Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

2/12/20

تسلی اور اطمئنان کے چند الفاظ: A Word of Comfort


انگلستان میں سرجری کے ایک اعلی امتحان کے دوران سوال پوچھا گیا کہ صدمہ کی شدید کیفیت میں مریض کا سب سے پہلے علاج کیا کیا جائے؟ اس باب میں لوگوں نے مختلف جواب دیے اور فیل ہوئے اس کا جامع جواب تھا:
A Word of  Comfort
تسلی اور اطمینان کے چند الفاظ(۱)
ایسے امراض کے علاج میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ بہتر اور جامعہ اصول مرحمت فرمایا۔ حضرت ابی رمثہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: انه قال للنبي صلى الله عليه والہ و سلم اَرِنِي هذا الذي بِظَهرِكَ۔ فاني رجل طبيب۔ قال: الله طبيب بل انت رجل رفيق طبيبها الذي خلقها۔(مسند احمد )
ترجمہ: حضرت ابو رمثہ ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہﷺ نے عرض  کیا کہ جو آپ کی پشت پر ہے وہ مجھے دکھائیے میں طبیب ہوں تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تو نرمی کرنے والا ہے تسلی دینے والا ہے اس کا طبیب وہ(اللہ) ہے جس نے اسے پیدا کیا ہے۔
            اس روایت میں رسول اللہ ﷺ کے الفاظ ہیں کہ آپ نے فرمایا کہ آپ نرمی کرنے والے ہیں تسلی دینے والے میں مطلب یہ کہ بیماری کی حالت میں انسان مریض کو تسلی ہی دیتا ہے  اور انسان کا کام بھی یہی ہے کہ وہ دوسرے مریض بھائی کو تسلی دے اسے اطمئنان دے اور پیار اور انسیت کے الفاظ کہے  تا کہ اسے حوصلہ ہو۔
اس مضمون کی اور بھی احادیث ہیں جن میں معالج کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ مرض سے دلچسپی لینے کے بجائے مریض کو تسلی دے اطمینان دلائے تا کہ اس کے دل سے دہشت دور ہو حادثات ذہنی صدموں اور بیماریوں کے دوران مریض کو اطمینان دلانا زیادہ اہمیت کا باعث ہے ہر مسلمان کے لئے لازمی ہے کہ جب اس کا بھائی بیمار ہو تو اس کی عیادت کو جائے حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اذا دخلتم على المريض فنفسوا لہ في الاجل فان ذلك لا يرد شيئاً وهو یُطَيِّبُ نَفسَ المريضِ(ترمذی) ترجمہ:جب تم کسی مریض کے پاس جاؤ تو اس کی اجل کو مہلت دو یعنی اس کو امید دلاؤاور حوصلہ دو کیونکہ ایسا کرنے سے اس کو نفسیاتی حوصلہ ہوتا ہے۔
محدثین نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا اسلوب بیان کیا ہے کہ وہ سب سے پہلے مریض سے اس کے حالات پوچھتے علامات کا سنتے اور فرماتے کہ طہور ان شاء اللہ اگر اللہ نے چاہا تو شفا ہوگی اس کا نفسیاتی فائدہ یہ ہوتا کہ مریض کی تنہائی دور ہوتی اسے ذہن کے اندر چھپی ہوئی کیفیتیں اور تکالیف نکالنے کا موقع ملتا اور پھر اسے تسلی ہوتی۔آپس کا پیار محبت احساس ہمدردی اپنائیت آج کے اس مادی دور میں یہ ساری باتیں ختم ہو کر رہ گئی ہیں یہی وجہ ہے کہ انسان اتنی ترقی کے باوجود  رفتہ رفتہ تنہا سے تنہا تر ہوتا چلا جارہا ہےاور ڈپریشن، غصہ، ذہنی اور قلبی بے سکونی زیادہ سے زیادہ ہوتی چلی جارہی ہے۔انسان آج ان بیماریوں کا علاج اپنے ایجاد کی گئی مشینوں اور ٹیکنالوجی کی مدد سے ڈھونڈ رہا ہے اور مزید الجھتا جا رہا ہے ۔ ان بیماریوں کا حقیقی علاج وہی ہے جو اس کائنات کے خالق و مالک نے عطا کیا اور قدرت نے جو سکھایا ہے۔ اور اس کا علاج یہی ہے کہ انسان انسان کے ساتھ اپنے تعقات پر غور کرے  ،نظرِ ثانی کرے ، اپنے معاملات کی تجدید کرے ،اپنی اصل کی طرف لوٹ جائے ۔ انسان ایک معاشرتی حیوان ہے۔ یہ مل جل کر رہنے کا فطرتاً عادی ہے یہی فطرت اس کی ذہنی اور قلبی بیماریوں کا علاج ہے۔ لہذا لوگوں کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنائیں، لوگوں کے ساتھ وقت گزاریں ۔لوگوں کی تکالیف سنیں، لوگوں کے احوال سنیں ، درد جانیں، پریشانیاں سنیں اور پھر کوشش کریں جہاں تک ممکن ہو ان کوحل کریں روحانی اور جسمانی ذہنی اور قلبی سکون ملے گا۔ ان شاء اللہ
محمد سہیل عارف معینیؔ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱: نبی کرم ﷺ بطور ماہر نفسیات،مؤلفہ : سیدہ سعدیہ غزنوی، مکتبہ رحمانیہ لاہور اگست ۱۹۹۵، ص۱۷

Share:

2/11/20

کلام بیدم وارثی :اس سنگ آستاں پہ جبینِ نیاز ہے


اس سنگ آستاں پہ جبینِ نیاز ہے
 واللہ کیا نماز ہماری نماز ہے

 ہر آئینے کے پردے میں آئینہ ساز ہے
 ہر بندے کے لباس میں بندہ نواز ہے

 اے ہمنشیں وہ کوچہ عشق ہے مجاز ہے
 محمود جس گلی میں غلام ِایاز ہے

 وہ خاکِ آستاں ہے تیری خاکِ آستاں
  جس پر جبینِ شوق کے سجدوں کو ناز ہے

 کس کی طرف  کو دستِ تمنا دراز ہو
عالم میں کوئی آپ سا بندہ  نواز ہے

 زاہد کو اپنے زہد و عبادت پہ ہے غرور
 مجھ کو تیرے کرم تیری رحمت پہ ناز ہے

 پھر لائے کیا نظر میں سلاطین دہر کو
 بیدم گداے ٔ وارثِ عالم نواز ہے

Share:

کتب حدیث کی اقسام و انواع


کتب حدیث کی اقسام و انواع
الجامع:  جس کتاب میں اسلام سے متعلق ہر قسم کے مباحث موجود ہوں۔ خواہ  ا ن کا تعلق عقائد سے ہو یا  احکام سے، تاریخ سے ہو یا تفسیر سے، فتن سے ہو یا ملاحم سے، یا  بحث الفاظ سے یا ان کے علاوہ جو مباحث بھی احادیث میں ملتے ہیں جیسے امام بخاری کی الجامع الصحیح اور امام ترمذی کی الجامع۔
المسند:  ہر وہ کتاب جو ہر صحابی کی روایت موضوع اور عنوان کی طرف نظر کئے بغیر علیحدہ علیحدہ جمع کردی گئی ہوں۔ جیسے مسند احمد بن حنبل اور مسند ابی داود الطیاسی۔
السنن:  حدیث کی ایسی کتاب جس کو فقہی ترتیب کے مطابق مرتب کیا گیا ہو اس میں موقوف یا مقطوع روایات سے گریز کی کوشش کارفرماہو۔ جیسے سنن اربعہ،ابو داؤد نسائی سنن، بہقی۔
المعجم: وہ کتاب جس میں مؤلف اساتذہ کے ناموں کے حروف تہجی کی ترتیب سے احادیث جمع کرتا ہے جیسے امام طبرانی کی معجم کبیر،اوسط اور معجم صغیر۔
العلل:  وہ کتاب جس میں معلول احادیث جمع کردی گئی ہوں اور ان کے علل بھی بیان کر دی گئی ہوں۔ جیسے علل ابن ابی حاتم،  علل احمد بن حنبل و علل دار قطنی۔
المستدرک:  ہر وہ کتاب جس میں اس کا مولف وہ احادیث جمع کرتا ہے جو کسی دوسری کتاب کے مؤلف کی شرط پر پاتا ہے اور اس سے رہ گئی ہوتی ہیں جیسے مستدرک الحاکم ابوعبداللہ محمد۔
المستخرج:  ہر وہ کتاب جس میں مؤلف کسی کتاب کی احادیث کو اپنی سندوں کے ساتھ تخریج کرتا ہے اس کے مؤلف کی اسناد  سے قطع نظر اور بسا اوقات یہ اس کے شیخ یا اوپر کسی طبقہ میں اس سے مل جاتا ہے جیسے المستخرج علی الصحیحین لابی نعیم اصبہانی اور مستخرج  اسماعیلی علی البخاری۔
المصنف: ایسی کتاب جو فقہی ابواب کے مطابق مرتب کی گئی ہو۔ جس میں احادیث مرفوعہ، موقوفہ اور مقطوعہ کے ساتھ ساتھ تبع تابعین کے فتاوٰی بھی جمع کیے گئے ہوں جن سے کوئی محدث اور فقیہ بھی صرف نظر نہیں کر سکتا۔ جیسے مصنف عبد الرزاق و مصنف ابن ابی شیبہ۔
الاجزاء:  جزء وہ کتابچہ ہے جس میں ایک راوی یا کسی خاص حدیث یا کسی خاص مسئلہ سے متعلق احادیث جمع کر دی گئی ہوں۔ جیسے جزءالقرأۃ اور جزء رفع الیدین کلاھما للبخاری۔
الاطراف:ہر وہ کتاب جس میں حدیث کا ابتدائی ٹکڑا ذکر کیا جاتا ہے اس ٹکڑے سے پوری حدیث کی پہچان ہو جاتی ہے آخر میں اس کتاب کا حوالہ ہوتا ہے جس میں یہ حدیث ہوتی ہے۔
الاربعین:  اربعین سے مراد وہ کتاب ہے جس میں کسی ایک باب سے متعلق یا مختلف ابواب یا مختلف سندوں سے چالیس احادیث جمع کی گئی ہوں۔ جیسے اربعین نووی۔دوسری اربعین  کے مقابلہ میں اس کو تلقی بالقبول حاصل ہوا ہے۔

Share:

ضعیف حدیث کی اقسام #hadith #books #islam


حدیث مقبول کے بعد حدیثِ مردود کے دو اسباب ہوتے ہیں جس وجہ سے ہم کسی بھی حدیث کو رد کر سکتے ہیں یا انکار کر سکتے ہیں۔
۱:  راوی کا سند سے حذف ہونا
۲: راوی میں طعن ہونا
منقطع:         اگر ایک یا متعدد راوی متفرق مقام سے چھوٹ گئے ہو تو اس حدیث  کو منقطع کہتے ہیں۔
حکم: علماء کا اتفاق ہے کہ حدیث ضعیف ہوتی ہے۔مدلس: اس کی صورت یہ ہے کہ راوی اپنے شیخ  کا نام نہ لے بلکہ اس سے اوپر کا نام لے حالانکہ اس سے حدیث نہیں سنی مگر الفاظ ایسے استعمال کر رہا ہے کہ اوپر والے راوی سے سننے کا شبہ ہو رہا ہے۔
مثال:  قال لنا بن عییمہ عن الزھری فقبل لہ سمعتہ من الزھری فقال لا: و لا ممن سمعہ من الزھری حدثنی عبد الرزاق عن معمر عن الزھری۔
 معلوم ہوا کہ ابن عیینہ نے اس مثال میں اپنے اور زہری کے درمیان سے عبدالرزاق اور معمر  دو راویوں کو حذف کیا ہے۔
 تدلیس کا حکم:       جس کے متعلق ثابت ہوجائے کہ وہ تدلیس  کرتا ہے تو اس کی روایت قبول نہیں لیکن اس کا ثقہ ہونا یقینی طور پر معلوم ہو تو روایت مقبول ہوگی۔
 معلق:  اگر راوی شروع سند  سے چھوٹا ہے تو اس کو معلق کہیں گے۔ جیسے امام بخاری نے باب ما یذکرفی الفخذ کے آغاز میں ذکر کیا ہے۔وقال ابو موسى غطى النبي صلى الله عليه وسلم على ركبتيه حين دخل عثمان یہ معلق حدیث ہے کیونکہ امام بخاری نے صحابی ابو موسی کے علاوہ اس کی مکمل سند کو حذف کردیا۔
 معلق کاحکم:  جو محدثین ہمیشہ لازمی طور پر صحیح احادیث بیان کرتے ہیں اور وہ یقین کے ساتھ تعلیقات کو بیان کریں تو یہ تعلیق قبول ہے۔ اگر غیر یقینی صورت سے بیان کریں یا جو محدیثین صحیح اور غیر صحیح سب روایت کرتے ہیں تو انکی تعلیقات مقبول نہیں۔
مرسل:  جس حدیث  میں صحابی کا نام حذف ہو۔ جیسے کوئی تابعی فرمائے قال رسول اللہ ﷺ
مثال: عن  سعيد ابن المسيب عن رسول الله نهى عن بيع المزابنه مسلم کتاب البیوع
ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ سے منع فرمایا ہے۔
مرسل خفی:  وہ حدیث جس کا راوی اپنے ایسے ہمعصر سے روایت کرے جس سے اس کی ملاقات ثابت نہ ہو یا اس کی ملاقات تو ثابت ہے لیکن  جو حدیث بیان کر رہا ہے وہ اس سے نہیں سنی تاہم وہ ایسا لفظ بولتا ہے جس میں سماع اور عدم سماع کا احتمال ہو جیسے قال  اور ذکر  وغیرہ وغیرہ۔
مثال:  عمر بن عبد العزيز عن عقبه بن عامر مرفوعا بیان کرتا ہے۔ رحم الله حارس الحرس ابن ماجه كتاب الجهاد
ترجمہ: اللہ رحم فرمائے اسلام کے چوکیداروں کی پہرے داری کرنے والے پر۔
معضل:  جس کی سند میں دو یا دو سے زائد راوی ایک ہی  مقام سے چھوٹ گئے ہوں اس کو معضل کہتے ہیں۔
مثال: للمملوك طعامه و كسوته بالمعروف ولا يكلف من العمل الا ما يطيق معرفه علوم الحديث للحاكم ص ۴۶
ترجمہ: سیدنا ابوہریرہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا غلام کو معروف کے مطابق کھانا اور لباس دینا چاہئے اور اس سے اس کی طاقت  کے  مطابق کام لینا چاہیے۔ یہ حدیث معضل ہے کیونکہ اس کے سند میں امام مالک اور سیدنا ابوہریرہ کے درمیان مسلسل دو راوی  محمد بن عجلان  اور اس کا والد عجلان حذف ہیں اس میں مسلسل دو راویوں کا سقوط  ہمیں مؤطا  کے علاوہ دوسرے مصادر سے معلوم ہوا جو اس حدیث کی سند میں پے در پے  دو راوی ساقط  ہیں۔ صحیح سند اس طرح ہے: عن مالك عن محمد بن عجلان عن ابيه عن ابي هريره
حکم: معضل حدیث ضعیف ہے اور یہ حدیث مرسل اور حدیث منقطع سے خستہ  اور بری حالت میں ہے۔
کسی حدیث کے ناقابل عمل ہونے کا دوسرا سبب طعن  ہے اور طعن کئی طرح سے ہوتا ہے مثلا:
کذب:  یعنی جان بوجھ کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کوئی جھوٹی بات بیان کرے جس حدیث کا راوی قصداً جھوٹ بنا کر بیان کرے اس حدیث کو موضوع کہتے ہیں۔
 مثال: سر اج ا متى ابو حنيفه و على خير البشر و من شك فيہ کفر( تیسیر مصطلح الحدیث ص ۹۰)
 ترجمہ: ابوحنیفہ میری امت کے چراغ ہیں اور جو علی خیر البشر ہے اور اس کی خیرالبشر ہونے میں شک کرے وہ کافر ہے۔
حکم:  یہ حدیث ضعیف روایات میں سے سب سے بری اورقبیح  قسم ہے۔
متروک:  راوی ایسی روایت بیان کریں جو قواعد شریعہ کے خلاف ہو یا دنیوی باتوں میں اس کا جھوٹا ہونا ثابت ہوجائے جس حدیث کا راوی ایسا ہو تو اس کو متروک کہتے ہیں۔
مثال: عمرو بن شمر الجعفي الكوفي الشيعي عن جابر عن ابي الطفيل عن علي و عمار قالا كان النبي صلى الله عليه والہ و سلم یقنتُ في الفجر ويكبرُ يوم عرفه من صلاه الغداه ويقطع صلاه العصر اخر ايام التشريق۔ (تیسیر مصطلح الاحدیث عربی ص ۹۳،۹۴)
ترجمہ:علی اور عمار نے کہا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر میں قنوت پڑھتے تھے اور عرفہ کے دن صبح کی نماز سے تکبیر پڑھنا شروع کر دیتے اور ایام تشریق کے آخری دن عصر کی نماز پر ختم کر تے تھے۔
امام نسائی اور دار قطنی وغیرہ نے  عمرو بن شمر شیعی  کو متروک الحدیث کہا ہے۔
مرتبہ و مقام:  یہ بات لکھی جاچکی ہے کہ ضعیف  حدیث کی سب سے بری قسم  موضوع ہے اس کے بعد متروک ہے پھر منکر ہے پھر معلل ہے۔ پھر مدرج پھر مقلوب پھر مضطرب۔ حافظ ابن حجر نے یہی ترتیب بیان کی ہے۔
جہالت راوی:  راوی کا حال معلوم نہ ہو کہ وہ معتبر ہے یا غیر معتبر۔ اگر راوی  کا نام ہی معلوم نہیں تو اس کی حدیث قابل قبول نہیں اگر راوی  کا نام تو معلوم ہے مگر اس کا نام لے کر ایک ہی روایت کی گئی ہے تو وہ روایت بھی قابل اعتماد نہیں ہاں البتہ اگر کسی نقاد نے اس کو معتبر بتلایا  ہے تو قابل قبول ہوگی۔ اور اگر اس کا نام لے کر ایک سے زائد نے روایت کی ہے مگر کسی نے اس کی توثیق نہیں کی تو جمہور کے نزدیک جب تک اس کا ثقہ ہونا معلوم نہ ہو جائے تو اس کی حدیث مقبول نہ ہوگی۔
جہالت کے حسب ذیل تین اسباب ہیں:
1: راوی کی صفات کا زیادہ ہونا:
 نام کنیت لقب صفت پیشہ یا نسب ان سب میں سے کسی کے ساتھ مشہور ہونا۔مثلاً محمد بن سائب بن بشر الکلبی بعض نے دادا کی طرف منسوب کرتے ہوئے محمد بن بشر بعض نے  محمد بن سائب اور بعض نے ابوالنضر بعض نے ابوسعید اور بعض نے ابو ہشام کہہ دیا۔ یہ راوی بظاہر یوں معلوم ہوتا کہ ایک بڑی جماعت ہے حالانکہ اکیلا اور واحد ہے۔
2: قلت روایت راوی کی مثال:          ابو العشراء الدارمی،  تابعین میں سے ہے ان سے حماد بن سلمہ کے علاوہ کسی نے بیان نہیں کیا۔
3: نام کی عدم صراحت :   مثال راوی کا یوں کہنا مجھے خبر دی فلاں نےیا شیخ نے یا رجل وغیرہ نے۔
مجہول کی تعریف:
 وہ راوی جس کی ذات یا اس کی شخصیت اور وصف معلوم معروف نہ ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ راوی جس کی ذات اور شخصیت  معلوم ہو لیکن عدالت اور ضبط میں سے کوئی وصف بھی معلوم نہ ہو۔
مجہول کی اقسام : مجہول کی تین اقسام ہیں؛
مجہول العین: وہ راوی جس کا نام ذکر کیا جائے لیکن اس سے روایت کرنے والا صرف ایک راوی ہو ۔
حکم:   اس کی روایت غیر مقبول ہے ہاں اگر اس کی توثیق و تعدیل کی جائے تو مقبول ہوگی۔
مجہول الحال:  اس کو مستور بھی کہا جاتا ہے وہ راوی جسے بیان کرنے والے دو یا زیادہ ہوں لیکن اس کی توثیق و تعدیل  بیان نہ ہو۔ روایت کا حکم مردود اور غیر مقبول ہے۔
مبہم :                 وہ راوی جس کا نام حدیث میں واضح اور صراحت سے بیان نہ ہو
حکم:     غیر مقبول ہے مگر ہاں جب اس کا شاگرد اس کے نام کے صراحت  کردے تو مقبول ہوگی اگر شاگرد تعدیل و توثیق کے الفاظ سے ابہام کرے راوی کو مبہم رکھے اور یوں کہے کہ مجھے فلاں ثقہ نے خبر دی یا مجھے فلاں عاد ل نے خبر دی  تو صحیح  اور درست قول کے مطابق اس کی روایت قبول نہیں  ہوگی۔
ثقہ:  ثقات کی مخالفت  کی کئی اقسام ہے اس کی دو بڑی اقسام ہیں۔
1:ادراج:   راوی متن حدیث میں کوئی چیز اس طرح بڑھادے کے اصل  حدیث اورا س کی  زائد عبارت میں کوئی امتیاز نہ رہے۔ جان بوجھ کر ایسا کرنا حرام ہے اور اس کو ادراج کہتے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ ؓ  سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا: اسبغوا الوضوء ويل للاعقاب اس حدیث میں اسبغوا  الوضوء مدرج کلمہ ہے جیسا کہ صحیح بخاری میں واضح اور ظاہر ہے محمد بن زیاد ابوہریرہ سے روایت بیان کرتا ہے  اسبغوا الوضوء فان ابا القاسم صلى الله عليه واله وسلم قال ويل للاعقاب سیدنا ابو ہریرہ ؓ نے فرمایا وضوء مکمل  اور پوری طرح کرو کیوں کے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ والہ و سلم نے فرمایا خشک ایڑیوں والوں کے لئے آگ سے ہلاکت اورویل ہے (ویل جہنم کی وادی کا نام ہے)۔
مدرج کا حکم:  محدثین اور فقہاء وغیرہ علماء کے اجماع کے مطابق ادراج حرام ہے۔ لیکن جو غریب اور مشکل الفاظ کی تشریح کے لئے ہو وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہے۔
اضطراب  : راوی سندھ میں یا متن میں اس طرح تبدیلی کردے  کہ کسی کو ترجیح نہ دی جاسکے۔ اس کو اضطراب  کہتے ہیں۔
مضطرب المتن  کی مثال:  عن فاطمه بنت قيس قالت في سوق الى رسول الله صلى الله عليه واله وسلم عن الزكاه فقال ان في المال لَحَقّاً سوی الزكاۃ۔  ترجمہ: سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا  سے روایت ہے کہ رسول  اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے زکوۃ کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا زکوۃ کے علاوہ بھی مال میں حق ہے۔ اور امام ابن ماجہ نے اس حدیث  کو اسی سند سے بیان کیا ہے مگر اس کے الفاظ یوں ہیں لیس فی المال حق سوی الزکوۃ  ترجمہ: زکوۃکے سوا مال میں کوئی حق نہیں۔ امام عراقی فرماتے ہیں یہ ایسا  اضطراب  ہے جس میں کسی تاویل کا احتمال نہیں۔
مضطرب سند کی مثال : سیدنا ابو بکر صدیق ؓ کی طرف منسوب حدیث : انه قال يا رسول الله اراك شبت قال شب شيبتني هود واخواتها (رواہ الترمذی فی التفسیر)
سیدنا ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ  فرماتے ہیں اللہ کے رسول میں دیکھتا ہوں کہ آپ بوڑھے ہو گئے ہیں آپ نے فرمایا مجھے سورہ ھود اور اس جیسی دوسری سورتوں وغیرہ جن میں قیامت کا نقشہ اور احوال ذکر ہیں نے مجھے بوڑھا کر دیا ہے۔

Share:

2/9/20

بے حجابانہ چلے آؤ مجھے ہوش نہیں

حیرت عشق نہیں شوق جنوں گوش نہیں
 بے حجابانہ چلے آؤ مجھے ہوش نہیں

رند جو مجھ کو سمجھتے ہیں انہیں ہوش نہیں
میکدہ ساز ہوں میں میکدہ فرموش نہیں

کہہ گئی کان میں آکر تیرے دامن کی ہوا
 صاحبِ ہوش وہی ہے کہ جسے ہوش نہیں

کبھی ان  مد بھری آنکھوں سے پیا تھا اک جام
 آج تک ہوش نہیں ہوش نہیں ہوش نہیں

 محو تسبیح تو سب ہیں مگر ادراک کہاں
زندگی خود ہی عبادت ہے مگر ہوش نہیں

مل کے جس دن سے گیا ہے کوئی اک بار جگر
مجھ کو یہ وہم ہے جیسے میرا آغوش نہیں


Share:

الف دے مکھڑے تے میم دا گھونگھٹ



الف  دے مکھڑے تے میم دا گھونگھٹ تینوں جانن والیاں جان لیا
پا نا  بھلیکھے  انا  بشری  دے تینوں عاشقاں نے خوب پہچان لیا

میم دے گھُنڈ وِچ الف نظارہ  لُکنا  نا  محبوبا
سچیاں گلاں کرن تو ں عاشقاں رکنا  نا  محبوبا
عرش تے سی اج فرش تے آئے تاہیوں بدل مکان لیا

لوکی کہندے عرش بریں تے بن مہمان  اج  آئے
کون مہمان تے کی مہمانی  کون بھلا سمجھائے
گھر والا گھر اپنے آیا  لوکاں سمجھ مہمان لیا

ویکھن دے وچ صورت بشری صفتاں ساریاں نور دیاں

نوری وی  آ  سجدے کر دے شاناں ویکھ حضور دیاں

رفیق اوہد ا ایمان نہیں کامل جس نے سمجھ انسان لیا

Share:

2/7/20

منقبت سیدنا صدیق اکبر : عدو کے ہر سوال میں صدیق سامنے کرو


عدو کے ہر سوال میں صدیق سامنے کرو
منافقوں کی چال میں صدیق سامنے کرو

شیطان ذہن میں کوئی جو ڈالتا ہے وسوسہ
خیال ہی خیال میں صدیق سامنے کرو

ابو جہل جو مانتا نہیں معراج کا سفر
تو ایسی صورتحال میں صدیق سامنے کرو

نبی کی سمت گر کوئی سانپ آرہا ہو تو
مسلمانوں ڈھال میں صدیق سامنے کرو

فرشتو جاؤ سب آج ٹاٹ پہن کر دکھاؤ
وفا کی ہر مثال میں صدیق سامنے کرو

حشر کا دن شدید تر تو راز ہم کو کیا ہے ڈر
خدا ہے گر جلال میں صدیق سامنے کرو

Share:

منقبت سیدنا صدیق اکبر : سرورِ کونین کا فرمان ہے



سرورِ کونین کا فرمان ہے
مجھ پہ یارِ غار کا احسان ہے

عرض کی صدیق نے پیشِ رسول
مال و زر کیا جان بھی قربان ہے

مل گیا تجھ کو لقب صدیق کا
کس قدر بو بکر تیری شان ہے

جانشینِ مصطفےﷺ صدیق ہے
کس قدر عظمت کی یہ برہان ہے

اے فریدی ان کی شانِ پاک میں
ثانی الثنین آیہ قرآن ہے


Share:

2/5/20

اللہ کا بندوں پر حق اور بندوں کا اللہ پر حق


   اللہ جل جلا لہ کا بندوں پر حق اور بندوں کا اللہ جل شانہ  پر حق:

                 عَن مُعَاذ بِن جَبَل  رضی اللہ تعالی عنہ قال کنتُ رَدِفِ النَّبی صلی اللہ علیہ و الہ وسلم عالی حِمَارِ فقال : یا معاذ ھل تَدرِی ما حقُّ اللہِ علی  عبادِہ و ما حقُّ العبادِ علی اللہِ ؟ قلتُ : اللہُ و رسولُہ اَعلَمُ  ، قال : فاِنَّ حقَّ اللہ علی العبادِ ان یَّعبُدُوہُ  و لا یُشرِکُوا بِہ شیئًا و حقَّ العبادِ علی اللہِ ان لا یُعذِّبَ  مَن لا یُشرِکُ باللہِ شیئًا (صحیح بخاری، 2856، الجھاد۔صحیح مسلم ۳۰ ، الایمان)
                    ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سواری پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے سوار تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے معاذ! تمہیں معلوم ہے کہ بندوں پر اللہ کا کیا حق ہے؟ اور اللہ پر بندوں کا کیا حق ہے؟  میں نے عرض کیا اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتا ہے۔تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ بندوں پر اللہ کا حق یہ ہے  کہ اسی کی عبادت کریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں پھر آپ ﷺ فرمایا کہ اللہ پر بندوں کا حق ہے کہ جب وہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں تو انہیں عذاب نہ  دے۔

Share:

کیا حال سناواں دل دا kia haal sunawan dil da | صوفیانہ شاعری کلام خواجہ غلام فرید کوٹ مٹھن


کیا حا سناواں دل دا
کوئی محرم راز نہیں ملدا
میں اپنے دل حال کیا سناؤں کوئی محرم راز ہی نہیں ملتا
منہ دُھوڑ مِٹی سر پایَم
سارا نَنگ نمود و نَجایَم
کوئی پچھن نہ ویہڑے آیم
ہتھوں الٹا عالم کھِلدا
منہ پر دھوڑ اور سر میں مٹی ہے عزت آبرو برباد ہے 
میرا حال پوچھنے کوئی نہیں آیا الٹا میرا مذاق بنایا
آیا بار برہُوں سر باری
لگی ہو ہو شہر خواری
روندی عمر گزاری ساری
نہ پایم ڈَس منزل دا
عشق کا بھار بھاری سر پہ ہے اور گلی گلی خوار گھوم رہا ہوں 
روتے روتے عمر گزر گئی مگر منزل کا پتہ نہیں چلا
دل یا ر کتے کر لاوے
تڑپاوے تے غم کھاوے
دکھ پاوے سول نبھاوے
ایہو طَور تینڈے بید ل دا
میرا یار دل جدائی میں روتا ہے اور غم میں پیچ و تاب کھاتا ہے
دکھ سہتا اور درد برداشت کرتا ہےتیرے عاشق کی یہی حالت ہے
پنوں ہُوت نہ کَھڑ مَکلایا
چَھڈ کَلہڑی کیچ سِدھایا
سوہنے جان پچھان رُلایا
کُوڑا عذر نِبھایم گِھل دا
پنوں مجھے ساتھ نہیں لے گیا اور اکیلی کو  چھوڑ  کر کیچ  چلا گیا 
 اس کی جان پہچان نے مجھے رلایا اور میں نے چھوٹی کچی نیند کا بہانا بنایا
سن لیلی دھانہہ پکارے
تینڈا مجنوں زار ن زارے
سوہنا یار توڑے ہک وارے
کدی چا پردا محمِل دا
اے میری لیلی میری پکار کو سن لے تیرا مجنوں غموں کا مارا ہے
 کبھی اپنے محمل کا پردہ اٹھا دو اور دیدار کرا دو
دل پریم نگر ڈُوں تانگھے
جِتھاں پیندے سخت اَڑانگھے
نہ یار فرید نہ لانگھے
ہے پندھ بہوں مشکِل دا
دل پریم نگر جانا چاہتا ہے  راستہ بہت کٹھن اور دشوار گزار ہے 
اور فرید نے وہ راستہ دیکھا بھی نہیں ہے اور راستہ  مشکل بھی بہت ہے

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive