اصل خسارہ کیا ہے؟ کہیں
ہمارے نیک اعمال بھی تو ضائع نہیں ہو رہے!
وَ
الْعَصْرِ۔اِنَّ الْاِنْسَانَ لَفِیْ خُسْرٍ۔اِلَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ
عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ﳔ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ۔ (سورۃ العصر)
ترجمہ: زمانے کی قسم۔ بیشک
آدمی ضرور خسارے میں ہے۔ مگر جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے کام کئے اور ایک
دوسرے کو حق کی تاکید کی اور ایک دوسرے کو صبر کی وصیت کی۔
امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃاللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر
لوگ اس ایک سُورت (یعنی سورہ عَصْر) میں غور و فکر کریں تو انہیں یہی کافی ہے۔ آپ ہی کا ایک
اور فرمان ہے کہ اگر اللہ پاک سورہ عَصْر کے عِلاوہ اور کوئی بھی دلیل نازِل نہ فرماتا ، تب بھی یہی
نصیحت (دُنیا و آخرت کے لئے) کافِی ہو جاتی۔
اللہ تعالی نے زمانے کی
قسم کھائی ہے: زمانے سے متعلق ارشاد فرمایا قَالَ
رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَسُبُّوا الدَّهْرَ فَاِنَّ
اللهَ هُوَ الدَّهْرُ سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”زمانے کو گالی نہ دو کیونکہ اللہ ہی
زمانہ (یعنی زمانے کا خالق) ہے۔(مسند
الشهاب: 920)زمانے
کو بر ابھلا نہیں کہنا چاہیے۔ انسان اور اس نے اپنے آپ کو بدلا ہے زمانہ ویسے کا
ویسا ہی ہے جب سے معرض وجود میں آیا ہے۔ انسان نے اپنی عادات کو بدلا ہے معاشرہ
خراب نہیں انسان خود خراب ہوا ہے ۔ انسان سارے کا سارا خسارے میں ہے سوائے چار صفات کے ۔ ایمان ، اعمال صالحہ ، حق کی
تلقین اور صبر کی تلقین۔
ایمان کے بغیر کوئی عمل اللہ کی بارگاہ میں قابل قبول نہیں ہے
۔ اعمال صالحہ کے بغیر صرف ایمان کافی نہیں ہے کیوں کہ جماعت صحابہ کا ایمان سب سے
مضبوط ترین ہے لیکن ایمان کے باوجود صحابہ کا نماز روزہ حج زکوۃ اور دیگر نیک اعمال کی پابندی کرنا اس کا
واضح ثبوت ہے کہ ایمان کے ساتھ اعمال صالحہ ضروری ہیں۔ حق کی تلقین اور صبر کی
تلقین دو مختلف جہات اور پہلووں کی طرف اشارہ ہے ایک حق ہے یعنی طاقت اور استطاعت
جب ہوتی ہے تو انسان راہ راست پر رہے اور حق پر قائم رہے اس لیے تلقین کرتے رہیں
اور صبر سے مراد وہ حالات کہ جب پریشانیاں ہوں تکلیفیں ہوں اور مصیبتیں آن پڑی
ہوں تو صبر کی تلقین خسارے سے نکلنے کے لیے ضروری ہے ورنہ انسان طاقت ہو تو بے راہ
روی کا شکار ہو سکتا ہے اور تکلیف اور پریشانی کی حالت میں بے صبری اور مایوسی کا
شکار ہو سکتا ہے اس لیے خسارے سے نکلنے کے لیے حق کی تلقین اور سبر کی تلقین کرتے
رہنا خسارے سے محفوظ رہنے کے لیے ضروری ہے۔
خسارے کا تعلق دو پہلووں
سے ہے :
۱۔ ایک
کفر اور دوسرا اہل ایمان کے ساتھ ہے۔ یعنی کفر کو خسارہ قرار دیا ہے۔ ارشاد باری
تعالی ہے:
وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا
بِاٰیٰتِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ
الزمر: 63)
اور جنہوں نے اللہ کی آیتوں
کا انکار کیا وہی نقصان میں ہیں۔
وَ مَنْ یَّبْتَغِ غَیْرَ
الْاِسْلَامِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْهُ-وَ هُوَ فِی الْاٰخِرَةِ مِنَ
الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ ال عمران: 85)
اور جو کوئی اسلام کے
علاوہ کوئی اوردین چاہے گا تو وہ اس سے ہرگز قبول نہ کیا جائے گا اور وہ آخرت میں
نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا۔
ان آیات میں یہ واضح
پیغام ہے کہ جنہوں نے اللہ تعالی کی آیات کا انکار کیا اور کفر کیا ، اسلام کے
علاوہ کسی دوسرے مذہب کو پسند کیا تو وہ دائمی خسارے میں ہے ۔
۲۔ دوسرے پہلو میں خسارے کا تعلق اہل ایمان کے
ساتھ بیان کیا ہے۔
اللہ تعالی کی رحمت اور
مغفرت سے محرومی خسارہ ہے۔
قَالُوْا لَىٕنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا
رَبُّنَا وَ یَغْفِرْ لَنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ
(سورۃ الاعراف: 149)
انہوں نے کہا اگر ہمارا
رب ہم پر رحم نہ کرے اور اور مغفرت نہ کرے تو ہم خسارہ والوں میں سے ہو جائیں۔
قَالَا رَبَّنَا ظَلَمْنَآ اَنْفُسَنَاٚ-
وَ اِنْ لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَ تَرْحَمْنَا لَنَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ
الاعراف:23)
دونوں نے عرض کی اے رب
ہمارے ہم نے اپنا آپ بُرا کیا تو اگر تُو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو ہم
ضرور نقصان والوں میں ہوئے۔
فَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ
عَلَیْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ
البقرۃ:64)
اگر تم پر اللہ کا فضل
اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جاتے۔
وَ اِلَّا تَغْفِرْ لِیْ وَ
تَرْحَمْنِیْٓ اَكُنْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ (سورۃ
ھود:47)
اور اگر تو میری مغفرت نہ
فرمائے اور مجھ پر رحم نہ فرمائے تو میں نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوجاؤں گا۔
ان درج بالا آیات میں واضح پیغام ہے کہ اللہ تعالی کی رحمت
اور مغفرت سے محرومی خسارہ کی علامت ہے یعنی جو بندہ اللہ کی رحمت اور مغفرت سے
محروم ہو گیا وہ خسارے میں ہو گا۔ اب دیکھتے ہیں کہ اللہ کی رحمت اور مغفرت سے
محروم کون لوگ ہوتے ہیں۔
رحمت سے محرومی
جَرِيرَ بْنَ عَبْدِ اللهِ ،
عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" مَنْ لَا يَرْحَمُ
لَا يُرْحَمُ"(صحیح بخاری:6013)
نبی کریم صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا ”جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ لَا يَرْحَمْ النَّاسَ، لَا يَرْحَمْهُ اللهُ عَزَّ
وَجَلَّ (صحیح مسلم: 6030)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ
وسلم نے فرمایا:”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتا اللہ عزوجل اس پر رحم نہیں کرتا
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ
عَمْرٍو،" يَبْلُغُ بِهِ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
الرَّاحِمُونَ يَرْحَمُهُمُ الرَّحْمَنُ، ارْحَمُوا اَهْلَ الْاَرْضِ يَرْحَمْكُمْ
مَنْ فِي السَّمَاءِ (سنن بی داود:4941)
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ
عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرنے والوں پر
رحمن رحم فرماتا ہے، تم زمین والوں پر رحم کرو، تو آسمان والا تم پر رحم کرے گا
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ،
قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:
" لَا تُنْزَعُ الرَّحْمَةُ اِلَّا مِنْ شَقِيٍّ (جامع
ترمذی:1923)
ابوہریرہ رضی الله عنہ
کہتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”صرف بدبخت ہی
(کے دل) سے رحم ختم کیا جاتا ہے“۔
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ:
قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تُكْثِرُوا
الْكَلَامَ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ فَاِنَّ كَثْرَةَ الْكَلَامِ بِغَيْرِ ذِكْرِ اللهِ
قَسْوَةٌ لِلْقَلْبِ، وَاِنَّ اَبْعَدَ النَّاسِ مِنَ اللهِ الْقَلْبُ الْقَاسِي (جامع
ترمذی:2411)ترجمہ: عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے
ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام سے
پرہیز کرو اس لیے کہ ذکر الٰہی کے سوا کثرت کلام دل کو سخت بنا دیتا ہے اور لوگوں
میں اللہ سے سب سے زیادہ دور سخت دل والا ہو گا۔اللہ تعالی سے دوری سے مراد اس کی
شفقت اور رحمت سے دوری ہے۔ یعنی جو سخت دل ہو گا وہ اللہ تعالی کی رحمت سے محروم
ہو گا۔
مغفرت اور بخشش سے محرومی
قرآن مجید کی آیات جو
انسان کو مغفرت اور بخشش کی طرف راہنمائی کرتی ہیں اور انسان کو خبر دیتی ہیں کہ
کون اللہ تعالی کی طرف سے بخشش اور مغفرت سے محروم ہو سکتا ہے۔ ارشاد باری تعالی
ہے:
اِنْ تُبْدُوْا خَیْرًا اَوْ
تُخْفُوْهُ اَوْ تَعْفُوْا عَنْ سُوْٓءٍ فَاِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَفُوًّا قَدِیْرًا
(سورة النساء:149)
اگر تم کوئی بھلائی اعلانیہ
کرو یا چھپ کر یا کسی کی برائی سے درگزر کرو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا قدرت
والا ہے۔
وَ اِنْ تَعْفُوْا وَ
تَصْفَحُوْا وَ تَغْفِرُوْا فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورة
التغابن:14)
ان سے احتیاط رکھواور اگر
معاف کرو اور درگزرکرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْا-اَلَا
تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ (سورة
النور:22)
اور انہیں چاہیے کہ معاف
کردیں اور دَرگزرکریں ، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش
فرمادے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
ان آیات میں اللہ تعالی
نے واضح فرمایا کہ تم لوگوں کو معاف کرو اگر چاہتے ہو کہ اللہ تعالی تمہیں معاف
کرے ۔ یعنی اگر لوگوں کو معاف نہ کیا تو اللہ تعالی بھی تمہیں نہیں بخشے گا ۔
آج
ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرنا ہے اور اپنے اعمال اور کردار پر غور کرنا ہے کہ نماز
، روزہ ، حج اور صدقات و خیرات اور دیگر نیک اعمال کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا عمل نہ
کر رہے ہوں کہ جس سے ہمارے نیک اعمال ضائع ہو رہے ہوں۔ اصل خسارہ یہ نہیں کہ ہمارے
اعمال کم ہیں بلکہ اصل خسارہ یہ ہے کہ ہمارے نیک اعمال ضائع ہو رہے ہیں اور ہمیں
خبر ہی نہیں ۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مفلس کون ہے؟
عَنْ
اَبِي هُرَيْرَةَ، اَنّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:
" اَتَدْرُونَ مَا الْمُفْلِسُ؟ " قَالُوا: الْمُفْلِسُ فِينَا يَا
رَسُولَ اللهِ مَنْ لَا دِرْهَمَ لَهٗ وَلَا مَتَاعَ، قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ
عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الْمُفْلِسُ مِنْ اُمَّتِي مَنْ يَأْتِي يَوْمَ
الْقِيَامَةِ بِصَلَاتِهٖ وَصِيَامِهٖ وَزَكَاتِهٖ، وَيَأْتِي قَدْ شَتَمَ هَذَا
وَقَذَفَ هَذَا وَاَكَلَ مَالَ هَذَا وَسَفَكَ دَمَ هَذَا وَضَرَبَ هَذَا،
فَيَقْعُدُ فَيَقْتَصُّ هَذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ وَهٰذَا مِنْ حَسَنَاتِهٖ، فَاِنْ
فَنِيَتْ حَسَنَاتُهٗ قَبْلَ اَنْ يُقْتَصَّ مَا عَلَيْهِ مِنَ الْخَطَايَا اُخِذَ
مِنْ خَطَايَاهُمْ فَطُرِحَ عَلَيْهِ ثُمَّ طُرِحَ فِي النَّارِ (جامع
ترمذی:2418)
ابوہریرہ
رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سوال کیا: ”کیا تم
لوگوں کو معلوم ہے کہ مفلس کسے کہتے ہیں؟“ صحابہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارے یہاں
مفلس اسے کہتے ہیں جس کے پاس درہم و دینار اور ضروری سامان زندگی نہ ہو، رسول اللہ
صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہماری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن
روزہ، نماز اور زکاۃ کے ساتھ اس حال میں آئے گا کہ اس نے کسی کو گالی دی ہو گی،
کسی پہ تہمت باندھی ہو گی، کسی کا مال کھایا ہو گا، کسی کا خون بہایا ہو گا، اور
کسی کو مارا ہو گا، پھر اسے سب کے سامنے بٹھایا جائے گا اور بدلے میں اس کی نیکیاں
مظلوموں کو دے دی جائیں گی، پھر اگر اس کے ظلموں کا بدلہ پورا ہونے سے پہلے اس کی
نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو مظلوموں کے گناہ لے کر اس پر رکھ دیے جائیں گے اور اسے
جہنم میں ڈال دیا جائے گا“ ۔
یعنی اعمال کرتے رہے نمازیں پڑھتے رہے ، روزہ رکھتے رہے، حج
کرتے رہے ، صدقہ و خیرات کرتے رہے ، نیک اعمال کرتے رہے لیکن اس بات کی فکر ہی
نہیں کی کہ وہ کام بھی کرتے رہے کہ جن سے اعمال ضائع ہوتے رہے اور فکر اور توجہ ہی
نہیں۔
چٹی چادر عملاں والی اینوں
داغ نہ لاویں جنیا
فیر حشر نوں ایہ نہ آکھیں
مولا ایہہ کی بنیا
آئیے قرآن بتاتا ہے کہ
سب سے بری خسارے والی بات کیا ہے سنیے گا کہ قرآن مجید کیا کہتا ہے:
قُلْ هَلْ نُنَبِّئُكُمْ
بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًا ۔ اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ
الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا (سورۃ
الکھف:103-104)ترجمہ: فرما دیجیے، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ
اعمال کے اعتبار سے سب سے زیادہ خسارے میں کون ہیں؟ وہ لوگ جن کی کوشش دنیا کی
زندگی میں ضائع ہوگئی، جبکہ وہ سمجھتے رہے کہ وہ اچھے کام کر رہے ہیں۔یعنی اپنی
طرف سے نیک اعمال کرتے رہے اور ان کو اچھا سمجھتے رہے لیکن جب ان اعمال کے حساب کی
باری آئی تو معلوم ہوا کہ سب خالی ۔ حضرت آئیں اپنے کردار کو دیکھیں اپنے اعمال
کا محاسبہ کریں دیکھیں کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سراسر خسارے میں ہیں اور سمجھ خود
کو فائدے میں رہے ہیں۔
اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے
کہ تم بھی سابقہ اقوام کی طرح کام کر رہے ہو وہ اپنے فائدے اٹھا گئے تم بھی وہی کر
رہے ہو اور پھر ان کے اعمال دنیا میں ضائع ہو گئے اور وہ خسارے اتھانے والے ہو گئے
۔ اگر تم بھی انہیں کی روش اختیار کرو گے تو تمہارے ساتھ بھی وہی ہو گا ارشاد فرمایا:
سابقہ اقوام کا انجام اور
ہماری خوش فہمی: سورۂ توبہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: كَالَّذِیْنَ
مِنْ قَبْلِكُمْ كَانُوْٓا اَشَدَّ مِنْكُمْ قُوَّةً وَّ اَكْثَرَ اَمْوَالًا وَّ اَوْلَادًا-فَاسْتَمْتَعُوْا
بِخَلَاقِهِمْ فَاسْتَمْتَعْتُمْ بِخَلَاقِكُمْ كَمَا اسْتَمْتَعَ الَّذِیْنَ مِنْ
قَبْلِكُمْ بِخَلَاقِهِمْ وَ خُضْتُمْ كَالَّذِیْ خَاضُوْا-اُولٰٓىٕكَ حَبِطَتْ اَعْمَالُهُمْ
فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَةِ-وَ اُولٰٓىٕكَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ (سورۃ
توبہ:69)ترجمہ:
تمہارا حال ان لوگوں جیسا ہے جو تم سے پہلے تھے۔ وہ تم سے زیادہ طاقتور اور مال و
اولاد میں زیادہ تھے۔ پھر انہوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا، سو تم نے بھی اپنے
حصے سے فائدہ اٹھایا، جیسے تم سے پہلے لوگوں نے اپنے حصے سے فائدہ اٹھایا تھا، اور
تم بھی اسی طرح کی باتوں میں پڑ گئے جس طرح وہ پڑے تھے۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال
دنیا اور آخرت میں ضائع ہوگئے، اور یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔
سابقہ اقوام کی ہلاکت کے
اسباب :
قوم عاد: فَاَمَّا
عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوْا فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ قَالُوْا مَنْ اَشَدُّ
مِنَّا قُوَّةً( سورة حم السجدة:16)
تو وہ جو عاد تھے انہوں
نے زمین میں ناحق تکبر کیا اور بولے ہم سے زیادہ کس کا زورہے یعنی ہم سے زیادہ کون
طاقت ور ہے؟۔
قوم لوط: وَ
لُوْطًا اِذْ قَالَ لِقَوْمِهٖٓ اَتَاْتُوْنَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُمْ بِهَا
مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیْنَ (سورة الاعراف:80)
اور لوط کو بھیجا جب اس
نے اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی۔
قوم شعیب:
قَدْ جَآءَتْكُمْ بَیِّنَةٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ فَاَوْفُوا الْكَیْلَ وَ الْمِیْزَانَ
وَ لَا تَبْخَسُوا النَّاسَ اَشْیَآءَهُمْ وَ لَا تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ
بَعْدَ اِصْلَاحِهَاؕ-ذٰلِكُمْ
خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ مُّؤْمِنِیْنَۚ (سورة
الاعراف:85)
بے شک تمہارے پاس تمہارے
رب کی طرف سے روشن دلیل آئی تو ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کی چیزیں گھٹا کر
نہ دو اور زمین میں انتظام کے بعد فساد نہ پھیلاؤ یہ تمہارا بھلا ہے اگر ایمان
لاؤ۔
قوم فرعون: فَاَرٰىهُ
الْاٰیَةَ الْكُبْرٰى ۔ فَكَذَّبَ وَعَصٰى ۔ثُمَّ اَدْبَرَ یَسْعٰى۔ فَحَشَرَ
فَنَادٰى۔ فَقَالَ اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰى(سورة
النازعات:20-24)
پھر موسیٰ نے اسے بہت بڑی
نشانی دکھائی۔ تو اس نے جھٹلایا اور نافرمانی کی۔ پھر اس نے (مقابلے کی) کوشش کرتے
ہوئے پیٹھ پھیر دی ۔ تو (لوگوں کو) جمع کیا پھر پکارا۔ پھر بولا: میں تمہارا سب سے
اعلیٰ رب ہوں۔
یعنی وہ وہ اعمال ہیں جن کی وجہ سے سابقہ قومیں
ہلاک ہوئیں اور ان کا کرادر اللہ تعالی بیان فرماتا ہے اور ساتھ تنبیہ فرماتا ہے
کہ تم خیال کرو کہیں تم بھی ان کی روش پر تو نہیں چل رہے اگر ایسا ہوا تو جس طرح
وہ خسارے میں رہے اسی طرح تم بھی خسارے میں رہو گے۔
اللہ پاک ہم سب ہدایت
نصیب فرمائے اور نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے آمین۔











