Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

4/12/19

کوانٹم فزکس اور ایمان


کوانٹم فزکس کو ماننے والے تمام ملحدین کو آج میں دعوت دیتا ہوں کہ اس بات پر ایک دفعہ ٹھنڈے دل سے ضرور غور کریں: کیا یہ ممکن نہیں کہ پیدائش سے پہلے آپ کسی، دوسری "کائنات" میں کسی "متبادل حقیقت" کا حصہ ہوں؟ ہو سکتا وہاں فزکس کے قوانین کچھ اور ہوں. ہو سکتا ہے وہاں آپ اپنے خالق سے ملاقات بھی کر چکے ہوں اور اس پر کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ پاتے ہوں. ہو سکتا ہے اس دنیا میں آپکی پیدائش کا پراسیس محض ایک کائنات سے دوسری کائنات کا سفر ہو. اور ہو سکتا ہے میٹرکس فلم کی طرح آپکا جسم اس دنیا میں تیار ہوتا ہو اور سوچ ، شعور ، روح پچھلی کائنات سے آتی ہو، کیونکہ ممکن ہے جسم سمیت یہ سفر ممکن ہی نہ ہو . ہو سکتا ہے آپ نے کسی بلیک ہول کے ذریعے یہ سفر کیا ہو. ہو سکتا ہے کسی پروگرامنگ کے ذریعے آپکی سابقہ یادداشت کو جان بوجھ کر مٹا دیا گیا ہو تاکہ دو دنیاؤں کے بالکل مختلف طبیعی قوانین آپکو کنفیوز نہ کر دیں. ہو سکتا ہے اس دور کی کچھ یادیں آپکے تحت الشعور میں محفوظ کر دی گئی ہوں . ہو سکتا ہے زندگی کے بنیادی اصول، خالق کا تصور، اچھائی برائی کی بنیادی باتیں آپ کے دماغ میں فیڈ کر کے یہاں بھیجا گیا ہو تاکہ آپکو بالکل ہی صفر سے سٹارٹ نہ کرنا پڑے. ہو سکتا ہے کہ اس سارے عمل کا مقصد آپکو کسی اعلی تر منزل کی قابلیت کیلئے جانچنا ہو. یہ دیکھنا ہو کہ آپ دنیا تبدیل ہونے کے باوجود نظر اپنی اصل منزل اور خالق کی رضا پر رکھتے ہیں یا اس نئی دنیا کے جھمیلوں میں کھو جاتے ہیں. ہو سکتا ہے اس امتحان میں آپکو قدم قدم پر بھٹکانے کیلئے بھی کسی "ولن" کو ساتھ بھیج دیا گیا ہو. اور ہو سکتا ہے کہ اس ولن سے مقابلے کیلئے آپکی تربیت کی خاطر کچھ اعلی ترین ہستیاں آپکی رہنمائی کیلئے بھیجی جاتی ہوں. ہو سکتا ہے موت بھی اس کائنات سے کسی اور کائنات کا سفر ہو. ہو سکتا ہے قیامت بھی ایسی ہی ایک تبدیلیِ کائنات ہو اور اسکے بعد آپکو اپنی کارکردگی کے مطابق اپنی آخری منزل، اپنی آخری کائنات کی طرف روانہ کر دیا جائے. کوانٹم فزکس کے مطابق یہ سب کچھ ممکن ہے نا؟ تو پھر مان لینے میں حرج ہی کیا ہے؟ سوچئیے گا ضرور...!!!

Share:

2/26/19

What is WAR :: جنگ کے نقصانات :: موجودہ دور میں جنگ کے نقصانات


آپ پولینڈ کے لوگوں سے پوچھیں یہ آپ کو بتائیں گے جنگ کیا ہوتی ہے۔۔۔ یا کسی یورپی خاندان سے پوچھ لیں جنگ کیا ہے؟ آپ اسکی آنکھوں میں آنسو دیکھیں گے، جرمن فوج نے یکم ستمبر1939 کو پولینڈ پر حملہ کیا، یہ دوسری جنکِ عظیم کا آغاز تھا، جارح فوج کو 4959 توپوں ، 3647 ٹینکوں اور3300 جنگی طیاروں کی سپورٹ حاصل تھی، یہ آۓ اور پولینڈ میں ایک لاکھ99 ہزار 700 لاشیں بچھادیں،75 سال بعد بھی اس شہر کی دیواروں پر جنگ کے زخم ہیں، یورپ نے 1939 سے 1945تک مسلسل 6برس تک جنگ بھگتی، یورپ امریکہ اور جاپان کے چھ کروڑ لوگ ہلاگ ہوۓ، امریکہ نے آخر میں ہیروشیما اور ناگاساکی پر 2 ایٹم بم داغے، 2 منٹ میں 1 لاکھ 40ہزار لوگ، جبکہ ناگاساکی میں 75ہزار لوگ ہلاک ہوۓ، اور جو زندہ بچے وہ عمر بھر کیلۓ معذور ہوگۓ،جنگِ عطیم دوم میں یورپ کا کوئ شہر سلامت نہیں بچا تھا، بجلی، پانی، سڑکیں، سکول و کالج، ریلوے کا نظام اور خوراک ہر شے مفقود ہوگئ تھی، آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ جنگ سے پہلے یورپ میں سور نہیں کھایا جاتا تھا، لوگ پورک سے نفرت کرتے تھے، خوراک کی قلت کی وجہ سے پورک کھایا جانے لگا وہ دن ہے اور آج کا دن۔ پورک اب پورے یورپ کی خوراک بن چکا ہے،جنگ کے بعد مرد ختم ہوگۓ، چنانچہ یورپ شادی کا سسٹم ختم کرنے پر مجبور ہوگیا،عورت صرف عورت اور مرد صرف مرد بن کر رہ گیا۔ آپ جنگوں کے دوران یہودیوں کی داستانیں پڑھیں، آپ اندر سے دکھی ہوجائیں گے، سینکڑوں ہزاروں یہودی خاندان دو دوبرس گٹروں میں رہے انکی ایک پوری نسل گٹروں میں رہی، اور سیوریج کا پانی پی کر کھڑا ہونا سیکھا، آپ یورپ کی پہلی جنگِ عظیم بھی دیکھۓ، یہ جولائ 1914 سے 11نومبر 1918 تک،4 سال 3ماہ تک چلی،یورپ نے ان 4 برسوں میں سوا 4 کروڑ لوگوں کی قربانی دی،یہ جنگ آسٹریلیا اور نیوزی کی ہر ماں کی گود اجاڑ گئ، ترکی کا جزیرہ گیلی پولی قبرستا بن گیا، آپ آج بھی وہاں کی مٹی کی مٹھی بھریں تو انسان کی باقیات ملیں گی، آپ ان باقیات سے پوچھیں جنگیں کیا ہوتی ہیں؟ یہ آپکو جنگ کا مطلب سمجھائیں گی اگر پھر بھی پتہ نہ چلے تو آپ ویتنام، افغانستان اور افریقہ کے جنگ ذدہ علاقوں سے پوچھ لیں، ویتنام کے لوگوں نےساڑھے 19 سال جنگ بھگتی، افغانستان پچھلے35 برسوں سے لاشیں اٹھا رہا ہے،جبکہ افریقہ کے ملکوں نائیجیریا، لائبیریا، سیرالیون، صومالیہ، یوگنڈا، گنی اور سوڈان میں جنگ نے قحط کو جنم دیا، اور یہ قحط افریقہ کے ہر شخص کی آنکھ میں لکھا ہے، آپ انکی آنکھوں سے پوچھ لیں، جنک کیا ہوتی ہے؟ یہ آپکو بتائیں گے انسان جب اپنے والد، اپنے بچے اور اپنی بیوی کا گوشت ابال کر کھانے پر مجبور ہوجاتا ہے یا اپنے لختِ جگر کو زخموں سے رہائ دلانے کے لۓ گولی مارتا ہے، اسکا دل اسکی روح کہاں کہاں سےزخمی ہوتی ہے، یہ آپ کو بتائیں گے۔ ہم برصغیر کے پاک و ہند کے لوگوں نے اصلی اور مکمل جنگ نہیں دیکھی، ہندوستان کی تمام جنگیں محدود تھیں، ہم ہر پنجابی سنٹرل ایشیا کے حملہ آور کا اٹک کے پُل پر استقبال کرتے تھے، اسے ہار پہناتے، سپاہیوں کو خوراک اور گھوڑوں کو چارہ دیتے اور سیدھا پانی پت چھوڑ کر آتے“ یہ ہماری تاریخ تھی، تاریخ نے پلٹا کھایا اور انگریز پانی پت سے لاہور آگیا، ہم نے اسے بھی ہار پہناۓ، اور سیدھا جلال آباد چھوڑ کر آگۓ، انگریز باقی زندگی افغاںوں سے لڑتے رہے اور ہم انکے سہولت کار بنے رہے, ہم 1857 کی جنگِ آزادی کو ہندوستان کی عظیم جنگ سمجھتے ہیں، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ دہلی سے 75 کلومیڑ کے فاصلے میرٹھ پر شروع ہوئ اور دہلی پہنچ کر ختم ہوگئ تھی، یہ پوری جنگ دہلی کے مضافات میں لڑی گئ، اور پنجاب، سندھ، ڈھاکہ، ممبئ کے لوگوں کو خبر اس وقت ہوئ جب ملبہ سمیٹا جا چکا تھا، اور بہادر شاہ ظفر رنگون میں ” کہہ دو ان حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں” لکھ رہا تھا، ہم اگر 1965 اور 71 کا بھی تجزیہ کریں تو یہ جنگیں کم اور جھڑپیں ذیادہ محسوس ہونگی۔ 1965 کی جنگ 6 ستمبر کو شروع ہوئ اور 23 ستمبر کو ختم ہوگئ، پاک و ہند کے لوگ 17 دن کی اس مڈ بھیڑ کو جنگ کہتے ہیں، یہ دونوں ملک ہر سال اسکی سالگرہ مناتے ہیں، 65 کی جنگ میں 4 ہزار پاکستانی شہید اور 3 ہزار بھارتی ہلاگ ہوۓ تھے، یہ جنگ بھی کشمیر اور پنجاب کے بارڈر تک محدود رہی تھی، عوام کو صرف ریڈیو پر جنگ کی اطلاع ملی، 1971 کی جنگ 3دسمبر کو شروع ہوئ اور 16 دسمبر کو ختم ہوگئ، اس جنگ میں 9 ہزار پاکستانی شہید ہوۓ اور26ہزاربنگالیوبھارتیہلاکہوۓ، آپ کبھی ٹھنڈے ذہن کے ساتھ 13 اور 17 دن کی ان جنگوں کو یورپ کی 4 اور 6 سال لمبی جنگوں کے اور ان تین، چار ہزار ، اور 9 ہزار، 26 ہزار لاشوں کو یورپ کی ساڑھے چار کروڑ اور سات کروڑ لاشوں کے سامنے رکھ کر دیکھیں، آپ لاہور اور ڈھاکہ پر حملے کو دیکھیں، آپ 1965 کے پٹھان کوٹ اور چونڈا کے حملے کو دیکھیں پھر ہیروشیما، ناگاساکی، پرل ہاربر، نارمنڈی، ایمسٹرڈیم، برسلز، پیرس، لندن، وارسا، پولینڈ، برلن اور ماسکو پر حملے کو دیکھیں، اور پھر اپنے آپ سے پوچھیں جنگ کیا ہوتی ہے؟ آپکے جسم کا ایک خلیہ آپکو جنگ کی ماہیت بتاۓ گا، ہم دونوں ملک جنگ سے ناواقف ہیں، ہم جانتے ہی نہیں کہ جنگ کیا ہوتی ہے، ہم ہر سال، چھ مہینے بعد ہم ایٹم بم نکال کر دھوپ میں بیٹھ جاتے ہیں، بھارت میں چڑی بھی مر جاۓ تو الزام پاکیستان پر تھوپ دیتا ہے، ایل او سی پر معصوم شہریوں، ہند یا کشمیں میں مسلمانوں پر تشدد شروع کردیا جاتا ہے اور ہم ہر معمولی واقعات پر یہ کہہ کر ٹھنڈے ہوجاتے ہیں کہ ہم نے یہ مواد ایٹم بم “شبِ برات” پر چلانے کیلۓ نہیں بناۓ، ایٹم بم کیا ہے، اور جب یہ پھٹتا ہےتو کیا ہوتا ہے؟ ہیروشیما اور ناگاساکی کے مکینوں سے پوچھیں، میں بعض اوقات سوچتا ہوں پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک بڑی جنگ ہونی چاہۓ، جی بھر کر جنگی ارمان پورے کرلیں، یہ اپنے سارے ایٹم بم چلالیں تاکہ ایک بار برصغیر کے 110شہروں کو موہن جوڈارو بناکر دیکھ لیں، یہ خیر پور سے گوا تک پانچ ، دس کروڑ لاشیں بھی دیکھ لیں، یہ عوام کو دوا اور خوراک کے بغیر بلکتا بھی دیکھ لیں، یہ زندگی کو ایک بار پھر بجلی، پانی، سڑک ، سکول اور ہسپتال کے بغیر دیکھ لیں۔ یہ پچاس سال تک معذور بچے پیدا ہوتے بھی دیکھ لیں، یہ تب جنگ کو سمجھیں گے، یہ جاپان اور یورپ کے لوگوں کی طرح جنگ کا نام نہیں لیں گے، یہ اس وقت یورپ کی طرح اپنی سرحدیں کھولیں گے اور بھائ بھائ بن کر زندگی گزاریں گے، راوی اسکے بعد چین ہی چین لکھے گا ، یہ ہیروشیما اور وارسا بننے تک جنگ جنگ کرتے رہیں گے۔

Share:

2/23/19

Muhabbat Haqiqi or Majazi by Tahir al Qadri

Share:

2/20/19

How Eyes Work 

How Eyes Work
 Only part of the eye is visible in a person's face. The whole eye — the eyeball — is about the size and shape of a ping-pong ball. All parts of the eye are extremely delicate, so our bodies protect them in several ways. The eyeball sits in the eye socket (also called the orbit) in the skull, where it is surrounded by bone. The visible part of the eye is protected by the eyelids and the eyelashes, which keep dirt, dust, and even harmful bright light out of the eye. Eyes are also protected by tears, which moisten them and clean out dirt, dust, and other irritants that get past the defenses of the eyelashes and eyelids. Tears also help protect against infection. With each blink, our eyelids spread a layer of mucus, oil, and tears over the cornea, which covers the eye. The lacrimal glands in the upper outer corner of each eye socket produce tears, which, after moistening the eyes, flow into canals in the eyelids. These canals drain into the lacrimal sac, a pouch in the lower inner corner of each eye socket. Tears then exit through a passage that leads to the nose. To see, the eye has to move. Six extraocular muscles surround the eyeball and act like the strings on a puppet, moving the eye in different directions. The muscles of each eye normally move together at the same time, allowing the two eyes to remain aligned.
 How Vision Works
 The wall of an eyeball is made up of three layers, rather like the layers of an onion: The sclera is the outermost protective layer. This tough, fibrous tissue surrounds the eyeball and attaches to the cornea, which is the clear front surface of the eye. What we see as the white of the eye is the sclera. Over the sclera lies the conjunctiva, a clear skin layer that protects the eye from becoming dry.The choroid is the middle layer that contains blood vessels that deliver oxygen and nutrients to the inside parts of the eye.The retina, the innermost of the three layers, lines the inside of the eyeball. The retina is a soft, light-sensitive layer of nervous system tissue. The optic nerve carries signals from the retina to the brain, which interprets them as visual images. The space in the center of the eyeball is filled with a clear jelly-like material called the vitreous humor. This material allows light to pass through to the retina. It also helps the eye keep its round shape. Vision is the process by which images captured by the eye are interpreted by the brain, and the visible part of the eye is where the process of sight begins. On the front surface of the eye is the see-through, circle-shaped cornea. You can't see a person's cornea the way you can see the colored part of the eye behind it — the cornea is like a clear window that focuses light into the eye. Behind the cornea is a watery fluid called the aqueous humor. The cornea and aqueous humor form an outer lens that refracts (bends) light on its way into the eye. This is where most of the eye's focusing work is done. The colored circular membrane in the eye just behind the cornea is called the iris. The iris controls the amount of light entering the eye through the pupil, which is the opening in the center of the iris that looks like a tiny black circle. Like a camera, which controls the amount of light coming in to prevent both overexposure and underexposure, the iris becomes wider and narrower, changing the size of the pupil to control the amount of light entering the eye. The pupil gets bigger when more light is needed to see better and smaller when there's plenty of light. The eye's lens sits just behind the iris. Just like a camera lens, the eye's lens focuses light to form sharp, clear images. Light that has been focused through the cornea and aqueous humor hits the lens, which then focuses it further, sending the light rays through the vitreous humor and onto the retina. To focus on objects clearly at varying distances, the eye's lens needs to change shape. The ciliary body contains the muscular structure in the eye that changes the shape of the eye's lens. In people who have normal vision, the ciliary body flattens the lens enough to bring objects into focus at a distance of 20 feet or more. To see closer objects, this muscle contracts to thicken the lens. Young children can see objects at very close range; many people over 45 have to hold objects farther and farther away to see them clearly. This is because the lens becomes less elastic with age. The retina (the soft, light-sensitive layer of tissue that lines the back of the eyeball wall) is made up of millions of light receptors called rods and cones. Rods are much more sensitive to light than cones. Each eye has about 125 million rods that help us see in dim light and detect shades of gray, but they cannot distinguish colors. In comparison, the 6 million cones in each eye allow us to see in bright light and they also sense color and detail. The macula is a small, specialized area on the retina that helps the eyes see fine details when we look directly at an object. It contains mainly cones and few rods. When focused light is projected onto the retina, it stimulates the rods and cones. The retina then sends nerve signals are sent through the back of the eye to the optic nerve. The optic nerve carries these signals to the brain, which interprets them as visual images. The portion of the brain that processes visual input and interprets the messages that the eye sends is called the visual cortex. As in a camera, the eye's lens transmits light patterns upside down. The brain learns that the impulses received from the upper part of the retina are really from the lower part of the object we're seeing and vice versa. Most people use both eyes to see an object. This is called binocular vision, and images are formed on the retina of each eye. These images are slightly different because the object is being viewed from slightly different angles. Nerve signals representing each image are sent to the brain, where they are interpreted as two views of the same object. Some of the nerve fibers from each eye cross, so each side of the brain receives messages from both eyes. Through experience, the brain learns to judge the distance of an object by the degree of difference in the images it receives from the two eyes. This ability to sense distance is called depth perception.  
Share:

How Can I Help Keep My Child's Heart Healthy? 

How Can I Help Keep My Child's Heart Healthy?
 To help keep your child's heart healthy:
1: Encourage plenty of exercise.
2: Offer a nutritious diet.
3: Help your child reach and keep a healthy weight.
4: Go for regular medical checkups.
5: Tell the doctor about any family history of heart problems.
6:  Let the doctor know if your child has any chest pain, trouble breathing, or dizzy or fainting spells; or if your child feels like the heart sometimes goes really fast or skips a beat.  
Share:

2/18/19

ادارہ معین الاسلام بیربل شریف

سیکرٹری اسلامی نظریاتی کونسل پروفیسر ڈاکٹر اکرام الحق    یسین کی خوبصورت تحریر
 آج 17 فروری 2019 بروز اتوار ضلح سرگودہا کی تحصیل شاہ پور صدر کے ایک چھوٹے سے گاؤں بیربل شریف میں منعقد ہونے والے ایک بڑے جلسۂ تقسیمِ انعامات میں شرکت کا موقع ملا. یہ تقریب ادارہ معین الاسلام کے امتیازی نمبر لے کر پاس ہونے والے طلبہ کے اعزاز میں منعقد کی گئی تھی ماشاءاللہ طلبہ کا نظم و ضبط, فوجی طرز کا استقبال, قومی ترانہ, قطار بندی, مختلف درجات کے طلبہ کی مختلف وردیاں, فضلاء کے گریجویشن گاؤن اور ٹوپیاں ادارے کے سربراہ عالی قدر پروفیسر الحاج محبوب حسین صاحب چشتی اور ان کی ٹیم کے اعلیٰ ذوق اور خلوص و لگن کی واضح علامت تھے. تعلیمی پہلو سے تجوید و قرأت, ادیب عربی, فاضل عربی, درسِ نظامی میں تنظیم المدارس کے تحت ثانویہ سے لے کر عالمیہ تک, عصری تعلیم میں سرگودہا بورڈ کے تحت میٹرک اور ایف-اے سے لے کر لاہور اور سرگودہا کی یونیورسٹیوں میں ایم-اے عربی, ایم-اے اردو, ایم-اے فارسی, ایم-اے پنجابی اور ایم-فل تک کے فضلاء کی ایک خاطر خواہ تعداد انعامات وصول کرنے کے لیے موجود تھے. پروگرام کی انتظامیہ نے بتایا کہ انعامات صرف ان لوگوں کو دیے جا رہے ہیں جنہوں نے اعلیٰ معیار کے نمبر حاصل کیے ہیں ورنہ فضلاء کی تعداد بہت زیادہ ہے. اس خوش گوار سفر اور اعزاز کا سہرا برادرِ عزیز ڈاکٹر ابوبکر بھٹہ کے سر ہے جو اس پروگرام میں نہ صرف دعوت اور شرکت کا ذریعہ بنے بلکہ پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان, ڈاکٹر قاسم بھٹہ, اسامہ بھٹہ اور دیگر احباب کے ساتھ قافلے کی صورت میں بیربل شریف کے سفر کے ہمراہی بھی ہوئے. اس پروگرام میں پروفیسر ڈاکٹر سفیر اعوان, پنجاب یونیورسٹی سے پروفیسر ڈاکٹر قمر علی زیدی, ڈاکٹر ابوبکر بھٹہ اور دیگر فضلاء کے اہم خطابات سننے کا موقع بھی ملا. حق تو یہ ہے کہ ناظمِ ادارہ پروفیسر(ریٹائرڈ) محبوب حسین چشتی صاحب اس ملک کے گمنام سپاہی ہیں جو انتہائی خاموشی سے دنیا کے ہلے گلے سے دور اپنی دھن میں مگن علم, ملک اور قوم کی خدمت میں مگن ہیں. ان کی انکساری کا مرقع حسنِ خلق سے مزین مہمان نوازی کی دلدادہ شخصیت نے اس موقع کو یادگار بنا دیا. پروفیسر ڈاکٹر اکرام الحق یاسین
Share:

2/13/19

Coffeine How much is too much?

            How much is too much? Up to 400 milligrams (mg) of caffeine a day appears to be safe for most healthy adults. That's roughly the amount of caffeine in four cups of brewed coffee, 10 cans of cola or two "energy shot" drinks. Keep in mind that the actual caffeine content in beverages varies widely, especially among energy drinks.
               Although caffeine use may be safe for adults, it's not a good idea for children. Adolescents should limit caffeine consumption. Avoid mixing caffeine with other substances, such as alcohol. Even among adults, heavy caffeine use can cause unpleasant side effects. And caffeine may not be a good choice for people who are highly sensitive to its effects or who take certain medications. Women who are pregnant or who are trying to become pregnant and those who are breastfeeding should talk with their doctors about limiting caffeine use. Read on to see if you may need to curb your caffeine routine. You drink more than 4 cups of coffee a day You may want to cut back if you're drinking more than 4 cups of caffeinated coffee a day (or the equivalent) and you're experiencing side effects such as:  
1: headacheInsomnia
2:Nervousness
3:Irritability
4:Restlessness
5:Frequent urination or inability to control urination
6:Stomach upset
7:Fast heartbeat
8:Muscle tremors
Share:

Energy Drinks Are not Good for Health.


      People are usually not aware of the combined effects of Caffeine with other products in energy drinks, nor are aware of the amount of Caffeine in various brands. These drinks are attractive especially for our male teenage population and are easily available at local shops, big grocery stores, gas stations, clubs and even food courts of shopping malls. Different brands of energy drinks available in Pakistan include Sting, Red bull, Power Horse, Gold Street, Firer Horse etc. Children and adolescents who are not regular Caffeine users are prone to Caffeine intoxication due to absence of pharmacological tolerance  .
               There are numerous false perceptions in the society about the positive benefits and harmful effects of energy drinks. There is a strong need to create awareness through health education regarding these drinks especially among children as they are exposed to an ever-increasing range and easily accessible energy drinks market. There is also a strong need of legislation regarding mandatory labeling of exact caffeine content of these drinks and with strong health warning regarding potential health risks. These health warnings must also be included in TV commercials and print media advertisements.
Share:

2/12/19

Your help may never come from people 

A big lesson! Your help may never come from people you know, love or share your life with. You might be suffering, your family, friends, colleagues who know your ordeal may just be watching you agonising without lending you a hand. Even those you helped in the past would turn their back on your. I have had many moments like that but God always sends a helper, a times a total stranger but many a times it could be someone you took for granted or never expected to be of help or simply someone you thought that didn't care about you . Watch the video to the end and you will understand what I mean. No matter how tough/ cruel life is treating you, DON'T give up, help is on the way. May God grant you the miracles you need in your lives۔۔

Share:

1/26/19

صحت بھری نظم حکیم سعید صاحب



یہ نظم آج سے 35 سال قبل حکیم سعید صاحب نے کہی تھی ،

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے
وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے

اگر خوں کم بنے، بلغم زیادہ
تو کھا گاجر ، چنے ، شلغم زیادہ

جگر کے بل پہ ہے انسان جیتا
اگر ضعف جگر ہے کھا پپیتا

جگر میں ہو اگر گرمی کا احساس
مربّہ آملہ کھا یا انناس

اگر ہوتی ہے معدہ میں گرانی
تو پی لی سونف یا ادرک کا پانی

تھکن سے ہوں اگر عضلات ڈھیلے
تو فوراََ دودھ گرما گرم پی لے

جو دکھتا ہو گلا نزلے کے مارے
تو کر نمکین پانی کے غرارے

اگر ہو درد سے دانتوں کے بے کل
تو انگلی سے مسوڑوں پر نمک مَل

جو طاقت میں کمی ہوتی ہو محسوس
تو مصری کی ڈلی ملتان کی چوس

شفا چاہیے اگر کھانسی سے جلدی
تو پی لے دودھ میں تھوڑی سی ہلدی

اگر کانوں میں تکلیف ہووے
تو سرسوں کا تیل پھائے سے نچوڑے

اگر آنکھوں میں پڑ جاتے ہوں جالے
تو دکھنی مرچ گھی کے ساتھ کھا لے

تپ دق سے اگر چاہیے رہائی
بدل پانی کے گّنا چوس بھائی

دمہ میں یہ غذا بے شک ہے اچھی
کھٹائی چھوڑ کھا دریا کی مچھلی

اگر تجھ کو لگے جاڑے میں سردی
تو استعمال کر انڈے کی زردی

جو بد ہضمی میں تو چاہے افاقہ
تو دو اِک وقت کا کر لے تو فاقہ



Share:

حضرت عبد اللہ بن زبیر.Abdullah Bin Zubair (RA)...c



حضرت عبد اللہ بن زبیر بالاتفاق اسلام کی ایک اہم اور قد آور شخصیت ہیں۔مورخین کے لیے آپ کی شخصیت کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔ اس لیے تمام نے آپ کا تذکرہ کیا ہے۔خاندانی شرف و کمال, زہد و تقوی حق گوئی شجاعت اور دوسری کئی خصوصیات کی بنا پر آپ کا شمار اکابر صحابہ کرام میں ہوتا ہے۔آپ جلیل القدر صحابہ زبیر بن عوام کے صاحبزادے اور حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کے نواسے اور ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھے۔ آپ کی والدہ حضرت اسماء بنت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنھما ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ نے ذات النطاقین کا لقب عطا کیا ہے ۔حضرت عبد اللہ بن زبیر 2ھجری کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کا اسم عبد اللہ جبکہ کنیت ‘ابو بکر’ خود رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابو بکر صدیق ؓ کی نسبت سے مقرر فرمائی۔جبکہ دوسری کنیت ابو خبیب آٓپ کے بیٹے خبیب کی وجہ سے منقول ہے۔ہجرت مدینہ کے بعد جب مدینہ میں کچھ عرصہ تک مسلمانوں کے ہاں بچے نہ پیدا ہوئے تو یہودیوں نے یہ بات پھیلانی شروع کی کہ ہم نے جادو اور سحر کاری سے مسلمانوں کے ہاں بچوں کی ولادت کی بندش کر دی ہے۔ کہ ان کے ہاں اب کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا ۔ مگر جب حضرت عبد اللہ بن زبیر کی ولادت ہوئی تو صحابہ کرام نے نعرہ تکبیر بلند کیا ۔ آپ کی والدہ حضرت اسماء آپ کو حضور ﷺ کی بارگاہ میں لے کر حاضر ہوئیں آپ ﷺ نے اپنی گود میں اٹھایا اور اپنا لعاب دہن آپ ؓ کے منہ میں لگایا اور کھجور کی گھٹی دی اور خیر و برکت کی دعا کی۔ (مسند الامام احمد)
آپ کا سلسلہ نسب اس طرح ہے عبد اللہ بن زبیر بن عوام بن خویلد بن اسد بن عبد العزی بن قصئی۔ جناب قصئی پر آپ کا سلسلہ نسب حضور ﷺ کے ساتھ مل جاتا ہے اس طرح ننہال کی طرف سے آپ کا سلسلہ نسب حضور ﷺ کے شجرہ کے ساتھ مرہ پر جا کر مل جاتا ہے خاندانی شرف وکمال کی وجہ سے آپ کے قالبِ خاکی میں بہت سے اوصاف جمع ہو گئے تھے ۔ جن کا اظہار ان کی زندگی میں پے درپے ہوتا رہا ہے۔جن کاتذکرہ کتبِ تواریخ میں موجود ہے جو صحابہ کرام کی سیرت کے قاریوں کے دل موہ لیتا ہے۔ آپ کی خاندانی عظمت کے بارے میں برملا کہا جا تا ہے کہ اگر آپ کا ددھیال آفتاب ہے تو آپ کا ننھیال مہتاب ہے۔حضرت عبد اللہ بن عباس حضور ﷺ کے چچا زاد نے ایک موقع پر آپ کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے ‘ جہاں تک حضرت عبد اللہ بن زبیر کے والد کا تعلق ہے تو وہ رسول اللہ ﷺ کے حواری تھے اور اور رہی بات ان کے نانا کی تو وہ رسول اللہ ﷺ کے رفیق ِ غار تھے۔ اور ان کی والدہ ذات النطاقین ہیں یعنی حضرت اسماء اور آپ کے خالہ ام المؤمنین ہیں یعنی حضرت عائشہ اور ان کی پھوپھی حضور ﷺ کی زوجہ تھیں یعنی حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا اور رسول اللہ ﷺ کی پھوپھی ان کی دادی ہیں یعنی حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اور وہ خود اسلام میں پاکباز ہیں اور قارئ قرآن ہیں۔(صحیح بخاری( تو حضرت عبد اللہ کی ذات  میں درج بالا عظیم المرتبت شخصیتوں جیسے کمالات اور اوصاف کا پایا جانا خاندانی شرف اور تربیت و صحبت کا مرہون منت بھی ہے۔
آپ کو براہ راست بارگاہ رسالتِ مآبﷺ  سے فیض یاب ہونے کا موقع بہت کم ملا ہےکیوں کہ ان کی عمر ابھی نو برس تھی کہ آپ ﷺ کا ظاہری وصال ہو گیا۔اس کے باوجود کتب احادیث میں ان کی مروی احادیث کی تعداد تینتیس ۳۳ ہے جو کہ انکی زبردست قوت حافظہ کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺ نے پچھنے لگوائے اور جو خون نکلا وہ حضرت عبد اللہ بن زبیر کو دے کر فرمایا کہ اسے کسی جگہ دبا دو یا کسی ایسی جگہ چھپا دینا کہ کسی کو نظر نہ آئے۔آپ گو کہ کم عمر تھے مگر آپ ﷺ سے بے پناہ محبت کرتے تھے آپ نے رسول اللہ ﷺ سے خون لیا اور  نظر سے اوجھل ہو کر پی لیا واپس آئے تو رسول اللہ ﷺ نے وچھا تو عرض کیا میں نے اپنے مطابق سب سے محفوظ جگہ رکھ دیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ایسا محسوس ہوتا ہے تو اس کو پی گیا ہے۔ تو عرض کیا ہاں یا رسول اللہ۔ تو آپ ﷺ نے فرمایا جس کے بدن میں میرا خون جائے گا جہنم کی آگ اس کو نہیں چھو سکتی ۔(حکایات صحابہ)
تعلیم و تربیت میں آپ نے اپنے والدین اور خالہ سیدہ عائشہ ؓ سے خوب استفادہ کیا۔ یہ بات بھی آپ کی ذہانت اور راسخ العقل ہونے کی دلیل ہے آپ کے لڑکپن میں آپ سے لوگوں نے پوچھا کہ ؛ آپ کے نزدیک عالم اور درویش ہونا بہتر ہے یا تونگر اور جاہل ہونا تو آپ نے فرمایا علم کا درویشی کے ساتھ ہونا اچھا ہے کیوں کہ جب میں عالم ہوں گا تو ہو سکتا ہے کہ اپنے علم کی وجہ سے میں دولت مند ہو جاوں اس وقت عالم بھی ہوں گا اور مالدار بھی مگر رہی بات جاہل ہونے کی تو جب جاہل ہوں گا تو ممکن ہے کوئی ایسی بات کروں جس سے میرا مال بھی جاتا رہے پھر میرے پاس جہالت اور درویشی باقی رہ جائے گی۔
حضرت عبد اللہ بن زبیر بچپن سے ہی نڈر اور بہادر تھے جنگ خندق کے وقت ان کی عمر پانچ برس تھی ان کی عمر کے بچے جنگ کا منظر دیکھنے کی جرات بھی نہیں کر سکتے تھے مگر ننھے عبد اللہ یہ منظر بڑی دلچسپی سے دیکھا کرتے تھے۔
آپ کی شخصیت میں بڑائی اور عظمت کے آثار بڑے واضح تھے شجاعت بہادری حسب و نسب عزت و وقار علم و فضل حق گوئی غیر معمولی قوت حافظہ اور شعلہ بیانی جیسے اوصاف سے متصف شخصیت کے مالک تھےخلافت راشدہ کے زمانے میں آپ نے کئی مہمات میں شجاعت و بہادری کے جوہر دکھائے تھے ۷۳ ھجری میں حجاج بن یوسف کے مکہ پر حملہ کے دوران آپ نے جامِ شہادت نوش فرمایا۔



ماخذ
صحیح بخاری۔۔ مسند امام احمد ۔۔۔الاصابہ ۔ الاسد الغابہ۔۔۔الاستیعاب۔۔سیرت حضرت  عبد اللہ بن زبیر ۔۔۔۔ حکایاتِ صحابہ

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive