Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

3/8/25

عفو و درگزر | ایک دوسرے کو معاف کرنا | اللہ تعالی قیامت کے دن صلح کرائے گا


 

باہمی درگزر کرنے کی صفت

ایک دوسرے کو معاف کرنے کے فضائل

"وَلْيَعْفُوا وَلْيَصْفَحُوا أَلَا تُحِبُّونَ أَنْ يَغْفِرَ اللَّهُ لَكُمْ" (اور چاہیے کہ وہ معاف کریں اور درگزر کریں، کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے؟) (سورۃ النور: 22)

﴿وَجَزَاءُ سَيِّئَةٍ سَيِّئَةٌ مِّثْلُهَا فَمَنْ عَفَا وَأَصْلَحَ فَأَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ ۚ إِنَّهُ لَا يُحِبُّ الظَّالِمِينَ﴾ (سورۃ الشوری:40)

(اور برائی کا بدلہ اسی کی مثل برائی ہے، لیکن جو معاف کر دے اور اصلاح کرے، تو اس کا اجر اللہ کے ذمے ہے۔ بے شک، اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا)

برائی کو بھلائی سے دفع کرو

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾ (سورۃ حم السجدۃ:34)(اور نیکی اور برائی برابر نہیں ہو سکتے، برائی کو ایسے طریقے سے دور کرو جو بہترین ہو، تب تم دیکھو گے کہ جس سے تمہاری دشمنی تھی وہ گویا تمہارا قریبی دوست بن جائے گا)

غصے کو پی جانا اور معاف کرنا جنت میں لے جانے والا عمل ہے

 اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿الَّذِينَ يُنفِقُونَ فِي السَّرَّاءِ وَالضَّرَّاءِ وَالْكَاظِمِينَ الْغَيْظَ وَالْعَافِينَ عَنِ النَّاسِ ۗ وَاللَّهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ﴾(سورۃ آل عمران: 134) (جو لوگ خوشحالی اور تنگدستی میں خرچ کرتے ہیں، غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں، اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے)

قیامت کے دن معاف کرنے والے کو عزت دی جائے گی

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "مَن كَظَمَ غَيْظًا وَهُوَ قَادِرٌ عَلَى أَنْ يُنْفِذَهُ، دَعَاهُ اللَّهُ عَلَى رُءُوسِ الخَلَائِقِ يَوْمَ القِيَامَةِ، حَتَّى يُخَيِّرَهُ اللَّهُ مِنَ الحُورِ العِينِ مَا شَاءَ" (جس نے غصے کو پی لیا حالانکہ وہ بدلہ لینے پر قادر تھا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے تمام مخلوق کے سامنے بلائے گا اور جنت کی حوروں میں سے جس کا وہ چاہے انتخاب کرنے کی اجازت دے گا) (ابو داؤد: 4777، ترمذی: 2021)

معاف کرنے والے پر اللہ کی رحمت ہوتی ہے

 نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "ارْحَمُوا تُرْحَمُوا وَاغْفِرُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ" (رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا، معاف کرو، تمہیں معاف کر دیا جائے گا) (مسند احمد: 7001)

سب سے بڑی فضیلت: قیامت کے دن خصوصی اعلان

 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "يُنادِي مُنادٍ يومَ القيامةِ: لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ، فَلَا يَقُومُ إِلَّا مَنْ عَفَا" (قیامت کے دن ایک منادی کرنے والا پکارے گا: وہ لوگ کھڑے ہو جائیں جن کا اجر اللہ کے ذمے ہے، اور صرف وہی لوگ کھڑے ہوں گے جنہوں نے معاف کیا تھا) (طبرانی: 11544)

اللہ تعالی عزت بڑھا دیتا ہے

"ما نَقَصَتْ صَدَقَةٌ مِن مالٍ، وَما زادَ اللَّهُ عَبْدًا بعَفْوٍ إلَّا عِزًّا، وَما تَواضَعَ أحَدٌ لِلَّهِ إلَّا رَفَعَهُ اللَّهُ"📖 صحیح مسلم (2588)

"صدقہ دینے سے مال کم نہیں ہوتا، اور جو بندہ معاف کرتا ہے اللہ اسے عزت عطا فرماتا ہے، اور جو اللہ کے لیے عاجزی اختیار کرتا ہے اللہ اسے بلند فرما دیتا ہے۔"

نبی کریم ﷺ نے فرمایا: "وما زادَ اللهُ عبدًا بعفوٍ إلا عِزًّا" (جو بندہ معاف کرتا ہے، اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرما دیتا ہے) (مسلم: 2588)

جنت میں گھر کی ضمانت

"أنا زَعِيمٌ ببيتٍ في رَبَضِ الجنَّةِ لِمَن تَرَكَ المِراءَ وإنْ كان مُحِقًّا، وبِبَيتٍ في وسَطِ الجنَّةِ لِمَن تَرَكَ الكذِبَ وإنْ كانَ مازِحًا، وبِبَيتٍ في أعْلَى الجنَّةِ لِمَن حَسُنَ خُلُقُهُ." 📖 سنن أبي داود (4800)

"میں جنت کے نچلے حصے میں ایک گھر کا ضامن ہوں، اس شخص کے لیے جو حق پر ہونے کے باوجود جھگڑا چھوڑ دے، اور جنت کے درمیان میں ایک گھر کا ضامن ہوں، اس شخص کے لیے جو مذاق میں بھی جھوٹ چھوڑ دے، اور جنت کے اعلیٰ درجے میں ایک گھر کا ضامن ہوں، اس شخص کے لیے جو اپنے اخلاق کو اچھا بنائے۔"

اہل طائف کے لیے نبی کریم ﷺ نے دعا کی

"اللَّهُمَّ اهْدِ قَوْمِي فَإِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ"📖 (صحیح البخاری: 3477، صحیح مسلم: 1792)

(اے اللہ! میری قوم کو ہدایت دے، کیونکہ یہ لوگ نہیں جانتے)                          

فتح مکہ کے دن جب آپ ﷺ کو اختیار ملا

کہ اپنے دشمنوں سے بدلہ لیں، تو آپ ﷺ نے فرمایا: "اذْهَبُوا فَأَنْتُمُ الطُّلَقَاءُ" (جاؤ، تم سب آزاد ہو)

جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے ان کے ساتھ ظلم کیا اور بعد میں معافی مانگی تو انہوں نے کہا: ﴿لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ﴾ (آج تم پر کوئی ملامت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے) (سورۃ یوسف: 92)

نبی کریم ﷺ کو قتل کرنے آیا لیکن آپ ﷺ نے معاف کر دیا

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَاتَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحَارِبَ خَصَفَةَ بِنَخْلٍ، فَرَأَوْا مِنَ الْمُسْلِمِينَ غُرَّةً، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْهُمْ يُقَالُ لَهُ غَوْرَثُ بْنُ الْحَارِثِ حَتَّى قَامَ عَلَى رَأْسِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالسَّيْفِ، فَقَالَ: مَنْ يَمْنَعُكَ مِنِّي؟ قَالَ: «اللَّهُ» قَالَ: فَسَقَطَ السَّيْفُ مِنْ يَدِهِ، فَأَخَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ: «مَنْ يَمْنَعُكَ؟» قَالَ: كُنْ خَيْرَ آخِذٍ، قَالَ: «تَشْهَدُ أَنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟» قَالَ: أُعَاهِدُكَ عَلَى أَنْ لَا أُقَاتِلَكَ، وَلَا أَكُونُ مَعَ قَوْمٍ يُقَاتِلُونَكَ، قَالَ: فَخَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَبِيلَهُ فَجَاءَ إِلَى قَوْمِهِ، فَقَالَ: جِئْتُكُمْ مِنْ عِنْدِ خَيْرِ النَّاسِ (مستدرک للحاکم :4322)

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے کھجوروں کے جھنڈ سے بنے کچھاروں میں جنگ کی ، ان لوگوں نے مسلمانوں کو نا تجربہ کار سمجھا ، ان میں غوث بن الحارث نامی ایک آدمی آ کر رسول اللہ ﷺ کے سرہانے کھڑا ہو گیا اور تلوار سونت کر بولا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ ۔ تو اس کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی ۔ رسول اللہ ﷺ نے وہ تلوار پکڑ لی اور فرمایا : تجھے مجھ سے کون بچائے گا ؟ اس نے کہا : آپ اچھا پکڑنے والے ہو جائیں ، حضور ﷺ نے فرمایا : تم گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور بے شک اللہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ اس نے کہا : میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ نہ تو میں خود آپ کے خلاف لڑوں گا اور نہ آپ کے کسی مخالف کی مدد کروں گا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھوڑ دیا ۔ وہ اپنی قوم کے پاس آیا اور کہنے لگا : میں اس شخص کے پاس سے آ رہا ہوں جو تمام لوگوں سے اچھا ہے

اللہ تعالی قیامت کے دن صلح کرا دے گا

عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ إِذْ رَأَيْنَاهُ ضَحِكَ حَتَّى بَدَتْ ثَنَايَاهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: مَا أَضْحَكَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي؟ قَالَ: " رَجُلَانِ مِنْ أُمَّتِي جَثَيَا بَيْنَ يَدَيْ رَبِّ الْعِزَّةِ، فَقَالَ أَحَدُهُمَا: يَا رَبِّ خُذْ لِي مَظْلِمَتِي مِنْ أَخِي، فَقَالَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى لِلطَّالِبِ: فَكَيْفَ تَصْنَعُ بِأَخِيكِ وَلَمْ يَبْقَ مِنْ حَسَنَاتِهِ شَيْءٌ؟ قَالَ: يَا رَبِّ فَلْيَحْمِلْ مِنْ أَوْزَارِي " قَالَ: وَفَاضَتْ عَيْنَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْبُكَاءِ، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ ذَاكَ الْيَوْمَ عَظِيمٌ يَحْتَاجُ النَّاسُ أَنْ يُحْمَلَ عَنْهُمْ مِنْ أَوْزَارِهِمْ، فَقَالَ اللَّهُ تَعَالَى لِلطَّالِبِ: " ارْفَعْ بَصَرَكَ فَانْظُرْ فِي الْجِنَّانِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: يَا رَبِّ أَرَى مَدَائِنَ مِنْ ذَهَبٍ وَقُصُورًا مِنْ ذَهَبً مُكَلَّلَةً بِالُّلؤْلُؤِ لِأَيِّ نَبِيٍّ هَذَا أَوْ لِأَيِّ صِدِّيقٍ هَذَا أَوْ لِأَيِّ شَهِيدٍ هَذَا؟ قَالَ: هَذَا لِمَنْ أَعْطَى الثَّمَنَ، قَالَ: يَا رَبِّ وَمَنْ يَمْلِكُ ذَلِكَ؟ قَالَ: أَنْتَ تَمْلِكُهُ، قَالَ: بِمَاذَا؟ قَالَ: بِعَفْوِكَ عَنْ أَخِيكَ، قَالَ: يَا رَبِّ فَإِنِّي قَدْ عَفَوْتُ عَنْهُ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَخُذْ بِيَدِ أَخِيكَ فَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ " فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ: «اتَّقُوا اللَّهَ وَأَصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِكُمْ فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يُصْلِحُ بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ (مستدرک للحاکم:8718)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ ﷺ بیٹھے ہوئے تھے ، ہم نے آپ ﷺ کو دیکھا آپ ہنس رہے تھے ، حتی کہ آپ کے دانت مبارک ظاہر ہوئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ میرے ماں باپ آپ پر قربان ہو جائیں ، آپ کے ہنسنے کی وجہ کیا ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : میری امت کے دو آدمی ہیں جو کہ اپنے رب کے سامنے پاؤں کی انگلیوں کے بل کھڑے ہوں گے ، ان میں سے ایک کہے گا : اے میرے رب ! میرے بھائی سے میرے ظلم کا بدلہ لے ، اللہ تبارک و تعالیٰ اس طالب سے فرمائے گا : تو اپنے بھائی کے ساتھ اب کیا کرنا چاہتا ہے ، جبکہ اس کی تو اب کوئی نیکی باقی نہیں بچی ہے ، وہ کہے گا : اے میرے رب ! میرے گناہ اس کے اوپر ڈال دیئے جائیں ، یہ فرما کر حضور ﷺ رو پڑے اور آپ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے ، پھر فرمایا : وہ دن بہت عظیم ہے ، اس دن لوگ اس بات کے محتاج ہوں گے کہ ان کے بوجھ ان سے ہلکے کئے جائیں ، اللہ تعالیٰ طالب سے فرمائے گا : اپنی نگاہ اٹھاؤ اور جنت میں دیکھو ، وہ آدمی اپنا سر اٹھائے گا اور دیکھ کر بولے گا : یا اللہ میں سونے کے شہر اور سونے کے بنے ہوئے محلات دیکھ رہا ہوں ، وہ محلات کس نبی کے ہیں ؟ یا یہ کس صدیق کے ہیں ؟ یا یہ کسی شہید کے ہیں ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : یہ اس کے لئے ہے جس نے ثمن خرچ کیا ، وہ کہے گا : یا اللہ اس کا کون مالک ہے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تم بھی اس کے مالک بن سکتے ہو ، وہ پوچھے گا : یا اللہ وہ کیسے ؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اپنے بھائی کو معاف کر کے ، وہ کہے گا : یا اللہ میں نے اس کو معاف کر دیا ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : اپنے بھائی کے ہاتھ کو پکڑ کر اس کو جنت میں لے جاؤ ، اس موقع پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو اور اپنے درمیان صلح رکھو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے درمیان صلح چاہتا ہے

Share:

3/3/25

برستی رہتی ہیں ساون کے بادلوں کی طرح | Barasti rehti hen sawan k badlon ki tra with lyrics


 

برستی رہتی ہیں ساون کے بادلوں کی طرح

حضور میری بھی آنکھیں میرے بڑوں کی طرح

 

لکھا تھا اسمِ محمد ﷺ نہ جب تلک میں نے

مری حیات تھی ردی کے کاغذوں کی طرح

 

فضائے نعت میں اڑتے ہوئے نہیں تھکتا

میرا قلم بھی ہے جبریل کے پروں کی طرح

 

میر ی خطاؤں کا کوئی سرا نہیں ملتا

حضور آپ کی رحمت کے سلسلوں کی طرح

 

میں صبح و شام تلاوت نہ کیوں کروں اس کی

مرے حضورؐ کا چہرہ ہے آیتوں کی طرح

 

درِ نبیؐ سے نہیں ہوتے ہم کبھی رخصت

جہاں بھی ہوں ہیں مدینے کے باسیوں کی طرح

 

مجھے ملا ہے حضوری کے رتجگوں کا گداز

کبھی رکھا نہیں آقاؐ نے فاصلوں کی طرح

 

قدم جنابِ پیمبرؐ کے چومتا اکثر

میَں، کاش ہوتا، احد تیرے پتھروں کی طرح

 

تلاش اُنؐ کی تھی، ہجرت کے راستے میں مجھے

 لبوں پہ نعت تھی یثرب کی بچّیوں کی طرح

 

حضورؐ، جشنِ ولادت پہ لینے آیا ہوں

کرم کی بھیک مدینے میں سائلوں کی طرح

 

اُدھر مواجھہِ اقدس میں حاضری کے بعد

 ہوا ملی مجھے بچپن کے دوستوں کی طرح

 

ہوائے شہرِ پیمبرؐ کے سرد جھونکوں میں

سکوں ملا مجھے ممتا کی لوریوں کی طرح

 

درِ حضورؐ سے رخصت کے بعد، پوری رات

خدا گواہ، گزاری ہے ہچکیوں کی طرح

 

حضور چشم ِ کرم کی بڑی ضرورت ہے

بکھر رہا ہوں میں شیشے کی کرچیوں کی طرح

 

پرو کے لایا ہوں اشکوں کے ہار میں آقا

ہر ایک اشک ہے شفاف آئینوں کی طرح

 

میں خوش نصیب ہوں باب بقیع کی جانب

بکھر رہاہوں گلابوں کی پتیوں کی طرح

 

کروڑ بار بھی مجھ کو عطا اگر ہو ریاضؔ

نثار جانیں کروں گا میں عاشقوں کی طرح

Share:

دیوار الگ رنگ کی در اور طرح کا | یہ شہر پیمبر ہے نگر اور طرح کا | جبریل! یہاں چاہیے پر اور طرح کا


 

دیوار  الگ رنگ کی در اور طرح کا

یہ شہر پیمبر ہے نگر اور طرح کا

 

ہر شام اترتی ہے یہاں اور طرح سے

ہر صبح کا ہوتا ہے سفر اور طرح کا

 

کلیوں کے چٹکنے کی ادا ہے یہاں کچھ اور

گل اور طرح کا ہے شجر اور طرح کا

 

آسان نہیں منزلیں قوسین و دنٰی کیں

جبریل! یہاں چاہیے پر اور طرح کا

 

آتی ہے دبے پاؤں یہاں بادِ صبا بھی

آقا تیری گلیوں میں ہے ڈر اور طرح کا

 

سجدہ تو فقط رب دو عالم کے لیے ہے

پر طیبہ میں جھکا ہے میرا سر اور طرح کا

 

صد شکر مجھے اس سے موودت کا شرف ہے

جو سارے زمانے میں ہے گھر اور طرح کا

 

کاندھوں پہ نظر آتے ہیں سر اور طرح کے

نیزے کی بلندی پہ ہے سر اور طرح کا

 

عاجزؔ نے جو مانگا وہ عطا ہو گیا فورا ً

اترا ہے دعاؤں میں اثر اور طرح کا

Share:

2/20/25

کون سمجھے گا یہاں درد ہمارے سارے | Kon Samjhe Ga Yahan Dard Hamare Sare with Lyrics | New Nat 2025 | Visit of Madina City


 

کون سمجھے گا یہاں درد ہمارے سارے

آؤ طیبہ کو چلیں درد کے مارے سارے

نعت سننے کے لیے کلک کریں

 

ہم فقیروں کو جہاں بھی تیری خوشبو آئی

بس وہیں بیٹھ گئے جھولی پسارے سارے

 

کیا کہوں اے میرے لجپال کہ جی جانتا ہے

کیسے فرقت میں شب و روز گزارے سارے

 

اک نظر گنبدِ خضریٰ پہ پڑی اور یکسر

بھولتے ہی گئے دنیا کے نظارے سارے

 

پیشِ نظارہ ہو جب حسنِ اتم کا سورج

پھر نظر آتے نہیں چاند ستارے سارے

 

میری آنکھوں کو یوں از بر ہے مدینہ سارا

جیسے حفاظ کو ہوں یاد سپارے سارے

 

ہم نے اصحاب سے حسانؔ یہ کہنا سیکھا

تجھ پہ قربان ہوں ہم اور ہمارے سارے

Share:

2/19/25

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں | تضمین کے ساتھ | اپنی پلکوں پہ ستارے سے ٹکائے ہوئے ہیں | lo madiny ki tajalli


 

اپنی پلکوں پہ ستارے سے ٹکائے ہوئے ہیں

ہم دیا عشق رسالت کا جلائے ہوئے ہیں

گنبدِ سبز تصور میں بسائے ہوئے ہیں

لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں

دل کو ہم مطلعِ انوار بنائے ہوئے ہیں

 نصرت فتح علی خان کی غزلیں اور قوالیاں سننے کے لیے کلک کریں


اپنی سوئی ہوئی تقدیر جگائے ہوئے ہیں

ان کی چوکھٹ پہ کھڑے ہاتھ اٹھائے ہوئے ہیں

بات بگڑی ہوئی ہر ایک بنائے ہوئے ہیں

کشتیاں اپنی کنارے سے لگائے ہوئے ہیں

کیا وہ ڈوبے جو محمد ﷺ کے ترائے ہوئے ہیں

 

ان کے دیدار سے ہٹ کر کوئی ارمان نہ تھا

سیرِ محشر کی طرف بھی کوئی رجحان نہ تھا

پھر ملائک سے بھی ایسا کوئی پیمان نہ تھا

قبر کی نیند سے اٹھنا کوئی آسان نہ تھا

ہم تو محشر میں انہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں

 

اس ادب گاہ میں آرام سے چل تیز نہ دوڑ

منطق و فلسفہ و جہل سے منہ خیر سے موڑ

فرقہ وارانہ خیالات کے اصنام کو توڑ

حاضر و ناظر و نور و بشر و غیب کو چھوڑ

شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں

 

بعد سرکار وہ دونوں ہیں بزرگ و برتر

ساتھ رہتے تھے جو سرکار کے سایہ بن کر

جز رسولوں کے بھلا کون ہے ان ست بہتر

نام آتے ہی ابو بکر و عمر کا لب پر

تو بگڑتا ہے وہ پہلو میں سلائے ہوئے ہیں

 

اپنا دیدار کرا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

در پہ حاضر ہیں گدا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

آن کی آن ہی آ گنبدِ خضرٰی کے مکیں

اک جھلک آج دکھا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

کچھ بھی ہے دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں

 

فرش کو عرش بنا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

طور کو وجد میں لا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

پردۂِ میم ہٹا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

اک جھلک آج دکھا گنبدِ خضرٰی کے مکیں

کچھ بھی ہے دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں


زخم سینے کا کہاں اور دکھایا جاتا

تیرے کوچے کے سوا اور کہاں جا یا جاتا

ہجر کا غم بھی نہیں اور اٹھایا جاتا

شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا

یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں آئے ہیں

 

فیض جب مسندِ محمود کا جاری ہو نصیر

ہر گناہ گار پہ اک کیف سا طاری ہو نصیر

لب پہ شہزاد کے مصرع یہی جاری ہو نصیر

کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیر

اب تو سرکار بھی میزان پہ آئے ہوئے ہیں

Share:

1/8/25

Constitution of Pakistan | Article 106 and article 260 Clause (3) | Status of Qadianies in Constitution of Pakistan

The Constitutional and Legal Restrictions on Ahmadis in Pakistan: An Overview

The Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, a foundational document defining the legal and political framework of the country, contains specific provisions regarding the status of Ahmadis (commonly referred to as the Qadiani and Lahori groups). These provisions, introduced through constitutional amendments and subsequent laws, outline the religious and legal limitations imposed on Ahmadis in Pakistan.

Constitutional Provisions

Article 106: In the Constitution, Article 106 specifies the allocation of seats for non-Muslim communities in the provincial assemblies. Clause (3) was amended to explicitly recognize Ahmadis as a separate group. The amendment introduced the words:

"and persons of Qadiani group or the Lahori group (who call themselves 'Ahmadis')."

This inclusion distinguishes Ahmadis from the Muslim population for the purposes of representation and governance, marking them as a distinct religious community.

Article 260: The definition of a Muslim was further clarified in Article 260. A new clause was added that categorically excluded individuals who do not believe in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (Peace Be Upon Him). The clause states:

"A person who does not believe in the absolute and unqualified finality of The Prophethood of MUHAMMAD (Peace Be Upon Him), the last of the Prophets or claims to be a Prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after MUHAMMAD (Peace Be Upon Him), or recognizes such a claimant as a Prophet or religious reformer, is not a Muslim for the purposes of the Constitution or law."

This addition serves as the constitutional basis for declaring Ahmadis as non-Muslims under Pakistani law.

Legal Restrictions under Section 298

Following the constitutional amendments, Section 298 of the Pakistan Penal Code (PPC) was introduced to enforce restrictions on Ahmadis. This section imposes specific prohibitions on their religious practices and expressions. Key provisions include:

1:      Prohibition of Identifying as Muslim: Ahmadis are forbidden from referring to themselves as Muslims or their faith as Islam.

2:      Restrictions on Preaching: Ahmadis are not allowed to preach or propagate their religious beliefs.

3:      Limitation on Invitations: They cannot invite others to accept Ahmadi teachings.

4:      Safeguarding Muslim Sentiments: Ahmadis are prohibited from actions or expressions that could be perceived as insulting to the religious feelings of Muslims.

Punishments

The violation of these provisions is considered a criminal offense in Pakistan. The penalties include:

Imprisonment:   Up to three years.

Fines:                   Monetary penalties in addition to imprisonment.

Implications and Debates

These constitutional and legal provisions have been a subject of intense debate, both nationally and internationally. Proponents argue that these laws uphold the religious identity of the Muslim majority as defined in Islam. Critics, however, contend that such measures infringe upon the religious freedoms of Ahmadis, as guaranteed under international human rights conventions.

Conclusion

The constitutional amendments and legal restrictions on Ahmadis in Pakistan highlight the complex interplay between religion and state law. While these provisions aim to define and protect the religious identity of the majority, they also raise questions about the rights of minority communities and the broader principles of equality and freedom of belief. The discourse surrounding these laws continues to shape Pakistan’s legal and societal landscape.

 

Share:

1/3/25

Saim Ayub injures ankle, gets stretchered off in New Year's Test

کیپ ٹاؤن ٹیسٹ: صائم ایوب زخمی ہو کر میدان سے باہر، اسپتال منتقل

پاکستان کو نئے سال کے دوسرے ٹیسٹ کے آغاز میں جنوبی افریقہ کے خلاف کیپ ٹاؤن میں ایک بڑا جھٹکا لگا جب اوپننگ بلے باز سائم ایوب زخمی ہو کر میدان سے باہر چلے گئے۔ ایوب اپنے ٹخنے کی انجری کے باعث چوٹ کا شکار ہوئے اور انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کی انجری کی شدت کا فی الحال اندازہ نہیں لگایا جا سکا۔

انجری کا واقعہ کیسے پیش آیا؟

یہ واقعہ اننگز کے ساتویں اوور میں پیش آیا جب ریان ریکلٹن کی شاٹ سلپس کے قریب سے نکل کر تھرڈ مین کی جانب گئی۔ ایوب اور عامر جمال دونوں گیند کے پیچھے بھاگے۔ جمال نے گیند کو باؤنڈری کے قریب روک لیا اور ایوب ریلے فیلڈر کے طور پر پوزیشن میں آ گئے۔ لیکن اسی دوران ایوب کا توازن بگڑ گیا اور ان کا ٹخنہ مڑ گیا۔ وہ فوری طور پر نیچے گر گئے اور اپنے پیر کے نچلے حصے کو تھامے ہوئے شدید تکلیف میں نظر آئے۔ فزیو نے میدان پر آ کر ان کا معائنہ کیا، لیکن طویل علاج کے بعد بھی وہ کھڑے ہونے کے قابل نہیں ہو سکے۔ ایوب کو اسٹریچر پر ڈال کر میدان سے باہر لے جایا گیا، اور یہ منظر پاکستانی ٹیم اور شائقین کے لیے نہایت افسوسناک تھا۔

پاکستان کے لیے مزید مشکلات

چند اوورز بعد، ان کے متبادل عبداللہ شفیق نے ایڈن مارکرم کا ایک آسان کیچ کور میں چھوڑ دیا۔ اگرچہ یہ غلطی پاکستان کو زیادہ نقصان نہ پہنچا، کیونکہ مارکرم دو اوورز بعد خرم شہزاد کی گیند پر آؤٹ ہو گئے، لیکن اس وقت ٹیم کی خوشی ماند پڑی ہوئی تھی کیونکہ ایوب کی چوٹ کا اثر سب پر واضح تھا۔

ایوب کی حالیہ فارم

صائم ایوب نے پچھلے چند مہینوں میں ہر فارمیٹ میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے۔ وہ گزشتہ ماہ پاکستان اور جنوبی افریقہ کے درمیان کھیلی گئی ون ڈے سیریز کے "پلیئر آف دی سیریز" رہے، جہاں انہوں نے تین میچز میں دو سنچریاں اسکور کیں۔ ایوب پاکستان کے اہم کھلاڑیوں میں شامل ہیں اور آئندہ فروری میں پاکستان کی میزبانی میں ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں بھی ان سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں۔

پاکستانی ٹیم اور مداح دعا گو ہیں کہ صائم ایوب جلد صحت یاب ہو کر دوبارہ ایکشن میں نظر آئیں۔


Ayub injures ankle, gets stretchered off in New Year's Test He was taken to the hospital for treatment and the extent of his injury is not known yet. Pakistan have been given an almighty scare at the start of the second Test against South Africa in Cape Town, with opening batter Saim Ayub stretchered off after injuring his ankle. The extent of the injury is not yet clear, but he has been taken to hospital for treatment. On the field, Ayub was unable to put any weight on his right ankle, and appeared to be in tears in the immediate aftermath of the injury.

The incident occurred in the seventh over of the innings when Ryan Rickelton edged one through the slips, sending Ayub off on a chase to deep third alongside Aamer Jamal. Jamal pulled it back in as Ayub stood poised to be the relay fielder, but lost his balance and twisted his ankle. He went down immediately and appeared in anguish holding the lower part of his leg as the physio rushed on.

After prolonged treatment outside the boundary line, Ayub was placed on to a stretcher and taken off, with the injury casting a pall over proceedings for Pakistan. Things only got worse a few overs later when his replacement, Abdullah Shafique, put down a simple chance Aiden Markram at cover. It would not cost Pakistan much, though, with Markram falling to Khurram Shahzad two overs later.

Celebrations, though, were notably muted, likely in recognition of the significance of the blow losing Ayub would be. Ayub has been a breakout star across formats over the last few months, and was Player of the Series when Pakistan beat South Africa 3-0 in the ODI series last month, scoring two hundreds in three games. He is one of the few all-format regulars for Pakistan, and he is expected to be a key figure for the side in the upcoming Champions Trophy that Pakistan will host, beginning in February.

#SaimAyub #Pakistan #SouthAfrica vs Pakistan #Pakistan tour of South Africa,  #ICC World Test Championship

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive