Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

2/12/16

حیا کی انسانی زندگی میں اہمیت|| حیا ایمان ہے || الحیاء من الایمان || The importance of modesty in human life

الحیاء من الایمان

حضرت ابو مسعود عقبہ بن عمرو انصاریؓ بدری صحابی ہیں، روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا ”پچھلی نبوت کی باتوں میں سے جو باتیں لوگوں تک پہنچی ہیں، ان میں سے ایک یہ ہے کہ جب تم میں شرم ہی نہ رہے تو جو چاہو کرتے پھرو۔“ (رواہ البخاری)

     یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔ حیا سارے کا سارا ایمان ہے

حیاءانسان کا وہ فطری وصف ہے جو ہر انسان میں پیدائشی اور طبعی طور پر موجود ہوتا ہے جس سے اس کی کتنی ہی روحانی، اخلاقی اور معاشرتی بھلائیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور عفت و پاک دامنی اس کی وجہ سے باقی رہتی ہے، سخاوت و فیاضی کی صفت پیدا ہوتی ہے اور باہمی رواداری اور مروت اسی کی وجہ سے باقی رہتی ہے۔ اگرچہ ہر انسان فطری طور پر حیاءکے زیور سے آراستہ ہوتا ہے لیکن جس معاشرے میں وہ رہتا ہے اور اس میں حیاءکی جو اقدار ہوتی ہے اس کے مطابق یہ صفت گھٹتی بڑھتی ہے، جہاں اس وصف کا چرچا اور چلن ہو، وہاں پر یہ بڑھتی ہے اور جہاں بے حیائی اور بے شرمی عام ہو تو وہاں کے لوگ اس سے آہستہ آہستہ محروم ہو جاتے ہیں اور انسانی فطرت سے کم ہو کر آخرکار محو ہو جاتی ہے۔ حیا کی صفت تمام رسولوں اور نبیوں کی تعلیم میں شامل رہی ہے چنانچہ اسی بات کا تذکرہ مذکورہ بالا حدیث میں آیا ہے اسی طرح یہ خلق تمام ادیان و مذاہب میں پایا جاتا ہے جس سے انسانی زندگی میں اس کی اہمیت اور ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ علماءنے حیاءکی کئی تعریفیں بیان کی ہیں، ان میں سے دو کا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ امام راغب اصفہانیؒ لکھتے ہیں:”حیا وہ وصف ہے جس کی وجہ سے برا کام کرنے سے نفس میں تنگی محسوس ہوتی ہے۔“جمہور علماءکے ہاں ”حیا وہ خلق ہے جو انسان کو نیکی کرنے اور برائی سے روکنے پر ابھارتا ہے۔“ دین اسلام میں حیا کی فطری صفت کو نہ صرف باقی رکھنے پر زور دیا گیا ہے بلکہ اس کے بڑھانے کا بھی مناسب بندوبست کیا گیا ہے جیسے نظریں پست رکھنا، بے حیائی کی باتیں نہ کرنا، بے حیائی کے کاموں سے کنارہ کشی کرنا، ستر نہ کھولنا حتیٰ کہ تنہائی اور غسل خانے میں بھی ضرورت سے زیادہ ستر نہ کھولنا، یہ سب بندوبست اس لیے کئے گئے ہیں کہ حیا کا جوہر نہ صرف باقی رہے بلکہ بڑھتا رہے۔ حیا کی ضد بے حیائی، بے شرمی اور فحاشی ہے جس سے قرآن و حدیث میں بڑی شدت سے روکا گیا ہے اور ایسے کاموں پر آخرت کی سزا و عذاب کے ساتھ دنیا میں بھی بھاری سزائیں رکھی گئی ہیں۔ اگر انسان سے یہ صفت ختم ہو جائے تو پھر ہر قسم کی برائی کرنا آسان ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیطان لعین نے سب سے پہلے آدم اور حوا علیہما السلام سے ان کا لباس اتروایا لیکن ان میں فطری حیا کا غلبہ تھا لہٰذا وہ جنت کے پتوں سے اپنے جسم کو ڈھانکنے لگے۔ حیا اور اخلاق کے تعلق کے بارے میں مشہور کہاوت ہے ”بے حیا باش و ہرچہ خوا ہی کن“ یعنی بے حیا بن جاؤ پھر جو چاہو کرتے رہو۔“ جس شخص میں یہ صفت ہو اسے گھٹانے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ اس کی ہمت افزائی کی جائے۔

     یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔ حیا سارے کا سارا ایمان ہے

 ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ کا ایک انصاری کے پاس سے گزر ہوا جو اپنے بھائی کو حیا کم کرنے کے بارے میں سمجھا رہا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:”اسے چھوڑ دو کیونکہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔“ایک اور حدیث میں آیا ہے: ”یعنی حیا ایمان کا حصہ ہے۔“

شریعت میں حیا کا تصور بہت وسیع ہے یعنی انسان اللہ اور رسول اللہ ﷺ سے حیا کر کے ان کی نافرمانیوں اور برائیوں سے بچے۔ ترمذی کی ایک حدیث میں ہے نبی رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:”اللہ تعالیٰ سے حیا کرو جیسا کہ حیا کرنے کا حق ہے۔“ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کیا ”یا رسول اللہ ﷺ ہم اللہ سے حیا کرتے ہیں“آپ ﷺ نے فرمایا:”صرف اتنا نہیں (یعنی زبان سے کہنا کافی نہیں ہے) لیکن اللہ تعالیٰ سے پوری طرح حیا کرنا یہ ہے کہ تم اپنے سر کو اور جو کچھ اس میں ہے، کان، آنکھ اور زبان کی حفاظت کرو اور پیٹ اور جو کچھ اس میں ہے، اسے (حرام سے) بچاؤ اور موت اور فنا کو یاد رکھو جو شخص آخرت بنانا چاہتا ہے سو دنیا کی زندگی کے ٹھاٹھ باٹھ کو چھوڑ دے (تاکہ اس میں مشغول ہو کر اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہ ہو) اور آخرت کو دنیا پر ترجیح دے جس شخص نے ایسے کیا، اس نے اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کیا۔“

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حیا کا دائرہ کتنا وسیع ہے لہٰذا انسان کو ہر وقت خیال رکھنا چاہئے کہ کہیں مجھ سے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی نہ ہو اور کل قیامت کے دن میں ان کے سامنے کیسے پیش ہوں گا اور کیا جواب دوں گا۔ تاہم انسان کو دعوت و تبلیغ، پند و نصیحت، رشد و ہدایت، تعلیم و تربیت اور نیکی کا حکم کرنے اور برائی سے روکنے میں شرم کرنے سے نقصان ہوگا لہٰذا ایسے موقع پر حق بات کہنے، حق بتانے، پوچھنے اور سوال کرنے میں عار اور شرم محسوس نہیں کرنی چاہئے جیسے ایک حدیث میں آیا ہے:”انصاری عورتیں کیسی اچھی ہیں کہ انہیں دین سیکھنے اور سمجھنے سے حیاءنہیں روکتی۔“(مسلم شریف) مطلب یہ ہے کہ نیکی کا کام کرتے ہوئے آدمی کو جھجک نہ ہونا چاہئے کیونکہ کسی کو برائی سے روکنا اور حق بات کہنے میں شرم کرنا حیا نہیں ہے بلکہ بزدلی اور ڈرپوکی ہے۔ الغرض حیا کی وصف میں خیر و بھلائی ہے، دونوں جہانوں کے سردار ﷺ نے فرمایا: ”یعنی حیا سے تو بھلائی ہی آتی ہے۔“(بخاری کتاب الادب باب الحیائ) اور ایک دوسری حدیث میں ہے: ”ہر ایک دین کا ایک خلق ہوتا ہے اور اسلام کا خاص خلق حیا ہے۔“ لہٰذا ہر ایک مسلمان کو چاہئے کہ اپنے اندر حیا کی صفت پیدا کرے اور اسے بڑھاتا رہے تاکہ کامل مومن بن جائے.

     یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔ حیا سارے کا سارا ایمان ہے


Share:

2/11/16

Ed Tech Makes Consumer Electronics Association's Top 5 Trends

Technology in education is one of the "prominent technology trends expected to influence the consumer electronics (CE) industry in the years ahead," according to the 2013 edition of "Five Technology Trends to Watch," a report released this week by the Consumer Electronics Association (CEA). The other four tech trends identified were the future of 3D printing, next-generation TVs and displays, the evolution of the audio market, and the mobile revolution in Africa.
The report found a considerable degree of support for technology in education among parents and students. According to the report, 75 percent of parents of school-aged kids believe technology improves the learning experience; 67 percent have seen improvements in their child's learning because of technology; 69 percent believe all K-12 students should have access to the Internet for educational purposes; and 52 percent believe all K-12 students should be provided with a computer to aid in their education. However, the report also pointed out that the majority of classrooms have limited access to technology.
Additional findings in the report included:
· Teachers' Web sites are one of the most used technologies, providing students and parents with access to lesson notes, grades, assignments, and lectures;
· Fewer than half of parents report that their children use social media for education in their schools;
· More than one-third of parents report that their children's schools use apps for education, usually in the form of games;
· Slightly more than half of parents report that their children's schools use laptops;
· Fewer than three in 10 report that their children use tablets or ebooks for educational purposes;
· One-quarter of parents prefer e-books over physical textbooks.
The report speculated that some parents may be resisting adoption of technologies such as e-books and tablets for education because of perceived costs, concerns about children causing wear and tear on devices, and fear of loss or theft of devices. Despite these concerns, the report predicted, the use of e-books, tablets, and other technologies in education will continue to grow owing to their benefits.
E-books weigh less, cost less, and are instantly accessible without visiting a bookstore or library. However, digital content has other benefits for K-12 classrooms, according to the report. It pointed to the trend of flipping the classroom, in particular, where students watch or listen to recorded lectures at home, and the teachers spend classroom time helping students master the material through in-class exercises.
"Flipping the classroom is benefiting the educational environment by providing a more individualized approach to learning," stated the report. But in order for schools to be able to offer this method of teaching and learning, teachers will require access to video recording, webinar, or podcasting technology, and students will require computers with Internet access.
Another benefit of technology in education, according to the report, is that learning can be tailored to each student. Students can progress through material at their own pace and learn in ways that best suit their individual learning styles. Usage of online assessment and software learning tools will also enable educators to gather massive amounts of data, which can be analyzed to identify trends and patterns and provide insight into different ways that students solve problems, and ultimately use that information to tailor learning to individual students' needs.
Technology in education can also enable learning to take place anytime, anywhere, according to the report. This freedom can help students acquire new languages and learn about other cultures by interacting with other students across the globe. It can also enable homeschooled students to access the same apps and online resources as their traditionally schooled counterparts. Students in the classroom can also benefit by being able to attend specialized or advanced online classes to extend their classroom learning. At the college level, online education can also enable people to earn degrees, regardless of their location. The final benefit of technology in education identified in the report is its ability to engage students. Since most K-12 students are digital natives, incorporating technology into their learning experiences can spark their interest, according to the report. Bring-your-own-device (BYOD) or school-provided technology can enable students to access a growing number of educational apps, game-based learning programs, and augmented reality programs, which allow students to gather additional information about real-life objects and places real time using mobile devices.


Share:

2/9/16

Dark Ages of the History

Dark Ages, the early medieval period of western European history. Specifically, the term refers to the time (476–800) when there was no Roman (or Holy Roman) emperor in the West; or, more generally, to the period between about 500 and 1000, which was marked by frequent warfare and a virtual disappearance of urban life.

Dark Ages is a term of historical periodization traditionally meaning the Middle Ages. It emphasizes the cultural and economic deterioration that supposedly occurred in Western Europe following the decline of the Roman Empire. The label employs traditional light-versus-darkness imagery to contrast the "darkness" of the period with earlier and later periods of "light". The period is characterized by a relative scarcity of historical and other written records at least for some areas of Europe, rendering it obscure to historians.
The term once characterized the majority of the Middle Ages, or roughly the 6th to 14th centuries, as a period of intellectual darkness between extinguishing the "light of Rome" after the end of Late Antiquity, and the rise of the Italian Renaissance in the 14th century.This definition is still found in popular use,[1][2][5] but increased recognition of the accomplishments of the Middle Ages has led to the label being restricted in application. Since the 20th century, it is frequently applied to the earlier part of the era, the Early Middle Ages (c. 5th–10th century). However, many modern scholars who study the era tend to avoid the term altogether for its negative connotations, finding it misleading and inaccurate for any part of the Middle Ages.
The concept of a Dark Age originated with the Italian scholar Petrarch (Francesco Petrarca) in the 1330s, and was originally intended as a sweeping criticism of the character of Late Latin literature. Petrarch regarded the post-Roman centuries as "dark" compared to the light of classical antiquity. The actual term "Dark Age" derives from the Latin saeculum obscurum, originally applied by Caesar Baronius in 1602 to a tumultuous period in the 10th and 11th centuries Later, historians expanded the term to refer to the transitional period between Romantimes and the High Middle Ages (c. 11th–13th century), including the lack of Latin literature, and a lack of contemporary written history, general demographic decline, limited building activity and material cultural achievements in general. Popular culture has further expanded on it as a vehicle to depict the early Middle Ages as a time of backwardness, extending its pejorative use and expanding its scope.

Share:

The Petition of Right


The Petition of Right is a major English constitutional document that sets out specific liberties of the subject that the king is prohibited from infringing. Passed on 7 June 1628, the Petition contains restrictions on non-Parliamentary taxation, forced billeting of soldiers, imprisonment without cause, and the use of martial law. Following disputes between Parliament and King Charles I over the execution of the Thirty Years' War, Parliament refused to grant subsidies to support the war effort, leading to Charles gathering "forced loans" without Parliamentary approval and arbitrarily imprisoning those who refused to pay. Moreover, the war footing of the nation led to the forced billeting of soldiers within the homes of private citizens, and the declaration of martial law over large swathes of the country.
In response, the House of Commons prepared a set of four Resolutions, decrying these actions and restating the validity of Magna Carta and the legal requirement of habeas corpus. These were rejected by Charles, who also announced that Parliament would be dissolved; in response, the Commons met on 6 May to discuss alternatives, and concluded that a petition of right was the way forward. Accordingly, a committee under Sir Edward Coke drafted such a petition, and it was passed by the Commons on 8 May and sent to the House of Lords. After three weeks of debates and conferences between the two chambers, the Petition of Right was ratified by both houses on the 26th and 27 May. Following additional debates in which the King restricted the right of the Commons to freely speak, he bowed to the pressure; in need of Parliamentary support for the war effort, the Petition was accepted on 2 June. Unhappy with the method chosen, both houses joined together and demanded the King fully ratify the Petition, which he did on 7 June.
Despite debates over its legal status, the Petition of Right was highly influential. Domestically, the Petition is seen as "one of England's most famous constitutional documents",[3] of equal value to the Magna Carta and Bill of Rights 1689. In a period in which Charles's main protection from the Commons was the House of Lords, the willingness of both chambers to work together marked a new stage in the constitutional crisis that would eventually lead to the English Civil War. The Petition remains in force in the United Kingdom and, thanks to Imperial legislation, many parts of the Commonwealth of Nations including Australia and New Zealand. Internationally, it helped influence the Massachusetts Body of Liberties, and is seen as a predecessor to the Third, Fifth, Sixth andSeventh amendments to the Constitution of the United States.
Share:

How should be a Muslim

Islam is a true religion because it teaches a person everything including how to act and behave, how to sit and talk and how to care and share. A Muslim is sure of himself both in this world and in the Akhirah (the Hereafter). He/she is always striving towards "falaah" (success, prosperity) and freedom from anxiety and is not troubled with doubts and conflicts. A Muslim family eats its meals together with Bismillah-ir Rahman-ir-Rahim and ends its meals together with Al-Hamdulillah. Everyone recites the Qur'an and prays at the appropriate times. Most importantly the children respect their elders and listen to their parents.
Muslims should be good role models and should set a good example to the non-believers so that when they look at a Muslim's character and behaviour and see how great it is, they would want to be Muslims too. Muslims have to project the right image especially when they're a minority in countries such as Canada and U.S.A. They should be honest, truthful, trustworthy, modest, patient, tolerant, punctual, kind, generous, forgiving, brave and hard working. They should be good to people even if those people are not good to them. Allah has said in the Holy Qur'an "Tolerate patiently what they (the unbeliever) say and part from them in a polite manner" (73:10). Muslims should also practice forgiving people because Allah is always forgiving them. They should use the Holy Prophet Muhammad Sallallahu 'alayhi wa Sallam's example when the people of Taif threw stones at him and he forgave them.
Tawhid or belief in the Oneness of Allah helps the Muslim character a lot. Anyone who believes in Tawhid, surrenders himself completely to the Will of Allah and becomes a true servant of Allah. Tawhid gives a person a lot of respect and confidence because he knows that Allah has Power over everything and he is in His loving care. It also makes a person humble and modest. The Holy Prophet Muhammad Sallallahu 'alayhi wa Sallam has said "Modesty is part of faith" (Bukhari and Muslim). The person is never arrogant or rude because he/she knows that everything on earth belongs to Allah and he knows that everything he/she has is from Allah, so there's no reason to be proud and boastful.
Allah says in the Holy Qur'an that Nabi Musa 'alayhissalam advised his people: "...Seek help from Allah and be patient, the earth belongs to Allah. Anyone He wishes from among His servants shall inherit it..." (7:128). The most important effect on the Muslim's character from Tawhid is that it makes a person obey and observe Allah's Commands. The person knows that Allah is always watching him and he can't escape Allah's watchful eye even for a single moment. Tawhid produces strong determination, patience and perseverance.
Believing in Allah makes a person brave and courageous. He/she will not be afraid of death because the person knows that it is no one but Allah who will cause death at the appointed time. So, unless the person disobeyed Allah's Commands he/she has nothing to worry about and can go on doing his or her duty without any fear.
You can think of this as a boat. A boat has a rudder, which guides the boat's movement. When the rudder is under control, the boat moves forward proudly over the waves, but if the rudder does not control the boat, it is tossed by every wave in the sea. It is the same thing with a person. When he surrenders himself to Allah, he can face the problems of life without any fear. But if he does not surrender to Allah alone, he has to obey false gods like the fear of danger or the fear of hunger. Allah has said in the Holy Qur'an: "If Allah helps you, then none can overcome you and if He forsakes you, then who is there to help you after Him? And the believers should rely only on Allah" (3:160)
Luqman Hakim has been mentioned in the Qur'an as an intelligent and wise man. He told his son: "O my son! Do not associate anyone with Allah. Truly, polytheism is a tremendous wrong" (31:13). He also said: "O my son! Establish Salah and command the right and forbid the evil and bear patiently whatever may befall you, for this is firmness (of purpose) in (the conduct of) affairs. Do not turn your face away in disgust from people, nor walk arrogantly in the land. Surely, Allah does not love any arrogant boaster. Be moderate in your pace and lower your voice. Truly the harshest of all voices is the voice of the ass" (31:17, 18, 19).
Muslims should read the Holy Qur'an and Hadiths about a Muslim's character and behaviour so that they could improve. Everyone makes mistakes but that does not mean that we can't improve ourselves. We should learn from our mistakes and improve. Muslims should help other Muslims by encouragement and not by exploiting their mistakes. A Muslim should think of himself as a mirror for his brother.
Hadrat Abu Hurairah (Rady Allahu Anhu) narrates that the Holy Prophet Muhammad Sallallahu 'alayhi wa Sallam said: "Let him who believes in Allah and the Last day, either speak good or keep silent, and let him who believes in Allah and the Last Day be generous to his neighbour, and let him who believes in Allah and the Last Day be generous to his guest (Bukhari and Muslim). In another Hadith, Hadrat Abu Hurairah narrates that the Holy Prophet Muhammad Sallallahu 'alayhi wa Sallam said: "Do not envy one another; do not inflate prices to one another; do not hate one another, do not turn away from one another; and do not undercut one another, but be brothers, O slaves of Allah. A Muslim is the brother of a Muslim: he neither oppresses him nor disgraces him, he neither lies to him nor does he hold him in contempt. Piety and righteousness is here - and he pointed to his breast three times. It is evil enough for a man to hold his brother Muslim in contempt. The whole of a Muslim for another Muslim is inviolable; his blood, his property, and his honour (Muslim).
The more we help others, the better we will become as well because we mature through helping others. Islam shows how an ideal Muslim's character should be and we should act upon that so that we might save ourselves from Hell-fire and attain Paradise.


Share:

2/3/16

رواداری ، روشن خیالی اورمسلمان

رواداری ، روشن خیالی اورمسلمان

ہمارا قومی میڈیا روزانہ کسی نہ کسی بہانے مسلمانوں کو روادار ہونے اوردوسروں کو برداشت کرنے اورروشن خیال ہونے کی تلقین کرتارہتاہے ۔اورمسلمانوں کے تعلق سے کسی بھی مسئلہ پر میڈیا کی تان اسی پر آکر ٹوٹتی ہے کہ مسلمانوں کے اندر رواداری نہیں ہے۔وہ دوسروں اوردوسروں کے خیالات کو برداشت نہیں کرتے اورفوراً مرنے مارنے پر تل جاتے ہیں۔جب کہ حقیقت کی نظر  سے دیکھاجائے تو مسلمانوں سے زیادہ رواداری کا ثبوت کسی قوم نے نہیں دیا ہے۔برادرانِ وطن جو خود کو روادار کہتے نہیں تھکتےاورتمام مذاہب حق ہیں کا نعرہ بلند کرکے اپنے آپ کو دنیا کی سب سے زیادہ روادارقوم ہونے کا دعوی کرنا کسی بھی موقع پر نہیں بھولتے اگر واقعات کی روشنی میں میں دیکھا جائے تو  وہ خود سب سے زیادہ غیر روادار نظر آتے ہیں۔


سبھی کو معلوم ہے کہ ماضی بعید میں انسانوں کو چار طبقات میں تقسیم کرکے کچھ طبقات سے انسان ہونے اورانسانوں کی طرح زندگی گزارنے کا حق چھین لیاگیاتھا۔اوران پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے گئے تھے۔

بعد میں بدھ مذہب کے ساتھ کیا سلوک کیاگیا وہ سبھی جانتے ہیں۔ بدھ مذہب کے پیرو کاروں پر ہندوستان میں جیناحرام کردیا گیا۔اور انہیں مجبواً ہندوستان چھوڑ کر دوسرے ملکوں میں پناہ لینی پڑی۔

ہندوستان کی آزادی کے بعد مسلمانوں کے خلاف بے شمار فسادات ہوئے ۔جن میں لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا گیا ۔اوربے شمار جانی ومالی نقصان ہوا۔اور ان فسادات کے ملزمین قانون کی گرفت سے ہمیشہ ہی دور رہے۔اس کے بارے میں بجا طورپر کہا جاسکتاہے کہ یہ ایک طرح سے سرکاری سرپرستی میں مسلمانوں کی نسل کشی کی کوشش تھی۔ یہ تمام کارنامے اسی قوم کے افراد کے ہاتھوں انجام دئیے گئے ہیں جو خود کو روادار ، اعتدال پسند کہتی ہے۔

ابھی گجرات میں جس طرح مسلمانوں کا سرکاری سرپرستی میں قتل عام کیاگیا ۔اورفسادات کے ملزمین کو سرکار کی جانب سے اورگجرات کی اکثریت کی جانب سے بچانے کی کوششیں کی گئیں۔اورکی جارہی ہیں۔وہ سب کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہے۔حیرت کی بات یہ ہے کہ ان فسادات میں ایک اہم رول جینیوں کا بھی تھا جو اپنے آپ کو اہنساوادی اورکسی پر بھی ظلم نہ کرنے والا کہتے ہیں اوراسی لئے مچھلی گوشت اورانڈا وغیرہ نہیں کھاتے ہیں کہ ان جانداروں پر ظلم ہوتاہے ۔مگر ان کو مسلمانوں کو قتل کرنے میں کسی بھی ظلم کا احساس نہیں تھا۔

ہندو جنگجو تنظمیں بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد،شیوسینا، ہندو سینا اورپتہ نہیں کتنی تنظمیں اور ان سب کو نظریاتی قوت فراہم کرنے والی ان کی ماں آرایس ایس وغیرہ پورے ملک میں مصروف عمل ہیں اورہر اس عمل کو جوان کے نظریہ کے خلاف ہو زبردستی روکنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ہم نے ایف ایم حسین کی پینٹگس کی نمائش رکتے دیکھی ہے۔ہم نے عامر خان کی فلم کو پورے گجرات میں نہ ریلیز ہوتے دیکھاہے۔عیسائیوں اورمسلمانوں کے خلاف ان تنظیموں کی دہشت گردی دیکھی ہے۔ ہم نے اسٹار نیوز چینل پر ایک معمولی سے واقعہ کو لے کرحملہ ہوتے دیکھاہے۔ اور آزادی کے بعد سے ہی یہ واقعات تواتر کے ساتھ جاری ہیں۔اورہر مہینے کوئی نہ کوئی ایسا واقعہ پیش آجاتاہے جس سے یہ ثابت ہوجاتاہے کہ اصل میں روادار کون ہے اوررواداری کا ڈھونگ کس نے رچایاہے۔

مسلمانوں نے آج تک کسی بھی واقعہ میں شاذ ونادر قانون کو اپنے ہاتھ میں نہیں لیا۔ زیادہ سے زیادہ کسی عالم نے کوئی بیان دیا ہے۔یا کسی نے کچھ بیان بازی  کی ہے یا کسی دار الافتاء سے کوئی فتویٰ شائع ہوا ہے۔یہ اظہار رائے کی آزادی کا استعمال ہے جو قانون نے اپنے شہریوں کو دیا ہے ۔لیکن قانون کو اپنے ہاتھ میں لینا اورقانون کو کھلواڑ کی طرح استعمال کرنا انہی تنظیموں کا حق ہے جو تمام مذاہب کو سچ مانتے ہیں مگردوسرے مذاہب والوں کو پھلتا پھولتا دیکھنا نہیں چاہتے ۔تمام مذاہب کو سچ مانا جس مذہب کا عقیدہ ہو اسی مذہب کے ماننے والے اگر کسی کے تبدیلی مذہب پر فساد برپا کرتے ہیں اور دوسروں کی جان لینے کی کوشش کرتے ہیں کتنا عجیب اتفاق ہے۔اسلام تو بدنام ہے کہ وہ اپنے پیروکاروں کو تشدد کی تعلیم دیتاہے مگر انسانیت اور رواداری کا راگ الاپنے والے مذہب کے معتقد اورپیروکار یہ تشدد کہا ں سے سیکھ رہے ہیں۔اس کا بھی سرچشمہ معلوم کرنا چاہئے۔

یہ مسلمانوں کی رواداری کا کتنا بڑا ثبوت ہے کہ ہندوستان میں ہر ظلم انہوں نے جھیلا ۔لیکن آج تک انہوں نے بین الاقوامی فورم میں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی کہ اس سے ہندوستان کی بدنامی ہوگی۔جب کہ ملیشا میں بسنے والے تاملوں نے حقوق کے نام پر دنیا بھر میں ملیشا کو بدنام کرنے کی مہم چلا رکھی ہے۔یہ حقیقت ہے کہ قانون کے اوراق میں ہندوستان میں اقلیتوں کو بہت زیادہ حقوق دیے گئے ہیں۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کی پامالی میں بھی ہندوستان کا ایک شاندار ریکارڈ ہے۔

اب ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان دفاعی رویہ اپنانا چھوڑیں اوراقدام کریں۔اگر کوئی کشمیر کے واقعات کو لے کر اسلام کو دہشت گردی سے جوڑتاہے تو پھر ہمیں بھی یہ حق ہے کہ ہم آسام تریپورہ ،ناگالینڈ،نکسل ازم اور اس سے متعلق واقعات کو ہندو دہشت گردی کے خانے میں رکھیں۔اگر کوئی ""گڑیا""کے واقعات کو لے کر اسلامی شریعت پر حملہ کرنے کی ناپاک جسارت کرتاہے تو ملک کے طول وعرض میں بے شمار ایسے رونما ہونے والے واقعات جس میں ذات سے باہر شادی کرنے والوں کو قتل کیا گیا ہے کو لے کر ان کی رواداری کو دنیا کے سامنے پیش کریں۔

ابھی بھی اونچی ذات کے ہندئوں نے نچلی ذات والوں کے حقوق کو خوشدلی سے قبول نہیں کیا ہے ۔آئے دن اخبارات کی سرخیاں ایسے واقعات بنتی رہتی ہیں۔ جہاں اونچی ذات والوں نے نچلی ذات والوں کو مندر میں آنے سے منع کردیاہو۔یا کسی نچلی ذات والے کے اونچی ذات والوں کے کنوئوں سے پانی پینے پر فساد برپا ہوگیاہو۔ اور اونچی ذات والوں کا کنواں اسی صورت میں پاک ہوا ہو جب کہ دلتوں کے خون سے گائوں رنگ گئی ہو۔ابھی کچھ دنوں پہلے راشٹریہ سہارا میں ایک خبر نظر سے گذری کہ امریکہ میں قیام پذیر ایک شخص نے اپنی حاملہ بیٹی اورداماد کو گھر میں جلا کر مارڈالا ۔ان معصوموں کا قصور صرف اتنا تھا کہ اس کی بیٹی نے ایک نچلی ذات کے لڑکے کے ساتھ شادی کرلی تھی ۔یہ واقعات اگرچہ انفرادی ہیں اوراس سے کوئی عمومی حکم لگانا صحیح نہیں ہے۔تاہم پھر بھی یہ واقعات اس جانب ضرور اشارہ کرتے ہیں کہ رواداری کا مفہہوم ان کے یہاں کیا ہے۔اوروہ اپنے لئے کس رواداری کے خواہاں ہیں اورمسلمانوں سے کیسی رواداری چاہتے ہیں۔

مسلمانوں کے دنیا بھر میں بدنام ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ علماء وقت کی زبان (انگلش )پر عبور نہیں رکھتے اورجن نام نہاد دانشوروں اورپروفیسروں نے اسلام کی ترجمانی کرنے کا خود ساختہ ٹھیکہ لے رکھا ہے وہ ہرمسئلہ جس سے اسلام یا اسلامی شریعت کا تعلق ہو کچھ اس طرح سے دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں جس سے اسلام کی صحیح تصویر پیش ہونے کے بجائے اسلام کی غلط تصویر دنیا کے سامنے پیش ہوتی ہے۔۔کچھ دنوں پہلے کی بات ہے ""ٹائمس نائو "" چینل پر "وجے ترون" اورکوئی فاروقی صاحب سچر کمیٹی کو لے کر مباحثہ کررہے تھے ۔فاروقی صاحب شروع سے ہی دفاعی انداز اختیار کرچکے تھے اوروجے ترون بڑھ چڑھ کر بول رہاتھا۔پتہ نہیں یہ نام نہاد دانشور کس احساس جرم اوراحساس ندامت کا شکار ہیں اسلام اوراسلام سے متعلق کوئی بھی مسئلہ درپیش آتے ہی ان کی گردنیں کیوں جھک جاتی ہیں اوریہ احساس کمتری کا شکار کیوں ہوجاتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلامیات پر بہترین عبور رکھنے والے عالم حضرات انگلش زبان کی تحصیل پر توجہ دیں اور اسلام کو دنیا کے سامنے اسی شکل میں پیش کریں جیسا کہ وہ ہے نہ کہ نام نہاد دانشوروں کی طرح دانشوری کی خراد مشین پر اسلام کو چڑھاکر اوراسلام کو اپنی عقل کے مطابق کرکے دنیا کے سامنے پیش کریں۔


Share:

2/2/16

موبائل پر قرآنِ پاک پڑھنے کے لیےوضو کا حکم || موبائل اور قرآن مجید || How to touch Quran in Mobile Screen

کیا موبائل پر قرآنِ پاک پڑھنے کے لیے باوضو ہونا ضروری ہے؟

موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو بلا وضو یا حالتِ جنابت میں چُھونا جائز ہے۔ موبائل یا کمپیوٹر کی سکرین جو آیات نظر آتی ہیں، وہ ’’سافٹ وئیر‘‘ ہیں۔ یعنی وہ ایسے نقوش ہیں جنہیں چُھوا نہیں جاسکتا۔ یہ نقوش بھی کمپیوٹر یا موبائل کے شیشے پر نہیں بنتے بلکہ ’’ریم‘‘ پر بنتے ہیں اور شیشے سے نظر آتے ہیں، لہٰذا اسے مصحفِ قرآنی کے ’’غلافِ منفصل‘‘ پر قیاس کیا جاسکتا ہے۔ غلافِ منفصل سے مراد ایسا غلاف ہے جو قرآنِ کریم کے ساتھ لگا ہوا نہ ہو بلکہ اس سے جُدا ہو۔ ایسے غلاف میں موجود قرآنِ کریم کو بلا وضو چُھونے کی فقہائے کرام نے اجازت دی ہے۔

مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف الا بغلاف متجاف عنه کالخريطة والجلد الغير المشرز لابما هو متصل به

ترجمہ: حیض ونفاس والی عورت، جنبی اور بےوضو کے لئے مصحف کو ایسے غلاف کے ساتھ چھونا جائز ہے جو اس سے الگ ہو، جیسے جزدان اور وہ جلد جو مصحف کے ساتھ لگی ہوئی نہ ہو۔ جو غلاف مصحف سے جُڑا ہوا ہو،اس کے ساتھ چھُونا جائز نہیں۔    هنديه 1: 39

سکرین پر نظر آنے والی آیات کی مثال ایسی ہی ہے کہ گویا قرآنی آیات کسی کاغذ پر لکھی ہوئی ہوں اور وہ کاغذ کسی شیشے کے بکس میں پیک ہو، پھر باہر سے اس شیشے کو چُھوا جائے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔ غلافِ منفصل کی طرح یہ شیشہ اس جگہ سے جُدا ہے جہاں آیات کے نقوش بن رہے ہیں۔ بالکل اسی طرح اگر صندوق کے اندر مصحف موجود ہو تو اس صندوق کوجنبی (جس پر غسل فرض ہو) شخص کے لیے اُٹھانا اور چُھونا جائز ہے۔ جیساکہ امام شامی نے فرمایا ہے:

لَوْ كَانَ الْمُصْحَفُ فِي صُنْدُوقٍ فَلَا بَأْسَ لِلْجُنُبِ أَنْ يَحْمِلَهُ

ترجمہ: اگر قرآنِ کریم کسی بکس کے اندر ہو تو جنبی کے لیے اس بکس کو چھونے پر کوئی گناہ نہیں ہے۔

ابن عابدين، رد المحتار على الدر المختار، 1: 293، دار الفكر-بيروت

لہٰذا موبائل یا کمپیوٹر سکرین پر نظر آنے والی قرآنی آیات کو حالتِ جنابت میں یا بلا وضو چُھونا اور پکڑنا جائز ہے۔ بے وضو شخص کے لیے اس سے تلاوت کرنا بھی جائز ہے، تاہم جنبی کے لیے قرآنِ کریم کی تلاوت ناجائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے ۔


Share:

Moay Mubarak Book

حضور  نبی کریم ﷺ کے موئے مبارک  کے معجزات ، کمالات ، اعجازات  اور برکتوں پر مشتمل عشق و محبت 
.سے پر نور کتاب خود بھی پڑھیں دوستوں کو پڑھائی


Share:

Ihya Uloom-ul-Din is the Greatest book

Ihya Uloom-ul-Din is the Greatest book of Imam Ghazali considered the greatest book of Tasawwuf and is written in Four volumes each containing ten chapters.





Share:

حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ || امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروقؓ Second Caliph of Islam Umar-e-Farooq RAA

اس مضمون میں آپ درج ذیل عنوانات کا مطالعہ کریں گے

تعارف

سلسلہ نصب

حضرت عمر فاروقؓ کی صلاحیتیں

حضرت عمر فاروقؓ کا قبول اسلام

حضرت عمر فاروقؓ کےمشورےاور تائید الہی

خلافت فاروقی

حضور سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کا حضرت عمر کی شان میں فرمان ہے

حضرت عمر فاروقؓ کی نجی زندگی


تعارف:

امیر المومنین ، عز الاسلام و المسلمین ، ابا الفقراء ، دعائے رسول سرور عالم ﷺ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ ہجرت نبوی سے 40 سال قبل پیدا ہوئے۔ ان کی پیدائش اور بچپن کے حالات کا پتہ نہیں چلتا۔ صرف دو واقعات ایسے ہیں جن سے مختصر سی روشنی آپ کے بچپن پر پڑتی ہے۔ ” تاریخ دمشق ” میں حافظ ابن عساکر نے عمرو بن عاص کی زبانی لکھا ہے :

” میں چند دوستوں کے ساتھ ایک جلسہ میں بیٹھا تھا کہ دفعۃً ایک شور برپا ہوا ۔ وجہ دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ خطاب کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہےاور اس خوشی میں شور و ہنگامہ ہو رہا ہے۔ جب آپ بڑے ہوئے تو باپ نے اونٹ چرانے کا کام سپرد کیا۔ چرا گاہی قبیلہ عرب کا ایک عام مشغلہ تھا۔ یہ کوئی معیوب بات نہ تھی۔ اس کام میں آپ کے والد آپ سے خوب محنت کراتے تھے۔ جس میدان میں آپ اونٹ اور بکریاں چرایا کرتے تھے۔ اس کا نام ضجنان تھا۔ اپنے دورِ خلافت میں ایک بار حضرت عمر فاروق کا گزر اس میدان کی طرف سے ہوا۔ آپ آبدیدہ ہوئے اور حسرت سے فرمایا : اللہ اکبر ایک وہ زمانہ تھا کہ میں نمدہ کا کرتا پہنے ہوئے اونٹ چرایا کرتا تھا۔ تھک کر بیٹھ جاتا تو باپ سے سزا پاتا اور مار کھاتا تھا۔ آج یہ دن کہ اللہ کے سوا میرے اوپر اور کوئی حاکم نہیں۔”

سلسلہ نصب:

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب عدی ، فہر ( قریش ) اور عدنان سے ہوتا ہوا حضرت ابراہیم علیہ السلام تک پہنچتا ہے۔ آپ کا سلسلہ نسب حضور اکرم ﷺ سے آٹھویں پشت پر جا کر مل جاتا ہے اور وہ اس طرح ہے :

 عمر بن خطاب بن نفیل بن عبد العزیٰ بن رباح بن عبد اللہ قرط بن زراع بن عدی بن کعب بن لوی بن فہر بن مالک ۔

شرافت و ریاست اور حکومت و اقتدار قبیلہ قریش کے دس نامور خاندانوں میں تقسیم تھی۔ سفارت کا محکمہ حضرت عمر فاروق کے خاندان میں عدی کے زمانہ سے چلا آتا تھا۔اس کے علاوہ افضلیت کے فیصلے بھی آپ ہی کے خاندان کے سپرد تھا۔ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم کے دادا نفیل بن عبد العزیٰ بڑے عالی مرتبت شخصیت کے مالک تھے اور قبیلہ نے جو ذمہ داری سونپی تھی اس کو بڑی مہارت سے انجام دیا کرتے تھے۔ آپ کے والد خطاب نے کئی شادیاں کی تھیں۔ جن میں سیدنا عمر فاروق کی والدہ خنتمہ ، ہشام بن مغیرہ کی بیٹی تھیں۔ مغیرہ ایک ممتاز اور بلند رتبہ آدمی تھے۔ جن کے ایک پوتے حضرت خالد بن ولید تھے۔

حضرت عمر فاروقؓ کی صلاحیتیں:

حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم کا پسندیدہ مشغلہ نسب دانی ، سپہ گری ، پہلوانی ، شہ سواری اور خطابت تھا۔ نسب دانی میں سیدنا عمر ان کے والد خطاب اور دادا نفیل تینوں کو مہارت حاصل تھی۔ بازار عکاظ کے میلہ میں ہر سال کشتی دانی کا جوہر دکھایا کرتے تھے۔ قبیلہ قریش میں صرف سترہ آدمی لکھنا پڑھنا جانتے تھے۔ جن میں ایک حضرت عمر فاروق بھی تھے۔ قبائلِ عرب کے رواج کے مطابق آپ کا ذریعہ معاش بھی تجارت ہی تھا۔ آپ نے اس سلسلہ میں دور دراز ملکوں کا سفر کیا اور بڑے بڑے حکمرانوں ، تاجروں اور صاحب اقتدار لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ خودداری ، بند حوصلگی ، تجربہ کاری اور معاملہ فہمی میں آپ یکتائے روزگار تھے۔ اسلام لانے ے بعد آپ کی ان صلاحیتوں سے دینِ اسلام کو بہت فائدہ حاصل ہوا۔

سیدنا عمر فاروق اعظم کے چچا زاد بھائی زید بن عمرو بن نفیل نے بعثت نبوی ﷺ سے قبل ہی اپنے ذاتی اجتہاد سے کام لے کر بت پرستی چھوڑ دی تھی اور موحد بن گئے تھے۔ بت پرستی اور رسوم جاہلیت کو اعلانیہ برا کہتے تھے اور دین ابراہیمی کی تبلیغ کیا کرتے تھے۔ زید بن عمرو کے بیٹے سعید تھے۔ جن کی شادی حضرت عمر کی بہن فاطمہ سے ہوئی تھی۔ اس طرح حضرت سعید بن زید بن عمرو ، حضرت کے چچیرے بھتیجے اور سگے بہنوئی تھے۔ جب نبی آخر الزماں ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا اور دعوت اسلام دی تو حضرت عمر کے خاندان کے سعید بن زید ، فاطمہ بنت خطاب اور نعیم بن عبد اللہ نے اسلام قبول کیا۔

حضرت عمر فاروقؓ کا قبول اسلام:

حضرت فاروق اعظم کی عمر اس وقت 27 سال تھی۔ آپ حضور نبی کریم ﷺ اور اسلام کے کٹر دشمن تھے۔ مسلمانوں کی ایذا رسانی کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے تھے۔ آپ کو اپنے خاندان کے افراد کی اسلام میں داخل ہونے کی خبر نہ تھی۔ تمام تر ایذا رسانیوں اور مصیبتوں کے باوجود آپ ایک مسلمان کو بھی اسلام سے جدا نہ کر سکے۔ آخر آپ نے فیصلہ کیا کہ نئے دین کے بانی حضرت محمد ﷺ کا ہی      ( نعوذ باللہ ) خاتمہ کر دیا جائے۔ ایک دن تلوار اٹھائی اور حضور اکرم ﷺ کے قتل کے ارادہ سے روانہ ہوئے۔ ادھر حضور ﷺ اللہ تعالیٰ کے حضور ارقم بن ارقم کے مکان میں سجدہ ریز تھے اور دعا فرما رہے تھے : ” اے اللہ ! عمر بن ہشام ( ابو جہل ) یا عمر بن خطاب کے ذریعے اسلام کو سر بلند کر۔”سیدنا عمر ہاتھ میں ننگی تلوار لیے حضور ﷺ کی تلاش میں جا رہے تھے کہ سر راہ ایک شخص سے ملاقات ہوئی۔ اس نے پوچھا اے عمر کہاں کا ارادہ ہے۔ آپ نے کہا : ” ( نعوذ باللہ ) محمد ﷺ کے قتل کا۔” اس شخص نے جواب دیا پہلے اپنے بہن بہنوئی کی تو خبر لو جو اپنا آبائی مذہب ترک کر کے اسلام قبول کر چکے ہیں۔ آپ نے فوراً بہن کے گھر کا رخ کیا۔ جس وقت آپ بہن کے دروازے پر پہنچے تو بہن آیاتِ قرآن کی تلاوت کر رہی تھیں۔ آپ نے بہن اور بہنوئی کی خوب پٹائی کی۔ یہاں تک کہ فاطمہ بنت خطاب کے سر سے خون جاری ہو گیا۔ انہوں نے اپنے بھائی عمر بن خطاب کو کہا : ” اے عمر ! تو مجھے جان سے بھی مار دے تب بھی میں محمد ﷺ کے دین کو نہیں چھوڑوں گی۔ بہن کے ان الفاظ نے آپ کی کایا پلٹ دی اور آپ نرم پڑ گئے۔ بہن سے کہا لاؤ وہ عبارت جو تم ابھی پڑھ رہی تھی۔ آپ نے جب آیاتِ قرآن کو پڑھا تو دل کی دنیا ہی بدل گئی ۔ وہ تلوار جو ہاتھ میں بے نیام لیے ہوئے اللہ کے رسول ﷺ کے خون سے اپنا ہاتھ رنگنے نکلے تھے اپنی گردن میں لٹکالی اور صفا کی پہاڑی کے دامن میں واقع حضرت ارقم بن ارقم کے مکان دار الارقم پر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ حضور ﷺ کے قدموں میں سر رکھ دیا اور مسلمان ہو گئے۔ اس خوشی کے موقع پر اللہ کے پیارے حبیب ﷺ اور ان تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے ایک ساتھ اللہ اکبر کا فلک شگاف نعرہ لگایا جس سے صفا اور مروہ کی پہاڑیاں گونج اٹھیں۔ کوہِ صفا کے دامن میں دار الارقم وہ مکان تھا جو حضرت ارقم کی رہائش گاہ تھا اور جہاں سے حضرت محمد ﷺ بعثت کے ابتدائی دنوں میں پوشیدہ طور پر تبلیغ دین کا کام انجام دیا کرتے تھے ۔ اب دار الارقم موجود نہیں۔ مسجد الحرام کی توسیع کے بعد یہ جگہ حرم میں داخل ہو گئی ہے۔ اس وقت ٹھیک اس جگہ پر جہاں دار الارقم تھا خود کار زینہ ہے۔ جس سے حرم کی بالائی منزل پر جایا جاتا ہے ۔ زینہ کے گیٹ پر حضرت ارقم کے نام سے ایک پتھر کی تختی نصب ہے۔

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ جس طرح اسلام قبول کرنے سے حضرت محمد ﷺ کے اور دینِ اسلام کے کٹر دشمن تھے۔ مسلمان ہونے کے بعد اس سے زیادہ حضور ﷺ کے سچے شیدائی اور دین کے مجاہدِ اعظم ثابت ہوئے۔ اب تک نبی کریم ﷺ تبلیغ دین کا کام پوشیدہ طور پر انجام دے رہے تھے اور مسلمان ارکانِ دہین یعنی نماز وغیرہ چھپ کر ادا کیا کرتے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ کے مسلمان ہونے کے بعد دین اسلام کو بڑی تقویت حاصل ہوئی اور اعلانیہ تبلیغ کا کام شروع کیا گیا۔ آپ نے پہلا کام یہ کیا کہ مسلمانوں کی پوری جماعت کے ساتھ خانہ کعبہ میں نماز پڑھی اور کفارِ قریش مسلمانوں کو نماز کی ادائیگی سے روک نہیں سکے۔ جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلمانوں کو ہجرت کا حکم ہوا تو حضرت عمر نے دوسرے 20 مسلمانوں کے ساتھ علی الاعلان مکہ المکرمہ سے مدینہ منورہ کو ہجرت فرمائی۔ جہاں حضرت عتبان بن مالک انصاری کو آپ کا دینی بھائی بنایا گیا ۔ آپ نے تمام غزوات میں حضور ﷺ کے ساتھ شرکت کی اور ثابت قدم رہے۔

حضرت عمر فاروقؓ کےمشورےاور تائید الہی:

سیدنا فاروق اعظم مزاجِ شناس وحی تھے۔ اللہ جل شانہ اور اس کے پیارے حبیب حضور نبی کریم ﷺ کو بھی آپ کی رائے اور مشورہ بہت پسند تھا۔ کئی موقع پر آپ کی رائے کے مطابق رسول اللہ ﷺ پر اللہ کی وحی نازل ہوئی اور جو مشورہ سیدنا عمر نے دیا وحی الٰہی نے اس کی تائید کی۔

1: جنگ بدر کے موقع پر حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے قیدیوں کے قتل کا مشورہ دیا تو آیت ” لو لا کتاب من الله ” نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے آپ کے مشورے کی تائید فرمائی۔

2: آپ کو امہات المومنین کا بے حجاب نکلنا پسند نہ تھا اور آپ نے انہیں پردہ کا مشورہ دیا تو آیت حجاب نازل ہوئی۔ یعنی سورہ احزاب کی آیت 33۔

3: آپ نے نبی کریم ﷺ کے حضور مقام ابراہیم پر نماز پڑھنے کی خواہش کا اظہار کیا تو ” و اتخذوا من مقام ابراهیم مصلی” ” مقام ابراہیم کو اپنی نماز کی جگہ بناؤ۔” نازل ہوئی۔

4: عبد اللہ بن ابی بہت بڑا منافق تھا۔ بظاہر مسلمان تھا لیکن باطنی طور پر اسلام کا دشمن تھا۔ جب وہ مرا تو اس کا لڑکا ( جو خود ایک سچا مسلمان تھا ) حضور اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور نمازِ جنازہ پڑھانے کی درخواست کی ۔ حضور اکرم ﷺ اس کی نمازِ جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لے گئے۔ راستے میں حضرت عمر نے حضور ﷺ سے اپنی اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ آپ ﷺ اس منافق کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائیں۔ جنازہ پڑھانے کے فوراً بعد اللہ تعالیٰ کا یہ حکم صادر ہوا کہ آئندہ ان منافقین میں سے کوئی مر جائے تو آپ ﷺ نہ اس کی نماز پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں ( سورہ توبہ آیت 80 ) ۔

خلافت فاروقی:

حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وصیت کے مطابق سیدنا فاروق اعظم مسند خلافت پر رونق افروز ہوئے۔ آپ کا دورِ خلافت اسلامی تاریخ میں نہایت روشن اور انتہائی تابناک ہے۔ حق و صداقت اور انساف پسندی کے آپ پیکر تھے۔ آپ کے دورِ خلافت میں فتوحات کا تانتا بندھ گیا۔ اسلامی حکومت میں نئے نئے بکثرت اصلاحات ہوئے۔ اسلامی ریاستیں دور دراز علاقوں تک قائم ہوئیں۔ نئے شہر آباد ہوئے۔ سن ہجری تاریخ لکھنے کا رواج آپ ہی کے دورِ خلافت میں شروع ہوا۔

حضرت عمر فاروقؓ کی شہادت:

حضرت سیدنا عمر فاروق کو بحالتِ نماز ایک پارسی غلام ابو لولو فیروز نے مسجد نبوی میں 26 ذی الحجہ 23ھ کو زہر آلود خنجر سے شدید زخمی کیا۔ اس زخم سے 3 دن بعد یکم محرم الحرام بروز ہفتہ کو آپ نے وصال فرمایا اور روضہ رسول پاک ﷺ میں حضرت ابوبکر صدیق اکبر کے پہلو میں مدفون ہوئے۔ اس وقت آپ کی عمر شریف تقریباً 63 برس تھی۔ آپ کا زمانہ خلافت 10 سال رہا۔

حضور سرور کائنات حضرت محمد ﷺ کا حضرت عمر کی شان میں فرمان ہے :

” میرے بعد اگر کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے ، آسمان پر فرشتے عمر کا وقار کرتے ہیں اور زمین کا ہر شیطان اس سے ڈرتا ہے۔”

سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کے سوال کا جواب دیتے ہوئے فرمایا :

” عمر ارادہ کی پختگی ، ہوش مندی اور دلیری سے پُر ہیں۔”

ایک بار حضرت عمر کو کپڑا اوڑھے دیکھ کر حضرت علی نے فرمایا :

” اس کپڑا اوڑھے شخص سے زیادہ مجھے کوئی عزیز نہیں۔”

امام جعفر صادق کا قول ہے :

” میں اس شخص سے بیزار ہوں جو ابوبکر و عمر کو بھلائی سے یاد نہ کرے۔”

حضرت علی ، حضرت معاویہ کے ایک خط کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں :

” بلاشبہ اسلام میں سب سے افضل اور اللہ و رسول کے لیے سب سے زیادہ مخلص صدیق تھے۔ پھر ان کے بعد خلیفہ فاروق تھے۔ اسلام میں ان کا رتبہ بہت بڑا ہے۔ ان کی وفات سے اسلام کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ اللہ ان دونوں پر رحمت فرمائے اور ان کے اچے اعمال کی جزا دے۔ ” ( شرح نہج البلاغہ)

حضرت عمر فاروقؓ کی نجی زندگی:

حضرت عمر فاروق نے کئی شادیاں کی تھیں اور آپ کی نسل خوب پھلی پھولی شیوخِ فاروقی کی بکثرت شاخیں پھیلی ہوئی ہیں۔ حضرت عمر فاروق کی خواہش تھی کہ خاندانِ اہل بیت رسول ﷺ میں آپ کی شادی ہو اور ان کا شمار اہل بیت رسول میں ہو جائے ۔ آپ نے حضرت علی کی خدمت میں ان کی صاحبزادی سیّدہ ام کلثوم بنت فاطمہ بنت رسول اللہ ﷺ سے شادی کا اظہار فرمایا۔ حضرت سیدہ اس وقت بہت کم سن تھیں لیکن سیدنا علی نے سیدنا عمر کے جذبے کا احترام کرتے ہوئے اس پیشکش کو قبول کر لیا۔ 17ھ میں حضرت سیدہ ام کلثوم کا نکاح حضرت عمر فاروق سے ہوا ۔ آپ نے 40 ہزار درہم مہر ادا کیا۔ حضرت ام کلثوم بنت فاطمہ کے بطن سے حضرت عمر فاروق کی دو اولادیں سیدنا زید اور حضرت سیدہ رقیہ تھیں۔ بقیہ اولادیں حضرت عمر فاروق کی دوسری ازواج سے تھیں۔ حضرت عمر فاروق کے وصال کے بعد سیدہ ام کلثوم کا دوسرا نکاح حضرت محمد بن جعفر طیار سے ہوا۔

خلیفہ دوم امیر المومنین سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں صحابہ کرام کے لیے وظیفہ مقرر کیا۔ حضور اکرم ﷺ کے چچا حضرت عباس کو سالانہ دو لاکھ درہم ملا کرتا تھا اور آپ ﷺ کے دوسرے قرابت داروں کو بھی درجہ کے مطابق وظیفہ دیا گیا۔ تمام امہات المومنین میں سے ہر ایک دس دس ہزار درہم ماہانہ ۔ صرف حضرت عائشہ کو بارہ ہزار درہم ملا کرتا تھا۔ حضرات حسنین کو پانچ پانچ ہزار درہم دیا گیا۔

حضرت عمر فاروق اعظم نے وصال سے قبل حضرت عثمان ، حضرت علی ، حضرت عبد الرحمٰن بن عوف ، حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہم پر مشتمل ایک چھ رکنی مجلس شوریٰ منتخب فرما دی تھی تاکہ یہ افراد آپس کے مشورے سے کسی ایک کو مسلمانوں کا خلیفہ منتخب فرما لیں۔ حضرت طلحہ ، حضرت زبیر اور حضرت سعد بن ابی وقاص خلافت سے دست بردار ہوگئے ۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے حضرت علی اور حضرت عثمان سے فرمایا کہ آپ دونوں میرے انتخاب کو قبول کرنے کی رضا مندی دیدیں تو میں بھی خلافت سے دست بردار ہو جاتا ہوں۔ دونوں بزرگوں نے اپنی رضا مندی دے دی۔ حضرت عبد الرحمٰن بن عوف نے وقت کے جید صحابہ کرام کے مشورے کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت خلافت کر کے آپ کا انتخاب فرمایا۔


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive