Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

11/7/26

حدیث کے بغیر قرآن کی تفسیر فتنے کا موجب ہے | اتحادِ امت میں حدیثِ نبوی ﷺ کا کردار | Proff Dr Muhammad Shahbaz Manj

حدیث کے بغیر قرآن کی تفسیر فتنے کا موجب ہے

قرآن کی ایسی تفسیر جو محض لغت اور زبان کی روشنی میں کی جائے، اور اس کے لیے حدیثِ نبوی سے رہنمائی نہ لی جائے، فتنے و فساد کا موجب بنتی ہے۔ حدیث کو چھوڑ کر قرآن کی تفسیر بچوں کا کھیل بن جاتی ہے، اور ہر شخص قرآنی الفاظ سے اپنے مطلب کے معانی و مفاہیم نکال سکتا ہے۔ مشہور نو مسلم صاحبِ علم علامہ محمد اسد (1900ء - 1992ء) کے مطابق عصرِ حاضر کے مغرب پسند، حدیث کا انکار اسی لیے کرتے ہیں کہ اس طرح قرآن سے اپنے من پسند معنی نکالنا اور قرآنی آیات کے مطالب کو توڑ مروڑ کر مغربی افکار و خیالات کے مطابق ڈھالنا آسان ہو جاتا ہے:

"many among the present generation of Muslims are ready to adore everything that is Western ...it becomes easier to twist the teachings of the Qur'ān in such a way that they might appear to suit the spirit of Western civilization."

علامہ اسد نے بالکل صحیح کہا ہے۔ منکرینِ حدیث کی تفاسیر دیکھیں تو نہایت غلط اور عجیب و غریب تاویلات ملتی ہیں اور دینِ اسلام کا چہرہ مکمل طور پر مسخ نظر آتا ہے۔

حدیث اتحادِ امت کا ذریعہ ہے

حدیث سے دوری کی بنا پر قرآن کی تفسیر بازیچۂ اطفال بن جاتی ہے اور امت میں اختلاف و انتشار کا دروازہ کھل جاتا ہے۔ لیکن اگر حدیث کو رہنما بنایا جائے تو امت میں تفرقہ و افتراق کے خاتمے اور باہمی اتحاد و یگانگت میں مدد ملتی ہے۔ حضور ﷺ کے وصال کے بعد جب خلافت کا جھگڑا پیدا ہوا: تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حضور کی حدیث پیش فرمائی کہ: الْاَئِمَّةُ مِنْ قُرَيْشٍ "خلفاء قریش میں سے ہوں گے۔" تو سب لوگوں نے گردن تسلیم خم کر دی اور جھگڑا ختم ہو گیا۔ ایسے ہی اور بھی کئی مواقع پر حضور ﷺ کی احادیث نے مسلمانوں میں باہمی نزاع کو ختم کرایا۔ آج بھی حدیث ہی ہے، جس کی بنا پر جمہورِ امت دین کی بنیادی باتوں میں عام طور پر متفق ہے۔   یہاں یہ سوال ذہن میں آ سکتا ہے کہ حدیث اتحاد و اتفاق کا ذریعہ ہے تو اس کے قائلین میں انتشار و تشتت کیوں ہے؟ اس حوالے سے یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ ایک تو محض اختلاف کوانتشار و تفرقہ نہیں سمجھنا چاہیے، اختلاف اگر علمی ہو اور صحت مند اندازِ اختلاف سے سامنے آئے تو برا نہیں، بلکہ مطلوب و محمود ہے، اس نوع کے اختلاف کو رحمت قرار دیا گیا ہے، دوسرے یہ کہ وہ اختلاف جو تفرقے کا سبب بنتا ہے، اس کے پس منظر میں زیادہ تر متعلقہ لوگوں کی شخصی کمزوریاں اور دنیوی مفادات وغیرہ کارفرما ہوتے ہیں، اس کو حدیث کے سر جڑ دینا کسی طرح معقول رویہ نہیں۔ اگر گروہی و سفلی مفادات و تعصبات سے اوپر اٹھ کر اور خالص علمی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو مسلمانوں میں اختلاف جو کچھ بھی ہے وہ بنیادی طور پر اور بالعموم علمی و فروعی ہی ہے، اور اسی نوعیت کا اختلاف ہے، جو دراصل مضرت رساں نہیں۔ لیکن بد قسمتی سے نادان اور کم فہم لوگ شدت اختیار کر کے فرقہ بازی پر اتر آتے ہیں، اور یہی وہ نادانی پر مبنی فرقہ بازی ہے، جس کے مظاہر ہم مسلمانوں میں عام مشاہدہ کرتے ہیں، اور ہر درد مند مسلمان جس سے نجات کی تمنا رکھتا ہے۔ ( ماخوذ از: انوار مصطفوی شرح اربعین نووی از پروفیسر ڈاکٹر محمد شہباز منج)

 

حدیث کے بغیر قرآن کی تفسیر، قرآن و حدیث کا تعلق، حدیث کی اہمیت، تفسیر قرآن میں حدیث کا کردار، منکرین حدیث، اتحاد امت، سنت نبوی کی اہمیت، قرآن کی صحیح تفسیر، حدیث اور قرآن، اسلامی تعلیمات، Hadees Ki Ahmiyat, Quran Aur Hadees, Tafseer Quran, Ittihad e Ummat, Muhammad Sohail Arif Moeeni

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

تین روزہ آن لائن تربیتی ورکشاپ

تین روزہ آن لائن تربیتی ورکشاپ
تحریری و تحقیقی کام میں مصنوعی ذہانت کا موثر استعمال

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive