Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

8/30/25

فرقہ واریت کا خاتمہ | ایک تجویز | اتحاد امت | National Cause | The National Duty

فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے ایک تجویز اہل علم کی رائے مطلوب ہے۔۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر فرقے میں ہر انسان عالم نہیں ہے اور نہ ہی اپنے فرقے کے تقاضوں کو جانتا اور سمجھتا ہے یہ عوام کہلاتے ہیں اس طبقے کو سب سے پہلے مرحلے میں رکھا جائے اور ٹارگٹ کیا جائے۔

 ہر فرقے کے اہل علم تمام اس قدر شدت پسند اور متعصب نہیں ہیں کہ کسی دوسرے کو اپنے پاس بھی نہ آنے دیں اس طبقے کو دوسرے مرحلے میں رکھا جائے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر فرقے میں شدت پسند طبقہ موجود ہے جو کہ اس جماعت کی بقاء کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے اور اس طبقہ کو آسانی سے نہ سمجھایا جا سکتا ہے اور نہ ان سے علمی مکالمہ کر کے بقائے باہمی کی راہ ہموار کی جا سکتی ہے لہذا اس طبقے کو تیسرے اور حتمی مرحلے میں رکھا جائے۔( ممکن ہے کہ ایسا طبقہ اپنی باری آتے آتے خود ہی صفحہ ہستی سے ناپید ہو جائے۔)

یاد رہے یہ کام ایک انسان کا کرنے والا نہیں ہے ۔۔۔ ہر انسان کو اس میں کردار ادا کرنا ہے ۔۔۔

 وہ چند باشعور اور دوراندیش علما جو دین کا درد رکھتے ہیں اور اسلام کی بقاء کو اپنا مطمع نظر رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو میدانِ عمل میں آنا ہو گا اور یہ لوگ تمام مکاتبِ فکر سے اخلاص کے ساتھ میدان میں اتریں گے۔۔۔۔ میں نے علما کا لفظ اس لیے استعمال کیا ہے کیوں کہ فالونگ اور پیروی زیادہ سکالرز کی بجائے علما کی جاتی ہے اس لیے علما کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔

 کرنے کے کام یہ علما عوام الناس کو اس بات پر اکسائیں گے اور عمل پر مجبور کریں گے کہ ۔۔ آپ لوگ اپنی نماز، روزہ ،حج ،زکوۃ اور زندگی کے معمولات میں اخلاقیات کے مطابق اپنی زندگی گزاریں اور کسی بھی فرقہ ورانہ اور مذہبی انتشار میں اپنے جذبات کو ضائع مت کریں۔ جب بھی کوئی آپ کو دوسرے فرقے سے متعلق گفتگو کرے آپ اس کو جواب دیں کہ یہ اہل علم کا کام ہے وہ جانیں ہمیں صرف اپنی نماز ،روزہ ،حج ،زکوۃ اور اخلاقیات کو درست کرنا ہے۔

جب یہ عوام الناس والا طبقہ اس انداز میں اپنے اہل علم یعنی دوسرے طبقے اور تیسرے طبقے کا ساتھ چھوڑ دے گا تو صورتحال واضح ہو جائے گی اس طرح کہ دوسرے طبقے والے اپنی بقا کی فکر کریں گے اور تیسرے طبقے والے بپھر جائیں گے اور ان لوگوں کی مخالفت شروع کر دیں گے جواس کار خیر کو انجام دینےکے لیے میدان عمل میں کمر بستہ ہوں گے ۔ یاد رہے کہ جب عوام الناس والا طبقہ الگ ہو جائے گا تو ان کی مخالفت اتنا کارآمد نہیں رہے گی۔ اس پریکٹس سے آہستہ آہستہ فرقہ واریت کا بھوت ہمیشہ کے لے روپوش ہو جائے گا۔

ممکنہ فوائد

 1. *عوامی بیداری:* عوام کو یہ باور کروایا جائے کہ فرقہ وارانہ بحث و تکرار ان کا کام نہیں بلکہ ان کی اصل ذمہ داری دین کے بنیادی اعمال اور اخلاقیات ہیں۔

 2. *شدت پسند طبقے کی کمزوری:*     جب عوام ان کا ساتھ چھوڑ دیں گے تو شدت پسند گروہوں کی قوت اور اثر و رسوخ ٹوٹ جائے گا۔

 3. *اہلِ علم میں مکالمہ:*      مختلف مسالک کے معتدل علما ایک دوسرے سے مکالمہ کریں گے، تو عوام میں بھی برداشت اور رواداری بڑھے گی۔

 4. *تدریجی حل:*   یہ فوری طور پر ممکن نہیں لیکن رفتہ رفتہ فرقہ واریت کے اثرات کم ہوں گے۔

 5. *اسلامی اتحاد:*   اس حکمتِ عملی سے امتِ مسلمہ کے اندر اتحاد اور اخوت کو فروغ مل سکتا ہے۔

ممکنہ نقصانات

 1. *شدت پسندوں کا ردعمل:*       شدت پسند طبقہ عوام کو ڈرانے دھمکانے یا مشتعل کرنے کی کوشش کرے گا۔

 2. *عوام کی کمزور بصیرت:* ہر فرد عوامی سطح پر اتنا باشعور نہیں کہ فرقہ وارانہ بحث سے کنارہ کشی اختیار کرے۔

 3. *سیاسی مفادات:* بعض اوقات فرقہ واریت کو سیاست اور اقتدار کی بقا کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، لہٰذا سیاسی رکاوٹیں سامنے آ سکتی ہیں۔

 4. *معتدل علما کی بے اعتمادی:*       اگر ایک طبقہ دوسرے پر اعتماد نہ کرے تو عملی اتحاد مشکل ہو جائے گا۔

 5. *سست روی:*           اس عمل کے نتائج بہت دیر سے ظاہر ہوں گے، جس سے ناامیدی پیدا ہو سکتی ہے۔

متحرک علما کو درپیش مشکلات

 1. *جان و مال کا خطرہ:*       شدت پسند گروہ علما کو دشمن قرار دے کر ان پر حملے کر سکتے ہیں۔

 2. *کردار کشی:*            علما پر کفر، گمراہی یا سازش کے الزامات لگائے جا سکتے ہیں۔

 3. *عوامی دباؤ:*            عوام کا ایک طبقہ بھی فرقہ پرست علما کے زیرِ اثر رہ کر معتدل علما کی بات کو قبول نہ کرے گا۔

 4. *وسائل کی کمی:* مکالمے اور بیداری کے لیے ابلاغی، علمی اور تنظیمی وسائل کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہوگی۔

 5. *سیاسی مزاحمت:* حکومت یا سیاسی جماعتیں اگر فرقہ واریت کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہوں، تو اصلاحی علما کو سخت مزاحمت کا سامنا ہوگا۔

 6. *فرقہ وارانہ میڈیا:*      مخصوص میڈیا پلیٹ فارمز شدت پسندی کو بڑھاوا دیتے ہیں، جو علما کے امن و مکالمے والے پیغام کو دبانے کی کوشش کریں گے

یہ حکمتِ عملی اگر تدبّر، صبر اور تسلسل کے ساتھ اپنائی جائے تو فرقہ واریت کے خاتمے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ لیکن اس کے لیے معتدل علما کو صرف علمی نہیں بلکہ عملی میدان میں بھی اتحاد اور قربانی دینی ہوگی۔


Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive