Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

10/26/25

وحی اور عقل پرستی | عقل کے ناقص ہونے پر سائنسی دلائل | Divine Revelation and Rationalism: The Limits of Human Intellect

وحیِ الٰہی اور عقلیت پرستی

عصرِ حاضر میں انسانی فکر ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں عقل کو علم کا واحد سرچشمہ، اور وحی کو محض انسانی تخیل یا تاریخی روایت سمجھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جدید فلسفہ، سائنسی ترقی، اور مادیت پر مبنی فکر نے انسان کے اندر یہ گمان پیدا کیا کہ وہ محض عقل کی بنیاد پر حقیقتِ کائنات کو سمجھ سکتا ہے۔ مگر جب ہم عقل کے اپنے دائرے میں اترتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ خود اپنی حدود سے آگاہ نہیں، اور ہر بار کسی نہ کسی مقام پر ٹھہر جاتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں وحیِ الٰہی انسان کو وہاں روشنی عطا کرتی ہے جہاں عقل کے چراغ بجھ جاتے ہیں۔ زیرِ نظر مقالہ اسی حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ عقل ایک عظیم نعمت ضرور ہے مگر مکمل علم کا ذریعہ نہیں، اور وحی ہی وہ الہامی روشنی ہے جو انسان کو حقیقتِ مطلقہ تک رسائی دیتی ہے۔

میں نے اپنے مقالہ کو تین پہلووں میں تقسیم کیا ہے :

۱۔عقل پرستی کی تاریخی و فکری بنیادیں

۲۔عقل کی ناتمامی پر سائنسی و فلسفیانہ دلائل

۳۔ قرآن میں عقل پرستی کی تردید اور وحی کی برتری

وحی کا واضح موقف ہے :::: اگر وحی ناقص ہو اور عقل تام ہو تو کبھی بھی وحی عقل کے حق میں دلائل نہ دیتی اور نہ انسان کو عقل کےاستعمال کرنے کی ترغیب دیتی ، بار بار انسان کو افلا تعقلون ، افلا یعلمون ، افلا یتذکرون ، افلا یتدبرون  کہہ کر نہ جھنجھوڑتی، ، ، وحی عقل کے استعمال پر زور دیتی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وحی ایک سپریم پاور ہے اور اپنے اندر ایک مکمل اعتماد رکھتی ہے کہ عقل ناقص ہے اور وحی تام ہے۔

 

 (۱۔عقل پرستی کی تاریخی و فکری بنیادیں )  تاریخِ انسانی میں عقل پرستی کا آغاز یونانی فلسفہ سے ہوا

·       سقراط (Socrates) —  470 تا 399 قبلِ مسیح

·       افلاطون(Plato) —  427 تا 347 قبلِ مسیح

·       ارسطو(Aristotle) —  384 تا 322 قبلِ مسیح

 مگر اس نے اپنے عروج کو یورپ کی روشن خیالی (Enlightenment) کے دور میں پایا، جہاں انسان نے کہا: “میں سوچتا ہوں، اس لیے میں ہوں!” یہ اعلان دراصل وحی کے مقابل عقل کو “مطلق اتھارٹی” بنانے کا اعلان تھا۔

یونانی فلاسفرز کے بعد ابتدائے اسلام میں مشرکین  کے جملے اور اعتراضات بھی بتاتے ہیں:

وَقَالُوا أَإِذَا ضَلَلْنَا فِي الْأَرْضِ أَإِنَّا لَفِي خَلْقٍ جَدِيدٍ

إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءنَا عَلَى أُمَّةٍ وَإِنَّا عَلَى آثَارِهِم مُّقْتَدُونَ

 (الزخرف: 23) “ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راہ پر پایا ہے اور ہم انہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں

بَلْ كَذَّبُوا بِمَا لَمْ يُحِيطُوا بِعِلْمِهِ

(یونس: 39) “بلکہ انہوں نے جھٹلایا اس چیز کو جسے وہ اپنے علم سے گھیر نہ سکے۔

 

(۲۔عقل کی ناتمامی پر سائنسی و فلسفیانہ دلائل)

لیکن جدید سائنس — جسے عقل کی سب سے بڑی کامیابی سمجھا جاتا ہے — آج خود یہ اعتراف کر چکی ہے کہ انسانی عقل محدود، متعصب اور ناقص ہے۔ سائنس بتاتی ہے کہ ہمارا دماغ حقیقت کو مکمل طور پر perceive نہیں کر سکتا، ہم صرف “جزوی حقیقت” دیکھتے ہیں، اور باقی کو فرضیات (Assumptions) سے پُر کرتے ہیں۔

انسانی عقل کو ہمیشہ سے علم و حقیقت تک رسائی کا اعلیٰ ذریعہ سمجھا گیا ہے، مگر جدید سائنس، فلسفۂ منطق اور نیورولوجی نے خود اس مفروضے کی اساس کو متزلزل کر دیا ہے۔ عقل اپنی ساخت کے لحاظ سے محدود، حیاتیاتی اور خطاپر مبنی مظہر ہے۔ یہ صرف محسوسات سے ماخوذ معلومات پر انحصار کرتی ہے اور ما بعد الطبیعی حقائق تک رسائی نہیں رکھتی۔ اس حصے میں عقل کی ناتمامی کو جدید سائنسی تحقیقات اور عقلی دلائل کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے

علامہ ابن خلدون کہتے ہیں کہ مغلوب قوم ہمیشہ غالب قوم کی نقالی کرتی ہےاور اس کو معتبر سمجھتی ہے، ان کے اس اصول کے مطابق اس دور پر فتن میں بے شمار ، سکالرز  (بغیر مذہبی تفریق کے) اہل مغرب  کی علم و دانش اور فہم و فراست کے گیت گاتے ہیں اور انہیں کے فہم کو اپناتے ہوئے اسلام کے متفقہ عقائد کی تاویل کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جن میں سر سید جیسے نام بھی شامل ہیں اور یقینا امت مسلمہ ان کی ان تاویلات کو مسترد کر چکی ہے۔

        اس وجہ سے میں عقل کی کمزوری پر انہیں کے گھر سے چند ایک دلائل ذکر کروں گا، شاید کہ گھر کی گواہی کو زیادہ معتبر سمجھا جائے، ورنہ وحی تو روز ازل سے ہی یہ اعلان کر رہی ہے کہ عقل ناتمام ہے اور وحی الہی ہی اصل علم و شعور کا سرچشمہ ہے۔

1.  عقل ایک حیاتیاتی عمل — کمال سے عاری

عقل دماغ کا ایک حیاتیاتی (neural-biological) عمل ہے، جو صرف مادی معلومات (material data) پر کام کرتا ہے۔ چونکہ دماغ خود نامیاتی ساخت رکھتا ہے، اس لیے اس کے نتائج بھی حیاتیاتی حدود کے اندر قید ہیں۔

 🧠 Christof Koch 2018  (The Feeling of Life Itself )

“Consciousness is a biological property, not an all-knowing entity.”

یعنی عقل حقیقتِ مطلق کا ادراک نہیں کر سکتی، بلکہ صرف جاندار وجود کے تجربات کی عکاسی ہے۔ یہ اس امر کا سائنسی ثبوت ہے کہ عقل کائنات کی کلی (total) حقیقت کا احاطہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی۔

2.   عقل کا ماخذ حواس ہیں — اور حواس محدود

عقل کا پورا سرمایہ حواسِ خمسہ سے آتا ہے، اور حواس کی محدودیت بدیہی و سائنسی حقیقت ہے۔

👁 آنکھ صرف 400–700 نینو میٹر کے درمیان روشنی دیکھ سکتی ہے۔

👂 کان صرف 20Hz–20kHz کی آواز سن سکتے ہیں۔

🧬 دماغ ان محدود احساسات سے آگے کسی حقیقت کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

Bear, Connors & Paradiso (2016), Neuroscience: Exploring the Brain, 4th ed.

یہ وہ نکتہ ہے جہاں عقل کا محدود ہونا فطری (natural) اور سائنسی دونوں حیثیتوں سے ثابت ہوتا ہے۔

 

3.  انسانی عقل کے اندر “Biases” اور “Errors” کا فطری وجود

سائنس نے تسلیم کیا ہے کہ انسانی عقل معروضی (objective) نہیں۔ بلکہ وہ تعصب، احساسات، اور سابقہ تجربات سے متاثر ہوتی ہے۔

📖 Kahneman (2011) لکھتے ہیں:

Human reasoning is not a machine of truth but a mechanism of justification.”

یعنی انسان عقل کو سچائی تک پہنچنے کے لیے نہیں بلکہ اپنے موقف کو درست ثابت کرنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

یہ Biases (جیسے Confirmation Bias, Anchoring, Framing Effect) یہ ظاہر کرتے ہیں کہ عقل خود اپنی خطا کو پہچاننے سے قاصر ہے۔

4.   “Quantum Uncertainty” — حقیقت کا ادراک مشاہدے سے بدل جاتا ہے

سائنس کے مطابق، مشاہدہ خود حقیقت کو تبدیل کر دیتا ہے۔ یہ اصول Heisenberg کے “Uncertainty Principle” سے ظاہر ہوتا ہے۔

Heisenberg ہیوجن برگ(1927):

The more precisely we measure one property, the less precisely we can know the other.”

یہ اصول ثابت کرتا ہے کہ عقل اور تجربہ کسی شے کی حقیقتِ مطلقہ تک رسائی نہیں رکھتے

یعنی یہ اصول بتاتا ہے کہ کسی ذرّے (particle) کی دو چیزوں — مثلاً: مقام (position) اور حرکت یا رفتار (momentum) — کو ایک ساتھ بالکل درست طریقے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ یعنی اگر ہم کسی ذرّے کا مقام بہت درست معلوم کر لیں، تو اس کی رفتار کے بارے میں ہمارا علم اتنا ہی غیر یقینی ہو جائے گا، اور اگر رفتار بالکل ٹھیک معلوم کر لیں تو مقام کے بارے میں یقین نہیں رہے گا۔

5.   “Gödel’s Incompleteness Theorem” — منطق کی اپنی بنیاد غیر کامل

اگر عقل کا سب سے مضبوط آلہ "منطق" ہے، تو منطق خود اپنی حدود میں قید ہے۔ 🧮 Gödel (1931) نے ثابت کیا کہ:

 “No consistent system of logic can prove all truths within itself.”

یعنی کوئی عقلی نظام اپنی حدود سے باہر نہیں نکل سکتا۔

کُرٹ گوڈل (Kurt Gödel) نامی ریاضی دان نے 1931ء میں یہ نظریہ پیش کیا۔ اس نے بتایا کہ اگر کوئی منطقی یا ریاضیاتی نظام (system of logic or mathematics) مکمل اور درست اصولوں پر قائم بھی ہو، تب بھی اس نظام کے اندر کچھ ایسے جملے یا حقائق ضرور موجود ہوں گے جو سچ تو ہوں گے، مگر اُنہیں اسی نظام کے اصولوں سے ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ یعنی: ہر منطقی نظام محدود ہے۔ کوئی بھی نظام اپنی ذات سے باہر کے سچ کو نہیں سمجھ سکتا۔ ہر نظام کو کسی اعلیٰ سطح کے ماخذ (higher source) کی ضرورت رہتی ہے تاکہ وہ اپنے اندر کے خلا کو پُر کر سکے۔

 

6.   Evolutionary Biology — عقل “حق” نہیں، صرف “مفاد” کے مطابق سوچتی ہے

سائنس کے مطابق انسانی دماغ ارتقاء کے نتیجے میں بنا۔ اس کا مقصد حقیقت کا ادراک نہیں بلکہ بقا (Survival) ہے۔

📘 Deacon (1997), The Symbolic Species:

Human cognition evolved to ensure survival, not to discover absolute truths.”

یعنی عقل کے فیصلے "درست" ہونے کی ضمانت نہیں دیتے، صرف "کارآمد" ہونے کی دیتے ہیں۔

یہ وحی کی طرف ایک اور اشارہ ہے کہ اگر عقل بقاء کے لیے بنی ہے، تو حقیقت بتانے کے لیے وحی ضروری ہے۔

 

7.  Memory Error — علم کا بنیادی ذریعہ ناقابلِ اعتماد

نیورولوجی کے مطابق انسانی حافظہ “ریکارڈنگ” نہیں، بلکہ “تخلیق” کرتا ہے۔ ہر بار یاد کرنے پر دماغ حقیقت کو تھوڑا سا بدل دیتا ہے۔

📘 Loftus (2005), Learning & Memory:

Memory is reconstructive; it is not a replay of reality.”

اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنے تجربات کی درست تعبیر بھی برقرار نہیں رکھ سکتا —تو وحی کے بغیر “حقیقت” تک رسائی کیسے ممکن ہو؟

 

8.  شعور (Consciousness) کا سائنسی معمہ

سائنس اب تک یہ نہیں بتا سکی کہ شعور کہاں سے آتا ہے۔ یہ خود عقل کی سب سے بڑی شکست ہے۔

Koch (2018(

We do not know how consciousness arises from the physical brain.”

یعنی عقل اپنے ہی وجود کی اصل نہیں جانتی، تو کائنات کی اصل کو کیا جانے؟

 

(۳۔ قرآن میں عقل پرستی کی تردید اور وحی کی برتری)

عقل کے مقابل وحی کی برتری — قرآن مجید سے استدلال

قرآنِ کریم نے عقل کی اہمیت ضرور بیان کی، مگر اسے مطلق نہیں مانا۔ وہ اسے *تفکر* اور *تدبر* کا ذریعہ تو قرار دیتا ہے، مگر علمِ کامل کا نہیں۔

وحی کا مفہوم اور اس کی معرفتی حیثیت

 قرآن مجید میں وحی کو علمِ یقینی اور ہدایتِ کامل کا سرچشمہ قرار دیا گیا: "وَأَنزَلَ اللّهُ عَلَيْكَ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَعَلَّمَكَ مَا لَمْ تَكُنْ تَعْلَمُ" (النساء: 113) "اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی، اور تمہیں وہ سکھایا جو تم نہ جانتے تھے۔" یہ آیت واضح کرتی ہے کہ انسان کی عقل بذاتِ خود حقیقتِ مطلقہ تک رسائی نہیں رکھتی، بلکہ وہ وحی سے رہنمائی کی محتاج ہے۔ اسلامی فلسفۂ علم (Epistemology of Revelation) کے مطابق، وحی علم کا الٰہی ماخذ (Divine Source) ہے، جبکہ عقل ایک بشری آلہ (Human Instrument) ہے۔ وحی انسان کو وہ معارف عطا کرتی ہے جو تجربے، مشاہدے یا قیاس سے بالاتر ہیں، مثلاً ما بعد الطبیعیات (Metaphysics)، آخرت، اخلاقِ مطلق، اور الوہیت۔

1.   علم کی محدودیت کا اعلان: “وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا” (الإسراء: 85) “اور تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا دیا گیا ہے۔” یہ آیت انسان کے ہر علمی و سائنسی غرور کو چیلنج کرتی ہے

2.   ظن اور گمان کی بے ثباتی:إِن يَتَّبِعُونَ إِلَّا الظَّنَّ وَإِنَّ الظَّنَّ لَا يُغْنِي مِنَ الْحَقِّ شَيْئًا” (النجم: 28) “وہ گمان کے پیچھے چلتے ہیں، اور گمان ہرگز حقیقت کا بدل نہیں۔” یہ عقل کی Epistemological Failure ہے — یعنی عقل کے نتائج “ظن” سے آگے نہیں بڑھتے۔

3.   وحی بطور “نور” — عقل بطور “آئینہقَدْ جَاءَكُم مِّنَ اللّـٰهِ نُورٌ وَكِتَابٌ مُّبِينٌ” (المائدہ: 15) “تمہارے پاس اللہ کی طرف سے ایک نور اور واضح کتاب آ گئی ہے۔” عقل خود نور نہیں، بلکہ وہ نورِ وحی سے منور ہوتی ہے۔ وحی وہ قوت ہے جو عقل کی بصارت کو روشنی عطا کرتی ہے۔

4.   وحی کے بغیر عقل کی بے بسی:وَلَوْلَا فَضْلُ اللّـٰهِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُهُ لَكُنتُم مِّنَ الْخَاسِرِينَ” (البقرہ: 64) “اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی، تو تم خسارے میں رہ جاتے۔” یعنی وحی کے بغیر عقل “خسرانِ حقیقت” میں مبتلا ہو جاتی ہے۔

v  تمام سائنسی و فلسفیانہ تجزیات سے واضح ہے کہ:

 عقل ادراکِ محدود رکھتی ہے

تعصب، تجربہ، اور احساسات سے متاثر ہوتی ہے

مادی دائرے سے باہر نہیں جا سکتی

منطق اور علم دونوں اپنے اندر نامکمل ہیں

 لہٰذا وحی وہ واحد ذریعۂ علم ہے جو عقل کی ناتمامی کو مکمل اور انسانی علم کو ما بعد الطبیعی حقیقت سے جوڑتی ہے۔ “عقل کا کام راستہ دکھانا ہے، منزل نہیں بنانا۔ منزل صرف وحی بتاتی ہے — اور یہی اس کی فوقیت کا راز ہے۔” 

نتیجہ:

 سائنس، منطق، اور فلسفہ — تینوں اس حقیقت پر متفق ہیں کہ عقل **ناتمام** ہے: * اس کے وسائل محدود ہیں، * اس کے فیصلے متغیر ہیں، * اس کی بنیاد ظن و قیاس ہے، * اور اس کا دائرہ محسوسات تک محدود ہے۔ جبکہ وحی، جو علمِ الٰہی کا ظہور ہے، وہ عقل کو روشنی عطا کرتی ہے۔ عقل روشنی کو سمجھ سکتی ہے، مگر پیدا نہیں کر سکتی۔ > **عقل چراغ ہے، مگر روشنی نہیں؛ > روشنی صرف وحی سے ملتی ہے۔

سائنس کی آج تک کی تمام تر کھوج ، تجربات ، مشاہدات  کوئی بھی وحی کی کسی بات کا رد نہیں کر سکے ، بلکہ جب بھی سائنس کا کوئی متفقہ اصول اور تجربہ شدہ مشاہدہ سامنے آیا اس نے وہی نتیجہ نکالا جو وحی نے پہلے بتایا تھا۔ (یہ ایک الگ سے موضوع ہے جس پر کئی مقالاہ جات پیش کیے جا سکتے ہیں اور یقینا کیے جا چکے ہیں)

محترم حاضرینِ کرام! انسانی عقل، یقیناً خالق کی ایک عظیم نعمت ہے۔ اسی کے ذریعے انسان نے زمین کے راز کھولے، فضا میں اڑا، اور ایٹم کے دل تک پہنچا۔ مگر عقل کے تمام تر کارناموں کے باوجود وہ “حقیقتِ مطلقہ” تک نہیں پہنچ سکی۔ کیونکہ عقل کا دائرہ مشاہدے اور تجربے تک محدود ہے، اور جہاں مشاہدہ ختم ہوتا ہے، وہاں سے وحی کی روشنی شروع ہوتی ہے۔ آج کا انسان، جس نے سائنس کے ذریعے مادّی ترقی کی معراج چھو لی ہے، وہ اپنی عقل کے سہارے خدا، روح، اور آخرت جیسے حقائق کو پرکھنے چلا ہے۔ لیکن جب وہ ان حقائق کو لیبارٹری کی آنکھ سے دیکھنے کی کوشش کرتا ہے، تو وحی کے بجائے خود اپنی عقل کی محدودیت میں قید ہو جاتا ہے۔ قرآن نے اسی حقیقت کو بڑے بلیغ انداز میں واضح کیا: وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا (الإسراء: 85) “تمہیں علم میں سے بہت تھوڑا ہی دیا گیا ہے۔” یہ آیت گویا انسان کو یاد دلاتی ہے کہ تمہارے علم کے افق محدود ہیں۔

تحقیق و تدوین : محمد سہیل عارف معینیؔ  ( پی ایچ ڈی سکالر یونیورسٹی آف ایجوکیشن لاہور)

 

Share:

10/23/25

جی کردا مدینے دیا سائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں ji karda madinay diaN galian lyrics


 

جی کردا مدینے دیا سائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 کاسہ پھڑ کے کراں میں گدائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 

 آواں کول کرو منظوری اوتھے زندگی وی ہو جائے پوری

فیر پین کدی نہ جُدائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 

 ماہی دی رہ جائے نظر سَوَلِی عشق ماہی وِچ ہو جاواں جھلی

اوتھے پھراں میں وانگ سودائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 

کُل عالم توں چنگیاں گلیاں جتھے مدنی نے لائیاں تلیاں

جنہاں دیاں رب قسماں نیں چائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 

 دور آقا توں دوریاں ہوون دل دی آساں پوریاں ہوون

کراں شکر تے ونڈاں میں مٹھائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 

کم کراں نال میں شوقاں گلیاں ہنجواں نال تروکاں

کراں پلکاں دے نال صفائیاں مدینے دیاں ہون گلیاں

 

Share:

10/21/25

تمہارے حسن کا کونین میں جواب نہیں Tumharay Husn ka koi Jawab nai lyrics

تمہارے حسن کا کونین میں جواب نہیں

غروب ہو جو کہیں یہ وہ آفتاب نہیں

 

تیرا جواب نہیں جس طرح کوئی یا رب

اسی طرح تیرے محبوب کا جواب نہیں

 

یہ ماہ تاب بھلا کیا مقابلہ کرتا

اسے تو ایک اشارے کی ان کے تاب نہیں

 

خدا نے کھینچ نقشہ رسول اکرم کا

یہ کہہ دیا تیرا ثانی نہیں جواب نہیں

 

ظہوری ہیں یہی مشکل کشا دو عالم میں

کوئی مثالِ جناب ابو تراب نہیں

 


Share:

10/15/25

یکجہتی کے نام پر افتراق؟ اہلِ سنت کے لیے لمحۂ فکریہ

تحریک لبیک کے احتجاج اور اہلِ سنت کا کردار: اعترافات، سوالات اور حقیقتیں

سب علمائے اہل سنت میری آنکھوں کا تاج ہیں ، میں ان کی قدر کرتاہوں ، الحمد للہ میرے دل میں کسی سنی عالم دین کا بغض اور نفرت نہیں ہے سب اپنے اپنے دائرے میں اسلام کے سفیر ہیں اور کام کر رہے ہیں۔

کچھ شکوے کچھ گلے ۔۔۔

جرات آموز میری تاب ِ سخن ہے مجھ کو

شکوہ اللہ سے خاکم بدہن ہے مجھ کو

اے خدا شکوہ اربابِ وفا بھی سن لے

خوگر حمد سے تھوڑا سا گلہ بھی سن لے

آپ کا دعوی ہے !!!

یکجہتی کے لیے احتجاج کا اعلان پہلے کیا گیا۔

میرا ماننا اور اعتراف ہے!!!!

بات درست ہے۔

آپ کا دعوی ہے!!!

معاہدہ امن بعد میں ہوا

 میرا ماننا اور اعتراف ہے!!!

بات درست ہے

آپ کا دعوی ہے!!!

دو دن پہلے حملہ کر دیا گیا  یعنی معاہدہ سے پہلے ہی ۔

 میرا ماننا اور اعتراف ہے !!!

 بات درست ہے ۔۔ زیادتی ہوئی

آپ کا دعوی ہے!!!

معاہدہ  چاہے ہوگیا ہے ہم ضرور جائیں گے باوجود حکومتی انتباہ اور سختی کے ۔

میرا ماننا اور اعتراف ہے !!!

کیوں ضرور جانا ہے؟ کوئی اسلامی دلیل؟ کیا آپ کی دلیل کو سب مسلمان اس طرح دیکھ رہے ہیں جس طرح آپ مطلب نکال رہے ہیں؟؟؟؟؟

آپ کا دعوی ہے !!!

حکومت نے اٹیک کیا قتل و غارت کیا اور غیر آئینی کام کیا ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ دیے ۔

 میرا ماننا اور اعتراف ہے !!!

 بات درست ہے ۔ زیادتی ہوئی

آپ کا دعوی ہے !!!

ساری دنیا میں احتجاج اور ریلیاں نکل رہی ہیں ہمیں کیوں نہیں جانے دیا جا رہا ۔

 میرا ماننا اور اعتراف ہے !!!

 بات درست ہے۔ ۔روکنا غلط ہے

میرا عتراض اور سوال ہے !!!

اس سب کے ہوتے ہوئے آپ دیگر مسلمان اور بالخصوص سنی اکابرین کو برا بھلا کیوں کہہ رہے ؟

 کیا آپ ان اکابرین کا مشورہ اور رائے کو اپناتے ہیں ؟ کیا آپ ان اکابرین کو اپنی کرسی پر جگہ دینے اور ان کی رائے کے مطابق اپنا لائحہ تیار کرنے کے لیے تیار ہیں ؟؟؟؟

حقائق کیا ہیں سنیں، دل تھام کے

آپ کی جماعت اپنی ہے

آپ کا وژن (نظریہ) اپنا ہے

آپ کی رائے اپنی ہے

آپ اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی خود کرتے ہیں

آپ اپنے اعلانات خود کرتے ہیں

آپ کا غلط صحیح کا نظریہ اپنا ہے

آپ اپنے سیاہ و سپید کے مالک اور ذمہ دار خود ہیں

آپ کسی بھی ایسے  دوسرے کو(جو آپ کی رائے اور نظریے سے اختلاف کرتا ہے) ماننے کو تیار ہی نہیں ہیں

آپ کی حکمت عملی اپنی ہے

آپ کے راہنما اپنے ہیں آپ کے ماننے والے اپنے ہیں

آپ کا جھنڈا ، سلوگن (نعرہ) ،تحریک کا نام ،جماعت کی تمام تر علامات ، اپنی ہیں

جو آپ سے اختلاف کرے اسے گمراہ کہنے میں دیر نہیں لگاتے

جو اختلاف کرے اس سے جماعت (پارٹی) الگ کرنے میں دیر نہیں لگاتے

 

اپنی تمام تر سیاسی تحریکات پر اس طرح کے رد عمل پر دوسرے علما ئے کرام جو ہماری آنکھوں کا تاج ہیں اس طرح طعن نہیں کرنا چاہیے ، یاد رکھیں نہ آپ امام حسین علیہ السلام ہیں اور نہ آپ کربلا میں گئے ہیں، لہذا اپنی اپنی تحریکات کو کربلا سے نہ جوڑا کریں ۔سب علما ئے کرام فلسفہ امام عالی مقام اور کربلا کو سمجھتے ہیں اور اس دور کے حالات پر بھی نظر رکھتے ہیں۔

دل میں نفرت ، بغض ، کینہ اور حسد کی آگ لگا کر دوسروں سے اس طرح کی امید نہیں رکھنی چاہیے

یاد رکھنے والی بات

جس طرح آپ اپنے طریقے سے کام کر رہے ہیں

آپ کا اپنا نظریہ ہے

دین اسلام سے متعلق آپ کی سمجھ بوجھ (understandings) اپنی ہیں

بلکل اسی طرح دوسروں نے بھی اسلام پڑھ رکھا ہے اور اسلام کی روح کو بھی سمجھتے ہیں ۔

 

میرا ایک سوال ہے ۔۔۔۔۔۔ اسلام کہتا ہے کہ جب جابر اور ظالم حکمران آپ کو حج سے روکے تو آپ گناہ گار نہیں ہیں حج کے لیے نہ جائیں ، دل میں حسر ت اور درد ضرور رکھیں ۔

تو کیا یہ یکجہتی کے اظہار کے لیے احتجاج کرنا حج سے بھی بڑا ضروری کام ہو گیا تھا؟؟؟؟؟؟

چہ جائے کہ آپ نے اعلان کر دیا تھا اس کے باجود آپ کو رک جانا چاہیے تھا، کیوں کہ آپ کا اپنا دعوی ہے کہ آپ کا کارکن آپ کے اشارے کا انتظار کرتا ہے تو یہی اشارہ کر دیتے کہ ظالم حکمران نے ہمیں روک رکھا ہے لہذا ہم نہیں جائیں گے ، آپ کیوں گئے ؟ ۔۔۔ کیا صرف سیاسی ساکھ کے لیے گئے تھے ؟؟؟

 

باتیں کڑوی ہیں لیکن مجھے بھی دکھ ہیں کون کون سے ؟؟؟؟؟؟؟؟؟

آپ کے کارکن علما کو اس حادثے کے بعد گالیاں دینے لگے ہیں  

یزید اور کوفیوں  سے نسبت جوڑنے لگے ہیں

سجدے میں گر گئے جب وقت قیام آیا  ۔۔۔۔ یہ آوازے کسنے لگے ہیں (جب کہ یہ وقت ِقیام آپ کی سیاسی نا اندیشی کا شاخسانہ ہے)

آپ نے کب کتنا دوسرے مسلمانوں (بالخصوص سنی جماعتوں اور تحریکات) کے لیے کام کیا ہے؟

 

بہت سے ایسے در دہیں جو کہتے ہیں ہمیں روزنِ سینہ سے نکال لیکن کبھی حالات موزوں نہیں ہوتے کبھی خود میں ہمت نہیں ہوتی۔۔۔

 

 

Share:

10/11/25

رکھ کے لب اسم محمد پہ اٹھاتا بھی نہ تھا rakh k lab ism e Muhammad pe wiht lyrics


 

رکھ کے لب اسم محمد پہ اٹھاتا بھی نہ تھا

جب مجھے نام نبی ٹھیک سےآتا بھی نہ تھا

 

آپ پہلے ہی معافی اسے دے دیتے تھے

منتیں کر کے منانا جسے آتا بھی نہ تھا

 

تھام لیتا تھا کوئی وقتِ ملاقات جو ہاتھ

کیسا آقا تھا کبھی ہاتھ چھڑاتا بھی نہ تھا

 

آپ ہی آپ اترتے تھے ملائک کے ہجوم

وہ عجب شاہ تھا دربار سجاتا بھی نہ تھا

 

آپ اس کی بھی سنا کرتے تھے پہروں باتیں

وہ جسے پاس کوئی اپنے بٹھاتا بھی نہ تھا

 

آپ کاندھوں پہ نواسے لیے چل پڑتے تھے

گود میں جب کوئی بچوں کو اٹھاتا بھی نہ تھا

 

Share:

10/9/25

جھکی ہوئی یہ جبیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا jhuki hoi ye jabeen hai Huzur Dekhen Naa


 

جھکی ہوئی یہ جبیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا

 ہمارا قلب ِ حزیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا


 کسی کا کوئی تو ہوتا ہے اِتنے لوگوں میں

 ہمارا کوئی نہیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا


 ہماری آنکھ میں خوشیوں کا رقص ہوتا تھا

 اب اِن میں درد مکیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا


ہمیں نکالا گیا پہلے آسمانوں سے

اور اب تو تنگ زمیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا


دلِ حزیں کا فقط آپ کی نظر کے سوا

 کوئی علاج نہیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا


 حضور کوئی نہیں آپ کے سِوا میرا

حضور کوئی نہیں ہے، حضور ﷺ دیکھیں نا

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive