اشتغال (مفعول بہ کے فعل
کے حذف کی تیسری صورت)
تعریف
اشتغال
کا لغوی معنی "مشغول ہونا" ہے اور نحو کی اصطلاح میں اس سے مراد یہ ہے
کہ ایک اسم پہلے آئے، اس کے بعد ایسا فعل آئے جو ضمیر یا ضمیر سے متصل اسم میں
عامل ہو اور وہ ضمیر اسمِ مذکور کی طرف لوٹ رہی ہو، اس حیثیت سے کہ اگر اس مذکور
فعل کو مابعد معمول (ضمیر یا ضمیر سے متصل اسم) سے فارغ کر دیا جائے تو ماقبل اسم
میں عمل کرے، اسے *اشتغال* کہتے ہیں اور اس اسمِ متقدم کو *مشغول عنہ* کہتے ہیں۔ جیسے:
*اَلْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ،
**اَلْمُخْلِصَ اَکْرَمْتُ
اَخَاہُ*۔ ان مثالوں میں *اَلْقَمَرَ*
اور *اَلْمُخْلِصَ*
مشغول عنہ ہیں، اور دونوں ایسے فعلِ محذوف کے مفعول بہ ہیں، جن کی تفسیر ان کے
مابعد فعل بیان کر رہے ہیں۔ اصل عبارت یوں تھی۔ *قَدَّرْنَا
الْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ، **اَکْرَمْتُ
الْمُخْلِصَ اَکْرَمْتُ اَخَاہُ*۔
ایک کلام میں دو فعلوں کا تکرار آ گیا، پہلے فعل کو حذف کر دیا، اسے اضمار علیٰ
شرط التفسیر بھی کہتے ہیں یعنی وہ اسم، جس کے فعل کو اس شرط پر حذف کیا گیا ہے
کہ مابعد فعل اس کی تفسیر بیان کر رہا ہے۔
مشغول عنہ کے اعراب کی
صورتیں
اس کے اعراب کی تین صورتیں
ہیں: ۱۔
رفع واجب ۲۔
نصب واجب ۳۔
رفع اور نصب دونوں جائز
۱۔
رفع واجب:* اگر مشغول عنہ ایسے حروف کے بعد آئے جو
صرف اسم پر ہی داخل ہوتے ہیں یا وہ ایسے حروف سے پہلے آ جائے جن کا مابعد ماقبل میں
عمل نہیں کرتا تو مبتدا ہونے کی وجہ سے اسے رفع دینا واجب ہے۔ جیسے *خَرَجْتُ
فَاِذَا زَیْدٌ
یَّضْرِبُهُ عَمْرٌو، **خَالِدٌ
هَلْ رَاَیْتَهُ۔ ان مثالوں میں **زَیْدٌ*
اور *خَالِدٌ*
مشغول عنہ ہیں۔
۲۔ نصب واجب:*
اگر مشغول عنہ ایسے حروف کے بعد واقع ہو جو صرف فعل پر داخل ہوتے ہیں۔ جیسے حروفِ
تحضیض *اَلَّا، **هَلَّا، **لَوْلَا*
وغیرہ اور کلماتِ شرط، جیسے *اِنْ، **لَوْ، **حَیْثُمَا*
وغیرہ تو اسے فعلِ محذوف کے ساتھ نصب دینا واجب ہے۔ جیسے
* هَلَّا ضَیْفَکَ اَکْرَمْتَهُ،
اس مثال میں *ضَیْفَکَ*
مشغول عنہ ہے جس پر نصب واجب ہے، نیز یہاں
فعل کو حذف کرنا واجب ہے۔
۳۔ رفع اور نصب جائز:*
جب دونوں مذکورہ صورتیں نہ ہوں تو مشغول عنہ پر رفع اور نصب دونوں جائز ہیں۔ جیسے
*اَلْمُخْلِصُ اَمْجِدْهُ،
**المخلصَ* کو مرفوع پڑھنا بھی
جائز ہے۔
سوالات
۱۔
اشتغال کا معنی کیا ہے؟
۲۔
مشغول عنہ پر کب رفع واجب ہے اور کب نصب؟
۳۔
درج ذیل فقرات میں مشغول عنہ کوپہچانیں
اور اس کے رفع اور نصب کا حکم بیان کریں:
* ۱۔ *اَلسَّیَّارَۃَ
رَکِبْتُهَا* * ۲۔ *هَلَّا
وَاجِبًا لِّوَطَنِکَ اَدَّیْتَهُ* * ۳۔ *اَلشِّعْرُ
مَا اَحْلَاہُ* * ۴۔ *جَلِیْسُکَ
اَنْصِفْهُ* * ۵۔ *اَلشَّرِیْرَ
اِجْتَنِبْهُ* * ۶۔ *حَیْثُمَا
الْمَالُ نِلْتَهُ فَدَعِ الْبُخْلَ* * ۷۔ *وَطَنُکَ
اَلَا تَرْفَعُهُ*
۴۔
کیا مشغول عنہ کو رفع اور نصب دونوں جائز ہیں؟









0 comments:
Post a Comment
Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You