Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

5/15/23

فکر آخرت قرآنی آیات | متقین کا ٹھکانا | جنت کی ضمانت | fikr e aakhirat | jannat ki zamanat

فکر آخرت کے حوالے سے ایک فکر انگیز تحریر

فَهَلْ يَنْظُرُوْنَ اِلَّا السَّاعَةَ اَنْ تَاْتِـيَـهُـمْ بَغْتَةً ۖ فَقَدْ جَآءَ اَشْرَاطُهَا ۚ فَاَنّـٰى لَـهُـمْ اِذَا جَآءَتْـهُـمْ ذِكْـرَاهُمْ ۔ فَاعْلَمْ اَنَّهٝ لَآ اِلٰـهَ اِلَّا اللّـٰهُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِكَ وَلِلْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنَاتِ ۗ وَاللّـٰهُ يَعْلَمُ مُتَقَلَّبَكُمْ وَمَثْوَاكُمْ (سورۃ محمد:19،18)

پھر کیا وہ اس گھڑی کا انتظار کرتے ہیں کہ ان پر ناگہان آئے، پس تحقیق اس کی علامتیں تو ظاہر ہو چکیں ہیں، پھر جب وہ آگئی تو ان کا سمجھنا کیا فائدہ دے گا۔پس جان لو کہ سوائے اللہ کے کوئی معبود نہیں اور اپنے اور مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں کے گناہوں کی معافی مانگیے، اور اللہ ہی تمہارے لوٹنے اور آرام کرنے کی جگہ کو جانتا ہے۔

وَكُلُّ شَىْءٍ فَعَلُوْهُ فِى الزُّبُرِ ۔وَكُلُّ صَغِيْـرٍ وَّكَبِيْـرٍ مُّسْتَطَـرٌ  (سورہ القمر:52،53)

اور پھر جو کچھ بھی انہوں نے کیا ہے وہ اعمال ناموں میں موجود ہے اور ہر چھوٹا اور بڑا کام لکھا ہوا ہے۔

وَ وُضِعَ الْكِتٰبُ فَتَرَى الْمُجْرِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا فِیْهِ وَ یَقُوْلُوْنَ یٰوَیْلَتَنَا مَالِ هٰذَا الْكِتٰبِ لَا یُغَادِرُ صَغِیْرَةً وَّ لَا كَبِیْرَةً اِلَّاۤ اَحْصٰىهَاۚ-وَ وَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًاؕ-وَ لَا یَظْلِمُ رَبُّكَ اَحَدًا۠((سورۃ الکھف:49)

ترجمہ: اورنامہ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نَوِشْتہ(تحریر) کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا

اِنَّا نَحْنُ نُحْیِ الْمَوْتٰى وَ نَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَ اٰثَارَهُمْۣؕ-وَ كُلَّ شَیْءٍ اَحْصَیْنٰهُ فِیْۤ اِمَامٍ مُّبِیْنٍ (سورۃ یسین:12)

ترجمہ: بے شک ہم مُردوں کو جِلائیں(زندہ کریں) گے اور ہم لکھ رہے ہیں جو اُنہوں نے آ گے بھیجا اور جو نشانیاں پیچھے چھوڑ گئے اور ہر چیز ہم نے گن رکھی ہے ایک بتانے والی کتاب میں۔

 

 

( وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ) [يونس: 25]

اللہ پاک سلام فرمائے گا:

فَاَمَّـآ اِنْ كَانَ مِنَ الْمُقَرَّبِيْنَ (88) فَرَوْحٌ وَّرَيْحَانٌ وَّجَنَّتُ نَعِـيْمٍ (89 وَ اَمَّاۤ اِنْ كَانَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِۙ(۹۰)فَسَلٰمٌ لَّكَ مِنْ اَصْحٰبِ الْیَمِیْنِؕ (سورہ واقعہ:88-91)

ترجمہ: پھر اگر وہ (مرنے والا) ہو مقرب بندوں میں سے ۔ تو اس کے لیے آرام اور خوشبو اور نعمتوں والی جنت ہے۔ اور اگر وہ ہو دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو تو کہا جائے گا تمہارے لیے سلامتی ہے کہ تم دائیں ہاتھ والوں میں سے ہو۔

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ(۵۵)هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآىٕكِ مُتَّكِــٴُـوْنَ (۵۶)لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ(۵۷)سَلٰمٌ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ(سورۃ یسین:55-58)

ترجمہ: بے شک جنت والے آج دل بہلانے والے کاموں میں لطف اندوز (ہو رہے) ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں تختوں پر تکیہ لگائے سایوں میں ہوں گے۔ ان کے لیے جنت میں پھل میوہ ہوگا اور ان کے لیے ہر وہ چیز ہوگی جو وہ مانگیں گے۔ مہربان رب کی طرف سے فرمایا ہوا سلام ہوگا۔

((جنت میں  کیا کیا ہو گا: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ فِي الجَنَّةِ مِنْ خَيْلٍ ؟ قَالَ : " إِنِ اللَّهُ أَدْخَلَكَ الجَنَّةَ ، فَلَا تَشَاءُ أَنْ تُحْمَلَ فِيهَا عَلَى فَرَسٍ مِنْ يَاقُوتَةٍ حَمْرَاءَ يَطِيرُ بِكَ فِي الجَنَّةِ حَيْثُ شِئْتَ إِلَّا فَعَلَتْ " قَالَ : وَسَأَلَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَلْ فِي الجَنَّةِ مِنْ إِبِلٍ ؟ قَالَ : فَلَمْ يَقُلْ لَهُ مَا قَالَ لِصَاحِبِهِ قَالَ : " " إِنْ يُدْخِلْكَ اللَّهُ الجَنَّةَ يَكُنْ لَكَ فِيهَا مَا اشْتَهَتْ نَفْسُكَ وَلَذَّتْ عَيْنُكَ۔(جامع ترمذی:2543) ایک آدمی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھتے ہوئے عرض کیا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں گھوڑے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تم کو جنت میں داخل کیا تو تمہاری خواہش کے مطابق تمہیں سرخ یاقوت کے گھوڑے پر سوار کیا جائے گا، تم جہاں چاہو گے وہ تمہیں جنت میں لے کر اڑے گا“، آپ سے ایک شخص نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا جنت میں اونٹ ہیں؟ بریدہ کہتے ہیں: آپ نے اس کو پہلے آدمی کی طرح جواب نہیں دیا۔ آپ نے فرمایا: ”اگر اللہ نے تمہیں جنت میں داخل کیا تو اس میں تمہارے لیے ہر وہ چیز موجود ہو گی جس کی تم چاہت کرو گے اور جس سے تمہاری آنکھیں لطف اٹھائیں گی“۔))

 

آپس میں سلام سلام کریں گے:

وَبَيْنَـهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى الْاَعْرَافِ رِجَالٌ يَّعْرِفُوْنَ كُلًّا بِسِيْمَاهُـمْ ۚ وَنَادَوْا اَصْحَابَ الْجَنَّـةِ اَنْ سَلَامٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوْهَا وَهُـمْ يَطْمَعُوْنَ (سورہ اعراف:46)

 ترجمہ: اور ان دونوں کے درمیان ایک دیوار ہوگی، اور اعراف کے اوپر ایسے مرد ہوں گے کہ ہر ایک کو اس کی نشانی سے پہچان لیں گے، اور جنت والوں کو پکار کر کہیں گے کہ تم پر سلام ہو، وہ ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے اور امیدوار ہیں۔

دَعْوٰىهُمْ فِیْهَا سُبْحٰنَكَ اللّٰهُمَّ وَ تَحِیَّتُهُمْ فِیْهَا سَلٰمٌۚ-وَ اٰخِرُ دَعْوٰىهُمْ اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ (سورہ یونس:10)

 ترجمہ: ان کی دعا اس میں یہ ہوگی کہ اے اللہ ! تو پاک ہے اورجنت میں ان کی ملاقات کا پہلا بول ’’سلام‘‘ ہوگا اور ان کی دعا کا خاتمہ یہ ہے کہ تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔

لَا يَسْـمَعُوْنَ فِيْـهَا لَغْوًا وَّلَا تَاْثِـيْمًا  ۔اِلَّا قِيْلًا سَلَامًا سَلَامًا (سورہ واقعہ:25،26)

 ترجمہ:وہ وہاں کوئی لغو اور گناہ کی بات نہیں سنیں گے مگر سلام سلام کہنا۔

 

فرشتے سلام کریں:

وَسِيْقَ الَّـذِيْنَ اتَّقَوْا رَبَّـهُـمْ اِلَى الْجَنَّـةِ زُمَرًا ۖ حَتّــٰٓى اِذَا جَآءُوْهَا وَفُتِحَتْ اَبْوَابُـهَا وَقَالَ لَـهُـمْ خَزَنَتُـهَا سَلَامٌ عَلَيْكُمْ طِبْتُـمْ فَادْخُلُوْهَا خَالِـدِيْنَ (سورہ زمر:73)

ترجمہ:  اور وہ لوگ جو اپنے رب سے ڈرتے رہے جنت کی طرف گروہ گروہ لے جائے جائیں گے، یہاں تک کہ جب وہ اس کے پاس پہنچ جائیں گے اور اس کے دروازے کھلے ہوئے ہوں گے اور ان سے اس کے داروغہ کہیں گے تم پر سلام ہو تم اچھے لوگ ہو اس میں ہمیشہ کے لیے داخل ہو جاؤ۔

جَنَّاتُ عَدْنٍ يَّدْخُلُوْنَـهَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ اٰبَـآئِـهِـمْ وَاَزْوَاجِهِـمْ وَذُرِّيَّاتِـهِـمْ ۖ وَالْمَلَآئِكَـةُ يَدْخُلُوْنَ عَلَيْـهِـمْ مِّنْ كُلِّ بَابٍ (23) سَلَامٌ عَلَيْكُمْ بِمَا صَبَـرْتُـمْ ۚ فَنِعْمَ عُقْبَى الـدَّارِ (سورہ رعد:23،24)

ترجمہ: ہمیشہ رہنے کے باغ جن میں وہ خود بھی رہیں گے اور ان کے باپ دادا اور بیویوں اور اولاد میں سے بھی جو نیکو کار ہیں، اور ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے۔کہیں گے تم پر سلام ہو اس وجہ سے کہ تم نے صبر کیا تو آخرت کا گھر ہی اچھا ہے۔

 

( وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ) [يونس: 25]

 

جنت متقین کا ٹھکانا ہے:

( وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى دَارِ السَّلَامِ وَيَهْدِي مَنْ يَشَاءُ إِلَى صِرَاطٍ مُسْتَقِيمٍ ) [يونس: 25]

وہ جنت اور نعمتوں اور سلام والا  کا گھر کن کے لیے ہے ؟ اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

مثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ

وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَ (سورۃ آل عمران :133)

ترجمہ: اور اپنے رب کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑوجس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ پرہیزگاروں کے لئے تیار کی گئی ہے۔

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍۙ

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ جَنّٰتٍ وَّ نَهَرٍۙ

اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ ظِلٰلٍ وَّ عُیُوْنٍۙ

اِنَّ لِلْمُتَّقِیْنَ مَفَازًاۙ حَدَآىٕقَ وَ اَعْنَابًاۙ

مثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَؕ-فِیْهَاۤ اَنْهٰرٌ مِّنْ مَّآءٍ غَیْرِ اٰسِنٍۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُهٗۚ-وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ خَمْرٍ لَّذَّةٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ وَ اَنْهٰرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّىؕ-وَ لَهُمْ فِیْهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرٰتِ وَ مَغْفِرَةٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ

 

 

نبی کریم ﷺ نے ضمانت دی ہے:

اس گھر کی ضمانت نبی کریم  ﷺ نے دی ہے سنیں کیا فرمایا:

عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:اِضْمَنُوْا لِيْ سِتًّا مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَضْمَنْ لَكُمُ الْجَنَّةَ: اُصْدُقُوا إِذَا حَدَّثْتُمْ وَأَوْفُوْا إِذَا وَعَدْتُّمْ وَأَدُّوْا إِذَا اؤْتُمِنْتُمْ وَاحْفَظُوْا فُرُوْجَكُمْ وَغُضُّوْا أَبْصَارَكُمْ وَكُفُّوا أَيْدِيَكُمْ۔(السنن الکبری للبیہقی ، رقم الحدیث :12691)

ترجمہ: حضرت عبادہ بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ مجھے چھ چیزوں کی ضمانت دو اس کے بدلے میں آپ لوگوں کو جنت کی ضمانت دیتا ہوں ۔1: جب بات کرو تو سچی بات کرو ۔2: جب وعدہ کرو تو اسے پورا کرو۔3: جب تمہارے پاس امانت رکھی جائے تو اس کو صحیح طور پر واپس کرو۔4: اپنی شرم گاہوں کی گناہوں سے (حفاظت کرو۔5: اپنی نگاہوں کو )ناجائز اور حرام چیزیں دیکھنے سے (بچاؤ۔6: اپنے ہاتھوں کو )یعنی خود کو کسی پر ظلم وغیرہ کرنے سے (روکو ۔

عَنْ أَبِي أُمَامَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏‏‏‏ أَنَا زَعِيمٌ بِبَيْتٍ فِي رَبَضِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْمِرَاءَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مُحِقًّا، ‏‏‏‏‏‏وَبِبَيْتٍ فِي وَسَطِ الْجَنَّةِ لِمَنْ تَرَكَ الْكَذِبَ، ‏‏‏‏‏‏وَإِنْ كَانَ مَازِحًا، ‏‏‏‏‏‏وَبِبَيْتٍ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لِمَنْ حَسَّنَ خُلُقَهُ .

          سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ‘ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ میں ذمہ دار ہوں ایک محل کا ‘ جنت کی ایک جانب میں ‘ اس شخص کے لیے جو جھگڑا چھوڑ دے ‘ اگرچہ حق پر ہو ۔ اور ایک محل کا ‘ جنت کے درمیان میں ‘ اس شخص کے لیے جو جھوٹ چھوڑ دے ‘ اگرچہ مزاح ہی میں ہو ‘ اور جنت کی اعلی منازل میں ایک محل کا ‘ اس شخص کے لیے جو اپنے اخلاق کو عمدہ بنا لے ۔‘‘ (سنن ابو داؤد:4800)

عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ تَوَكَّلَ لِي مَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ ، وَمَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ ، تَوَكَّلْتُ لَهُ بِالْجَنَّةِ (صحیح بخاری:6807)

ترجمہ: نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” جس نے مجھے اپنے دونوں پاؤں کے درمیان یعنی ( شرمگاہ ) کی اور اپنے دونوں جبڑوں کے درمیان ( یعنی زبان ) کی ضمانت دے دی تو میں اسے جنت میں جانے کا بھروسہ دلاتا ہوں ۔“ 

 

Share:

mother day poetry | 14 may 2023 | ماں پر اشعار | ماں سے متعلق اشعری mother day poetry collection in Urdu Hindi


 

ماں کے عالمی دن پر انتخاب

 ایک مدت سے مری ماں نہیں سوئی تابش

میں نے اک بار کہا تھا مجھے ڈر لگتا ہے

 عباس تابش

 

 سب نے مانا، مرنے والا دہشتگرد اور قاتل تھا

 ماں نے پھر بھی قبر پہ اس کی راج دلارا لکھا تھا

 احمد سلیمان

 

زمانہ دے کے دھوکہ دیکھتا ہے کب میں روتا ہوں

یہ میری ماں ہے جو مجھ کو کبھی رونے نہیں دیتی

آفتاب شاہ

 

 ایک خواب کی صورت ہی صحیح یاد ہے اب تک

ماں نے کہا!!! لے اوڑھ لے،، ،،اس شال میں ہم ہیں

 منور رانا

 

روشنی بھی نہیں ہوا بھی نہیں

ماں کا نعم البدل خدا بھی نہیں

 انجم سلیمی

 

 اس  لیے  تم  کو  پریشان نہیں لگتا ہوں

 ماں کی عادت ہے مرے بال بنا دیتی ہے

 لطیف ساجد

 

 لاکھ رشتےہوں خون کےفیضی

ماں کا  نعم البدل  نہیں ہوتا

 اویس فیضی

 

مجھ سے پہلے میرے دکھ میں میری ماں روئی

کہ یہ لوگ ماؤں کی مشکل نہیں سمجھ سکتے

 نادیہ گیلانی

 

میں نے محسوس کیا ممتا کے پاؤں چھو کر

مجھ پہ جنت کا کوئی ایک کھلا دروازہ

 ماجد رضاامبر

 

 پردیس بسنے والوں کو معلوم ہی نہیں

 کیسے اکیلی ماں نے ہیں بچے جواں کیے

تہمینہ شوکت  تاثیر

 

مرے چھپے ہوئے غم کی زباں سمجھتی تھی

 نہیں سمجھتا کوئی جیسے ماں سمجھتی تھی

 کرن منتہی

 

تیری قسمت میں اگر ماں کی دعا ہے بھائی

 صاف ظاہر ہے' ترے ساتھ خدا ہے بھائی

 عرباض عرضی

 

یہ کارِ شعر یہ سب شہرتیں اضافی ہیں

مرے لیے مری ماں کی دعائیں کافی ہیں

عمران عامی

 

دیر کرتی گاڑیوں کو کیا خبر

 کتنی مائیں جاگتی ہیں رات سے

محمد ارشد مرزا

 

کوئی نہیں جو اترا ہو  معیار پر مرے

 "اماں میں اس اداس طبیعت کا کیا کروں

اویس فیضی

 

 جب بھی گھرسےنکلتاہوں فیضی

 ماں جی رب کے حوالے کرتی ہے

 اویس فیضی

 

فرشتے ان کی مہک سے زمیں پہ آتے ہیں

 وہ روٹیاں جو مرے گھر پہ ماں بناتی ہے

 محمد ادریس

 

 اک طرف ڈال دیا وزن محبت کا تری

 اک طرف ڈالی ہے یہ ساری خدائی میں نے

 مسعود احمد

 

 سب روشنیاں صبح کے امکاں کی طرح ہیں

ہر ماں کے خدوخال مری ماں کی طرح ہیں

 نسیم عباسی

 

تاثیر! ماں نے بیٹے کا خط جب سے ہے رکھا

 خط کیا دل و دماغ بھی   بکسے میں آ گیا

 تہمینہ شوکت تاثیر

 

کیہڑا کیہڑا خوش قسمت اے کیندی ماں

 شام دے ویلے راہ تے آنڑ کھلوندی اے

کاشفؔ اورا

 

 گھر سے رخصت پہ ماتھاچوماتھا

میری ماں نے دعائیں بھی دی تھیں

 اویس فیضی

 

 میں فقط اُن کے توسط سے فتح پاوں گا

 میرے حق میں جو دعائیں مری ماں چھوڑے گی

 مجاہد علی یاسر

Share:

5/14/23

Parents in Islam | والدین کا مقام و مرتبہ | اسلام اور والدین | Rights of Parents in Islam حضرت اویس قرنی رحمۃ اللہ علیہ | والدین کے حقوق

والدین کے مقام و مرتبہ سے متعلق قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کی تعلیمات انتہائی جامع انداز میں پیش کی جا رہی ہیں خود بھی پڑھیں اور دوسروں تک شیئر بھی کریں۔

سورہ لقمان میں تعلیمات:

        سورہ لقمان میں اللہ تعالی نے جہاں  حضرت لقمان علیہ السلام کی اپنے بیٹے کو توحید ،عبادات ،عاجزی و انکساری اور معاشرتی تعلیمات  سے متعلق نصیحتوں کا ذکر کیا تو عین درمیان میں انسان کو وصیت فرمائی کہ اپنے والدین کے ساتھ ہمیشہ حسن سلوک سے پیش آئے کسی صورت میں بھی بد سلوکی کی اجازت نہیں دی گئی اور اپنا اور والدین کا شکر ادا کرنے کی تاکید فرمائی ہے۔  ارشاد فرمایا

        وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْهِ ۚ حَمَلَتْهُ اُمُّهٗ وَهْنًا عَلٰی وَهْنٍ وَّ فِصٰلُهٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْكُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْكَ ؕ اِلَیَّ الْمَصِیْرُ  (سورۃ لقمٰن: 14) اور ہم نے انسان کو اس کے والدین کے بارے میں (نیکی کا) تاکیدی حکم فرمایا، جسے اس کی ماں تکلیف پر تکلیف کی حالت میں (اپنے پیٹ میں) برداشت کرتی رہی اور جس کا دودھ چھوٹنا بھی دو سال میں ہے (اسے یہ حکم دیا) کہ تو میرا (بھی) شکر ادا کر اور اپنے والدین کا بھی۔ (تجھے) میری ہی طرف لوٹ کر آنا ہے

وَ قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَدْخِلْنِیْ بِرَحْمَتِكَ فِیْ عِبَادِكَ الصّٰلِحِیْنَ (سورۃ النمل :19)

اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیرے اس احسان کا شکر اداکروں جو تو نے مجھ پر اور میرے ماں باپ پر کیا اور (مجھے توفیق دے) کہ میں وہ نیک کام کروں جس پر تو راضی ہو اور مجھے اپنی رحمت سے اپنے ان بندوں میں شامل کر جو تیرے خاص قرب کے لائق ہیں ۔

قَالَ رَبِّ اَوْزِعْنِیْۤ اَنْ اَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِیْۤ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ وَ عَلٰى وَالِدَیَّ وَ اَنْ اَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضٰىهُ وَ اَصْلِحْ لِیْ فِیْ ذُرِّیَّتِیْ ﱂاِنِّیْ تُبْتُ اِلَیْكَ وَ اِنِّیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ (سورۃ الاحقاف:15)

اس نے عرض کی: اے میرے رب!مجھے توفیق دے کہ میں تیری نعمت کا شکر ادا کروں جو تو نے مجھ پراور میرے ماں باپ پر فرمائی ہے اور میں وہ نیک کام کروں جس سے تو راضی ہوجائے اور میرے لیے میری اولاد میں نیکی رکھ،میں نے تیری طرف رجوع کیااور میں مسلمانوں میں سے ہوں ۔

توفیق مانگنے کی ترغیب دی جا رہی ہے کہ جو تم پر اللہ کی نعمت ہوئی اور جو تمہارے والدین پر نعمت ہوئی اس پر شکر ادا کرنے کی توفیق طلب کرو۔ توفیق ہمیشہ اس کام پر مانگی جاتی ہے جو اللہ کی خوشنودی کا باعث ہو  ،جس کام پر اللہ تعالی راضی ہوتا ہے تو معلوم ہوا اللہ پاک چاہتا ہے کہ لوگو! اپنے والدین کی خوشی میں خوش ہوا کرو۔ باخدا اگر والدین خوش ہوں کسی اپنی بات پر تو آپ فقط ان کے چہرے کو دیکھ مسکرا دیا کرو پھر اللہ پاک کی رحمت دیکھو کیسے تمہارا احاطہ کرتی ہے۔

        آج ہم نے والدین کو بہت ہلکا لے لیا ، والدین کی قدر نہیں کرتے ، والدین کی قدر کو نہیں پہچانتے ، والدین کی عزت و مقام عین دینِ اسلام ہے ۔

اگر والدین کا نافرمان نہ ہو:

عَنْ عَمْرو بِنْ مُرَّہَ الجُہَنِیُّ قَالَ جَآءَ رَجُلٌ اِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ یَا رَسُوْلَ اللہِ شَھِدْتُ اَنْ لَآاِلٰہَ اِلَّا اللہُ  وَاَنَّکَ رَسُوْلُ اللہِ وَصَلَّیْتُ الخمَسَ وَاَدَّیْتُ زَکَاۃَ مَالِیْ وَصُمْتُ شَھْرَ رَمَضَانَ فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ مَاتَ عَلٰی ھٰذَا کَانَ مَعَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّھَدٓاءِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ھٰکَذَا وَنَصَبَ اِصْبَعَیْہِ مَالَمْ یَعُقَّ وَالِدَیْہِ (مسند امام احمد :24299) مترجم مولانا محمد ظفر اقبال مکتبہ رحمانیہ ، جلد 10 ص 987، مطبع لٹل سٹار پرنٹرز لاہور

ترجمہ: حضرت عمرو بن مرہ جہنی رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے پاس ایک شخص آیا اس نے عرج کیا یا رسول اللہ ﷺ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں اور آپ اللہ تعالی کے رسول ہیں ، میں پانچ وقت کی نماز پڑھتا ہوں ، اپنے مال سے زکاۃ دیتا ہوں ،رمضان کے روزے رکھتا ہوں تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا  جو آدمی اس بات پر مر گیا تو وہ قیامت کے دن انبیاء ، صدیقین اور شہدا کے ساتھ اس طرح ہو گا (اپنی انگلیاں ملا کر اٹھاتے ہوئے فرمایا) جب تک والدین کا نافرمان نہ ہو۔

نماز کی حالت میں اگروالدہ پکارے :

سمعتُ رَسُوْلَ اللہِ ﷺ یَقُوْلُ : لَوْاَدْرَکْتُ وَالِدَیَّ اَوْ اَحَدَھُمَا وَاَنَا فِی صَلَاۃِ الْعِشَاءِ وَقَدْ قَرَاتُ فِیْھَا بِفَاتِحَۃِ الْکِتَابِ تُنَادِی یَا محمد لَاَجَبْتُھَا لَبَّیْکِ (شعب الایمان : 7497)

ترجمہ: رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میرے والدین ہوتےت یا دونوں میں سے ایک ہوتا اور میں عشا کی نماز پڑھ رہا ہوتا اور سورت فاتحہ پڑھ چکا ہوتا اور میری ماں مجھے پکارتی محمد! میں ضرور اس کو جواب دیتے ہوئے کہتا میں حاضر۔

غار میں پھنسے تین دوست:

        تین دوست کہیں جا رہے تھے کہ راستے میں ایک غار میں ٹھہرے اور طوفان و بارش سے غار کے منہ پر ایک بڑی چٹان آ گری ، ایک دوسرے سے کہنے لگے کوئی ایسا کام ذکر کرو جو خالصتاً اللہ تعالی کی رضا کے لیے کیا ہو شاید اللہ تعالی اس کے وسیلے سے ہمارے لیے راستہ بنا دے تو ایک نے کہا (والدین کی خدمت کو یاد کیا)

فَقَالَ أَحَدُهُمْ: اللهُمَّ إِنَّهُ كَانَ لِي وَالِدَانِ شَيْخَانِ كَبِيرَانِ، وَامْرَأَتِي، وَلِي صِبْيَةٌ صِغَارٌ أَرْعَى عَلَيْهِمْ، فَإِذَا أَرَحْتُ عَلَيْهِمْ، حَلَبْتُ، فَبَدَأْتُ بِوَالِدَيَّ، فَسَقَيْتُهُمَا قَبْلَ بَنِيَّ، وَأَنَّهُ نَأَى بِي ذَاتَ يَوْمٍ الشَّجَرُ، فَلَمْ آتِ حَتَّى أَمْسَيْتُ، فَوَجَدْتُهُمَا قَدْ نَامَا، فَحَلَبْتُ كَمَا كُنْتُ أَحْلُبُ، فَجِئْتُ بِالْحِلَابِ، فَقُمْتُ عِنْدَ رُءُوسِهِمَا أَكْرَهُ أَنْ أُوقِظَهُمَا مِنْ نَوْمِهِمَا، وَأَكْرَهُ أَنْ أَسْقِيَ الصِّبْيَةَ قَبْلَهُمَا، وَالصِّبْيَةُ يَتَضَاغَوْنَ عِنْدَ قَدَمَيَّ، فَلَمْ يَزَلْ ذَلِكَ دَأْبِي وَدَأْبَهُمْ حَتَّى طَلَعَ الْفَجْرُ، فَإِنْ كُنْتَ تَعْلَمُ أَنِّي فَعَلْتُ ذَلِكَ ابْتِغَاءَ وَجْهِكَ، فَافْرُجْ لَنَا مِنْهَا فُرْجَةً، نَرَى مِنْهَا السَّمَاءَ، فَفَرَجَ اللهُ مِنْهَا فُرْجَةً، فَرَأَوْا مِنْهَا السَّمَاءَ( صحیح مسلم:2743)

ترجمہ: اس پر ان میں سے ایک نے کہا : اے اللہ ! میرے انتہائی بوڑھے والدین ، بیوی اور چھوٹے چھوٹے بچے ہیں جن کی میں نگہداشت کرتا ہوں ۔ جب شام کو میں اپنے جانور ( چرانے کے بعد انہیں ) ان کے پاس واپس لاتا ، ان کا دودھ دوہتا تو آغاز اپنے والدین سے کرتا اور اپنے بچوں سے پہلے انہیں پلاتا تھا ۔ ایک دن ( مویشیوں کے چرنے کے قابل ) درختوں کی تلاش مجھے بہت دور لے گئی ، میں رات سے پہلے گھر نہ پہنچ سکا ۔ میں نے انہیں پایا کہ وہ دونوں سو چکے ہیں ۔ میں جس طرح ( ہر روز ) دودھ نکالا کرتا تھا نکالا اور وہ دوہا ہوا دودھ لے کر ان کے سرہانے کھڑا ہو گیا ۔ مجھے یہ بھی ناپسند تھا کہ ان کو نیند سے جگاؤں اور یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ان سے پہلے بچوں کو پلاؤں ، بچے بھوک کی شدت سے بلکتے ہوئے میرے قدموں میں لوٹ پوٹ ہو رہے تھے ، میں اسی حال میں ( کھڑا ) رہا اور وہ بھی اسی حالت میں رہے یہاں تک کہ صبح طلوع ہو گئی ۔ ( اے اللہ ! ) اگر تو جانتا ہے کہ میں نے یہ صرف تیری رضا کے لیے کیا ہے تو اس ( غار کے بند منہ ) میں اتنا سوراخ کر دے کہ ہم آسمان کو دیکھ سکیں ۔ اللہ نے اس میں ایک سوراخ کر دیا کہ وہ آسمان کو دیکھنے لگے ۔

اللہ تعالی کے نزدیک سب سے محبوب کام:

سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَيُّ الْعَمَلِ أَحَبُّ إِلَى اللَّهِ ؟ قَالَ : الصَّلَاةُ عَلَى وَقْتِهَا ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَيْنِ ، قَالَ : ثُمَّ أَيٌّ ؟ قَالَ : الْجِهَادُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بِهِنَّ وَلَوِ اسْتَزَدْتُهُ لَزَادَنِي    . (صحیح بخاری : 527)

ترجمہ: میں نے نبی ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کون سا عمل زیادہ محبوب ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اپنے وقت پر نماز پڑھنا ، پھر پوچھا ، اس کے بعد ، فرمایا والدین کے ساتھ نیک معاملہ رکھنا ۔ پوچھا اس کے بعد ، آپ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا ۔ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ آنحضرت ﷺ نے مجھے یہ تفصیل بتائی اور اگر میں اور سوالات کرتا تو آپ اور زیادہ بھی بتلاتے ۔ ( لیکن میں نے بطور ادب خاموشی اختیار کی )

ہجرت  اور جہاد کے لیے بیعت کرنا:

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي جِئْتُ أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ، وَلَقَدْ تَرَكْتُ أَبَوَيَّ يَبْكِيَانِ قَالَ: «ارْجِعْ إِلَيْهِمَا فَأَضْحِكْهُمَا كَمَا أَبْكَيْتَهُمَ (سنن نسائی : 4168)

ترجمہ:  حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی اکرم  ﷺ  کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ سے ہجرت پر بیعت کرنے آیا ہوں جبکہ میں اپنے ماں باپ کو روتا چھوڑ آیا ہوں ۔ آپ نے فرمایا :’’ ان کے پاس واپس جا اور جیسے تو نے انھیں رلایا ہے اسی طرح انھیں ہنسا ۔‘‘

ایک اور حدیث پاک میں ارشاد پاک ہے:

أَنَّ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: أَقْبَلَ رَجُلٌ إِلَى نَبِيِّ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: أُبَايِعُكَ عَلَى الْهِجْرَةِ وَالْجِهَادِ، أَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ، قَالَ: «فَهَلْ مِنْ وَالِدَيْكَ أَحَدٌ حَيٌّ؟» قَالَ: نَعَمْ، بَلْ كِلَاهُمَا، قَالَ: «فَتَبْتَغِي الْأَجْرَ مِنَ اللهِ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَارْجِعْ إِلَى وَالِدَيْكَ فَأَحْسِنْ صُحْبَتَهُمَا» (صحیح مسلم: 6507)

ترجمہ:  حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی : میں آپ سے ہجرت اور جہاد پر بیعت کرتا ہوں اور اللہ تعالیٰ سے اس کا اجر طلب کرتا ہوں ، آپ نے فرمایا :’’ کیا تمہارے والدین میں سے کوئی ایک زندہ ہے ؟‘‘ اس نے کہا : جی ہاں ، بلکہ دونوں زندہ ہیں ۔ آپ نے فرمایا :’’ تم اللہ سے اجر کے طالب ہو ؟‘‘ اس نے کہا : جی ہاں ۔ آپ نے فرمایا :’’ اپنے والدین کے پاس جاؤ اور اچھے برتاؤ سے ان کے ساتھ رہو ۔‘‘

جہاد کے لیے مشورہ کرنا ہے:

عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ جَاهِمَةَ السَّلَمِيِّ أَنَّ جَاهِمَةَ جَاءَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَدْتُ أَنْ أَغْزُوَ وَقَدْ جِئْتُ أَسْتَشِيرُكَ فَقَالَ هَلْ لَكَ مِنْ أُمٍّ قَالَ نَعَمْ قَالَ فَالْزَمْهَا فَإِنَّ الْجَنَّةَ تَحْتَ رِجْلَيْهَا  (سنن نسائی :3106)

ترجمہ: حضرت معاویہ بن جاہمہ سلمی سے روایت ہے کہ ( میرے والد محترم ) حضرت جاہمہ رضی اللہ عنہ نبی  ﷺ  کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ! میرا ارادہ جنگ کو جانے کا ہے جبکہ میں آپ سے مشورہ لینے کے لیے حاضر ہوا ہوں ۔ آپ  ﷺ  نے فرمایا :’’ تیری والدہ ہے ؟ ‘‘ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ نے فرمایا :’’ اس کے پاس ہی رہ ( اور خدمت کر ) ۔ جنت اس کے پاؤں تلے ہے ۔‘‘

حضرت اویس قرنی اور ماں کی خدمت اور صلہ:

حضرت اویس قرنی یمن کے رہنے والے تھے اور قرن قبیلہ سے تعلق تھا نبی کریم ﷺ کا زمانہ مبارک پایا مگر آپ ﷺ کی زیارت نہ کر سکے اور اس کی ایک ٹھوس وجہ یہ تھی کہ یمن میں ااپ کی ایک بوڑھی ماں تھی جس کی دیکھ بھال کے لیے کوئی اور نہ تھا ااپ رحمۃ اللہ علیہ ہمیشہ ان کی خدمت میں رہتے تھے ۔ یعض احادیث مبارکہ میں ان کی اس علت اور وجہ کا بھی ذکر ہوا ہے کہ اس کی بوڑھی ماں اس کو روکے ہے یعنی اس کی خدمت کی وجہ سے آپ نبی کریم ﷺ کی زیارت نہ کر سکے اور شرف صحابیت نا پا سکے۔

عَنْ أُسَيْرِ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ إِذَا أَتَى عَلَيْهِ أَمْدَادُ أَهْلِ الْيَمَنِ، سَأَلَهُمْ: أَفِيكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ؟ حَتَّى أَتَى عَلَى أُوَيْسٍ فَقَالَ: أَنْتَ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مِنْ مُرَادٍ ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَكَانَ بِكَ بَرَصٌ فَبَرَأْتَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: لَكَ وَالِدَةٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «يَأْتِي عَلَيْكُمْ أُوَيْسُ بْنُ عَامِرٍ مَعَ أَمْدَادِ أَهْلِ الْيَمَنِ، مِنْ مُرَادٍ، ثُمَّ مِنْ قَرَنٍ، كَانَ بِهِ بَرَصٌ فَبَرَأَ مِنْهُ إِلَّا مَوْضِعَ دِرْهَمٍ، لَهُ وَالِدَةٌ هُوَ بِهَا بَرٌّ، لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللهِ لَأَبَرَّهُ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ يَسْتَغْفِرَ لَكَ فَافْعَلْ» فَاسْتَغْفِرْ لِي، فَاسْتَغْفَرَ لَهُ، (صحیح مسلم : 2542)

ترجمہ: اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، کہا : حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس جب اہل یمن میں سے کوئی ( جہاد میں حصہ لینے والے ) دستے آتے تو وہ ان سے پوچھتے : تم میں اویس بن عامر بھی ہیں ؟ یہاں تک کہ وہ اویس سے مل گئے ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ( ان سے ) کہا : آپ اویس بن عامر ہیں ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، پوچھا : کیا آپ مراد ( کے قبیلے اور ) اس کے بعد قرن ( کی شاخ ) سے ہیں ؟ انھوں نے کہا : ہاں ، کہا : کیا آپ کو برص ( کی بیماری ) تھی ، پھر آپ ٹھیک ہو گئے ، بس ایک درہم کے برابر جگہ رہ گئی ؟ کہا : ہاں ۔ کہا : آپ کی والدہ ہیں ؟ کہا : ہاں ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ فرماتے تھے :’’ تمہارے پاس اہل یمن کے دستوں کے ہمراہ اویس بن عامر آئے گا ، وہ قبیلہ مراد ، پھر اس کی شاخ قرن سے ہو گا ، اسے برص کی بیماری ہوئی ہو گی ، پھر ایک درہم کی جگہ چھوڑ کر باقی ٹھیک ہو گئی ہو گی ، اس کی والدہ ہے ، وہ اس کا پورا فرمانبردار ہے ، اگر وہ اللہ پر ( کسی کام کی ) قسم کھا لے تو وہ اسے پورا کر دے گا ۔ اگر تم یہ کر سکو گے کہ ( تمہاری درخواست پر ) وہ تمہارے لیے بخشش کی دعا کرے تو یہ ( درخواست ) کر لینا ۔‘‘ اس لیے ( اب ) تم میرے لیے بخشش کی دعا کرو تو انھوں نے ان کے لیے بخشش کی دعا کی ۔

نقطہ: اس مکمل حدیث پاک میں تمام فضائل بیان ہوئے ہیں فقط عمل یہ ہے کہ وہ اپنی ماں کے بہت فرماں بردار ہیں ، گویا یہ تمام فضائل ماں کی خدمت کی وجہ سے تھے۔

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive