِيْنِ۔ یہ لامِ استغاثہ مفتوح ہوتا ہے، جب یہ حرفِ نداء "یا" کے متصل بعد آئے اور اگر لامِ استغاثہ اور یاء کے درمیان حرفِ عطف کے ساتھ فاصلہ ہو تو مجرور ہوتا ہے۔ جیسے **يَا لَلْكِرَامِ وَلِلْمُحْسِنِيْنَ لِلضُّعَفَاءِ

۲۔مستغاث بہ مفتوح ہوتا ہے جب اس کے آخر میں الفِ استغاثہ آ جائے اور اس وقت اس سے پہلے لامِ استغاثہ نہیں ہوتا۔ جیسے *يَا مُحَمَّدَا، يَا قَوْمَا*

۳۔جب اس کی ابتداء میں نہ لامِ استغاثہ ہو اور نہ ہی آخر میں الفِ استغاثہ ہو تو اس کا اعراب منادٰی کے اعراب کی طرح ہوتا ہے۔ جیسے *يَا عَلِيُّ، يَا أَهْلَ الْجُوْدِ*۔ مستغاث لاجلہ کا حکم یہ ہے کہ یہ مجرور ہوتا ہے، کبھی اس پر لامِ مکسور داخل ہوتا ہے، جیسے *يَا لَلرَّجُلِ الْمُرُوْءَةِ لِلْبَائِسِ، بائِس مستغاث لاجلہ ہے اور کبھی اس سے پہلے **مِنْ* حرفِ جر ہوتا ہے۔ جیسے *يَا لَلْحُكَّامِ مِنَ الْغَلَاءِ*۔ مستغاث لاجلہ اپنے جار سے مل کر اس فعلِ محذوف کے متعلق ہوتا ہے جس کے قائم مقام حرفِ نداء ذکر کیا جاتا ہے۔ جیسے *أَلْتَجِئُ

مندوب

 مندوب ندبہ سے مشتق ہے اور ندبہ کا معنی مردے کی خوبیاں شمار کرنا ہے۔ اصطلاح میں مردہ یا مصیبت زدہ کو حرفِ نداء واؤ یا یاء کے ساتھ پکار کر رونے کو ندبہ کہتے ہیں اور جسے رویا جائے یا جس پر دکھ ظاہر کیا جائے، اسے مندوب کہتے ہیں۔ جیسے *وَارَجُلُ* (ہائے مرد) یَا مُثِيْرَ الْحَرْبِ* (ہائے جنگ برپا کرنے والے)۔

مندوب مفعول بہ ہوتا ہے، اس سے پہلے *أَنْدُبُ* یا *أَتَوَجَّعُ* فعل محذوف ہوتا ہے۔ حرفِ ندبہ واؤ یا یاء کو اس فعل کے قائم مقام ذکر کیا جاتا ہے۔ *وَارَجُلُ* اصل میں *أَنْدُبُ الرَّجُلَ* تھا اور *يَا مُثِيْرَ الْحَرْبِ* اصل میں *أَتَوَجَّعُ مُثِيْرَ الْحَرْبِ* تھا۔ ان مثالوں میں *رَجُلُ* اور *مُثِيْرَ الْحَرْبِ * مندوب ہیں۔

مندوب کے استعمال کی تین صورتیں ہیں:

۱۔ اسے منادٰی کی طرح اعراب دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنُ، وَاغُلَامَ الرَّجُلِ

۲۔ اس کے آخر میں الفِ ندبہ کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنَا وَيَا رَجُلَا*۔

 ۳۔اس کے آخر میں الفِ ندبہ کے بعد کبھی ہائے وقف کا اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ جیسے *وَاحُسَيْنَاهُ يَا كَبِدَاهُ، وَامُصِيْبَتَاهُ* (ہائے مصیبت)۔

 * *واؤ* مندوب کے ساتھ خاص ہے اور *یاء* منادٰی اور مندوب دونوں میں مشترک ہے۔ * اور یاء مندوب کے لیے اس وقت استعمال ہوتا ہے جب التباس کا اندیشہ نہ ہو۔ * مندوب اور مستغاث بہ سے پہلے حرفِ نداء کا حذف کرنا جائز نہیں۔

سوالات

۱۔ منادٰی، مندوب اور مستغاث بہ کسے کہتے ہیں؟

۲۔ مندوب کے لئے کون سے الفاظ خاص ہیں؟

۳۔ منادٰی اور مندوب کے اعراب کی کیا صورتیں ہیں؟

۴۔ مستغاث بہ کے اعراب کی کتنی صورتیں ہیں؟

۵۔ ترخیم کا کیا معنی ہے؟

۶۔ درج ذیل جملوں میں منادٰی، مندوب اور مستغاث بہ کو متعین کریں:

* ۱۔ *يَا رِجَالُ اتَّقُنُوْا اَعْمَالَكُمْ* * ۲۔ *يَا لَا هِيًا عَنْ دَرْسِهِ* * ۳۔ *اَجِبْ دُعَائِیْ اَيَا مُجِيْبَ الدُّعَاءِ* * ۴۔ *يَا لَرِجَالِ الْمَالِ لِلْفُقَرَاءِ* * ۵۔ *جُوْدُوْا يَا اَهْلَ الْفَضْلِ* * ۶۔ *يَا حُفَّاظَ الْاَمْنِ لِكَثْرَةِ الْجَرَائِمِ* * ۷۔ *وَابْنَتَاهْ* * ۸۔ *يَا قَلْبَاهْ* * ۹۔ *يَا لَعَلِيٍّ لِلْيَتَامٰی*

۷۔ درج ذیل اسماء سے پہلے حرفِ نداء لگا کر اعراب لگائیں:

 * ۱۔ *اَبُو الْفَضْلِ* * ۲۔ *مُجْتَهِدٌ فِيْ دَرْسِهِ* * ۳۔ *غَافِلٌ* * ۴۔ *خَاتَمُ النَّبِيِّيْنَ* * ۵۔ *اَلنَّاسُ* * ۶۔ *عَلِيٌّ* * ۷۔ *اَلْكَافِرُوْنَ* * ۸۔ *اَلنِّسَاءُ*

 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive