کالی کملی میں اس امت کو چھپایا کرنا
ان کی عادت ہے کہ عاصی کو نبھایا کرنا
میں برا ہوں تو کرم سے مجھے اچھا کرنا
مجھ پہ بھی چشم کرم اے میرے آقا کرنا
حق تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا
میں سوالی ہوں میرے حق میں اشارہ دینا
میں بھنور میں ہوں میرے شاہ کنارہ دینا
میں ہوں بے چین مجھے چین خدارا دینا
میں ہوں بے کس تیرا شیوہ ہے سہارا دینا
میں ہوں بیمار تیرا کام ہے اچھا کرنا
سارے عالم کو ملا فیض جو تیرے گھر سے
یہ ہے وہ ابر کرم سب پہ برابر برسے
کیوں گدا تیرا کسی چیز کی خاطر ترسے
تو کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے
کہ تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا
میں نہیں کہتا مجھے کم یا زیادہ دے دے
جتنا اچھا لگے تجھ کو مجھے اتنا دے دے
اے کریم آل کا تیری مجھے صدقہ دے دے
میں کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے
کہ تیرے بس میں قطرے کو بھی دریا کرنا
جن رحمت ہے کثیر ان کی نظر پڑ ہی گئی
جن کے در کا ہوں فقیر ان کی نظر پڑ ہی گئی
کیوں مدثر ہو حقیر ان کی نظر پڑ ہی گئی
مجھ پہ محشر میں نصیر ان کی نظر پڑ ہی گئی
کہنے والے اسے کہتے ہیں خدا کا کرنا
0 comments:
Post a Comment
Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You