Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

11/26/19

نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے


نہ رکتے ہیں آنسو نہ تھمتے ہیں نالے

کہو کوئی کیسے محبت چھپا لے


کرے کوئی کیا گر وہ آئیں یکایک

نگاہوں کو روکے کہ دل کو سنبھالے


چمن والے بجلی سے بولے نہ چالے

غریبوں کے گھر بے خطا پھونک ڈالے


قیامت ہیں ظالم کی نیچی نگاہیں

خدا جانے کیا ھو جو نظریں اُٹھالے


کروں ایسا سجدہ وہ گھبرا کے کہہ دیں

خدا کے لیے اب تو سر کو اُٹھا لے


ٍتمہیں بندہ پرور ہمیں جانتے ہیں

بڑے سیدھے سادھے بڑے بھولے بھالے


بس اتنی سی دوری یہ میں ہوں یہ منزل

کہاں آکے پھوٹے ہیں پاوں کے چھالے


قمر میں ھوں مختار تنظیمِ شب کا

ہیں میرے ہی بس میں اندھیرے اجالے


Share:

11/25/19

فتنوں کے دور میں کیا کرنا چاہیے؟Islam Demands in The Period of temptations


صحیح بخاری اور مسلم وغیرہ میں ابو ادریس خولانی سے حدیث موجود ہے بخاری کےا لفاظ یہ ہیں :
ابو ادریس خولانی نے حذیفہ بن یمان کو یہ فرماتے ہوئے سنا لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر اور بھلائی کے متعلق سوال کرتے اور میں ان سے شر کے متعلق سوال کرتا تھا اس ڈر سے کہ کہیں میں اس میں واقع نہ ہو جاؤں تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہم جاہلیت اور شر میں تھے تو اللہ تعالی نے ہمیں یہ خیر اور بھلائی دی تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جی ہاں اور اس میں فساد ہو گا میں نے کہا یہ دخن کیا ہے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایسی قوم آۓ گی جو میرے طریقے کو چھوڑ کر دوسرا اختیا کریں گے جسے تو جانے اور انکار کرے گا تو میں نے کہا کہ کیا اس خیر کے بعد پھر شر ہو گا ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں جہنم کے دروازوں کی دعوت دینے والے ہوں گے جس نے ان کی مان لی وہ اسے جہنم میں پھینک دیں گے میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں ان کے اوصاف بتائیں تو آپ نے فرمایا وہ ہم میں سے ہوں گے اور ہماری زبان میں بات کریں گے میں نے کہا کہ اگر میں نے یہ دور پا لیا تو آپ مجھے کیا حکم دیتے ہیں ؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کو لازم پکڑ میں نے کہا کہ اگر امام اور جماعت نہ ہوئی تو ؟ تو آپ نے فرمایا : تو ان سب فرقوں سے علیحدگی اختیار کر اگرچہ تجھے درخت کی جڑ ہی کیوں نہ کھانی پڑے حتی کہ تجھے اس حالت میں موت آجائے ۔

تو یہ دور اور زمانہ اس دور کے ساتھ خاص نہیں بلکہ ہر دور اور زمانے میں اور جگہ پر عام ہے عہد صحابہ سے لے کر جب عثمان رضی اللہ عنہ پر خروج اور فتنہ شروع ہوا ۔
اور فتنہ کے دور میں لوگوں سے علیحدگی اختیار کرنے سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں امام طبری سے ذکر کیا ہے کہ انہوں نے کہا : جب بھی لوگوں کا امام نہ ہو اور لوگوں میں اختلاف اور جماعتیں ہوں تو شر میں پڑنے کے ڈر سے اگر طاقت رکھو تو فرقوں میں کسی کی پیروی نہ کرو اور سب سے علیحدگی اختیار کرو، تو جب بھی کوئی ایسی جماعت ملے جو حق پر ہو اس میں ملنا چاہیے اور ان کے تعداد میں اضافہ اور حق پر ان کا تعاون کرنا چاہیے کایونکہ یہ جو ذکر کیا گیا ہے وہ اس شخص اور وقت اور مسلمانوں کی جماعت کا ہے ۔
اور اللہ ہی توفیق بخشنے والا ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل اور صحابہ پر اللہ تعالی رحمتیں نازل فرمائے ۔ .

Share:

11/19/19

الفاظ بایوکیمیکل اثرات رکھتے ہیں


 الفاظ بایوکیمیکل اثرات رکھتے ہیں اور ان کو بار بار دہرانے سے زیادہ تعداد اور رفتار سے نیوران استعمال ہوتے ہیں جن سے خاص ہارمونز اور رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں جو آپ کے نروس سسٹم پر اثرانداز ہوتی ہیں جن سے جذبات احساسات اور اعتقادات منظم ہوتے ہیں جو آپ کو عمل کرنے کے لئے تیار کرتے ہیں۔ جب آپ مسلسل منفی  الفاظ اور جملوں کو بار بار استعمال کرتے ہیں تو آپ کے جسم میں گھبراہٹ بے چینی جیسے برے احساسات پیدا ہو جاتے ہیں جو سوچ پر اثر انداز ہوتے ہیں اور پھر ذہن واپس جسم پر اثر انداز ہوکر مسائل میں شدت پیدا کردیتا ہے۔ آپ نہ ہی الفاظ اور جملوں کو تبدیل کرتے ہیں اور نہ ہی برے احساسات ختم ہوتے ہیں یہ نا ختم ہونے والا سلسلہ جاری رہتا ہے اور دونوں ایک دائرے کی شکل میں میں کام کرنا شروع کر دیتے ہیں اس طرح روز بروز مسائل بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔فرد یہ سوچتا ہے کہ بظاہر اسے کوئی مسئلہ نہیں ہے اور نہ کوئی مرض تشخیص ہوتا ہے این ایل پی کا ایک اصول ہے ’’ذہن اور جسم ایک نظام کے دو کل پرزے ہیں ‘‘ مثلاً  آپ کہتے ہیں کہ میں تندرست اور صحت مند نہیں ہوسکتا ،میں یہ کام نہیں کر سکتا یہ بہت مشکل ہے، اس طرح کے جملے آپ کو عمل کرنے سے روک دیں گے ۔اس کے برعکس اگر آپ یہ کہتے ہیں کہ میں کر سکتا ہوں، یہ بالکل آسان ہے، تو آپ کے اندر عمل کرنے کے لیے قوت پیدا ہوجائے گی۔ یاد رہے گھمبیر  مسائل اس وقت پیش آتے ہیں جب آپ مسلسل منفی الفاظ اور جملوں کو بار بار دہراتے رہتے ہیں جس کے نتیجے میں آپ ذہنی اور جسمانی طور پر بیمار ہوجاتے ہیں۔ اگر آپ واقعی زندگی کے حالات بدلنا چاہتے ہیں نفسیاتی مسائل کے حل اور ڈپریشن پر قابو پانے کے متمنی ہیں تو آج ہی دانستہ طور پر مثبت الفاظ کا استعمال شروع کردیں۔

Share:

ظالم سے حفاظت کی دعاء


حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے مجھے ظالم بادشاہ کے پاس اور ہر طرح کے خوف کے وقت پڑھنے کے لیے یہ کلمات سکھائے:
        لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ الحَلِیْمُ الکَرِیمُ ، سُبحَانَ اللہِ رَبِّ السَّمٰوَاتِ السَّبعِ وَ رَبِّ العَرشِ العَظِیمِ و الحَمدُ لِلہِ رَبِّ العَالَمِینَ۔
              جب بھی کسی ظالم آدمی سے ملنا ہو ، کسی وڈیرے نے بلایا ہو، کسی حاکم سے ملنا ہو ، کسی دشمن کا خوف ہو ، کسی بڑے آدمی کے ظلم کا خوف ہو تو اس کے پاس جانے سے پہلے یہ دعا پڑھ لیں ان شاء اللہ اس کا خوف  جاتا رہے گا ۔

Share:

ام معبد کے خیمے میں


غار ثور میں تین دن قیام کے بعد اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کا مختصر سا قافلہ یثرب کی طرف روانہ ہوا۔ ایک سانڈنی پر رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق سوار تھے اور دوسری سانڈنی پر حضرت عامر بن فہیرہ اور عبد اللہ بن اریقط لیثی ۔ عبد اللہ بن اریقط غیر مسلم ہونے کے باوجود ایک قابل اعتماد شخص تھا۔ وہ مکہ سے مدینہ جانے والے تمام راستوں سے بخوبی واقف تھا ۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے اسے راستہ بتانے کے لیے اجرت پر ساتھ لے لیا تھا۔ جب یہ مختصر سا قافلہ قدید کے مقام پر پہنچا تو حضرت اسماء نے جو کھانا غار سے روانگی کے وقت دیا تھا وہ ختم ہو چکا تھا سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کو بھوک اور پیاس محسوس ہو رہی تھی اس لیے یہ مقدس قافلہ ام معبد کے خیمے کے سامنے جا رکا ۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے ام معبد  کی شہرت سن رکھی تھی یہ خوش قسمت عورت اپنی غربت افلاس کے باوجود اپنی عالی حوصلگی اور مہمان نوازی کی وجہ سے اس صحرائی علاقے میں مشہور و معروف تھی اس طرف سے گزرنے والے مسافروں کی گوشت کھجور اور دودھ سے تواضع کرنا اس کا خاص شیوا تھا وہ میزبانی کے یہ فرائض نہایت خوش دلی سے انجام دیتی تھیں جو بھی اس کا مہمان بنتا اس کی زبان پر اس کی تعریف کے کلمات ہوتے بے ساختہ دل سے اس کے لیے دعائیں نکلتیں اس وقت ام معبد اپنے خیمے کے باہر صحن میں بیٹھی ہوئی تھی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے کہا کھانے کی کوئی چیز یعنی دودھ گوشت اور کھجور میں سے جو کچھ بھی تمہارے پاس ہو ہمیں دے دو ہم اس کی قیمت ادا کریں گے ان دنوں خوشک سالی نے اس پورے علاقے پر قیامت ڈھا رکھی تھی اس وجہ سے ام معبد کے گھر پر بھی تنگی اور سختی کا وقت آن پڑا تھا مسافر کی یہ بات سن کر ام معبد  کا دل بھر آیا اس نے بڑی حسرت بھرے لہجے میں کہا خدا کی قسم اس وقت میرے گھر میں آپ کو پیش کرنے کے لئے کوئی چیز موجود نہیں اگر ہوتی تو فورا حاضر کردیتی اتنے میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر ایک مریل سی بکری پر پڑی جو خیمے میں ایک طرف کھڑی تھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا معبد کی ماں اگر اجازت ہو تو اس بکری کا دودھ دوہ لیں۔ ام معبد نے کہا بڑے شوق سے مگر مجھے امید نہیں کہ وہ دودھ کا ایک قطرہ بھی دے گی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست شفقت بکری کی پیٹھ پر پھیرتے ہوئے دعا کی یا اللہ اس عورت کی بکریوں میں برکت دے اس کے بعد آسمان نے ایک عجیب منظر دیکھا بکری کے تھن دودھ سے بھر گئے بکری ٹانگیں پھیلا کر آرام سے کھڑی ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بڑا سا برتن لے کر اسے دوہنا شروع کیا جلدہی وہ لبالب دودھ سے بھر گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے پہلے یہ دوھ ام معبد کو پلایا اس نے خوب سیر ہو کر پیا پھر اپنے ساتھیوں کو پلایا اور آخر میں خود پیا اور فرمایا لوگوں کو پلانے والا آخر میں پیتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر بکری کو دوہنا شروع کیا یہاں تک کہ برتن پھر بھر گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ دودھ ام معبد کیلیے چھوڑ کر آگے روانہ ہوگئے ام معبد کا بیان ہے کہ یہ بکری ہمارے پاس حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ کے عہد خلاف تک رہی اور صبح و شام اس کے دودھ سے ہم اپنی ضرورتیں پوری کرتے رہے۔
        اس بابرکت قافلے کے تشریف لے جانے کے بعد ام معبد کا شوہر اپنے ریوڑ لے کر جنگل سے واپس آیا۔ خیمے میں دودھ سے بھرا برتن دیکھ کر حیران رہ گیا۔گھر والی سے پوچھا یہ دودھ کہاں سے آیا ؟ ام معبد نے کہا:
        ’’ خدا کی قسم ایک بابرکت مہمان یہاں آیا تھا ۔ اس نے اس مریل سی بکری کو دوہا۔ خود بھی اپنے ساتھیوں سمیت سیر ہو کر پیا اور یہ دودھ ہمارے لیے چھوڑ دیا۔‘‘
        پھر اس واقعے کی پوری تفصیل بیان کی خاوند یعنی ابو معبد نے کہا ذرا اس کا حلیہ تو بیان کرو ۔ ام معبد نے فی البدیع اور بے ساختہ رحمتِ کائناتﷺ کا جو حلیہ بیان کیا ،اسے تاریخ نے اپنے اوراق میں محفوظ کر لیا ہے۔ ام معبد اس وقت مسلمان نہیں تھی اور نہ ہی وہ ابھی اسلام و ایمان کی دولت سے بہرہ ور ہوئی تھی لیکن اس کی زبان سے نکلے ہوئے جملے اور فقرے عربی ادب کا ایک مایہ ناز شاہکار ہیں۔ عربی مبین کی فصاحت و بلاغت اور صباحت و ملاحت اپنے پورے جوبن پر ہے ۔الفاظ کی خوبصورتی فقرات کی بر جستگی  اور دل نشینی اور خیالات کی سادگی و سلاست نے ام معبد کی اس برجستہ تقریر کو شمائل ِ نبوی کی جتابوں میں ایک منفرد اور ممتاز مقام عطا کر دیا ہے۔ اس کی تازگی ، دل کشی اور عطر بینی پہلے بھی مشامِ روح کو معطر کرتی رہی ہے اور قیامت تک کرتی رہے گی۔ رحمۃ للعلمین ﷺ کی رحمت کا یہ فیض خاص ہے کہ آپ ﷺ کے شمائل  بیان کرنے کا یہ تاریخی اعزاز بھی ایک عورت کے حصے میں آیا۔ اردو ادب میں اس تقریر کا ترجمہ کرنے اور اس کا مفہوم اردو میں ڈھالنے کی بے شمار کوششیں ہوئی ہیں، مگر کہاں عربی مبین اور کہاں اس کے مقابلے میں بیچاری اردو، تاہم ذیل میں ہم پہلے اصل عربی عبارت اور پھر اس تقریر کا اردو ترجمہ نقل کرتے ہیں جو مقابلۃ  اصل سے زیادہ قریب ہے۔
قالت أُمِّ مَعْبَدٍ في وصف النبي صلى الله عليه وسلم:رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الوَضَاءَةِ، أَبْلَجَ الوَجْهِ، حَسَنَ الخَلْقِ،لَمْ تَعِبْهُ ثُجْلَةٌ، وَلَمْ تُزْرِيهِ صُعْلَةٌ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ، فِي عَيْنَيْهِ دَعَجٌ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ، وَفِي لحْيَتِهِ كَثَاثَةٌ، أَزَجُّ، أَقْرَنُ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الوَقَارُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَاهُ وَعَلَاهُ البَهَاءُ،أَجْمَلُ النَّاسِ، وَأَبْهَاهُ مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْسَنُهُ وَأَجْمَلُهُ مِنْ قَرِيبٍ، حُلْوُ المَنْطِقِ، فَصْلًا لَا نَزْرَ وَلَا هَذَرَ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ يَتَحَدَّرْنَ، رَبْعَةٌ لَا تَشْنَؤُهُ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ، فَهُوَ أَنْضَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا، وَأَحْسَنُهُمْ قَدْرًا، لَهُ رُفَقَاءُ يَحُفُّونَ بِهِ،إِنْ قَالَ سَمِعُوا لِقَوْلهِ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا إِلَى أَمْرِهِ، مَحْفُودٌ مَحْشُودٌ، لَا عَابِسَ، وَلَا مُفَنِّدَ.(الطبقات الکبری لابن سعد، ذکر خروج رسول اللہ ﷺ ، ۱/240)
ترجمہ: میں نے ایک شخص کو دیکھا جس کی نظافت نمایاں، جس کا چہرہ تاباں، اور جس کی ساخت میں تناسب تھا۔ پاکیزہ اور پسندیدہ خو، نہ فربہی کا عیب نہ لاغری کا نقص، نہ پیٹ نکلا ہوا، نہ سر کے بال گرے ہوئے، چہرہ وجیہہ، جسم تنومند، اور قد موزوں تھا۔ آنکھیں سر مگیں ، فراخ اور سیاہ تھیں۔ پتلیاں کالی اور ڈھیلے بہت سفید تھے۔ پلکیں لمبی اور گھنی تھیں۔ ابرو ہلالی، باریک اور پیوستہ ، گردن لمبی اور صراحی دار ، داڑھی گھنی اور گنجان، سر کے بال سیاہ اور گھنگھریالے ، آواز میں کھنک کے ساتھ لطافت، بات کریں تو رخ اور ہاتھ بلند فرمائیں ۔ کلام شیریں اور واضح ، نہ کم سخن اور نہ بسیار گو، گفتگو اس انداز کی جیسے پروئے ہوئے موتی۔ دور سے سنو تو بلند آہنگ، قریب سے سنو تو دلفریب ، کلام نہ طویل نہ بے مقصد بلکہ شیریں، جامع اور مختصر، خاموشی اختیار کرے  تو پر وقار اور تمکین نظر آئے۔ قد نہ درازی سے بد نما اور نہ اتنا پستہ کہ نگاہ بلند تر پر اٹھے۔ لوگوں میں بیٹھے تو سب سے جاذب ، دور سے نظریں ڈالیں تو بہت با رعب ، دو نرم  و نازک شاخوں کے درمیان ایک شاخِ تازہ جو دیکھنے میں خوش منظر ، چاند کے گرد ہالے کی طرح رفیق گرد و پیش ۔ جب کچھ کہے تو سراپا گوش۔ حکم دے تو تعمیل میں ایک دوسرے پر سبقت لے جائیں۔ سب کا مخدوم ، سب کا مطاع ، مزاج میں اعتدال ، تندی اور سختی سے دور۔
        شوہر یہ صفات سن کر پکار اٹھا کہ خدا کی قسم یہ تو وہی قریشی شخص تھا جس کا ذکر ہم سنتے رہتے تھے ۔ میں اس سے ضرور جا کر ملوں گا۔ کچھ عرصے کے بعد دونوں میاں بیوی مدینہ جا کر بارگاہِ نبوت میں حاضر ہوئے اور سعادت ِایمانی سے بہرہ مند ہوئے۔

Share:

11/18/19

Main causes of liver damage | Morning breakfast | liver disease

الأسباب الرئيسية المسببة في إتلاف الكبد

1:  النوم المتأخر

2: عدم التبول في الصباح

3: تناول الأطعمة بشراهة

4: عدم تناول إفطار الصباح (Morning breakfast)

5: المبالغة في تناول الأدوية الطبية

6: إستهلاك المواد الحافظة. والملونة والمحليات الاصطناعية

7: إستهلاك الزيوت غير الصحية

8: إستهلاك الأطعمة غير الطازجة أو الأطعمة المقلية المخزنة

The liver is a vital organ in the human body responsible for performing various crucial functions, including detoxification, metabolism, and synthesis of essential proteins. However, it is susceptible to damage from various factors, leading to a condition known as liver damage or Liver Disease. Liver damage can range from mild to severe and may progress over time if not properly addressed. Main causes of liver damage:

1.  Late sleep.

2.  Not to piss in the morning.

3.  Eating food greedily.

4.  Not having morning breakfast.

5.  Excessive use of medical medicines

6.  Consumption of preservatives colorful and artificial local.

7.  Consumption of unhealthy oils

8.  Consumption of non-fresh or stored fried foods.

Share:

The Main causes of Brain Damage | Smoking | Sleep Deprivation | Covering the Head while Sleeping | Brain Health

الأسباب الرئيسية المسببة لتلف العقل (Brain Damage) هي

1: عدم تناول وجبة الإفطار الصباحية

2:  تناول الأطعمة لحد التخمة

3:  التدخين  (Smoknig)

4: التناول المفرط للسكر

5: متلوث الهواء

6: الحرمان من النوم (Sleep Deprivation)

7: تغطية الرأس خلال النوم (Covering the Head during Sleep)

8: إجهاد المخ خلال فترة المرض

9: عدم تحفيز التفكير

10: ندرة التحدث أو إجراء الحوار

 

          The brain, a complex and vital organ, is responsible for controlling various bodily functions, emotions, thoughts, and actions. While the brain is resilient, it is not immune to damage, which can have profound and lasting effects. Understanding the main causes of brain damage is crucial for promoting Brain Health and preventing potential harm. The Main causes of Brain damage:

1.  No morning breakfast.

2.  Eat food until expectoration.

3.  Smoking.

4.  Excessive sugar intake.

5.  Air pollution.

6.  Sleep deprivation.

7.  Covering the head during sleep.

8.  Brain stress during the illness.

9.  Do not motivate thinking.

10. Rare speaking or dialogue.


Share:

الحکایۃ من افعال الشیاطین


يقال أن إبليس أراد الرحيل من مكان كان يسكن فيه مع أبنائه فرأى أحد أولاده خيمة فقال لا أُغادرن حتى أفعلن بهم الأفاعيل
فذهب إلى الخيمة
فوجد بقرة مربوطة بوتد
ووجد امرأة تحلب هذه البقرة
فقام فحرك الوتد
فخافت البقرة وهاجت فانقلب الحليب على الأرض ودهست ابن المرأة الذى كان يجلس بجوار أمه وهى تحلبها فقتلته دهسآ .فغضبت المرأة فدفعت البقرة وضربتها بشدة وطعنتها بالسكين طعنا مميتا فسقطت البقرة وماتت
فجاء زوجها فرأى طفله و البقرة مقتولان فطلق زوجته وضربها
فجاء قومها فضربوه
فجاء قومه فاقتتلوا واشتبكوا
تعجب إبليس فسأل ولده ويحك ما الذي فعلت
قال لا شيء فقط
( حركت الوتد )

وهكذا يظن الأغلب من الناس أنهم لا يفعلون شيئا
وهم لا يعلمون أن بضع كلمات. فقط بضع كلمات بالأذن تقلب الحال رأسا على عقب تسبب الخلاف وتشعل المشاكل وتقطع الأرحام وتشحن الأجواء وتخطف الفرحة وتقضي على البهجة وتكسر القلوب
ثم يظن الفاعل أنه لم يفعل شيئا

Share:

سائنسدان زیادہ مفید ہے یا صوفی


Image result for soofiana pic

سائنسدان زیادہ مفید ہے یا صوفی؟  
 اصل میں science اور تصوف میں ایك بہت بنیادی فرق ہے۔غلطی یہ ہوئی كہ sciences جس  چیز سے Deal كرتی ہیں،صوفی اس چیز سے Deal نہیں كرتےہیں۔صوفی حقائق كی تلاش میں ہوتا ہے اور سائنسدان Relationship كی تلاش میں ہوتا ہے۔
یہ بہت بڑا فرق ہے
Even a most famous Philosopher and Mathematician of the century,#RUSSEL,said,
"We only know the relationship of things,we do not know the nature of things."
ہم صرف اشیاء كے تعلق كو جانتے ہیں۔ہم اشیاء كی فطرت نہیں جانتے۔اسكے برعكس صوفی فطرت كو جاننے كی كوشش كر رہا ہوتا ہے۔اگر پیٹرن بنائے جائیں تو پتا یہ چلےگا كہ صوفی ایك اعلی ترین انسانی Subject كی تلاش میں ہے اور سائنسدان كی تحریك اسكے ذاتی كردار سے متاثر نہیں ہوتی۔ سائنسدان نے اگر وضو نہ كیا ہوا ہو تو کوئی حرج نہیں ۔ سائنسدان اگر جھوٹ بول رہا ہے تو کوئی حرج نہیں۔كسی كوMBBS كی ڈگری دینے سے اس لیے انكار نہیں كیا جا سكتا كہ اس نے باہر فراڈ كیا ہوا ہے یا جعل سازی كی ہوئی ہے۔
Science does not demand a personal         character and truth of personality.
تصوف كی Sciences ایسی رہی ہیں كہ اگر علم كی تحصیل میں ذرہ برابر بھی آمیزش شامل ہو جاۓ توسارے نتائج غلط ہو جائیں۔یہ نزاكت اور احتیاطSciences of mysticism میں ہے۔یہ General sciences میں نہیں ہیں۔یہ ایك بنیادی بات ہےكہ Sciences جس نتیجے تك مشكلات سے پہنچتی ہیں اس تكMystic بہت آسانی سے پہنچ جاتا ہے۔اس كو Instruments نہیں چاہیے۔ابھی تك Sciences یہ كرشمہ حاصل نہیں كر پائیں۔Transportation ابھی تك Electric transportation Sciences اورWaves كے ذریعے آپ نے صرف تصویروں میں دیكھی ہوں گی۔ان افسانوں میں دیكھی ہوں گی جو سماوات میں بنائی جا رہی ہیں مگرPractically ابھی تك انسان نے فزیكل Transportation Material نہیں حاصل كیے۔انسان Fussion كے پیچھے لگا ہوا ہےمگر وہ Fussion ابھی تك ممكن نہیں ہوا۔یہ ابھی تك Partial ممكن ہوا ہے۔اگر یہ Fussion مكمل طور پر ممكن ہو جائے تو ایك جگہ سے انسان كو چیر كر ذروں میں تقسیم كر كے دوسری جگہFussion كیا جا سكتا ہے۔اور  ایك سیكنڈ كے ہزارویں حصےمیں یہ Transportation مكمل ہو سكتی ہے۔آپ فلموں میں تو دیكھ ہی لیتے ہو۔Shocks كا ایك وجود ہے جو بندے كو اِدھر سے اٹھاتا ہے اور ادھر لے جاتا ہے۔آج سے كوٸی اڑھاٸی ہزار سال سے پہلے سلیمان علیہ السلام نے كہا كہ كون تختِ بلقیس میرے پاس لائے گا؟

قال عفریت من الجن أنا اتیك بہ قبل أن تقوم من مقامك“  (النمل 27آیت39)
ایك جن اٹھا،اس نے كہا!اگر حكم ہو تو آپ كی نشست و برخاست ست پہلے میں یہ تخت آپ كے پاس لے آؤں۔

قال اللذی عندہ علم من اللكتاب انا اتیك بھ قبل أن یرتد الیك طرفك“(النمل27آیت40)

پھر ایك شخص جسے كتاب كا علم دیا گیا تھا۔اس نے كہا!حضرت اگر مجھے اجازت دیں تو میں پلك جھپكنے میںTransportation كر دوں گا اور قراآن كہتا ہے كہ اس كا یہ وصف بہت زیادہ  عبادات كا نہیں تھا بلكہ انسان كا یہ كمال اسے دیا گیا جو كتاب كا علم ركھتا تھا۔جس كی بنا پر اس نے پلك جھپكنے میں تختِ بلقیس كو Difuse كر كے آپ كے حضور پیش كر سكتا ہے اور ایسا ہی ہوا۔ہم جو قرآن پڑھ رہے ہیں یہ پہلے بہت تھوڑا تھا۔سلیمان اورداؤد كے پاس بھی قرآن ہی تھا۔ یہی قرآن رفتہ رفتہ Complete ہوتا چلا آرہا تھا۔ انسان پورا ہوا۔قرآن پورا ہو گیا۔رسالت پوری ہو گئی۔تینوں باتیں ایك وقت میں مكمل ہو گئیں۔جب پوری ہوئی تو اللہ نے یہ بات كہی:
الیوم اكملت لكم دینكم أتممت علیكم نعمتی ورضیت لكم الاسلام دینا“(المائدہ55آیت3)

تو آج میں نےتمہارے لیے علم پورا كر دیا ہے اور نعمت بھی پوری كر دی ہے۔استاد بھی پورا كر دیا۔اب پڑھانے والا کوئی نہیں آئے گا۔اب یہ تمہارے اوپر منحصر ہے۔كیوں كہ اب  تم اتنے Mature اور سمجھدار ہو چكے ہو۔اب تمہاری تصوراتی بلوغت اس قابل ہے كہ تم اس پیغام كو سمجھ سكو۔
Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive