جو
نہیں ہے آنکھ پُر نم تو یہ گفتگو نہ پوچھو
یہ
ہے درد کا فسانہ اسے بے وضو نہ پوچھو
میرا
یارسامنے ہے مجھے کیف ہو رہا ہے
میں
نماز پڑھ رہا ہوں میرا قبلہ رُو نہ پوچھو
جہاں
پیار ہو گیا ہو وہاں امتیاز کیا ہے
یہ
جہانِ عاشقی ہے یہاں رنگ و بو نہ پوچھو
نہ
یہاں ہے کوئی ساجد نہ یہاں کسی کو سجدہ
نہ
طلب نہ کوئی طالب یہ مقامِ ہُو نہ پوچھو
میں
ازل سے لے کے اب تک تجھے ڈھونڈتا پھرا ہوں
میں
جہاں جہاں بھی ٹھہرا میری جستجو نہ پوچھو
یہی
میری شان و شوکت ہے اسی میں میری عظمت
میں
ہوں خاکِ کوئے جانان میری آبرو نہ پوچھو
میں
ہوں پیکرِ تمنا ہے عجب میرا تقاضا
تمہیں
مانگتا ہوں تم سے میری آرزو نہ پوچھو
جہاں
حسن میں نے پایا وہیں میں نے سر جھکایا
میں
ہوں حسن کا پجاری ارے میری خُو نہ پوچھو
یہ
اصول ہے وفا کا یہ مقام ہے رضا کا
جو
لگائے شوق سے سر ، وہ ہے سرخرو نہ پوچھو
وہ
کہاں کسی میں خوبی جو تمہیں خدا نے بخشی
نہیں
دو جہاں میں تم سا کوئی ہو بہو نہ پوچھو









جو نہیں ہے آنکھ پُر نم ، تو یہ گفتگو نہ پوچھو
ReplyDeleteیہ ہے درد کا فسانہ، اسے بے وضو نہ پوچھو
میں ازل سے لے کے اب تک، تجھے ڈھونڈتا رہا ہوں
میں کہاں کہاں پھرا ہوں، میری جستجو نہ پوچھو
یہی میری شان و شوکت، ہے اسی میں میری عزت
میں ہوں خاکِ راہِ جاناں، میری آبرو نہ پوچھو
یہ اصول ہے وفا کا، یہ مقام ہے رضا کا
جو کٹائے شوق سے سر ، وہ ہے سرخرو نہ پوچھو
میں ہوں پیکرِ تمنا، میرا ہے عجب تقاضا
تمہیں مانگتا ہوں تم سے، میری آرزو نہ پوچھو
میرا یارسامنے ہے، مجھے کیف وہ ملا ہے
میں نماز پڑھ رہا ہوں، میں ہوں قبلہ رُو نہ پوچھو
جہاں پیار ہو گیا ہو وہاں امتیاز کیا ہے
یہ جہانِ عاشقی ہے یہاں رنگ و بو نہ پوچھو
جہاں حُسن میں نے پایا، وہیں میں نے سر جھکایا
میں ہوں حُسن کا پجاری، ارے میری خُو نہ پوچھو
وہ کہاں کسی میں خوبی، جو تمہیں خدا نے بخشی
نہیں دو جہاں میں تم سا، کوئی ہو بہو نہ پوچھو
نہ کوئی یہاں ہے ساجدؔ ، نہ یہاں کسی کو سجدہ
نہ طلب نہ کوئی طالب، یہ مقامِ ہُو نہ پوچھو
شبیر ساجدؔ مہروی