Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

5/26/17

مہمان خدا وندی، ماہ صیام


مہمان خدا وندی، ماہ صیام
ماہ رمضان المبارک بڑی برکتوں، سعادتوں اور نعمتوں والا مہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو برکتیں اور سعادتیں اس مبارک مہینے کے ساتھ خاص فرمائی ہیں وہ کسی اور مہینے کے ساتھ خاص نہیں ہیں۔ نیز جو برکتیں اس مبارک مہینے کے اندر کئے جانے والے نیک اعمال کے ساتھ مخصوص ہیں وہ دوسرے مہینوں میں انہی اعمال کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ اس مہینہ کو اللہ تعالیٰ نے روزے اور رات کے قیام کے ساتھ خصوصیت عطا فرمائی ہے یعنی صیام رمضان اور قیام رمضان۔
نفلی روزہ رمضان المبارک کے علاوہ دوسرے مہینوں میں بھی رکھا جاتا ہے اور رات کا قیام، رمضان المبارک کی راتوں کے علاوہ دوسری راتوں میں بھی ہوتا ہے مگر جو فضیلت ماہ رمضان کی راتوں کے قیام میں ہے وہ کسی اور رات کے قیام میں نہیں اور جو فضیلت، برکت اور سعادت ماہ رمضان کے روزوں میں ہے وہ کسی اور مہینے کے روزوں میں نہیں۔ اس لئے کہ ان اعمال کی اس مہینے کے ساتھ ایک خاص نسبت ہے اور اللہ تعالیٰ کو یہ مہینہ بہت عزیز ہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ’’رمضان میرا مہینہ ہے، ،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روزہ داروں کے اجر کے حوالے سے ارشاد فرمایا :
عَنْ سَهْلٍ بن سعد قال : قال النبی صلی الله عليه وآله وسلم اِنَّ فِی الْجَنَّةِ بَابًا يُقَالُ لَه الرَّيان يَدْخُلُ مِنْه صَائمُوْنَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَدْخُلُ مِنْه اَحَدٌ غَيْرُهُمْ يُقَالُ اَيْنَ الصَّائِمُوْنَ فَيَقُوْمُون لَايَدْخُلُ مِنْهُمْ اَحَدٌ غَيْرُهُمْ فَاِذَا دَخَلُوْا اُغْلِقْ فَلَمْ يَدْخُلْ مِنْهَ اَحَدٌ.
(صحيح البخاری، کتاب الصوم، باب الريّان للصائمين)
’’حضرت سہل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جنت میں ایک دروازہ ہے جس کا نام ریّان ہے، روزِ قیامت اس میں روزے دار داخل ہوں گے ان کے علاوہ کوئی دوسرا اس میں سے داخل نہیں ہوگا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں؟ پس وہ کھڑے ہوجائیں گے، ان کے علاوہ کوئی دوسرا اس دروازے میں سے داخل نہیں ہوگا اور جب وہ داخل ہوجائیں گے دروازہ بند کردیا جائے گا۔ پس اس سے روزہ داروں کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا، ، ۔
جنت میں تو بہت سارے دروازے ہیں مگر ایک خاص دروازہ ہے اور اس دروازے کا نام باب الریّان ہے۔ عربی زبان میں ریّان کا ایک معنی خوبصورت پھوار والی بارش ہے۔ جس سے موسم خوشگوار ہوجاتا ہے، نہ گرمی کی تپش رہے اور نہ بارش کا کیچڑ رہے۔
ریّان کا دوسرا معنی سیرابی ہے، یہ سیرابی، پیاس کے برعکس ہے، پیاس کو العطش کہتے ہیں اور شدید پیاسے کو عطشان کہتے ہیں لیکن اگر کوئی خوبصورت، ٹھنڈا، میٹھا مشروب پی کے سیراب ہوجائے، سیر ہوجائے تو عطشان کے مقابلے میں اسے ریّان کہتے ہیں۔ گویا عطش اور عطشان میں جتنی پیاس ہے، ریّان میں اتنی ہی سیرابی ہے۔
یہ دروازہ صرف ماہ رمضان کے روزہ داروں کے لئے مختص ہوگا، روزہ دار اس دروازے سے گزارے جائیں گے۔ اس کی حکمت کیا ہے؟
درحقیقت روزہ اللہ کے لئے بھوک اور پیاس اپنانے کا نام ہے، روزہ دار اللہ کے لئے پیاس اپنا کر عطشان بن کے جائیں گے، اللہ فرمائے گا میری خاطر عطشان ہونے والے بندوںکو ریّان سے گزارو تاکہ جنت میں پہنچنے سے پہلے ہی سیراب ہوجائیں۔ پس آج کی پیاس وہاں کی سیرابی سے بدل جائے گی۔ اب فیصلہ ہم پر ہے کہ ہم آج کی پیاس کو برداشت کرکے وہاں کی سیرابی کے لئے اپنے آپ کو کس قدر کمربستہ کرتے ہیں۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اعلان کردیا جائے گا کہ سوائے روزہ داروں کے اس دروازوں سے کسی اور کو گزرنے کی اجازت نہ ہوگی۔ اللہ فرمائے گا کہ یہ دروازے صرف انہی کے لئے مختص ہے جو میری خاطر بھوکے اور پیاسے رہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے امر ہوگا اور آواز دی جائے گی کہ روزہ دار کہاں ہیں؟ پس اس آواز کو سن کر روزے دار میدانِ قیامت میں کھڑے ہوجائیں گے، عرض کریں گے مولیٰ ہم حاضر ہیں، اس وقت حکم ہوگا کہ تمام روزے دار جنت میں باب الریّان سے داخل ہوجائیں اور ساتھ ہی فرمایا جائے گا کہ ان روزے داروں کے سوا اس دروازے سے اور کوئی داخل نہ ہو اور جب روزہ دار اس دروازے سے داخل ہوجائیں گے تو دروازہ بند کردیا جائے گا اور پھر اس دروازے سے کوئی اور داخل نہ ہوسکے گا۔ یہ خاص نعمت و سعادت اللہ تعالیٰ نے روزہ داروں کے حصہ میں رکھی ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’جنت کے کئی دروازے ہیں جو نمازی ہوں گے ان کے لئے باب الصلاۃ ہوگا جو مجاہد ہوں گے ان کو باب الجہاد سے گزارا جائے گا جو صدقہ و خیرات کرنے والے ہوں گے وہ باب الصدقہ سے گزارے جائیں گے اور جو روزہ دارہوں گے انہیں باب الریّان سے گزارا جائے گا، ، ۔
اللہ تعالیٰ نے ہر عمل کے نام پر ایک دروازہ رکھا ہے اور اس عمل کے کرنے والے اسی عمل کے نام والے دروازے سے گزریں گے۔ نمازی ہے تو دروازہ نماز ہے۔ ۔ ۔ مجاہد ہے تو دروازہ جہاد ہے۔ ۔ ۔ صدقہ خیرات کرنے والا ہے تو دروازہ صدقہ ہے۔ اس اصول پر چاہئے تھا کہ روزہ رکھنے والوں کے لئے باب الصیام ہوتا، جس طرح ہر عمل کا دروازہ، فقط اس عمل کے نام پر ہے مگر روزہ رکھنے والوں کے لئے دروازہ باب الصیام کے نام سے نہیں، کیوں؟ اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے لئے بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں، لہذا اللہ نے اس دروازے کے نام کو مختلف کردیا اور اپنی بارگاہ کی سیرابی کے نام پر باب الریّان بنادیا اور ارشاد فرمایا : کہ جو روزہ دار ہوں گے انہیں باب الریّان سے گزارا جائے گا۔ اگر اس دروازے کا نام باب الصیام ہوتا یعنی روزوں کے نام سے ہی دروازہ ہوتا تو اس دروازے کی قدرو منزلت بھی دوسرے اعمال والے دروازوں کے برابر ہوجاتی۔ یہاں نام عمل کے نام پر نہیں بلکہ عمل کے اجر کے نام پر رکھا ہے اور اجر کیا ہے؟ دیگر اعمال کے اجر نیکیاں ہیں، کسی نے کوئی نیک عمل کیا تو دس، سو یا سات سو نیکیاں مل گئیں یعنی اجر نیکیوں کی تعداد میں ملا۔
فَمَنْ جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَه عَشْرُوْا اَمْثَالِهَا.
’’جو ایک نیکی کرتا ہے اس کو دس گنا اجر ملتا ہے، ، ۔
ہر عمل کا اجر تعداد کے حساب سے مقرر ہے اور ہر عمل کا دروازہ اس عمل کے نام پر مقرر ہے مگر روزے کے لئے اجر نہ نیکیوں کی تعداد میں ہے نہ دروازہ، عمل کے نام پر ہے بلکہ روزے کے اجر کے بارے میں فرمایا کہ
اَلصَّوْمَ لِيْ وَاَنَا اَجْزِيْ به
’’روزہ خاص میرے لئے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا، ، ۔
وہ جزا کیا ہے؟ روزے کی جزا کو اللہ تعالیٰ نے دیگر اعمال کی طرح واضح نہیں فرمایا بلکہ چھپا کر رکھا ہے۔ اس اجر کی تھوڑی سی جھلک حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس ارشاد مبارک سے سامنے آرہی ہے۔
لصائم فرحتان يفرحهما اذا افطره فرح واذا لقی ربه فرح.
(صحيح البخاری کتاب الصوم)
’’روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک خوشی افطار کے وقت اور ایک خوشی دیدار کے وقت، ، ۔
ریّان کا معنی اس حدیث کے ساتھ ملاکر سمجھنے سے مزید واضح ہوجائے گا کہ روزے کے عمل کے مطابق اس کا دروازہ اس کے نام پر نہ رکھنے کی وجہ یہ ہے کہ بقیہ اعمال کے اجر نیکیوں کی تعداد کے لحاظ سے بتادیئے گئے اسلئے درازے کا نام بھی عمل کے نام پر رکھ دیا گیا مگر چونکہ اللہ نے روزے کے اجر کا اعلان نہیں کیا اس لئے اس اجر کے نام پر دروازے کا نام رکھ دیا گیا کہ روزے داروں کا دروازہ سیرابی کا دروازہ ہے اور سیرابی کس چیز کی؟ فرمایا کہ روزے دار کے لئے میرے دیدار کے سوا کسی اور شے میں سیرابی ہے ہی نہیں۔ فرمایا : اے روزے دار تو نے میری خاطر بھوک برداشت کی، آج اپنے دیدار کے ذریعے تیری بھوک کو رفع کرتا ہوں۔ ۔ ۔ تو نے میری خاطر پیاس برداشت کی آج اپنے دیدار کے شربت سے تیری پیاس کو دور کرتا ہوں۔ ۔ ۔ تو نے میری خاطر اپنے نفس کی لذتوں کو خیر باد کہا آج میں اپنے دیدار کے ذریعے تجھے اپنی قربتوں کی لذت عطا کرتا ہوں۔ ۔ ۔ تو نے میری خاطر اپنے اوپربہت سی راحتیں حرام کرلیں آج میں اپنے وصال کی راحت سے تمہیں ہمکنار کرتا ہوں۔
پس یہ سیرابی اللہ کی قربت سے، اللہ کے وصال اور دیدار سے ہے۔
جمالِ یار کی حسرت میں جو مریض ہوا
جمالِ یار ہی ان کا طبیب ہوتا ہے

اسی مفہوم کو کسی شاعر نے فارسی میں یوں بیان کیا۔
از سرِ بالین من برخیز اے نادان طبیب
درد مندے عشق را دارو بجز دیدار نیست

’’(مریض کہتا ہے) اے معالج آپ میرے سرہانے سے اٹھ جائیں (آپ کی دوائی میں میری مرض کا علاج نہیں ہے میں تو در مندِ عشق ہوں اور مریضِ عشق کا علاج محبوب کے دیدارکے سوا کچھ نہیں ہوتا، ، ۔
اللہ تعالیٰ نے روزہ داروں کو اپنے عاشقوں میں شامل فرمایا اس لئے روزہ داروں کا اجر اپنی ذات کا دیدار مقرر فرمایا۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہر شخص اپنے اپنے اعمال کے مطابق اپنے اپنے دروازوں سے بلایا جائے گا تو سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا :
بِاَبِيْ وَاُمِّی يَارَسُوْلَ اللّٰه فَهَلْ يُدْعٰی اَحَدٌ مِنْ تِلْکَ الْاَبْواب کُلِّهَا.
’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں (یہ تو آپ نے فرمادیا کہ ہر شخص ایک ایک دروازے سے بلایا جائے گا) کیا کوئی ایسا بھی ہوگا جسے ہر دروازے سے آواز آئے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ہاں ایسا بھی کوئی ہوگا جس کا نام ہر دروازے سے پکارا جائے گا ابوبکر مجھے یقین ہے کہ آپ بھی انہی میں سے ہوں گے۔
اس حدیث سے جہاں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی فضیلت ظاہر ہورہی ہے وہاں لفظ مِنْہُمْ اس بات کی نشاندہی بھی کررہا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت میں سے کئی ایسے خوش نصیب ہوں گے جن کا نام جنت کے ہر دروازے سے پکارا جائے گا۔
روزہ داروں کو اللہ کے خاص مہینے سے نسبت کی بناء پر یہ فضیلت حاصل ہوگی کہ ان کے لئے باب الریّان خاص ہوگیا۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے خاص نسبت حاصل ہوئی ان کا درجہ سب جنتیوں میں ممتاز ہوگیا۔ پس یہ نسبت جسے بھی مل جائے وہ بلند ہوجاتا ہے، مہینہ کو مل جائے تو وہ بلند، انسان کو مل جائے تو وہ بلند، عمل کو مل جائے تو وہ بلند۔
جس شے کو بھی نسبت مل جائے اسی کو افضلیت ملتی ہے پس ماہ رمضان المبارک کو اللہ سے نسبت ہے، روزہ داروں کو رمضان سے نسبت پس اس نسبت کی بناء پر اللہ نے انہیں غیر معمولی درجات عطا فرمائے پس ان نسبتوں کو حاصل کرنے کے لئے محنت و مجاہدہ کرنا پڑتا ہے اگر ماہ رمضان کے روزوں، اس کا قیام اور اس پر استقامت قائم رہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت کے حصول کی جانب کوششیں نسبت کو ملحوظ رکھ کر کی جائیں تو اللہ تعالیٰ برکتیں اور سعادتیں عطا فرماتا ہے۔ اللہ رب العزت ماہ رمضان المبارک کی خصوصی نعمتوں سے ہم سب کو مالا مال فرمائے۔ (آمین)

رمضان المبارک میں معمولاتِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

رمضان المبارک کے ماہِ سعید میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولاتِ عبادت و ریاضت میں عام دنوں کی نسبت کافی اضافہ ہو جاتا۔ اس مہینے میں اللہ تعالی کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی۔ اسی شوق اور محبت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم راتوں کے قیام کو بھی بڑھا دیتے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے انہیں معمولات کا ذکر کیا جاتا ہے تاکہ ہم بھی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوہء پر عمل کر کے اس مہینے کی برکتوں اور سعادتوں کو لوٹ سکیں۔

معمولاتِ مصطفوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اجمالی جائزہ

اجمالی طور پر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معمولات رمضان المبارک کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے :
  1. صیامِ رمضان : اس سے مراد ماہ رمضان کے دوران اپنے اوپر روزوں کی پابندی کو لازم ٹھہرا لینا ہے۔
  2. قیامِ رمضان : رمضان المبارک کی راتوں میں نماز تراویح، تسبیح و تہلیل اور کثرت سے ذکر و فکر میں مشغول رہنا۔
  3. ختم قرآن : دورانِ ماہ رمضان المبارک مکمل قرآن پاک کی تلاوت کا معمول۔
  4. اعتکاف : رمضان المبارک کے آخری عشرہ کے ایام بہ نیت اعتکاف مسجد میں بیٹھنا۔
  5. نمازِ تہجد : سال کے بقیہ مہینوں کی نسبت رمضان المبارک میں نماز تہجد کی ادائیگی میں زیادہ انہماک اور ذوق و شوق کا مظاہرہ۔
  6. صدقہ و خیرات : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مہینے میں عام مہینوں کی نسبت صدقہ و خیرات بھی کثرت سے کیا کرتے تھے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک سے اتنی زیادہ محبت فرمایا کرتے تھے کہ اس کے پانے کی دعا اکثر کیا کرتے تھے۔ اور رمضان المبارک کا اہتمام ماہ شعبان میں ہی روزوں کی کثرت کے ساتھ ہو جاتا تھا۔

I۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دعا فرمانا

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ رجب کے آغاز کے ساتھ ہی یہ دعا اکثر فرمایا کرتے تھے۔
عن انس بن مالک قال : کان رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم اذا دخل رجب قال : اللهم بارک لنافی رجب و شعبان و بلغنا رمضان.
( المعجم الاوسط، 4 : 558، رقم حديث : 3951)
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا جب رجب المرجب کا مہینہ شروع ہوتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اے اللہ! ہمارے لئے رجب اور شعبان بابرکت بنا دے اور ہمیں رمضان نصیب فرما۔

Ii۔ رمضان المبارک کا چاند دیکھنے پر خصوصی دعا

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کا چاند دیکھ کر خصوصی دعا فرمایا کرتے تھے :
کان اذا راي هلال رمضان قال : هلال رشد و خير، هلال رشد و خير امنت بالذي خلقک.
1. مصنف ابن ابی شيبه، 10 : 400، رقم حديث : 9798.
( المعجم الاوسط، 1 : 212، رقم حدیث : 313)
جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان المبارک کا چاند دیکھتے تو فرماتے : یہ چاند خیر و برکت کا ہے، یہ چاند خیر و برکت کا ہے۔ میں اس ذات پر ایمان رکھتا ہوں جس نے تجھے پیدا فرمایا۔

Iii۔ رمضان المبارک کو خوش آمدید کہنا

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس مبارک مہینے کا خوش آمدید کہہ کر اس کا استقبال کرتے۔
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سوالیہ انداز کے ذریعے صحابہ کرام سے رمضان المبارک کے استقبال کے بارے میں پوچھ کر اس مہینے کی برکت کو مزید واضح کیا۔
جب رمضان المبارک ک مہینہ آتا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کرام سے دریافت کرتے
ما تستقيلون؟ ماذا يستقبلکم؟ (ثلاث مرات)
(الترغيب والترهيب، 2 : 105)
تم کس کا استقبال کر رہے ہو اور تمہارا کون استقبال کر رہا ہے۔ (یہ الفاظ آپ نے تین دفعہ فرمائے)
اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا کوئی وحی اترنے والی ہے یا کسی دشمن سے جنگ ہونے والی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ان الله يغفر في اول ليلة من شهر رمضان اهل لکل هذه القبلة.
(الترغيب والترهيب، 2 : 105)
تم رمضان کا استقبال کر رہے ہو جس کی پہلی رات تمام اہل قبلہ کو معاف کردیا جاتا ہے۔

Iv۔ رمضان اور شعبان میں روزوں کا اتصال

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ماہ شعبان میں کثرت کے ساتھ روزے رکھ کر ماہ رمضان کی تیاری اور استقبال کیا کرتے تھے۔
عن عائشة رضی الله عنها قالت : کان أکثر صيامه سوی رمضان فی شعبان.
(سنن النسائی، 1 : 306، کتاب الصيام، رقم حديث : 2179)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ : حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ صرف ماہ شعبان میں ہی کثرت کے ساتھ روزے رکھا کرتے تھے۔
اکثر اوقات حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شعبان کے روزوں کو رمضان المبارک کے ساتھ ملا دیتے تھے۔
عن عائشة وام سلمة قالتا : ما کان النبی صلی الله عليه وآله وسلم يصوم شهرا سوی رمضان الاشعبان فانه کان يصله برمضان.
(المعجم الکبير، 23 : 256، رقم حديث : 529 - 527)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ صرف شعبان میں ہی پورے ماہ کے روزے رکھا کرتے تھا، اس لئے کہ یہ رمضان کے ساتھ متصل ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس عمل کو ان الفاظ کے ساتھ بیان کیا ہے۔
عن ام سلمة قالت : ما رايت رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم يصوم شهرين متتابعين الا انه کان يصل شعبان برمضان.
(سنن النسائی، 1 : 305، 306، کتاب الصوم، رقم حديث : 2175)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ اور ام سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان کے علاوہ صرف شعبان میں ہی پورے ماہ کے روزے رکھا کرتے تھا اس لئے کہ یہ رمضان کے ساتھ متصل ہے۔

V۔ روزے میں سحر ی و افطاری کا معمول

رمضان المبارک میں پابندی کے ساتھ سحری و افطاری بے شمار فوائد اور فیوض و برکات کی حامل ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بالالتزام روزے کا آغاز سحری کے کھانے سے فرمایا کرتے تھے۔ اس سلسلے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
عن انس، قال قال : رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم تسحروا فان فی السحور برکة.
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضو صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : سحری کھایا کرو، کیونکہ سحری میں برکت ہے۔
(صحيح البخاری، 1 : 257، کتاب الصوم، باب برکة السحور من غير ايجاب، رقم حديث : 1823 )
اس ایک دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل کتاب اور مسلمانوں کے روزے کے درمیان فرق کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
فصل ما بين صيامنا و صيام اهل الکتٰب اکللة السحر.
(صحيح مسلم، کتاب الصيام، باب فضل السحور، رقم حديث : 1096)
حضرت ابوقیس نے حضرت عمرو بن العاص سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارے اور اہل کتاب کے روزوں میں سحری کھانے کا فرق ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
عن ابی سعيد الخدری قال قال : رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم السحور کله برکة فلا تدعوه.
(مسند احمد بن حنبل، 3 : 12)
سحری سراپا برکت ہے اسے ترک نہ کیا کرو۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ سحری کرنے والے پر اللہ کی رحمتیں ہوتی ہیں۔
فان اللّٰه و ملائکته يصلون علی المستحرين.
(مسند احمد بن حنبل، 3 : 12)
اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے سحری کرنے والوں پر اپنی رحمتیں ناز ل کرتے ہیں۔
روزے میں سحری کو بلاشبہ بہت اہم مقام حاصل ہے۔ روحانی فیوض و برکات سے قطع نظر سحری دن میں روزے کی تقویت کا باعث بنتی ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے امت کو تلقین فرمائی ہے کہ سحری ضرور کھایا کرو، خواہ وہ پانی کا ایک گھونٹ ہی کیوں نہ ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول تھا کہ سحری آخری وقت میں تناول فرمایا کرتے تھے۔ گویا سحری کا آخری لمحات میں کھانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔

برکت سے کیا مراد ہے؟

برکت سے مراد اجر عظیم ہے کیونکہ اس سے ایک تو سنت ادا ہوتی ہے اور دوسرا روزہ کے لئے قوت و طاقت مہیا ہوتی ہے۔ علامہ ابن ہمام رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا ہے کہ اس حدیث میں برکت سے مراد دوسر ے دن کے روزے کی قوت حاصل کرنا ہے۔
حدیث مبارکہ میں بھی اس فائدے کا ذکر ملتا ہے :
عن ابن عباس قال قال رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم : استعينوا بطعام السحر علی صيام النهار و بقيلولة النهار علی قيام الليل.
دن کو قیلولہ کرکے رات کی نماز کے لئے مدد حاصل کرو اور سحری کھا کر دن کے روزے کی قوت حاصل کرو۔
(سنن ابن ماجه، 123، کتاب الصيام، باب ما جاء فی السحو، رقم حديث : 1693)
برکت سے مراد ثواب و اجر کی زیادتی ہے، کیونکہ سحری کھانا حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت ہے۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ سحری میں برکت کے فوائد کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ :
و اما البرکة التی فيه فظاهرة لانه يقوي علي الصيام و ينشط له و تحصل بسببه الرغبة في الازدياء من الصيام. و قيل لانه يتضمن الاسقيقاظ، والذکر و الدعاء في ذالک الوقت الشريف و قت تنزل الرحمة و قبول الدعاء و الاستغفار.
سحری میں برکت کی وجوہات ظاہر ہیں جیسا کہ یہ روزے کو تقویت دیتی ہے اور اسے مضبوط کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے روزے میں زیادہ کام کرنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے۔ اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس کا تعلق رات کو جاگنے کے ساتھ ہے اور یہ وقت ذکر اور دعا کا ہوتا ہے جس میں اللہ کی رحمتیں نازل ہوتی ہیں اور دعا اور استغفار کی قبولیت کا وقت ہوتا ہے۔ (شرح نووی، 7 : 206)
سحری کرنے میں تاخیر اور افطاری کرنے میں جلدی آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زندگی بھر معمول رہا۔ جس کے راوی حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہیں، وہ فرماتے ہیں :
قال رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم لا يزال الناس بخير ما عجلوا الفطر.
(صحيح مسلم، 1 : 350، کتاب الصيام، باب فضل السحور، رمق حديث : 1098)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میری امت کے لوگ بھلائی پر رہیں گے جب تک وہ روزہ جلد افطار کرتے رہیں گے۔
اسی طرح دوسری حدیث میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اذا سمع النداء احدکم والاناء علی يده فلا يضعه حتی يقضی حاجته منه.
(سنن ابی داؤد، 1 : 328، کتاب الصوم، رقم حديث : 2350)
جب تم میں سے کوئی اذان سنے اور برتن اس کے ہاتھ میں ہو تو اپنی ضرورت پوری کئے بغیر اسے نہ رکھے۔
حدیث قدسی ہے کہ :
قال اللّٰه تعالی احب عبادی الی اعجلهم فطراً.
(جامع الترمذی، 1 : 88، کتاب الصوم، باب ما جاء فی تعجيل الافطار، رقم حديث : 700)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بندوں میں مجھے پیارے وہ ہیں جو افطار میں جلدی کریں۔
اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب تک اس امت کے لوگوں میں یہ دونوں باتیں ( یعنی افطار میں جلدی اور سحری میں تاخیر کرنا) رہیں گی تو اس وقت تک سنت کی پابندی کے باعث اور حدود شرع کی نگرانی کی وجہ سے خیریت اور بھلائی پر قائم رہیں گے۔

Vi۔ سحری میں تاخیر

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سحری تناول فرمانے میں تاخیر کرتے یعنی طلوع فجر کے قریب سحری کرتے تھے۔
عن ابن عباس رضی الله عنه قال قال : رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم امرنا ان تعجل افطارنا نوخر سحورنا.
(السنن الکبری، 4 : 238)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھے روزہ جلدی افطار کرنے اورسحری میں تاخیر کا حکم دیا گیا ہے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
عن سهل بن سعد رضي الله عنه، قال قال رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم : لا تزال امتي علي سنتي ما لم تنتظر يفطرها النجوم.
حضرت سھل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میری سنت پر اس وقت تک برابر قائم رہے گی، جب تک کہ وہ روزہ افطار کرنے کے لئے ستاروں کا انتظار نہ کرنے لگے گی۔ (مواردالضمان : 891)
آپ کا یہ عمل یہودیوں کے برعکس تھا، جن کے ہاں سحری کرنے کا کوئی تصور نہیں تھا اور وہ افطاری کرنے کے معاملے میں آسمان پر ستاروں کے طلوع ہونے کا انتظار کیا کرتے تھے۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے۔ صحابہ رضی اللہ عنہ کا معمول بھی یہی تھا کہ وہ آفتاب غروب ہوتے ہی افطاری سے فارغ ہو جاتے تھے۔
حضرت ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سحری کھانے کی برکت کئی طرح سے حاصل ہوتی ہے، مثلا اتباع سنت، یہود و نصاری کی مخالفت، عبادت پر قوت حاصل کرنا، آمادگی عمل کی زیادتی، بھوک کے باعث جو بدخلقی پیدا ہوتی ہے، اسکی مدافعت سحری میں کئی حقدارو اور محتاجوں کو شریک کرلینا، جو اس وقت میسر آجاتے ہیں۔
علامہ ابن دقیق العید رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ روزے کا مقصد چونکہ پیٹ اور شرم گاہ کی خواہشات کو توڑنا اور درجہ اعتدال میں لانا ہے۔ لیکن اگر آدمی اتنا کھا جائے کہ جس سے روزے کے مقاصد پورے نہ ہوں، بلکہ ختم ہی ہو کر رہ جائیں۔ تو یہ روزہ کی روح کے خلاف ہے۔ جبکہ عیش پسند لوگ ایسا کرتے ہیں کہ دن بھر کی کسر شام کو اور رات بھر کی کسر سحری کو نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

Vii۔ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا روزہ افطار فرمانا

حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر اوقات کھجوروں سے روزہ افطار فرمایا کرتے تھے۔ اگر وہ میسر نہ ہوتیں تو پانی سے افطار فرما لیتے تھے۔ حضرت سلیمان بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
اذا افطر احکم فليفطر علي تمر فانه برکة فان لم يجد فليفطر علي ماءٍ فانه طهور.
جب تم میں سے کوئی روزہ افطار کرے تو اسے چاہئے کہ کھجور سے کرے کیونکہ اس میں برکت ہے اگر کھجور میسر نہ ہو تو پانی سے کیونکہ پانی پاک ہوتا ہے۔
(جامع الترمذی، 1 : 83، کتاب الزکوة، رقم حديث : 658)
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھجور کو بہترین سحری قرار دیا :
عن ابي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم : نعم سحور المومن التمر.
(سنن ابي داؤد، 1 : 327، کتابالصوم، باب من سمي السحور الغداء، رقم حديث : 2345)
حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کی بہترین سحری کھجور ہے۔
یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ انسان پر شیطان ہمیشہ پیٹ کے راستے حملہ آور ہوتا ہے۔ وہ حصولِ رزق کی کوششوں میں پریشانی سے فائدہ اٹھا کر اسے حرام کی طرف راغب کر دیتا ہے اور بھوک کے ہتھیار سے اسے شکار کر لیتا ہے۔ گویا رزق حرام کی راہ شیطان کی آماجگاہ ہوتی ہے، لہذا فکرِ معاش اور روزگار کی پریشانیوں سے نجات پا کر ہی عبادت کا حقیقی لطف اور کیف و سرور نصیب ہوتا ہے۔

بہترین عمل۔ ۔ ۔ عمل مداومت

اسلام اعتدال اور توازن کی راہ پر چلنے کی تلقین کرتا ہے اور وہ معاملات و عبادات میں افراط و تفریط کی روش اختیار کرنے کو بنظرِ استحسان نہیں دیکھتا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہ کو اسی راہ پر عمل پیرا ہونے کی تعلیم فرمائی ہے۔ روایت میں ہے کہ ایک دفعہ چند صحابہ رضی اللہ عنہ جن میں حضرت عبداللہ رضی اللہ عنہ بن عمرو بھی تھے، صائم الدہر اور قائم الیل رہنے پر متفق ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہوئی تو حضرت عبداللہ بن عمرو کو طلب فرمایا، جو مکالمہ ہوا وہ انہی صحابی سے مروی حدیث پاک میں ملاحظہ فرمایئے :
قال لی رسول اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم يا عبداللّٰه ألم أخبر انک تصوم الدهر و تقوم الليل فقلت بلي يا نبي اللّٰه صلی الله عليه وآله وسلم قال فلا تفعلن نم و قم و صم و افطرفان لجسدک عليک حقاً و ان لعينک عليک حقاً و لضيفک عليک حقاً و ان لزورک عليک حقا لاصام من صام الدهر، صوم ثلاثة ايام من کل شهر صوم الدهر کله، صم کل شهر ثلاثة ايام.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے طلب کیا اور فرمایا : اے عبداللہ مجھے پتہ چلا ہے کہ تم دن کو روزہ رکھتے ہو اور رات کو قیام کرتے ہو۔ میں نے عرض کیا ہاں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (ایسا ہی ہے)۔ آپ نے فرمایا ایسا نہ کیا کرو روزہ بھی رکھو اور افطار بھی کرو (رات کو) قیام بھی کرو اور سوؤ بھی اس لئے کہ تمہارے بدن کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری آنکھوں کا بھی تم پر حق ہے۔ تمہاری بیوی کا بھی تم پر حق ہے اور تمہارے مہمانوں کا بھی تم پر حق ہے، جس نے ہمیشہ کا روزہ رکھا اس نے (کوئی) روزہ نہیں رکھا، ہر ماہ کے تین روزے ہمیشہ کے روزوں کا ثواب رکھتے ہیں، اسلئے بہتر ہے کہ تم ہر ماہ میں تین روزے رکھو۔
(صحيح مسلم، 1 : 365، کتاب الصيام، باب النهي عن صوم الدهر، رقم حديث : 182)
ایک اور حدیث مبارکہ جسے حضرت ابن قیسی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے والد ماجد سے روایت کیا، اسی مضمون پر دلالت کرتی ہے۔ وہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایامِ بیض یعنی چاند کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں کے روزے رکھنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا :
من صام من کل شهرثلاثة ايام فذلک الدهر.
(جامع الترمذي، 1 : 327، کتاب الصوم، رقم حديث : 762)
جس نے ہر ماہ تین روزے رکھے، ایسا ہی ہے، جیسے وہ زندگی بھر روزے رکھنے والا ہو۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہ حکمت آموز ارشادات عبادت میں میانہ روی اور اعتدال کو ملحوظ رکھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔ ان کا لب لباب یہ ہے کہ سب سے بہتر اور افضل عمل وہ ہے، جو خواہ مقدار میں تھوڑا ہی ہو، لیکن اسے پابندی وقت اور محافظت و مداومت کے ساتھ جاری رکھا جا سکے۔
حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
احب الامر الي اللّٰه مادام عليه صاحبه، و ان قل
(صحيح مسلم، 1 : 365، کتاب الصيام، باب صيام النبي صلی الله عليه وآله وسلم في غير رمضان، رقم حديث : 782)
اللہ تعالی کی بارگاہ میں سب سے اچھا عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو۔
اسلام دین فطرت ہونے کے ناطے زندگی کے ہر معاملے میں نظم و ضبط (Discipline) پابندی وقت، (Punctuality) اور باقاعدگی (Regularity) پر زور دیتا ہے، لیکن ہم نے اپنی کوتاہ نظری سے ان تصورات کو مغرب سے آئی ہوئی چیز سمجھ رکھا ہے، حالانکہ وہ اسلامی تعلیمات کا جزوِ لاینفک ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے دنیاوی اور دینی معاملات کو انہی تصورات کے سانچے میں ڈھالیں اور افراط و تفریط سے نجات حاصل کر کے دنیوی و اخروی کامیابیوں اور کامرانیوں سے بہرہ ور ہوں۔

خصوصی خطاب: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری
ترتیب و تدوین: محمد یوسف منہاجی
Share:

3/18/17

مجھے شکوہ ہے I Have Complaint



ایک عربی کی کہاوت ہے  کل اناء یترشح بما فیہ ہر برتن سے وہی اچھلتا ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے۔
ایک عام سی بات کہ جب کلہاڑی اپنے ہاتھ سے چلائی ہو تو شکایت دوسروں سے نہیں ہوتی اور نہ کسی پر اعتراض ہوتا ہے۔
مجھے شکوہ ہے
اہل علم سے:
            درج بالا دو سطروں میں ایک بات کو بڑی اچھی طرح بیان کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ کہ معاشرے کی  ابتری اور معاشرتی بگاڑ کی بڑی وجہ جہالت ہے اور عمل سے دوری ہے۔ جہالت صرف اس بات کا نام نہیں کہ انسان نے علم حاصل نہ کیا ہو بلکہ یہ صورت جہالت کی سب سے بد ترین اور خطرناک ترین صورت ہوتی ہے کہ جب اہل علم بھی جاہل جیسا رویہ اپنائیں اور علم ہونے کے باوجود جاہل بنیں یعنی عالم نما جاہل۔
            جب اہل علم اپنا مقام گنوا دیں اور اپنے مقام پر جہلاء کو بیٹھا دیں ، جب جہاں ان کی ضرورت ہو اور وہ اپنی جگہ جہلاء کو ترجیح دیں ، جب اہل علم اپنی قوم کی جہالت پر فخر کرنے لگ جائیں  تو حالات ایسے پیدا ہوتے ہیں جیسے پاکستان کے ہیں  تو مجھے شکوہ اہل علم سے ہے کہ خود قیادت کرنے کی بجائے خود غرض، کرپٹ ، بے غیرت، بے دین، ننگ دنیا و ننگ عقبی ، شراب پینے والے ، انسان کو انسان نہ سمجھنے والوں ، انسانی اقدار کی پامالی کرنے والوں  اور اہل تکبر کو اپنا قائد بنائیں  اور پھر بات کریں کہ ہمارے حالات خراب کیوں ہیں ۔ یاد رہے قصور جہلاء کا نہیں اہل علم کا ہے ۔


صوفیاء سے:
آج اس دور میں داڑھی والے کی کیا قدر ہے، آج ایک دین دار کی کیا قدر ہے، آج خدا کا نام لینے والوں کی کیا قدر ہے ، آج دین کے پہرے داروں کی کیا قدر ہے، آج دین کے رکھوالوں کا کیا حشر ہے ؟ کیا کوئی اس کے حل کا سوچ رہا ہے ؟ صرف خدا سے دعائیں کی جا رہی ہیں ، ہر محفل اور مجلس میں ، ہر اص و عام کی زباں پر فقط دعا اور تمنا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بتائیں کیاآسمان سے فرشتے آئیں گے جو ان حالات کو درست کریں گے ۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا  بلکہ اللہ تعالی نے ارشاد فرما دیا ہے کہ :
لیس للانسان الا ماسعی ( انسان کیلیے کچھ نہیں مگر جتنی اس نے کوشش کی)
ارشاد باری تعالی :
ان اللہ لا یغیر ما بقوم حتی یغیروا ما بانفسھم ( بے شک اللہ تعالی کسی قوم کی حالت نہیں بدلنا جب تک وہ خود نہ بدل دے)
دین کی ذمہ داری اور اس کی آبیاری ،  دین کی فہم و فراست ، دین کی حقیقت ، دین کی اصل ، رسول اللہ ﷺ کی سیرت کا حقیقی آئینہ یہ صوفیا ہیں مگر آج کیوں چھپ کر بیٹھ گئے اور ایک سادہ لوح انسان کو نام نہاد دین کے ٹھیکے داروں کے حوالے کر گئے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگ دین سے متنفر ہونے لگے ۔ مجھے شکوہ صوفیا سے ہے کہ کیوں چھپ گئے خدا کیلیے سامنے آؤ معاملات کی اصلاح تمہاری منتظر ہے۔

دینی جماعتوں سے :۔۔۔۔
پاکستان کے حالات آج اب تر ہیں مذہبی حوالے سے۔ ہر عالم دین ، ہر دین دار ، ہر مذہبی پیشوا حالات کا شکوہ کرتے ہوئے نظر آتا ہے ۔ اور پاکستاں میں اسلام کے نظام کے نفاذ کا خواہاں ہے اور دن رات  دعا کرتا ہے کہ پاکستاں میں نظام مصطفے ﷺ کا نفاذ ہو اور فتنہ فساد بھی نہ۔ مگر صورت حال کیا ہے کہ خود اس کی کوشش نہیں کرتا سیاست سے بھاگتے ہیں اور اسمبلی میں جانے سے اور الیکشن لڑنے سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے کوئی تیر ہو جو ان کے سینے کو چھلنی کر جائے گا ۔ اور خود کو غیر سیاسی کہلانے میں فخر محسوس کرتے ہیں ۔ اور جب خود آتے نہیں تو پھر آئیں گے وہ سب لوگ جن سے نالاں ہیں اور پھر آئیں گے جو ناموس رسالت ﷺ کے آئین میں ترمیم کی بات کریں گے ، پھر آئیں گے وہ لوگ جو دفاتر میں نماز پڑھنے سے روکیں گے ، پھر آئیں گے وہ لوگ سیکیورٹی کیلیے مساجد کی تالا بندی کریں گے اور نماز میں لوگوں کو پڑھنے نہیں دیں گے ، پھر آئین گے جو شراب کو حلال کہیں گے، پھر آئیں گے وہ لوگ سود کو حلال قرار دینے کی بات کریں گے ۔ کیوں حالات کی خرابی کا شکوہ کرتے ہو جبکہ تم نے خود ان حالات کو پید اکیا ہے اور تم خود اس کے ذمہ دار ہو مجھے شکوہ ہے دینی جماعتوں سے کہ وہ آگے کیوں نہیں آتیں۔
آج کے علماءسے:
            آج سب معیشت کی بات کرتے ہیں اور پاکستان میں معاشی بدحالی سے نالاں نظر آتے ہیں ۔ سود کی گرم بازاری سے تنگ ہیں اور سودی نظام کی مخالفت میں گھنٹوں تقریر کرتے نہیں تھکتے ۔ سودی  نظام کے خاتمے کی لیے جان و مال کی قربانی کی بات کرتے ہیں مگر وہ لوگ عملاً کچھ بھی نہیں کرتے اور تجارت کرنے اور بزنس کرنے کو اپنے لیے گناہ سمجھتے ہیں اور معاش کیلیے تگ و دو کو دنیا داروں کا شیوہ قرار دیتے ہیں اور خود جو سوکھی تر مل جائے اس پر قناعت کر کے بیٹھ جاتے ہیں اور ہر وقت صبر اور شکر کے لیکچر دیتے نہیں تھکتے ۔ مجھے بتائیں کہ جب دیانتدار ، امانتدار ، دیندار اور اسوہ رسول ﷺ کے پیکر اور نبوی طریق پر تجارت کرنے والے خود کو تجارت سے دور کر لیں گے تو بتاؤ کہ کون تجارت اور کاروبار اور معاشی نظام کو درست کرے گا اور کیسے ہمیں سودی نظام سے نجات ملے گی۔ ہمیں فقر کی حالت اہل صفہ میں نظر آتی ہے تو سیدنا عثمان غنی ؓ کی سیرت پاک کو کیوں بھول جاتے ہیں ، ہم حضرت ابوبکر ؓ کو تجارت کرتے ہوئے ، سیدنا فاروق اعظم ؓ کو تجارت کرتے ہوئے، امام اعظم ابو حنیفہ کو کپڑے کی دکان چلاتے ہوئے  کیوں نہیں دیکھتے۔ ہم محنت کیوں نہیں کرتے ۔ کیا اسلام ہمیں یہ تعلیم دیتا ہے کہ تم محنت نہ کرو اور معاش کے لیے محنت نہ کرو۔ کیا ہو گیا ہے علما ء کو اور مساجد کے ائمہ اور خطباء کو کہ وہ محنت سے عاری ہو گئے اور پھر خود معاشرے کے رحم و کرم پر بیٹھ گئے ۔ مجھے شکوہ ہے دین داروں سے کہ خود معاشی سر گرمیوں سے دور بیٹھ کر اس کی اصلاح کی دعا کرتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر از : محمد سہیل عارف معینی
تقدیر  الہی   کے  نوشتے  بھی  وہی  ہیں
اللہ بھی وہی اس کے فرشتے بھی وہی ہیں
اتریں گے ملائک  آج بھی امداد کو تیری

گر ذات خدا سے تیرے رشتے بھی وہی ہیں



Share:

2/14/17

الحیاء من الایمان (حیا ایمان کا حصہ ہے)

الحیاء من الایمان

اس مضمون میں آپ درج ذیل عنوان کا مطالعہ کریں گے:

حیاء ایمان کا حصہ ہے:۔

حیا ءسے متعلق احادیث مبارکہ:۔

حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں:۔

عملی اعتبار سے حیا کے تین شعبے ہیں:

یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔ حیا کے انسانی زندگی پر اثرات

 

حیاء ایمان کا حصہ ہے

آج دنیا بھر کا میڈیا ایک خاص محنت میں مصروف ہے ۔ وہ اخبارات ہوں یا ٹی وی چینلز ‘ وہ رسائل و جرائد ہوں یا ریڈیو چینلز ‘ سب مسلمانوں سے وہ دولتِ بے بہا اور متاع بیش بہا چھین لینا چاہتے ہیں ‘ جسے ہم ‘‘شرم و حیاء’’  کہتے ہیں ۔ اسلام کا مزاج شرم و حیاء کا ہے اور مغربی ثقافت کی ساری بنیاد ہی بے حیائی اور بے شرمی پر کھڑی ہے، حیاء ہی وہ جوہر ہے ‘ جس سے محروم ہونے کے بعد انسان کا ہر قدم برائی کی طرف ہی اٹھتا ہے اور ہر گناہ کرنا آسان سے آسان تر ہو جاتا ہے ۔ شرم و حیاء آپ کیلئے ایسی قدرتی اور فطری ڈھال ہے‘ جس کی پناہ میں آپ معاشرے کی تمام گندگیوں سے محفوظ رہتے ہیں ۔

حیا ءسے متعلق احادیث مبارکہ:۔

شرم و حیاء کی اسی اہمیت کی وجہ سے قرآن و حدیث میں ہمیں بار بار اس کی طرف متوجہ کیا گیا ہے ۔ اور شریعتِ اسلامی میں اس صفت کو نمایاں مقام حاصل ہے اور جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس کی نہایت تاکید فرمائی ہے ۔ اس سلسلہ کی چند احادیث درج ذیل ہیں:

(۱)…  حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے ارشاد فرمایا :

الحیاء لا یاتی الا بخیر و فی روایۃ الحیاء خیر کلہ ( بخاری شریف)

( حیا کا نتیجہ صرف خیر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ حیا ساری کی ساری خیر ہی ہے)۔

(۲)… حضرت زید بن طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺنے ارشاد فرمایا :

ان لکل دین خلقا و خلق الاسلام الحیاء ( مشکوٰۃ شریف )

(ہر دین کی (خاص) عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت حیا ہے)

3:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

ان الحیاء والایمان قرنا ء جمیعاً فاذا رفع احد ھما رفع الاخر (مشکوٰۃ شریف)

ترجمہ: حیا اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں ان میں سے کوئی ایک بھی اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔ حیا کے انسانی زندگی پر اثرات

4: حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا :

ان مما ادرک الناس من کلام النبوۃ الاولیٰ اذا لم تستحی فاصنع ماشئت (بخاری شریف)

ترجمہ: پہلے انبیاء کے کلام سے لوگوں نے یہ جملہ بھی پایا ہے کہ اگر تو حیا نہ کرے تو جو چاہے کر۔(یعنی کوئی چیز تجھ کو برائی سے روکنے والی نہ ہو گی۔

5:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آنحضرتﷺنے ارشاد فرمایا :الحیاء شعبۃ من الایمان(بخاری شریف)

ترجمہ: حیاایمان کا (اہم ترین) شعبہ ہے۔

6:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے :

الحیاء من الایمان والایمان فی الجنۃ والبذ اء من الجفاء والجفاء فی النار(ترمذی)

ترجمہ: حیا ایمان میں سے ہے اور ایمان (یعنی اہل ایمان) جنت میں ہیں ۔ اور بے حیائی بدی میں سے ہے اور بدی (والے) جہنمی ہیں۔

7: حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

ماکان الفحش فی شیٔ الا شانہ وما کان الحیاء فی شیٔ الا زانہ (ترمذی شریف)

ترجمہ: بے حیائی جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے عیب دار ہی بنائے گی ۔ اور حیاء جب بھی کسی چیز میں ہو گی تو اُسے مزین اور خوبصورت ہی کرے گی۔

8: حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت ہے کہ محسن انسانیت حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :

ان اللہ عزوجل اذا اراد ان یھلک عبدا نزع منہ الحیاء فاذا نزع منہ الحیاء لم تلقہ الا مقیتا ممقتا فاذا لم تلقہ الا مقیتا ممقتا نزعت منہ الا ما نۃ فاذا نزعت منہ الا مانۃ لم تلقہ الا خائنا مخوانا فاذا لم تلقہ الا خائنا مخونا نزعت منہ الرحمۃ فاذا نزعت منہ الرحمۃ لم تلقہ الا رجیما ملا عنا فاذا لم تلقہ الا رجیما ملا عنا نزعت منہ ربقۃ الاسلام (ابن ماجہ شریف)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ جب کسی بندہ کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اُس سے حیا کی صفت چھین لیتا ہے ۔ پس جب اُس سے حیا نکل جاتی ہے تو وہ (خود ) بغض رکھنے والا اور (دوسروں کی نظر میں) مبغوض ہو جاتا ہے ۔ پھر جب وہ بغیض و مبغوض ہو جاتا ہے تو اس سے امانت نکل جاتی ہے ۔ جب اُس سے امانت نکل جاتی ہے تو وہ خائن اور (لوگوں کی نظر میں) بَد دیانت ہو جاتا ہے ۔ جب وہ خائن اور بددیانت ہو جاتا ہے تو اس میں سے رحم کا مادہ نکل جاتا ہے ۔ جب اُس سے رحمت نکلتی ہے تو وہ لاعن و ملعون ہو جاتا ہے پس جب لاعن اور ملعون ہو جاتا ہے تو اُس سے اسلام کا پھندا (عہد ) نکل جاتا ہے )۔

اسلامی شریعت میں حیا سے مراد محض انسانوں سے حیا نہیں بلکہ اسلام اپنے ماننے والوں کو اس اللہ علیم و خبیر سے بھی  شرم کرنے کی تلقین کرتاہے جو ظاہر و پوشیدہ ، حاضر و غائب ہر چیز کو اچھی طرح جاننے والا ہے ۔ اس سے شرم کرنے کا تقاضا یہ ہے کہ جو فعل بھی اس کی نظر میں برا ہو اُسے کسی بھی حال میں ہرگز ہرگز نہ کیا جائے اور اپنے تمام اعضاء و جوارح کو اس کا پابند بنایا جائے کہ ان سے کسی بھی ایسے کام کا صُد ور نہ ہو جو اللہ تعالیٰ سے شرمانے کے تقاضے کے خلاف ہو ۔ اس سلسلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو واضح ہدایت فرمائی ہے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :

استحیوا من اللّٰہ حق الحیاء قالواانا نستحیی من اللّٰہ یا نبی اللّٰہ والحمد للّٰہ قال لیس ذلک ولکن من استحی من اللّٰہ حق الحیاء فلیحفظ الراس و ما وعیٰ ولیحفظ البطن وما حوٰی ولیذ کر الموت والبلٰی و من اراد الا خرۃ ترک زینۃ الدنیا فمن فعل ذلک فقد استحیٰ من اللّٰہ حق الحیاء(مشکوٰۃ شریف)

ترجمہ: اللہ تعالیٰ سے اتنی شرم کرو جتنی اُس سے شرم کرنے کا حق ہے ۔ صحابہ نے عرض کیا تمام تعریف اللہ کے لئے ہیں‘ اے اللہ کے نبی ! ہم اللہ سے شرم تو کرتے ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ مراد نہیں بلکہ جو شخص اللہ سے شرمانے کے حق کو ادا کرے گا تو (اسے تین کام کرنے ہوں گے) اول یہ کہ اپنے سر کی حفاظت کرے اور اس چیز کی جس کو سرنے جمع کیا اور (دوسرے یہ کہ) پیٹ کی حفاظت کرے اور اس چیز کی جو پیٹ سے لگی ہوئی ہے اور (تیسرے یہ کہ ) موت کو اور موت کے بعد کے حالات کو یاد کرے اور (خلاصہ یہ ہے کہ ) جو شخص آخرت کا ارادہ کرے وہ دنیا کی زیب و زینت چھوڑ دے پس جو ایسا کرے گا تو وہ اللہ سے حیا کرنے کا حق ادا کرے گا۔

قرآن مجید حیا کے متعلق ایک خوبصورت واقعہ کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس سے مسلمان عورت کو یہ سبق بھی ملتا ہے کہ وہ کس طرح اپنے گھر سے نکلے۔

حضرت موسی علیہ السلام اور حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹیاں:۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک عظیم پیغمبر تھے،  جو اﷲ تعالیٰ  سے براہ راست ہم کلام ہوئے۔ ایک مرتبہ سفر میں تھے گرمی کا موسم تھا پاؤں ننگے تھے۔ سفر کی تھکاوٹ اور پیدل چل چل کر پاؤں میں چھالے پڑچکے ہیں، ذرا آرام کرنے کے لئے ایک درخت کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کیا دیکھتے ہیں کہ کچھ فاصلے پر ایک کنواں ہے وہاں سے کچھ نوجوان اپنی بکریوں کو پانی پلارہے ہیں اور ان سے کچھ فاصلے پر باحیا دو لڑکیاں کھڑی ہیں۔ جب آپ ں نے ان کو دیکھا تو حیرانگی کی انتہا نہ رہی کہ یہ دونوں لڑکیاں اس جنگل میں کیوں کھڑی ہیں اور کس کا انتظار کررہی ہیں؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب وجہ دریافت کی تو پتہ چلا کہ ان کا کوئی بھائی نہیں، باپ بوڑھا ہے وہ اس قابل نہیں کہ چل پھرسکے اور وہ دونوں اپنی بکریوں کو پانی پلانے کے لئے آئی ہیں کہ جب تمام لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلاکر چلے جائیں گے تو آخر میں یہ اپنی بکریوں کو پانی پلائیں گی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام ان کی بات سننے کے بعد آگے بڑھے اور خود پانی کنوئیں سے نکالا اور ان کی بکریوں کو پلادیا۔ لڑکیاں جب خلاف معمول جلدی  گھر پہنچیں تو باپ نے جلدی آنے کی وجہ پوچھی تو دونوں نے باپ کو پوری حقیقت سے آگاہ کردیا۔ باپ خود بھی پیغمبر  تھے فرمایا کہ جاؤ اس نوجوان کو بلاکر لاؤ تاکہ ہم اس کو پورا پورا بدلہ دیں۔ اب ایک لڑکی جب موسیٰ علیہ السلام کو بلانے آئی تو وہ کس طرح آئی ، اس کا انداز کیا تھا۔ قرآن نے اس کے چلنے کا انداز جوکہ شرم و حیا سے لبریز تھا اس طرح بیان کیا ہے:

ترجمہ: ’’پھر آئی ان دونوں میں سے ایک، شرم و حیا سے چلتی ہوئی۔ وہ کہنے لگی کہ میرا باپ آپ کو بلاتا ہے تاکہ وہ بدلہ دے جوآپ نے ہمارے جانوروں کو پانی پلایا ہے۔‘‘(القصص ؍ ۲۵)

حضرت شعیب علیہ السلام کی بیٹی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بلانے آئی۔ شرم و حیا کا دامن نہیں چھوڑا نگاہ نیچے تھی۔بات بھی شرما کر زیادہ کھل کر نہیں کی۔اﷲ تعالیٰ کو اس کی حیا اس قدر پسند آئی کہ اس حیا کو قرآن بناکرحضرت محمد رسول اﷲﷺ پر نازل کردیا تاکہ پوری امت کی عورتوں کو پتہ چل جائے کہ جب وہ گھروں سے نکلیں تو شرم و حیا سے عاری لوگوں کی طرح گردن اٹھاکر نہ چلیں بلکہ دھیمی چال سے کہ شرافت اور حیا ان سے واضح نظر آئے۔ جس طرح شعیب علیہ السلام کی بیٹی شرم و حیا سے چلتی ہوئی آئی۔

یہ بھی پڑھیں۔۔۔۔۔ حیا کے انسانی زندگی پر اثرات

 عملی اعتبار سے حیا کے تین شعبے ہیں:

(۱) اﷲ تعالیٰ سے حیا

(۲) لوگوں سے حیا

(۳) اپنے نفس سے حیا

اﷲ تعالیٰ سے حیا کا مطلب یہ ہے کہ احکام الٰہی کو نہ توڑے۔ لوگوں سے حیا یہ کہ حقوق العباد کو ادا کرے،لوگوں کے سامنے جن باتوں کے اظہار کو محبوب اور برا سمجھا جاتا ہے،اُن کے اظہار سے بچے اور اپنے نفس سے حیا یہ ہے کہ نفس کو ہر برے اور قابل مذمت کام سے بچائے۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں یہ چند آیات اور احادیث کے مطالعے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ اسلام نے شرم و حیا پر کتنا زیادہ زور دیا ہے اور اس کی اتنی زیادہ اہمیت ہے کہ اسے ایمان کا حصہ قرار دیا گیا ہے۔

شرم و حیاء ایمانی زیور ہے لیکن آج کل کے دور میں شرم وحیا، عفت و عصمت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ آج حیا ایک عیب بن کر رہ گیا ہے۔ مغربی تہذیب نے دنیاکو بے شرم اور بے حیا بنادیا ہے۔آج اگر ہم اپنے معاشرے میں نظر دوڑائیں تو ہر طرف بیہودہ  تصویریں نظر آتی ہیں ۔ مغربی میڈیا ہر جگہ عورت کی تصویر کو نمائش بناکر پیش کررہا ہے، آپ کو مختلف چوکوں اور چوراہوں پر ایسے سائن بورڈ نظر آئیں گے جہاں عورت کی تصویر ذریعہ اشتہار برائے کمائی نظر آئے گی، عورت کی اس حالت کو دیکھ کر دل خون کے آنسو روتا ہے :پھر افسوس ہے کہ بے وقوف لوگ اسی کو آزادیٔ نسواں اور حقوق ِ نسواں کا نام دیتے ہیں۔

        اپنی زندگی میں ہر قدم ایسے پھونک پھونک کر رکھیں کہ ایمان کے لٹیرے اور عزتوں کے ڈاکو کہیں شرم و حیاء کی یہ قیمتی دولت آپ سے چھین نہ لیں ۔

اللہ کریم ہم سب کا حامی و ناصر ہو ۔ آمین ثم آمین

وصلی اللّٰہ علی النبی الکریم و علی آلہ و صحبہ اجمعین


Share:

1/26/17

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تعالی

ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تعالی سنہ 46 ہجری میں پیدا ہوئے جس زمانے میں کبار صحابہ کرام بھی بڑی تعداد میں موجود تھے  چنانچہ آپ نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کی زیارت کا شرف بھی حاصل کیا ہے اور متعدد کبار صحابہ کرام کی زیارت سے سعادت افروز ہوئے ہیں ۔۔
اپنے پیدائشی شہر کوفہ میں ہی آپ کی تمام تر علمی و فقہی تربیت ہوئی جہاں حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کا علمی حلقہ قرآن و سنت اور فقہ و حدیث کے علوم میں اپنی بہاریں دکھا رہا تھا اور خود آپ کا خاندان بھی ایک علمی خاندان تھا چنانچہ اس دوہری نسبت نے بچپن سے ہی آپ کی علمی و فقہی تربیت کرنا شروع کردی تھی 
اہل علم کے چند اقوال
امام شعبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں : ابراہیم نخعی نے فقہی گھرانے میں تربیت پائی اور علم فقہ میں خوب مہارت حاصل کی بعد ازاں ہمارے ساتھ ( یعنی اصحاب حدیث کے ساتھ ) بیٹھنا شروع کیا تو ہمارے پاس موجود عمدہ اور قابل اعتبار و قابل عمل احادیث بھی حاصل کر لیں اور یوں فقہ و حدیث کے جامع بن گئے ۔۔
علامہ شمس الدین ذہبی رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں
كان بصيرا بعلم ابن مسعود ، واسع الرواية ، فقيه النفس ، كبير الشأن ، كثير المحاسن ، رحمه الله تعالى 
یعنی موصوف حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ کے علوم میں بڑی بصیرت رکھتے تھے ، احادیث پر کافی دسترس تھی ، فقاہت ان کا طبعی جوہر تھا ، بلند شان کے حامل اور اچھی صفات ان میں بکثرت موجود تھیں ۔۔ اللہ تعالی کی رحمت ہو اُن پر
مزید یہ بھی لکھتے ہیں
كان مفتي أهل الكوفة هو والشعبي في زمانهما ، وكان رجلا صالحا ، فقيها ، متوقيا ، قليل التكلف
یعنی ابراہیم نخعی ایک نیک سیرت ، انسان ، بڑے فقیہ ، محتاط اور تکلفات سے پاک انسان تھے ۔ اپنے زمانے میں آپ اور امام شعبی دونوں کوفہ کے مفتی تھے ۔۔ 
فضل و کمال
آپ نے اولا کم سنی میں قرآن کریم حفظ کیا اور علم قرائت میں ایسی مہارت حاصل کی کہ کوفہ کے بڑے قرائ میں شمار ہوتے تھے 
اسی طرح علم حدیث میں بھی کمال حاصل کیا اور کوفہ کے محدثین میں صف اول میں شمار ہوئے جبکہ علم فقہ تو گویا ان کا اوڑھنا بچھونا تھا 
علم حدیث میں مہارت پر چند درج ذیل اقوال سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔ 
اسماعیل بن ابو خالد کہتے ہیں کہ : امام شعبی ، ابراہیم نخعی اور ابو الضحی مسجد میں مذاکرہ حدیث کے لیے جمع ہوتے تھے اور جب کسی مسئلے میں کوئی حدیث کسی کو یاد نہ آتی تو سب کی نظریں ابراہیم نخعی پر جم جاتی تھیں ۔۔۔
امام اعمش سلیمان بن مہران رحمہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ : ابراہیم نخعی علم حدیث کے صراف تھے !
۔
یاد رہے کہ یہ وصف بڑا ہی اہم ہے ۔۔ کیوں کہ محدثین کا ایک عمومی طرز یہ ہوتا ہے ک

ہ وہ احادیث جمع فرماتے ہیں اور پھر رجال و اسانید کی بنیاد پر ان میں مقبول و غیر مقبول احادیث کا فیصلہ کرتے ہیں جب کہ ان احادیث سے شرعی احکام معلوم کرنا اور نئے نئے مسائل کو احادیث کی روشنی میں حل کرنا یہ محض محدث سے اونچے درجے کے عالم کا کام ہے اور یہ وصف فقہائے کرام میں بکثرت پایا جاتا ہے ۔۔ اسی لیے امام اعمش جیسے جلیل القدر محدث نے حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تعالی کو اس وصف مذکورہ بالا سے متصف کیا ہے
Share:

نماز میں آمین آہستہ کہنا


نماز میں آمین آہستہ کہنا:
امام احمد ، ابو داود طیالسی، ابو یعلی موصلی طبرانی، دار قطنی اور حاکم نے مستدرک میں حضرت وائل ابن حجر سے روایت کی حاکم نے فرمایا کہ اس کی اسناد نہایت صحیح ہے۔
عن وائل ابن حجر انہ صلی مع النبی صلی اللہ علیہ و سلم فلما بلغ غیر المغضوب علیھم و لا الضالین قال آمین و اخفی بھا صوتہ
ترجمہ: حضرت وائل ابن حجر نے حضور ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی ۔ جب حضور ﷺ و لا الضالین پر پہنچے تو آپ نے فرمایا آمین اور آمین میں آواز آہستہ رکھی۔

جب اتنے محدث ایک روایت کو صحیح کہیں تو ایمان والے مان جاتے ہیں اور بے ایمان تو حضور ﷺ کی بات کو اپنے کانوں سے سن کر بھی نہیں مانتے تھے  جن کا سردار عبد اللہ بن ابی تھا ۔ 
Share:

1/25/17

حنفی نماز میں رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟


حنفی نماز میں رفع یدین کیوں نہیں کرتے ؟
امام ابو محمد بخاری محدث رحمۃ اللہ علیہ نے حضرت سفیان ابن عینیہ سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضرت امام اعظم ابو حنیفہ اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیھما کی مکہ معظمہ کے دار الحناطین میں ملاقات ہو گئی تو ان بزرگوں کی آپس میں حسب ذیل گفتگو ہوئی:
امام اوزاعی: آپ لوگ رکوع میں جاتے اور رکوع سے اٹھتے  وقت رفع یدین کیوں نہیں کرتے؟
امام ابو حنیفہ: اس لیے کہ رفع یدین ان موقعوں پر حضور سے ثابت نہیں۔
امام اوزاعی: آپ نے یہ کیا فرمایا میں آپ کو رفع یدین کی صحیح حدیث سناتا ہوں۔
حدثنی الزھری عن سالم عن ابیہ عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم انہ کان یرفع یدیہ اذا افتتح الصلوۃ و عند الرکوع و عند الرفع  منہ۔
 ترجمہ: مجھے زہری نے حدیث بیان کی انہوں نے سالم سے سالم نے اپنے والد سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے کہ آپ ہاتھ اٹھاتے تھے جن نماز شروع فرماتے اور رکوع کے وقت اور رکوع سے اٹھتے وقت۔
امام اعظم: میرے پاس اس سے قوی تر حدیث اس کے خلاف موجود ہے۔
امام اوزاعی: اچھا فوراً پیش فرمائیے۔
امام اعظم: لیجیے سنیے:
حدثنا حماد عن ابراہیم عن علقمہ و الاسود عن عبد اللہ ابن مسعود ان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کان لایرفع یدیہ الا عند افتتاح الصلوۃ ثم لا یعود لشیئ من ذالک۔
ترجمہ: ہم سے حماد نے حدیث بیان کی انہوں نے ابراہیم نخعی سے انہوں نے حضرت علقمہ اور اسود سے انہوں نے حضرت عبد اللہ ابن مسعود سے کہا نبی ﷺ صرف شروع نماز میں ہاتھ اٹھاتے تھے پھر کسی وقت نہ اٹھاتے تھے۔
امام اوزاعی: آپ کی پیش کردہ حدیث کو میری پیش کردہ حدیث پر کیا فوقیت ہے جس کہ وجہ سے آپ نے اسے قبول فرمایا اور میری حدیث کو چھوڑ دیا۔
امام ابو حنیفہ: اس لیے کہ حماد ، زہری سے زیادہ فقیہ ہیں۔ اور ابراہیم نخعی سالم سے بڑھ کر عالم و فقیہ ہیں۔ علقمہ ، سالم کے والد عبد اللہ ابن عمر سے علم میں کم نہیں اسود بہت ہی بڑے متقی فقیہ و افضل ہیں۔ عبد اللہ ابن مسعود فقہ ہیں۔ قراۃ میں حضور ﷺ کی صحبت میں حضرت ابن عمر سے کہیں بڑھ چڑھ کر ہیں کہ بچپن سے حضور ﷺ کے ساتھ رہے۔
            چونکہ ہماری حدیث کے راوی تمہاری حدیث کے راویوں سے علم و فضل میں زیادہ ہیں لہذا ہماری پیش کردہ حدیث بہت قوی  اور قابل قبول ہے۔
امام اوزاعی: خاموش۔

غیر مقلدین صاحبان امام صاحب کی یہ اسناد دیکھیں اور اس  میں کوئی نقص نکالیں امام اوزاعی کو بجز خاموشی کے چارہ کار نہ ہوا یہ ہے امام اعظم ابو حنیفہ کی حدیث دانی اور یہ ہے ان کی حدیث کی اسناد۔ اللہ تعالی حق قبول کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ضد کا کوئی علاج نہیں ۔ یہ لمبی لمبی اسنادیں اور ان میں ضعیف راویوں کی شرکت حضرت امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد کی پیدا وار ہیں ۔ امام صاحب نے جو حدیث قبول فرمائی وہ نہایت صحیح ہے۔( جاء الحق ، صفحہ 57،58 59، حصہ دوم)
Share:

ایک قدیم غلط فہمی کا ازالہ۔


غلط فہمی کا ازالہ :

            صحیح حدیث کا دارو مدار مسلم ، بخاری یا صحاح ستہ پر نہیں صحاح ستہ کو صحیح کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کی ساری حدیثیں صحیح  ہیں ان کے سوا دوسری کتب کی ساری حدیثیں ضعیف ہیں بلکہ صرف مطلب یہ ہے کہ ان میں صحیح حدیثیں زیادہ ہیں۔ ہمارا ایمان حضور ﷺ پر ہے نہ کہ محض بخاری  و مسلم وغیرہ پر، حضور ﷺ کی حدیث جہاں سے ملے ہمارے سر آنکھوں پر ہے۔ بخاری میں ہو نہ ہو ۔تعجب ہے  غیر مقلدوں پر کہ امام ابوحنیفہ رضی اللہ عنہ کی تقلید کو شرک قرار دیتے ہیں مگر مسلم بخاری پر ایسا ایمان رکھتے ہیں اور ان کی ایسی اندھی تقلید کرتے ہیں کہ خدا پناہ۔( جاء الحق، صفحہ 7 حصہ اول)
Share:

1/14/17

Quran and Human Climax.

قرآن حکیم فرقان حمید اللہ تعالی کی وہ لا ریب اور بلند رتبہ کتاب ہے جو کائنات ارضی و سماوی کے علاوہ دیگر علوم کی جامع ہے اور اپنے اس دعوی کی دلیل بھی خود قرآن حکیم ہے چنانچہ ارشاد باری تعالی ہے ( سورہ نحل آیہ 89) ترجمہ: اور ہم نے تم پر یہ قرآن اتارا کہ ہر چیز کا روشن بیان ہے اور ہدایت اور رحمت اور بشارت مسلمانوں کیلیے۔(کنز الایمان)۔
(سورہ یوسف آیہ 111) ترجمہ: اور ہر چیز کا مفصل بیان اور مسلمانوں کیلیے ہدایت اور رحمت۔(کنز الایمان)
            (سورہ انعام آیہ 38) ترجمہ: اور نہیں کوئی زمین میں چلنے والا اور نہ کوئی پرندہ کہ اپنے پروں پر اڑتا ہے مگر تم جیسی امتیں ہم نے اس کتاب میں کچھ اٹھا نہ رکھا۔ (کنز الایمان)
            سورہ انعام آیہ 59 ترجمہ: اور نہ کوئی تر اور خشک جو ایک روشن کتاب میں لکھا ہوا عالم پست و بالا تر چیز کا تصور کریں آپ کو وہ قرآن حکیم میں ضرور پر ضرور ملے گی گویا قرآن کا اعزاز ہے ان دو لفظوں لا رطب اور یابس کے ذریعے ساری کائنات کے ایک ایک ذرے کی موجودگی اور علم کا اظہار کر دیا  ہے بلکہ پندھرویں پارہ کی (سورت بنی اسرائیل آیہ 14) میں ہے کہ ترجمہ: اور ہم نے ہر چیز خوب جدا جدا ظاہر فرما دی۔ (کنز الایمان)
            چنانچہ علوم قرآنیہ کے بارے میں مفسرین و محققین نے اپنی اپنی خدادا صلاحیتیوں کے مطابق بہت کچھ لکھا ہے۔ قاضی ابو بکر بن عربی نے کہا ہے کہ قرآنی علوم کی تعداد تقریباً تین لاکھ نو ہزار آٹھ سو ہے اور الحمد للہ سے والناس تک استعمال ہونے والا ہر کلمہ کسی نہ کسی مستقل علم اور فن کی بنیاد ہے۔ (قانون التاویل)
            حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ قرآن کےہر حرف کا ایک ظاہر ہے اور ایک باطن ہے۔ پھر ہر ظاہر و باطن کیلیے ایک حد آغاز اور ایک حد اختتام ہے۔
            حضرت امام فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ نے اعوذ باللہ اور بسم اللہ میں لاکھوں مسائل کا ذکر فرمایا ہے۔ الغرض قرآن حکیم میں علم الارض ، علم الادب، علم ہوا، علم آتش، علم ہئیت، علم ریاضی ، علم النفس، علم الانسان، علم طب، فن و تشریح، علم زبان، علم بلاغت و فصاحت، علم معدنیات، علم تجارت، علم الرویا، علم تفسرین قرآن، علم المیراث، علم حدیث، علم الہیات، علم تعبیر، علم فقہ، علم الرجال، علم دعوت، علم تصوف، علم رموز قرآن فلکیات وغیرہ تمام علوم قرآن میں موجود ہیں ۔ لہذا مرضی الہی یہ ٹھہری کہ انسان جو آئینہ رحمان ہے۔ جو میرا بھید اور میں اس کا بھید ہوں بلکہ مجھے انسان سے اتنی محبت ہے کہ  ان  اللہ خلق آدم علی صورۃ  کا اعزاز وشرف صرف اور صرف حضرت انسان کو حاصل ہے لہذا وہ انسان میرے رازوں اور بھیدوں کو پائے۔
            چنانچہ اللہ تعالی نے انسان کو متعدد بار یہ دعوت دی کہ وہ اس کی کھلی نشانیوں میں غور و فکر کرے اس قدرت کاملہ کا مشاہدہ کرے جو انسان کا ابدی اور دائمی حق ہی نہیں بلکہ اس کی تخلیق کا مقصد حیات ہے۔ چنانچہ ہر موقع پر رب العالمین نے حجرت انسان کی توجہ اپنی نشانیوں اور اس میں غور و فکر کی جانب مبذول کرائی ہے۔
            (سورہ النحل آیہ 89) ترجمہ: بے شک اس میں نشانیاں ہیں ایمان والوں کے لیے۔
            (سورہ یونس آیہ 67) ترجمہ: بے شک اس میں نشانیاں ہیں سننے والوں کیلیے ۔
            (سورہ البقرہ آیہ آیہ 221) ترجمہ: اور اپنی آیتیں لوگوں کیلیے بیان کرتا ہے کہ کہیں وہ نصیحت مانیں۔
            (سورہ یونس آیہ 101) ترجمہ: تو کیا وہ قرآن کو سوچتے نہیں بعض دلوں پر ان کے قفل لگے ہیں۔
            (سورہ آل عمران آیہ 190 ) ترجمہ: بے شک آسمانوں اور زمینوں کی پیدائش اور رات اور دن کی باہم بدلیوں میں نشانیاں ہیں عقل مندوں کیلیے۔
            (سورہ ص آیہ 29) ترجمہ: یہ ایک کتاب ہے کہ ہم نے تمہاری طرف اتاری برکت والی تا کہ اس کی آیتوں کو سوچیں اور عقل مند نصیحت مانیں۔
            (سورہ آل عمران آیہ 191) ترجمہ: جو اللہ کی یاد کرتے ہیں کھڑے اور بیٹھے اور کروٹ پر لیٹے اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اے رب ہمارے تو نے یہ بیکار نہ بنایا۔
            (سورہ الاعراف آیہ 179) ترجمہ: بے شک ہم نے جہنم کیلیے پیدا کیے بہت جن اور آدمی وہ دل رکھتے ہیں جن میں سمجھ نہیں ، اور وہ آنکھیں جن سے دیکھتے نہیں اور وہ کان جن سے سنتے نہیں وہ چوپایوں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بڑھ کر گمراہی و غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔
            (سورہ الاعراف آیہ 185) ترجمہ: کیا ناہوں نے نگاہ نہ کی آسمانوں اور زمین کی سلطنت میں اور جو چیز اللہ نے  بنائی اور یہ کہ شاید ان کا وعدہ نزدیک آگیا ہو تو اس کے بعد اور کونسی بات پر یقین لائیں گے۔
            (سورہ الغاشیہ آیہ 17 تا 20) ترجمہ: تو کیا اونٹ کو نہیں دیکھتے کیسا بنایا گیا ، آسمان کو کیسا اونچا کیا گیا اور پہاڑوں کو کیسے قائم کیا گیا اور زمین کو کیسے بچھاہا گیا ۔ دیگر آیات مذکورہ بالا میں غور و فکر کرنے کی دعوت ہے مگر ان آیات میں مشاہدہ کا ذکر ہے۔
سبق ملا ہے یہ معراج مصطفے سے مجھے

کہ عالم بشریت کی زد میں ہے گردوں
(ندائے اہلسنت فروری 1995 صفحہ 193،194،195)
Share:

1/9/17

قرآن مجید اور نظام معاشرت: Quran and Social System|| Do and Don't

قرآن مجید اور نظام معاشرت:

قرآن مجید اشرف المخلوقات انسان کی پیدائش سے لیکر  موت تک کی تمام ضروریات کی تکمیل کیلیے اصول و ضوابط دیتا ہے گویا کہ اس کی معاشرتی زندگی کے فوائد ہمیں قرآن مجید کی تعلیمات سے میسر ہو سکتے ہیں کیونکہ اولاد  کی پرورش والدین کے حقوق ، حقوق ازدواج ، کاروبار ، تعلیم، نظام حکومت وغیرہ سبھی امور پر ہمیں تعلیماتِ قرآن سے رہنمائی ملتی ہے۔ یہ قرآن ہی ہے جس نے ایک پاکیزہ اور منظم زندگی گزارنے کی تلقین فرمائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسانیت ذلت و تباہی کے عمیق گڑھوں میں رسوا ہو رہی تھی شرف انسانیت پامال ہو چکا تھا تو قرآن نے آداب معاشرت میں انقلاب پیدا فرما دیا۔ آج ہماری یہ حالت ہے کہ دنیاوی مقاصد کی تکمیل کیلیے رات دن کوشاں ہیں اس مقصد وحید کی طرف توجہ دینا پسند نہیں فرماتے جس کیلیے ہمیں خالق کائنات نے پیدا فرمایا ہے۔ قرآن مجید  فرقان حمید میں سورہ الذاریات میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56)

 ترجمہ: ہم نے نہیں پیدا کیا جن اور انسان کو مگر عبادت کیلیے گویا کہ تخلیق انسانی کا مقصد اطاعت خداوندی تھا جس کے طریقے ہمیں قرآن و حدیث میں سکھائے گئے ہیں انسان کے دستور حیات ہیں یہ بات قرآن کے ذریعہ ملتی ہے سورہ انعام میں ارشاد ہے کہ:

قُلْ تَعَالَوْا أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا بِهِ شَيْئًا ۖ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا النَّفْسَ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ (151) وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ إِلَّا بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ حَتَّىٰ يَبْلُغَ أَشُدَّهُ ۖ وَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ بِالْقِسْطِ ۖ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۖ وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُوا وَلَوْ كَانَ ذَا قُرْبَىٰ ۖ وَبِعَهْدِ اللَّهِ أَوْفُوا ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ (152) وَأَنَّ هَٰذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ ۖ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَن سَبِيلِهِ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّاكُم بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (153)

 ترجمہ: آؤ ہم تمہیں وہ باتیں بتائیں جو تمہارے لیے پروردگار نے تم پر حرام کی ہیں اللہ کا کسی کو شریک نہ بناؤ، والدین سے نیکی کرو، بچوں کو غربت و افلاس سے قتل نہ کرو، کیونکہ خدا تمہیں روزی دیتا ہے۔ لغویات کے قریب نہ جاؤ ، خواہ اعلانیہ ہو یا خفیہ، جس جان کو خدا نے محترم کیا ہے اسے حق کے علاوہ قتل نہ کرو، یہ باتیں ہیں، جس کی نصیحت کی جاتی ہے یقین ہے کہ ان باتوں کو سمجھو گے اور یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر بہتری کے لیے یہاں تک کہ بالغ ہو ، ناپ تول میں کمی نہ کرو ، ہم کسی کو اس کی گنجائش سے زیادہ بات کا پابند نہیں کرتے ، جب بولو تو انصاف سے خواہ تمہارا عزیز ہی کیوں نہ ہو اللہ کا عہد پورا کرو  یہ وہ باتیں ہیں جن کی طرف  تمہیں راہنمائی کی گئی ہے شاید تم یاد رکھو یہی میرا سیدھا راستہ ہے اس کی پیروی کرو، مختلف راستوں پر نہ چلو ، ورنہ راہ صحیح سے بھٹک جاؤ گے، انہی باتوں کا تمہیں مشورہ دیا جاتا ہے یقین ہے کہ تم پرہیز گار بن جاؤ گے۔

ان آیات مقدسہ کو دیکھو کیسے شاندار انداز میں سماجی ڈھانچہ کی تشریح کی گئی ہے آج بڑے بڑے عالمی ادارے انسانی حقوق کیلیے چارٹر جاری کرتے ہیں لیکن اسلام نے چودہ صدیاں قبل جو عالمی انسانی حقوق کا منشور پیش کیا تھا اور پھر جس کی تشریح محسن انسانیت پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفے ﷺ نے خطبہ حجۃ الوداع میں فرمائی تھی آج کے منشور اس کی گرد راہ کو بھی نہیں پہنچ پائے ، قرآن کے فرمائے ہوئے احکامات پر جب ایک انسان عمل کرتا ہےتو پوری دنیا اس کے ماتحت ہو جاتی ہے اس کے ارشاد کو اپنے لیے حکم سمجھا جاتا ہے۔

سورہ انفال کی آیت کریم کو دیکھئے ، ارشاد ہوتا ہے کہ:

وَ اتَّقُوْا فِتْنَةً لَّا تُصِیْبَنَّ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا مِنْكُمْ خَآصَّةًۚ-وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّٰهَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ(۲۵)

 ترجمہ: ڈرو اور بچو اس فتنہ و فساد سے جس کی لپیٹ میں تم  میں سے صرف ظالم ہی نہیں آئیں گے اور جان لو کہ اللہ تعالی کا عذاب سخت ہے۔ کیونکہ جب کسی قوم کی اکثریت ظالم اور فسادی ہو جاتی ہے تو جو لوگ ان برائیوں سے خود تو بچتے ہیں لیکن دوسروں کو بچانے کی کوشش نہیں کرتے خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں تو وہ بھی قابل رعایت نہیں رہتے۔ سورہ توبہ میں ارشاد ہوتا ہے کہ:

إِلَّا تَنفِرُوا يُعَذِّبْكُمْ عَذَابًا أَلِيمًا وَيَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَيْرَكُمْ وَلَا تَضُرُّوهُ شَيْئًا وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ( 39 )

 ترجمہ: اگر تم (خدا کے دین کی حفاظت کیلیے) نہیں نکلو گے تو وہ تمہارے سوا کسی دوسری قوم کو لے آئے گا تم اس خدا کا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکو گے اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب کوئی قوم بد اعمالیا ں کرتے کرتے سنگدل ہو جاتی ہے تو پھر اس کی اصلاح کیلیے کوئی دوسری تدبیر کارگر ثابت نہیں ہوتی اور قدرت بھی اس  کی ہدایت کا سامان نہیں  کرتی قارون، شداد، ہامان، فرعون اور نمرود جیسے افراد نے معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے کی کوشش کی اللہ تعالی نے سب کو نیست و نابود کر دیا کیونکہ اللہ تعالی کسی بھی ایسے انسان کو پسند نہیں کرتا جو اس کے بندوں کیلیے مشکلات پیدا کرے اور معاشرتی اقدار کو تباہ کرنا چاہے۔

قرآن مجید دین فطرت کا عالمی منشور:

قرآن جو دین فطرت کا عالمی منشور ہے ، جس نے انسان کو ذلت کی پستیوں سے نکالا اور فضائل و کمالات کے عروج پر پہنچایا ، ظلم و جبر کو انصاف سے ، سختی کو نرمی ، جہالت کو علم و معرفت سے عداوت کو محبت ، نفاق کو اتفاق ، خیانت کو امانت سے بدلا  گویا انسانیت کو تہذیب سے روشناس کرایا ، جو نا آشنا تھے انہیں حکمرانی کے قوائد و ضوابط سے واقف کیا ، ظلم و بربریت کو ختم کیا فلاحی معاشرہ قائم فرمایا ۔ لہذا ثابت ہوا کہ قرآن مجید نے انسان کو نظام معاشرت کے وہ سنہری اصول عطا فرمائے ہیں کہ تا قیامت رشد و ہدایت کے چشمے ابلتے رہیں گے۔ ( ماخوذ از: ندائے اہلسنت فروری 1995ء صفحہ225، 226)

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive