Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

8/22/25

عربی گرامر | تسہیل النحو | افعال قلوب و تصییر | Arabic Grammar | afaal Quloob o tasyeer

افعال قلوب

وہ افعال ہیں ، جو مبتدا اور خبر پر داخل ہوکر ان کو بوجہ مفعولیت نصب دیتے ہیں، ان کی دو قسمیں ہیں

۱۔افعال قلوب   ۲۔ افعال تصییر

افعال قلوب:

قلوب قلب کی جمع ہے قلب کامعنی دل ہے۔ چونکہ ان افعال کا تعلق دل سے ہوتا ہے ، ہاتھ پاوں اور دیگر اعضاء ظاہری کو ان کے واقع کرنے میں کوئی دخل نہیں ہوتا اس لیے انہیں افعال قلوب کہتے ہیں۔ نیز چونکہ ان میں شک اور یقین کے معانی پائے جاتے ہیں اس لیے ان کو افعال شک و یقین بھی کہتے ہیں اور یہ سات ہیں:

۱۔ عَلِمَ ۲۔ رَاٰی ۳۔ وَجَدَ

ان تین افعال کو افعال یقین کہتے ہیں ، جیسے رَایتُ الصلحَ خَیراً (میں نے صلح کو اچھا یقین کیا۔

۴۔ حَسبَ ۵۔ظَن ۶۔ خَالَ

ان کو افعال شک کہتے ہیں جیسے ظننتُ الماءَ بارداً (میں نے پانی کو ٹھنڈا گمان کیا)

۷۔ زَعَمَ یہ کبھی شک کے لیے آتا ہے جیسے زعمتُ الشیطانَ شکوراً ( میں نے شیطان کو شکر کرنے والا گمان کیا) اور کبھی یقین کے لیے آتا ہے جیسے زعمتُ اللہَ غفوراً ( میں نے اللہ کو بخشنے والا یقین کیا)

عمل کی تفصیل

یہ مبتدااور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور دونوں کو بوجہ مفعول بہ نصب دیتے ہیں جیسے علمتُ الجوَّ معتدلاً ، ظننتُ الشجرَ مُثمراً ان مثالوں میں الجوَّ معتدلاً اور الشجرَ مثمراً مفعول بہ ہونے کے اعتبار سے منصوب ہیں۔

ان کے عمل کی تین صورتیں ہیں :

۱۔ اعمال: اس کا معنی یہ ہے کہ مذکورہ افعال جملہ اسمیہ پر داخل ہو کر اس کے دونوں جزوں کو نصب دیں بشرطیکہ کوئی مانع موجود نہ ہو، جیسے علمتُ اللہَ غفوراً

۲۔ تعلیق: (معلق کرنا) اس کا معنی یہ ہے کہ یہ افعال جملہ اسمیہ پر داخل تو ہوتے ہیں مگر مانع کی موجودگی میں اس جملہ میں لفظا عمل نہیں کرتے البتہ وہ جملہ محلاً منصوب ہوتا ہے، اور اس کی درج ذیل صورتیں ہیں:

جب مبتدا اور خبر سے پہلے حرف نفی ،ما ، لا ،اِن نافیہ، لام ابتدائئیہ اور کلمات استفہام میں سے کوئی آ جائے، جیسے لقد عَلمتَ مَا ھؤلاء یَنطقونَ، ظَنَنتُ لَزَیدٌ قَائمٌ وغیرہ، ان مثالوں میں مَاھؤلَاء یَنطقونَ اور لَزَید قَائم محلا منصوب ہیں۔

۳۔ الغاء: (باطل کرنا) اس کا معنی یہ ہے کہ افعال قلوب مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں مگر دونوں میں نہ تو لفظا عمل کرتے ہیں اور نہ معناً اس کی درج ذیل صورتیں ہیں :

(۱) جب یہ افعال مبتدا اور خبر کے درمیان آ جائیں جیسے زیدٌ علمتُ فاضلٌ

(۲)  جب مبتدا اور خبر کے بعد آ جائیں، جیسے الجوُّ معتدلٌ علمتُ

ضروری وضاحت

        افعال قلوب کے دو مفعولوں میں سے جب ایک کا ذکر کیا جائے تو دوسرے کا ذکر کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ دونوں مفعول بہ کے قائم مقام ہوتے ہیں۔ مگر جب ظنَّ بمعنی اتَّھمَ (اس نے تہمت لگائی) علم بمعنی عَرَفَ اور وَجَدَ بمعنی اَصَابَ (اس نے پایا) اور رَای بمعنی اَبصَرَ کے ہوں تو مفعول کو نصب دیتے ہیں اور اس وقت یہ افعال قلوب نہیں ہوتے۔ جیسےوَجَدتُ الضَالَّۃَ ( میں نے گم شدہ چیز کو پا لیا) عَلمتُ زَیداً (میں نے زید کو پہچان لیا) رَایتُ جَبَلاً (میں نے پہاڑ کو دیکھ لیا)۔

افعال تصییر

وہ افعال ہیں جو کسی چیز کو اس کی اصلی حالت سے پھیرنے کے لیے آتے ہیں یہ بھی مبتدا اور خبر پر داخل ہوتے ہیں اور ان کو بوجہ مفعلویت نصب دیتے ہیں، یہ درج ذیل ہیں:

صیّر ، اتخذم جعل ، خلق ، ترک جیسے جَعَلَ اللهُ الْأَرْضَ فِرَاشًا ، انہیں افعال تحویل بھی کہتے ہیں ، ان افعال میں تعلیق جائز نہیں ہے۔

 مزید مثالیں ١. وَاتَّخَذَ اللهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا ٢. صَيَّرْتُ الطِّينَ خَزَفًا ٣. تَرَكْتُ الرَّجُلَ حَيْرَانَ ٤. خَلَقَ اللهُ الْأَرْضَ وَاسِعَةً

 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive