Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

10/1/21

تمہارے آستاں سے جس کو نسبت ہوتی جاتی ہے | اسے حاصل زمانے بھر کی رفعت ہوتی جاتی ہے | صوفیانہ کلام


 

تمہارے آستاں سے جس کو نسبت ہوتی جاتی ہے

اسے حاصل زمانے بھر کی رفعت ہوتی جاتی ہے

 

کچھ اس انداز سے ان کی عنایت ہوتی جاتی ہے

تماشا گاہ عالم میری صورت ہوتی جاتی ہے

 

تمہارے حسن کے جلوے نگاہوں میں سمائے ہیں

ہماری زندگی تصویر حیرت ہوتی جاتی ہے

 

تمہاری یاد نے وہ روشنی بخشی ہے اشکوں کو

کہ ان سے میرے غم خانے کی زینت ہوتی جاتی ہے

 

رضائے دوست کی پھر منزلیں آسان ہوتی ہیں

نظر جب واقف راز مشیت ہوتی جاتی ہے

 

وہ جب ساغر پلانا چاہتے ہیں چشم مے گوں سے

تو پھر ہر ایک پر ان کی عنایت ہوتی جاتی ہے

 

میرے ذوق تمنا کی حقیقت پوچھتے کیا ہو

انہیں بھی اب تو کچھ مجھ سے محبت ہوتی جاتی ہے

 

میری ہستی ہے آئینہ تیرے رخ کی تجلی کا

زمانے پر عیاں تیری حقیقت ہوتی جاتی ہے

 

اسی کا نام شاید عشق کی معراج ہے صادقؔ

میرے غم کی کہانی وجہ شہرت ہوتی جاتی ہے

Share:

9/22/21

کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے | بددمؔ نماز عشق ییے ہے خدا گواہ |کلام بیدم شاہ وارثی


 

کعبے کا شوق ہے نہ صنم خانہ چاہئے

جانانہ چاہئے در جانانہ چاہئے

 

ساغر کی آرزو ہے نہ پیمانہ چاہئے

بس اک نگاہ مرشد مے خانہ چاہئے

 

حاضر ہیں میرے جیب و گریباں کی دھجیاں

اب اور کیا تجھے دل دیوانہ چاہئے

 

عاشق نہ ہو تو حسن کا گھر بے چراغ ہے

لیلیٰ کو قیس شمع کو پروانہ چاہئے

 

پروردۂ کرم سے تو زیبا نہیں حجاب

مجھ خانہ زاد حسن سے پردا نہ چاہئے

 

شکوہ ہے کفر اہل محبت کے واسطے

ہر اک جفائے دوست پہ شکرانہ چاہئے

 

بادہ کشوں کو دیتے ہیں ساغر یہ پوچھ کر

کس کو زکوٰۃ نرگس مستانہ چاہئے

 

بیدمؔ نماز عشق یہی ہے خدا گواہ

ہر دم تصور رخ جانانہ چاہئے

Share:

9/13/21

صبا بسو ئے مدینہ رُو کن از ایں دعا گو سلام بر خواں | کلام خواجہ نظام الدین اولیا رحمۃ اللہ علیہ


 

صبا بسو ئے مدینہ رُو کن از ایں دعا گو سلام بر خواں

بہ گرد شاہ مدینہ گرد و بصد تضرع پیام بر خواں

 

اے بادِ صبا مدینہ کی طرف روانہ ہو جا، اس دعا گو کی طرف سے سلام عرض کرنا، شاہِ مدینہ کے گرد طواف کرتے ہوئے بے حد عاجزی کے ساتھ یہ پیغام عرض کرنا

 

بشو ز من صورت مثالی نماز بگذار اندر آنجا

بہ لحن خوش سورۂ محمد تمام اندر قیام بر خواں

 

ہو بہو میری مثل سراپا و صورت ہو کر وہاں نماز ادا کرنا، اور قیام کی حالت میں خوبصورت لہجے کے ساتھ پوری سورت محمدﷺ تلاوت کرنا

 

بہ باب رحمت گہے گزر کن بباب جبریل گہہ جبیں سا

سلام ربی علیٰ نبی گہے بباب السلام بر خواں

 

کبھی بابِ رحمت دروازے سے گزرنا تو کبھی بابِ جبریل پر ماتھا ٹیکنا۔ کبھی باب السلام پر جا کر نبیﷺ پر رب کا سلام بھیجنا

 

بنہ بہ چندیں ادب طرازی سر ارادت بخاک آں کو

صلوٰۃ وافر بر روح پاک جناب خیر الانام بر خواں

 

ادب کی حدود کی پابندی کرتے ہوئے اس کوچے کی خاک پر سر رکھ کر۔ جنابِ خیر الانام کی مقدس روح کی بارگاہ میں بے شمار سلام عرض کرنا۔

 

بہ لحن داؤد ہم نوا شو بہ نالہ و درد آشنا شو

بہ بزم پیغمبر ایں غزل را ز عبد عاجز نظامؔ بر خواں

 

حضرت داود علیہ السلام کے پر سوز لہجے سے آشنا ہو کر اپنے اندر سوز وگداز پیدا کر کے۔ پیغمبر کی مجلس میں اس عاجز بندے نظام( نظام الدین اولیاء) کی یہ غزل پیش کرنا۔

Share:

9/6/21

اظہر فراغ | کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

 


کوئی سلسلہ نہیں جاوداں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

میں تو ہر طرح سے ہوں رائیگاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

 

مرے ہم نفس تو چراغ تھا تجھے کیا خبر مرے حال کی

کہ جیا میں کیسے دھواں دھواں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

 

نہ ترا وصال وصال تھا نہ تری جدائی جدائی ہے

وہی حالت دل بد گماں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

 

میں یہ چاہتا ہوں کہ عمر بھر رہے تشنگی مرے عشق میں

کوئی جستجو رہے درمیاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

 

مرے نقش پا تجھے دیکھ کر یہ جو چل رہے ہیں انہیں بتا

ہے مرا سراغ مرا نشاں ترے ساتھ بھی ترے بعد بھی

Share:

صوفی انور فروز پوری | عشق میں سوزِ عشق سے شمع صفت پگھل گئے

 


عشق میں سوزِ عشق سے شمع صفت پگھل گئے

آپ لگائی ہم نے آگ آپ ہی اس میں جل گئے

 

خوب تھی برقِ حسنِ یار چمکی کہیں گری کہیں

پاس جو تھے بچے رہے دور جو تھے وہ جل گئے

 

دیر تھا یا کہ تھا حرم  اس کی نہیں خبر ہمیں

یار جدھر نکل گیا ہم بھی ادھر نکل گئے

 

مست نظر نے دیکھ کر گرتے ہووں پہ کی نظر

پا کے نظر کا آسرا گرتے ہوئے سنبھل گئے

 

جوشِ جنوں کے ساتھ ساتھ پاسِ ادب بھی رہا ہمیں

حسن کی بارگاہ میں جب گئے  سر کے بل گئے


ہم نے خیالِ یار میں دیکھے بلند و پست بھی

برسوں رہا یہ مشغلہ ڈوب گئے اچھل گئے

 

آنکھ تھی محوِ جستجو دل میں تھا شوقِ دیدِ یار

کانٹوں کو روندتے ہوئے آبلہ پا نکل گئے

 

رندوں کے واسطے بھلا قیدِ تعینات کیا

قید تعینات سے جب چاہا تب نکل گئے

 

 

انور ازل کے دن سے ہے عشق و خرد میں دشمنی

جب کبھی سامنا ہوا دونوں میں تیر چل گئے

 

صوفی انور فروز پوری

Share:

کلام بیدم وارثی | نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در دیر نہ بیت حرم سے غرض | تری یاد ہو اور دل بیدمؔ ہو ترا درد ہو اور دل بیدمؔ ہو

 




نہ کنشت و کلیسا سے کام ہمیں در  دیر نہ بیت حرم سے غرض

 کہ ازل سے ہمارے سجدوں کو رہی تیرے ہی نقش قدم سے غرض

 

 جو تو مہر ہے تو ذرہ ہم ہیں تو بحر ہے تو قطرہ ہم ہیں

 تو صورت ہے ہم آئینہ ہیں  ہمیں تجھ سے غرض تجھے ہم سے غرض

 

نہ نشاط وصال نہ ہجر کا غم نہ خیال بہار نہ خوف خزاں

 نہ سقر کا خطر ہے نہ شوق ارم نہ ستم سے حذر نہ کرم سے غرض

 

 رکھا کوچۂ عشق میں جس نے قدم ہوا حضرت عشق کا جس پہ کرم

اسے آپ سے بھی سروکار نہیں جو غرض ہے تو اپنے صنم سے غرض

 

تری یاد  ہو  اور  دل  بیدمؔ  ہو  ترا  درد  ہو  اور  دل بیدمؔ  ہو

بیدمؔ کو رہے ترے غم سے غرض ترے غم کو رہے بیدمؔ سے غرض

Share:

7/20/21

زکر الہی سے متعلق احادیث مبارکہ || اللہ تعالی کا ذکر اور احادیث مبارکہ | ذکر الہی کے فضائل

 

1: وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " قَالَ مُوسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ: يَا رَبِّ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَذْكُرُكَ بِهِ وَأَدْعُوكَ بِهِ فَقَالَ: يَا مُوسَى قُلْ: لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَقَالَ: يَا رَبِّ كلُّ عبادكَ يقولُ هَذَا إِنَّما أيد شَيْئًا تَخُصُّنِي بِهِ قَالَ: يَا مُوسَى لَوْ أَنَّ السَّمَاوَاتِ السَّبْعَ وَعَامِرَهُنَّ غَيْرِي وَالْأَرَضِينَ السَّبْعَ وُضِعْنَ فِي كِفَّةٍ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فِي كِفَّةٍ لَمَالَتْ بِهِنَّ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ". رَوَاهُ فِي شرح السّنة( مراٰۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح 2309)

ترجمہ : روایت ہے حضرت ابو سعید خدری سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ و سلم نے کہ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا تھا یارب مجھے وہ چیز سکھا جس سے تجھے یاد کیا کروں یا جس کے ذریعے تجھ سے دعا کروں ۱؎ رب نے فرمایا اے موسیٰ کہو لا الہ الا اﷲ  پھر عرض کیا یا رب   یہ تو تیرے سارے بندے  ہی کہتے ہیں   میں تو کوئی ایسی خاص چیز  چاہتا ہوں جس سے  تو مجھے خاص کرے ۲؎  فرمایا اے موسیٰ اگر ساتوں آسمان  اور میرے سواء ان کی  آبادی  اور ساتوں  زمینیں  ایک پلڑے  میں رکھ دی جائیں ۳؎  اور لا الہ الا اﷲ دوسرے پلڑے میں تو ان سب پر لا الہ الا اﷲ بھاری ہوگا ۴؎ (شرح سنہ)

2: عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادٍ، قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ، وَعُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌  حَاضِرٌ یُصَدِّقُہُ، قَالَ: کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  فَقَالَ: ((ہَلْ فِیکُمْ غَرِیبٌ یَعْنِی أَہْلَ الْکِتَابِ)) فَقُلْنَا: لَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، فَأَمَرَ بِغَلْقِ الْبَابِ، وَقَالَ: ((اِرْفَعُوا أَیْدِیَکُمْ، وَقُولُوا: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔)) فَرَفَعْنَا أَیْدِیَنَا سَاعَۃً ثُمَّ وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  یَدَہُ ثُمَّ قَالَ: ((الْحَمْدُ لِلّٰہِ، اَللَّہُمَّ بَعَثْتَنِی بِہٰذِہِ الْکَلِمَۃِ، وَأَمَرْتَنِی بِہَا، وَوَعَدْتَنِی عَلَیْہَا الْجَنَّۃَ، وَإِنَّکَ لَا تُخْلِفُ الْمِیعَادَ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَبْشِرُوا فَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ غَفَرَ لَکُمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۲۵۱)

 ۔ یعلی بن شداد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہمارے سردار شداد بن اوس  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  نے مجھے بیان کی، جبکہ سیدنا عبادہ بن صامت  ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ  بھی موجود تھے اور ان کی تصدیق کر رہے تھے، انھوں نے کہا: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کے پاس موجود تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  کیا تم میں کوئی اجنبی آدمی ہے؟  آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  کی مراد اہل کتاب تھی، ہم نے کہا: نہیں، اے اللہ کے رسول! پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے دروازے کو بند کرنے کا حکم دیا اور فرمایا:  اپنے ہاتھوں کو بلند کر لو اور کہو: لَا اِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ۔ پس ہم نے کچھ دیر تک اپنے ہاتھ بلند کیے رکھے، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے اپنا ہاتھ نیچے رکھ دیا اور فرمایا:  اللہ کا شکر ہے، اے اللہ! تو نے مجھے اس کلمہ کے ساتھ بھیجا، تو نے مجھے اس کلمہ کا حکم دیا اور مجھ سے اس پر جنت کا وعدہ کیا اور بیشک تو وعدے کی مخالفت نہیں کرتا۔  پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم  نے فرمایا:  خوش ہو جاؤ، بیشک اللہ تعالیٰ نے تم کو بخش دیا ہے۔  Musnad Ahmed#5434  (Islam360:app)  

3: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنِي أَبِي، قَالَ:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْبُنَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، ‏‏‏‏‏‏أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏    إِذَا مَرَرْتُمْ بِرِيَاضِ الْجَنَّةِ فَارْتَعُوا   ، ‏‏‏‏‏‏قَالُوا:‏‏‏‏ وَمَا رِيَاضُ الْجَنَّةِ ؟ قَالَ:‏‏‏‏    حِلَقُ الذِّكْرِ   ۔.)ترمذی 3510)

 ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم جنت کے باغوں سے گزرو تو تم  ( کچھ )  چر، چگ لیا کرو ۱؎ لوگوں نے پوچھا «رياض الجنة» کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ذکر کے حلقے اور ذکر کی مجلسیں“۔

4: عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَیَبْعَثَنَّ اللهُ أَقْوَامًا یَوْمَ الْقِیَامَةِ فِي وُجُوْھِھِمُ النُّوْرُ عَلَی مَنَابِرِ اللُّؤْلُؤِ یَغْبِطُھُمُ النَّاسُ لَيْسُوْا بِأَنْبِیَاءَ وَلاَ شُهَدَاءَ۔ قَالَ : فَجَثَا أَعْرَابِيُّ عَلَی رُکْبَتَيْهِ فَقَالَ : یَا رَسُوْلِ اللهِ، حِلْھُمْ لَنَا نَعْرِفْھُمْ۔ قَالَ : ھُمُ الْمُتَحَابُّوْنَ فِي اللهِ مِنْ قَبَائِلَ شَتَّی وَبِلاَدٍ شَتَّی یَجْتَمِعُوْنَ عَلَی ذِکْرِ اللهِ یَذْکُرُوْنَهُ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ

حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کچھ ایسے لوگ (قبروں) سے اٹھائے گا جن کے چہرے پر نور ہو گا۔ وہ موتیوں کے منبروں پر ہوں گے۔ لوگ ان سے رشک کریں گے، نہ ہی وہ انبیاء ہوں گے اور نہ شہدائ۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک بدوی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور عرض کرنے لگا : یا رسول اللہ! ان کے متعلق ہمیں بتائیں تاکہ ہمیں بھی ان کا علم ہو جائے۔ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کی خاطر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے ہیں، مختلف قبیلوں سے تعلق رکھتے ہیں اور مختلف علاقوں میں رہتے ہیں لیکن اللہ کی یاد کے لئے جمع ہوتے ہیں اور اسے یاد کرتے ہیں۔‘‘ اس حدیث کو امام طبرانی نے روایت کیا ہے۔

5: عن عمر و  بن عسبۃ  رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال:قال رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم :  عن یمین  الرحمن و کلتا  ید یہ  یمین  رجال  لیسوا  بانبیاء  ولا شہدا ء یغشی  بیاض  وجو ہہم  نظر الناظر  ین  یغبطہم  النبیون  والشہداء بمقعدہم  وقر بہم من اللہ  وعزوجل  قیل :  یا رسول اللہ ! من ہم ؟  قال:ہم جماع من نوازع  القبائل  یجتمعون علی ذکر اللہ تعالیٰ  فینتقون  أطائب  الکلام کما ینتقی  آکل التمر ا طائبہ۔ 

  حضرت عمرو بن عسبہ  رضی اللہ تعالیٰ  عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ کے داہنے  دست قدرت  کی طرف کچھ لوگ ہیں اور اللہ تعالیٰ  کے  دونوں  دست قدرت کو داہنے  ہی سے تعبیر کیا جا تا ہے ‘ جو نبی و شہید تو نہیں  لیکن ان کے چہروں  کی چمک  دیکھنے والوں  کو ڈھانپ  لیگی ۔انبیاء وشہداء  اللہ تعالیٰ  کے حضور ان کے مقام و قرب پر  رشک کرینگے  ۔ عرض  کیا گیا : یا رسول اللہ ! وہ لوگ کون ہیں ؟ فرمایا:  وہ ذاکرین  کی جماعت  ہوگی  جو آپس  میں متعارف  تھے لیکن ذکر کی مجلس میں  جمع ہو کرچن  چن کر  اچھا  کلام پیش کرتے تھے جیسے کھجور کھانے  والا  اچھی  کھجوریں  چن چن کر  جمع کرتا ہے ۔

حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہن رسول اللہ ﷺ عبد اللہ بن رواحہ کے پاس سے گزرے وہ وعظ فرما رہے تھے تو رسول اللہ و نے فرمایا تمہارے بارے میں اللہ تعالی نے مجھے فرمایا : و اصبر نفسک مع الذین یعون۔۔۔۔۔ پھر فرمایا: جب تم میں سے کوئی اللہ تعالی کا ذکر کرنے کے لے گروہ بیٹھتا ہے  تو اتنی ہی تعداد میں فرشتے بھی ساتھ بیٹھ جاتے ہیں جب تم سبحان اللہ کہتے ہو تو وہ بھی سبحان اللہ کہتے ہیں جب تم الحمد للہ کہتے ہو تو وہ بھی کہتے ہیں جب تم اللہ اکبر کہتے ہو تو وہ بھی اللہ اکبرکہتے ہیں۔ پھر فرشتے اللہ کی بارگاہ میں جاتے ہیں عرض کرتے ہیں مولا تیرے بندے تیری پاکی بولتے تھے ہم بھی ان کے ساتھ تیری پاکی کہتے جب وہ تیری تعریف کرتے ہم بھی جب وہ تیری تکبیر بیان کرتے تو ہم بھی ساتھ کرتے تو اللہ تعالی فرماتا ہے فرشتو گواہ ہو جاو میں نے اپنے بندوں کو معاف کر دیا ۔ تو فرشتے عرض کرتے ہیں مولا ان میں ایک بڑا گناہ گار بھی بیٹھا تھا  تو اللہ تعالی فرماتا ہے یہ ایسی قوم ہے جس کے ساتھ بیٹھنے والا بد بخت نہیں رہتا۔ ( مجمع البحرین ، کتاب الاذکار مجالس ذکر اللہ ، رقم 5460، ج 4 ص 192)

 

جب اللہ بندے کا ذکر کرتا ہے تو کیا ہوتا ہے۔: اللہ اپنے بندے کو اپنا ذاکر بنا لیتا ہے۔ ہم نے پڑھا

فَاذْكُرُوْنِیْۤ اَذْكُرْكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِیْ وَ لَا تَكْفُرُوْنِ۠(۱۵۲)ترجمہ: کنزالایمانتو میری یاد کرو میں تمہارا چرچا کروں گا اور میرا حق مانو اور میری ناشکری نہ کرو

 

اس سے مراد جب بندہ اللہ کا ذکر کرتا ہے تو اللہ بندے کا ذکر کرتا ہے ۔ مطلب بندہ ذکر کرے گا تو اللہ تعالی اس کے بدلے میں اپنے بندے کا ذکر کرے گا۔  دوسرا مطلب یہ کہ اللہ اپنے بندے کا ذکر کرنا چاہتا ہے تو اپنے بندے سے کہتا ہے چل ذکر کر میرا میں تیرا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔

 

پہلے یہ کہا کہ ذکر کر پھر کہا میں ذکر کروں گا اس لیے کہا کہ بندہ جب نیک عمل کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کا اجر مانگتا ہے  تو اللہ تعالی فرماتا ہے چل ذکر میرا میں تیرا ذکر کروں گا میری چاہت بھی پوری ہوئی کہ میں تیرا ذکر کرنا چاہتا تھا  وہ بھی ہو جائے گا اور تو بدلہ چاہتا ہے تو چل ذکر کر میرا  میرا بعد میں ذکر کرنا تیرے عمل کا بدلہ ہو جائے گا۔

 

فَسَوْفَ یَاْتِی اللّٰہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّھُمْ وَ یُحِبَّوْنَہ: عنقریب اللہ تعالیٰ ایک ایسی قوم کو لے آئے گا جسے خدا دوست رکھتا ہو گا اور وہ خدا کو دوست رکھتی ہوگی

هُوَ الَّذِیْ یُصَلِّیْ عَلَیْكُمْ وَ مَلٰٓىٕكَتُهٗ لِیُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَى النُّوْرِؕ-وَ كَانَ بِالْمُؤْمِنِیْنَ رَحِیْمًا(۴۳)ترجمہ: کنزالایمانوہی ہے کہ درود بھیجتا ہے تم پر وہ اور اس کے فرشتے کہ تمہیں اندھیریوں سے اُجالے کی طرف نکالے اور وہ مسلمانوں پر مہربان ہے

اولیاء فرماتے ہیں : ساری بربادی 4 چیزوں میں ہے :  انا ، نحن ، لی ، عندی۔۔۔۔۔۔ یعنی ،، میں ، ہم ، میرا ، میری طرف سے۔۔۔ بندے کا ہے ہی کیا  سب اسی کا ہے۔


Share:

7/14/21

ذکر سیدنا ابراہیم علیہ السلام || فضائل سیدنا ابراہیم علیہ السلام || وَ اذْكُرْ فِی الْكِتٰبِ اِبْرٰهِیْمَ۬ؕ-اِنَّهٗ كَانَ صِدِّیْقًا نَّبِیًّا

 

وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ ﴿١٢٤ البقرة﴾

کہا جاتا ہے کہ فرشتے امتحان لینے آئے۔۔ میں کہتا ہوں جب امتحان اللہ تعالی نے لے لیا ہے تو فرشتہ کون ہوتے ہیں امتحان لینے۔

اچھا ایک اور بات ہے کہ فرشتے قاصد ہوتے ہیں ۔ تو جب محبوب اور محب آپس میں بات چیت کرتے ہیں تو قاصد درمیان میں مزے لیتا ہے بعض اوقات رقیب محب سے زیادہ قاصد پر رشک کرتا ہے کہ محب تو لہجہ قاصد کا سنتا ہے چہرہ قاصد کا تکتا ہے شکل قاصد کی آواز قاصد کی مگر قاصد شکل محبوب کی تکتا ہے لہجہ محبوب کا سنتا تو قاصد زیادہ مزے لیتا ہے ۔۔۔ میں کہتا ہوں فرشتے امتحان نہیں لینے آئے ہاں نام امتحان کا دیا گیا ہے مگر وہ فرشتے تو مزے لینے آئے تھے ابراہیم کی محبت کی۔

 

اپنا سب کچھ قربان کیا جب آگ میں ڈالا گیا تو فرشتے آئے ہوا والا پانی والا فرمایا  تم سے کوئی حاجت نہیں گویا پہلے تم کہاں تھے اب کوئی حاجت نہیں ۔۔۔ جبرائیل آئے فرمایا جبرائیل بتا جس کے نام کی وجہ سے مجھے جلایا جایا رہا ہے کیا اسے نہیں معلوم کہنے لگے ہاں تو فرمایا پھر جبریل جا آج خلیل کو تیری کوئی حاجت نہیں اگر محبوب کی رضا یہی ہے تو خلیل کو جو مزا جلنے میں ہے وہ جینے میں نہیں۔

پھر اللہ نے فرمایا یا نار کونی بردا و سلما ،۔۔۔ مولا تو کن کہے تو سب کچھ ہو جائے یہاں کیوں پوری آیت فرما دی ۔۔ فرمایا جہاں بات خلیل کی ہو جہاں محبت کرنے والے کی ہو تو کن نہیں پوری آیت بولنے میں مزا ااتا ۔

قُلْ اِنَّنِىْ هَدَانِىْ رَبِّىٓ اِلٰى صِرَاطٍ مُّسْتَقِيْـمٍۚ دِيْنًا قِيَمًا مِّلَّـةَ اِبْرَاهِيْـمَ حَنِيْفًا ۚ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (161)

کہہ دیں کہ میرے رب نے مجھے ایک سیدھا راستہ بتلا دیا ہے ایک صحیح دین ہے ابراہیم کے طریقے پر جو یکسو تھا اور مشرکین میں سے نہیں تھا۔

وَمَنْ اَحْسَنُ دِيْنًا مِّمَّنْ اَسْلَمَ وَجْهَهٝ لِلّـٰهِ وَهُوَ مُحْسِنٌ وَّاتَّبَعَ مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْـمَ حَنِيْفًا ۗ وَاتَّخَذَ اللّـٰهُ اِبْـرَاهِيْـمَ خَلِيْلًا (125)

اس شخص سے بہترین دین میں کون ہے جس نے اللہ کے حکم پر پیشانی رکھی اور وہ نیکی کرنے والا ہو گیا اور ابراہیم کے دین کی پیروی کی جو یکسو تھا ، اور اللہ تعالی نے ابراہیم کو خاص دوست بنا لیا

قُلْ صَدَقَ اللّـٰهُ ۗ فَاتَّبِعُوْا مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْمَ حَنِيْفًاۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (95)

کہہ دو کہ اللہ تعالی نے سچ فرمایا ہے اب ابراہیم کے دین کے تابع ہو جاو جو ایک ہی کے ہو گئے تھے اور مشرکین میں سے نہیں تھے۔

ثُـمَّ اَوْحَيْنَـآ اِلَيْكَ اَنِ اتَّبِــعْ مِلَّـةَ اِبْـرَاهِيْـمَ حَنِيْفًا ۖ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (123)  پھر ہم نے تیرے پاس ایک وحی بھیجی کہ تمام راہوں سے ہٹنے والے ابراہیم کے دین پر چل اور وہ مشرکین میں سے نہیں تھا

وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِيْمُ رَبِّ اجْعَلْ هٰذَا بَلَـدًا اٰمِنًا وَّارْزُقْ اَهْلَـهٝ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ اٰمَنَ مِنْـهُـمْ بِاللّـٰهِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ ۖ قَالَ وَمَنْ كَفَرَ فَاُمَتِّعُهٝ قَلِيْلًا ثُـمَّ اَضْطَرُّهٝٓ اِلٰى عَذَابِ النَّارِ ۖ وَبِئْسَ الْمَصِيْـرُ (126)

 اور جب ابراہیم نے کہا اے میرے رب اسے امن کا شہر بنا دےاور اس کے رہنے والوں کو پھلوں سے رزق دےجو کوئی ان میں سے اللہ تعالین اور آکرت پر یقین رکھتا ہواور فرمایا جو کافر ہو گا سو اسے بھی تھوڑا فائدہ پہنچاوں گا اور پھر اسے دوزخ کے عذاب میں دھکیل دوں گا اور وہ برا ٹھکانہ ہے۔

وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْـرَاهِيْمَ مُصَلًّى اور فرمایا کہ مقام ابراہیم کو نماز کی جگہ بناو

اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَاَوَّاهٌ حَلِيْـمٌ (114) بے شک ابراہیم بڑے نرم دل اور تحمل والے تھے

اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ لَحَلِيْـمٌ اَوَّاهٌ مُّنِيْبٌ (75) بے شک ابراہیم بردبار نرم دل اور اللہ کی طرف رجوع کرنے والا تھا

اِنَّ اِبْـرَاهِيْـمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّـٰهِ حَنِيْفًا ۖ وَلَمْ يَكُ مِنَ الْمُشْرِكِيْنَ (120)

 بے شک ابراہیم ایک پوری امت تھا اللہ کا فرمانبردار تمام راہوں سے ہٹ جانےو الا اور مشرکین میں نہیں تھا۔

 وَاذْكُرْ فِى الْكِتَابِ اِبْـرَاهِيْـمَ ۚ اِنَّهٝ كَانَ صِدِّيْقًا نَّبِيًّا (41) اور کتاب میں ابراہیم کا ذکر کر بے شک وہ سچا نبی تھا

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِىٓ اِبْـرَاهِـيْمَ بے شک تمہارے لیے ابراہیم کی زندگی میں نمونہ ہے

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِـيْهِـمْ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِّمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّـٰهَ وَالْيَوْمَ الْاٰخِرَ  البتہ تمہارے لیے ان میں نیک نمونہ ہے اور اس کے لیے اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہو

وَاِبْـرَاهِـيْمَ الَّـذِىْ وَفّـٰى (37) اور ابراہیم کے جس نے اپنا عہد پورا کیا

وَاِذْ قَالَ اِبْـرَاهِـيْمُ رَبِّ اَرِنِىْ كَيْفَ تُحْيِى الْمَوْتٰى ۖ قَالَ اَوَلَمْ تُؤْمِنْ ۖ قَالَ بَلٰى وَلٰكِنْ لِّيَطْمَئِنَّ قَلْبِىْ ۖ قَالَ فَخُذْ اَرْبَعَةً مِّنَ الطَّيْـرِ فَصُرْهُنَّ اِلَيْكَ ثُـمَّ اجْعَلْ عَلٰى كُلِّ جَبَلٍ مِّنْهُنَّ جُزْءًا ثُـمَّ ادْعُهُنَّ يَاْتِيْنَكَ سَعْيًا ۚ وَاعْلَمْ اَنَّ اللّـٰهَ عَزِيْزٌ حَكِـيْمٌ (260)اور یاد کر جب ابراہیم نے کہا اے میرے پروردگار  مجھ کو دکھا کہ تو کیسے مردے کو زندہ کرتا ہے فرمایا کہ کیا یقین نہیں لاتے  کہا کیوں نہیں لیکن اس لیے چاہتا ہوں کہ میرے دل کو تسکین ہو جائے  فرمایا تو چار جانور اڑنے والے پکڑ پھر انہیں اپنے ساتھ مانوس کر لے پھر ہر پہاڑ پر ان کا ایک ایک ٹکڑا رکھ دے پھر ان کو بلا تیرے پاس جلدی سے آ ئیں گے اور جان لے کہ بے شک اللہ زبر دست حکمت والا ہے۔

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive