Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

12/13/20

پنجابی صوفیانہ اشعار :: غور حضور ضرور کرنا :: پٹ جھڑ موسم لنگھ گیا ماہی :: بس ہن سوہنا جان وی دے

 


1.    غور حضور ضرور کرنا ساڈے ترلیاں تے ہتھاں جوڑیاں دی

اساں لوڑ تساں دی ہر ویلے تساں لوڑ کی اساں بے لوڑیاں دی

تیرے در تے آ کے ڈگ پئی آں ماری ہوئی میں دھکیاں دھوڑیاں دی

خوبصورت آواز میں سننے کے لیے کلک کریں

میرے واسطے تاج سکندری اے سوہنا دھوڑ تساں دے جوڑیاں دی

 

2.    زور دھگانے میرا ٹر گیا ماہی میرے رکھ گیا ہجر سرہاندی

سجے کھبے میرے غم دیاں فوجاں بیٹھی آن  اڈیک پواندی

اٹھن جوگی مول نہ چھڈیا بیٹھی رو رو ہاں کرلاندی

سردار جہڑا میرا یار ملاوے اوہدے باندیاں دی میں باندی

 

3.    کہڑی رتے رسیوں وے ماہی لگ انبیاں بور گئے نی

ہار سنگھار کراں کی اڑیو میرے ساجن دور گئے نی

اوہلے بیٹھ وناں سے روویں مینوں دس دستور گئے نی

سجن جنہاں دے یار وچھڑ گئے اڈ چہریوں نور گئے نی

 

4.    پت جھڑ موسم لنگھ گیا ماہی آیا پھگن تے شاخاں پھٹیاں

بھنورے رقص کرن پھل ٹہکن آتے بلبلاں موجاں لٹیاں

وچھڑیاں کونجاں سب گھر آیا جہڑیا رزق بہانے ٹٹیاں

سردار مسافر سب گھر آگئے تینون کون نہیں دینداں چھٹیاں

 

5.    نئیں آیا میرا دلبر ماہی ایویں بول نہ جھوٹیا کاواں

توں جھوٹا تیرے بول وی جھوٹے تینوں تاڑی مار اڈاواں

جے پکی خبر ملن دی دیویں تینوں کٹ کٹ چوریاں پاواں

آ سردار کرا جا دیداں کیتے روندی نہ مر جاواں

 

6.    شام پئی مک آساں گئیاں اوہ میرا چھڈ گئے کاگ بنیرا

ماپے ساپےسہیلڑیاں مینوں طعنہ دیندے تیرا

آکھے لگ کے غیراں دے ڈھولا چھڈ دیتا ای گھر میرا

آسردار وسا جا جھوکاں کدی پا تتڑی ول پھیرا

 

7.    عمر وی ڈھل گئی آتے رات وی ڈھل گئی سوہنا ڈل گئے اتھرو سارے

تاریاں وانگوں ڈب نہ جاون کتے آس امید دے تارے

صائم ہجر سجن دے پھیرے میرے لوں لوں دے وچ آرے

ہن تے مدنی ماہی آ جا پئی موت وی واجاں مارے

 

8.    بس ہن سوہنا جان وی دے تیری سب تو اچی اے شان سوہنا

تیری ہو کے میں جے راہواں رلدی کی کہن گے جگ دے خان سوہنا

مسئلہ اک اللہ ناوے دس دینا میرا مک جائے رون کرلون سوہنا

جے تو چنگیاں ای گل سردار لونا ایں فیر اے مندیاں کس در جان سوہنا


مر ویساں پر چھڈساں  ناہیں


قاصد پٹھاں یا میں آپ ونجھاں، لکھاں چٹھیاں جاں حالَ پواواں

۔ پاڑ کے چولا، لاج والا،گل کفنیں پریت دی پاواں

چھوڑ کے جھیڑے کھیڑیاں والے، بوہے یار دے الکھ جگاواں

اپنی توڑ فرید نبھاواں، اگوں بھاواں خواہ نہ بھاواں ۔


Share:

12/12/20

بے وفا سے دل لگا کر روپڑے دل پہ ہم اک چوٹ کھا کر رو پڑے


 

بے وفا سے دل لگا کر روپڑے

دل پہ ہم اک چوٹ کھا کر رو پڑے

 

جس نے پوچھا ہم سے بچھڑے یار کا

اس کو سینے سے لگا کر رو پڑے


مٹ گئے تجھ پر وفاؤں کی کمی رہنے نہ دی       پڑھنے کیلیے کلک کریں 


اپنے دلبر کی خوشی کے واسطے

دل کا ہر اک غم چھپا کر رو پڑے

 

لکھ کے اس کا نام دل کے ورق پر

اپنی ہستی کو مٹا کر رو پڑے

 

جو دیے ہیں زخم صادق یار نے

وہ زمانے سے چھپا کر رو پڑے

مٹ گئے تجھ پر وفاؤں کی کمی رہنے نہ دی       پڑھنے کیلیے کلک کریں 

Share:

مٹ گئے تجھ پر وفاؤں کی کمی رہنے نہ دی :: رو لیا خود تیری آنکھوں میں نمی رہنے نہ دی

 


مٹ گئے تجھ پر وفاؤں کی کمی رہنے نہ دی

رو لیا خود تیری آنکھوں میں نمی رہنے نہ دی

 

سہہ لیے ظلم و ستم تیری خوشی سے ہی مگر

اپنے دل میں بات کوئی بھی کبھی رہنے نہ دی


بے وفا سے دل لگا کر روپڑے پڑھنے کے لیے کلک کریں 


آپ نے میری وفاؤں کا صلہ ایسے دیا

میرے ہستے ہونٹ پر کوئی ہسی رہنے نہ دی

 

سانحہ یہ بھی ہوا اک ہے ترےجانے کے بعد

یاد رکھ لی دل میں اور پھر یاد بھی رہنے نہ دی

 

ہوش واپس آ گئے سارا مزا جاتا رہا

چل دیے پہلو سے اٹھ کر بے خودی رہنے نہ دی

 

مستِ چشمِ ناز ہے اہلِ جم و  بادا کہ اب

اس نگاہ نے میکدے میں میکشی رہنے نہ دی

 

زخم پر بھرنے جب لگے یاد اس کو پھر سے کر لیا

حالتِ دل میں کبھی بھی بہتری رہنے نہ دی


بے وفا سے دل لگا کر روپڑے پڑھنے کے لیے کلک کریں


مسکرا کر بے وفا نے پھر اسے بھڑکا دیا

بجھ گئی تھی آگ جو دل میں بجھی رہنے نہ دی

 

ایسے جینے سے تو بہتر موت تھی میرے لیے

تیرے غم میں زندگی اب زندگی رہنے نہ دی

 

مے کشی کا تھا کبھی جو وہ تسلسل بھی گیا

زہر تھی جو یاد بھی وہ آپ کی رہنے نہ تھی

 

ہم سے بھی جتنا ہوا دیتے رہے اس کو سکوں

اس نے بھی درد و مظالم میں کمی رہنے نہ دی

 

عہدِ پیمان ِ وفا سارے بھلا کر اے وحید

دشمنی کر لی ہے اس نے دوستی رہنے نہ دی


Share:

12/11/20

ذکر الہی اور قرآنی آیات :: زکر الہی کے فضائل اور قرآن مجید :: ذکر الہی سے متعلق قرآنی آیات

 

ذکر الہی اور قرآنی آیات

1:  فَاذْکُرُوْنِيْٓ اَذْکُرْکُمْ وَاشْکُرُوْا لِيْ وَلَا تَکْفُرُوْنِ (البقرۃ، 2 : 152

ترجمہ: ’’سو تم مجھے یاد کیا کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا اور میرا شکر ادا کیا کرو اور میری ناشکری نہ کیا کروo‘‘

2۔ فَاِذَا قَضَيْتُمُ الصَّلٰوةَ فَاذْکُرُوا اللهَ قِیٰمًا وَّ قُعُوْدًا وَّ عَلٰی جُنُوْبِکُمْ۔ النساء، 4 : 103

ترجمہ: ’’پھر اے (مسلمانو!) جب تم نماز ادا کر چکو تو اللہ کو کھڑے اور بیٹھے اور اپنے پہلوؤں پر (لیٹے ہر حال میں) یاد کرتے رہو۔‘‘

3۔ یٰـٓاَیُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِيْتُمْ فِئَةً فَاثْبُتُوْا وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْن  الأنفال، 8 : 45

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب (دشمن کی) کسی فوج سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہا کرو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پا جاؤo‘‘

4۔ اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَ تَطْمَئِنُّ قُلُوْبُھُمْ بِذِکْرِ اللهِ ط اَلاَ بِذِکْرِ اللهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ   الرعد، 13 : 28

ترجمہ: ’’جو لوگ ایمان لائے اور ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہوتے ہیں، جان لو کہ اللہ ہی کے ذکر سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہےo‘‘

5۔ وَلَذِکْرُ اللهِ اَکْبَرُ ط وَاللهُ یَعْلَمُ مَا تَصْنَعُوْنَ   العنکبوت، 29 : 45

ترجمہ:’’اور واقعی اللہ کا ذکر سب سے بڑا ہے، اور اللہ ان (کاموں) کو جانتا ہے جو تم کرتے ہوo‘‘

6۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْکُرُوا اللهَ ذِکْرًا کَثِيْرًاo وَّسَبِّحُوْهُ بُکْرَةً وَّاَصِيْلًا  ۔۔هُوَ الَّـذِىْ يُصَلِّىْ عَلَيْكُمْ وَمَلَآئِكَـتُهٝ لِيُخْرِجَكُمْ مِّنَ الظُّلُمَاتِ اِلَى النُّوْرِ ۚ وَكَانَ بِالْمُؤْمِنِيْنَ رَحِيْمًا   الأحزاب، 33 : -43-41

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تم اللہ کا کثرت سے ذکر کیا کروo اور صبح و شام اسکی تسبیح کیا کروo‘‘وہی ہے جو تم پر رحمت بھیجتا ہے اور اس کے فرشتے بھی تاکہ تمہیں اندھیروں سے روشنی کی طرف نکالے، اور وہ ایمان والوں پر نہایت رحم والا ہے۔

ذکر الہی اور احادیث مبارکہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں

7۔ یٰـٓاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْآ اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ يَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰی ذِکْرِ اللهِ وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ط ذٰلِکُمْ خَيْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَo فَاِذَا قُضِیَتِ الصَّلوٰةُ فَانْتَشِرُوْا فِی الْاَرْضِ وَابْتَغُوْا مِنْ فَضْلِ اللهِ وَاذْکُرُوا اللهَ کَثِيْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ     الجمعۃ، 62 : 9، 10

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! جب جمعہ کے دن (جمعہ کی) نماز کے لیے اذان دی جائے تو فوراً اللہ کے ذکر (یعنی خطبہ و نماز) کی طرف تیزی سے چل پڑو اور خرید و فروخت (یعنی کاروبار) چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہوo پھر جب نماز ادا ہوچکے تو زمین میں منتشر ہوجاؤ اور (پھر) اللہ کا فضل (یعنی رزق) تلاش کرنے لگو اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا کرو تاکہ تم فلاح پاؤo‘‘

8۔ یٰٓـاَیُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تُلْهِکُمْ اَمْوَالُکُمْ وَلَآ اَوْلَادُکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللهِ ج وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ هُمُ الْخٰسِرُوْنَ    المنفقون، 63 : 9

ترجمہ: ’’اے ایمان والو! تمہارے مال اور تمہاری اولاد (کہیں) تمہیں اللہ کی یاد سے ہی غافل نہ کردیں، اور جو شخص ایسا کرے گا تو وہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیںo‘‘

9:  وَالذَّاكِرِينَ اللَّـهَ كَثِيرًا وَالذَّاكِرَاتِ أَعَدَّ اللَّـهُ لَهُم مَّغْفِرَةً وَأَجْرًا عَظِيمًا    احزاب آیہ 35

ترجمہ: اور ذکر کرنے والے مرد اور عورتوں کے لیے اللہ تعالی نے مغفرت اور اجر عظیم کا بدلہ تیار کر رکھا ہے۔

10: وَاذْکُرْ رَّبَّکَ فِیْ نَفْسِکَ تَضَرُّعًا وَّخِیْفَۃً وَّدُوْنَ الْجَھْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَالْاٰصَالِ وَلَا تَکُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ    الاعراف:۲۰۵

ترجمہ: اور اپنے رب کو اپنے دل میں عاجزی کرتے ہوئے اور ڈرتے ہوئے یاد کرتا رہ صبح اور شام بلند آواز کی بجائے ہلکی آواز سے، اور غافلوں سے نہ ہو۔

11:  وَاَقِمِ الصَّلَاةَ طَرَفَىِ النَّـهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ اللَّيْلِ ۚ اِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ذٰلِكَ ذِكْـرٰى لِلـذَّاكِـرِيْنَ   سورہ ہود 114

ترجمہ: اور دن کے دونوں طرف اور کچھ حصہ رات کا نماز قائم کر، بے شک نیکیاں برائیوں کو دور کرتی ہیں، یہ نصیحت حاصل کرنے والوں کے لیے نصیحت ہے۔


ذکر الہی اور احادیث مبارکہ پڑھنے کےلیے یہاں کلک کریں


Share:

ذکر الہی کی فضیلت :: ذکر الہی اور احادیث مبارکہ :: ذکر الہی سے متعلق احادیث مبارکہ ::

ذکرالہی اور احادیث مبارکہ:

1۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : یَقُوْلُ اللهُ تَعَالَی : أَنَا عِنْدَ ظَنِّ عَبْدِي بِي وَأَنَا مَعَهُ إِذَا ذَکَرَنِي فَإِنْ ذَکَرَنِي فِي نَفْسِهِ ذَکَرْتُهُ فِي نَفْسِي، وَإِنْ ذَکَرَنِي فِي مَـلَإٍ ذَکَرْتُهُ فِي مَـلَإٍ خَيْرٍ مِنْهُمْ وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ بِشِبْرٍ تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَإِنْ تَقَرَّبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا تَقَرَّبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَإِنْ أَتَانِي یَمْشِي، أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً۔   مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ

ذکر الہی اور قرآنی آیات  پڑھنے کے لیے کلک کریں

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان رکھتا ہے میں اس کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتا ہوں۔ جب وہ میرا ذکر کرتا ہے تو میں اس کے ساتھ ہوتا ہوں۔ اگر وہ اپنے دل میں میرا ذکر (ذکر خفی) کرے تو میں بھی(اپنے شایان شان) خفیہ اس کا ذکر کرتا ہوں، اور اگر وہ جماعت میں میرا ذکر (ذکر جلی) کرے تو میں اس کی جماعت سے بہتر جماعت میں اس کا ذکر کرتا ہوں۔ اگر وہ ایک بالشت میرے نزدیک آئے تو میں ایک بازو کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں۔ اگر وہ ایک بازو کے برابر میرے نزدیک آئے تو میں دو بازؤوں کے برابر اس کے نزدیک ہو جاتا ہوں اور اگر وہ میری طرف چل کر آئے تو میں اس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔‘‘ یہ حدیث متفق علیہ ہے

 ذکر الہی اور قرآنی آیات  پڑھنے کے لیے کلک کریں

2: عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ وَأَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنھما : أَنَّھُمَا شَھِدَا عَلَی النَّبِيِّ ﷺ أَنَّهُ قَالَ : لَا یَقْعُدُ قَوْمٌ یَذْکَرُوْنَ اللهَ عزوجل إِلَّا حَفَّتْھُمُ الْمَلَائِکَةُ وَغَشِیَتْھُمُ الرَّحْمَةُ، وَنَزَلَتْ عَلَيْھِمُ السَّکِيْنَةُ، وَذَکَرَھُمُ اللهُ فِيْمَنْ عِنْدَهُ۔رَوَاهُ مُسْلِمٌ وَالتِّرْمِذِيُّ، وَقَالَ أَبُو عِيْسَی : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ صَحِيْحٌ

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ اور ابو سعید خدری رضی اللہ عنھما دونوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کے بارے میں گواہی دی کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جب بھی لوگ اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لئے بیٹھتے ہیں انہیں فرشتے ڈھانپ لیتے ہیں اور رحمت انہیں اپنی آغوش میں لے لیتی ہے اور ان پر سکینہ (سکون و طمانیت) کا نزول ہوتا ہے اللہ تعالیٰ ان کا ذکر اپنی بارگاہ کے حاضرین میں کرتا ہے۔‘‘

اس حدیث کو امام مسلم اور ترمذی نے روایت کیا ہے اور امام ترمذی کہتے ہیں کہ یہ حدیث حسن صحیح ہے

3: عَنْ أَنَسٍ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ عَلَی أَحَدٍ یَقُوْلُ : اللهُ، اللهُ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

وَفِي رِوَایَةِ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَا تَقُوْمُ السَّاعَةُ حَتَّی لَا یُقَالَ فِي الْأَرْضِ : اللهُ، اللهُ۔ رَوَاهُ مُسْلِمٌ۔

ترجمہ: ’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ اللہ کہنے والے کسی شخص پر قیامت نہ آئے گی (یعنی جب قیامت آئے گی تو دنیا میں کوئی بھی اللہ اللہ کرنے والا نہ ہو گا)۔‘

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ قیامت اس وقت برپا ہو گی، جب دنیا میں اللہ اللہ کہنے والا کوئی نہ رہے گا۔‘‘ ان دونوں روایات کو امام مسلم نے ذکر کیا ہے۔

ذکر الہی اور قرآنی آیات  پڑھنے کے لیے کلک کریں

4: عَنْ أَبِي الدَّرْدَاء رضي الله عنه قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : أَ لَا أُنَبِّئُکُمْ بِخَيْرِ أَعْمَالِکُمْ وَأَزْکَاھَا عِنْدَ مَلِيْکِکُمْ، وَأَرْفَعِھَا فِي دَرَجَاتِکُمْ، وَخَيْرٍ لَکُمْ مِنْ إِنْفَاقِ الذَّھَبِ وَالْوَرِقِ، وَخَيْرٍ لَکُمْ مِنْ أَنْ تَلْقَوْا عَدُوَّکُمْ، فَتَضْرِبُوْا أَعْنَاقَھُمْ وَیَضْرِبُوْا أَعْنَاقَکُمْ؟ قَالُوْا : بَلَی۔ قَالَ : ذِکْرُ اللهِ تَعَالَی۔

رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَابْنُ مَاجَه، وَقَالَ الْحَاکِمُ : حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ۔

ترجمہ: ’’حضرت ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں تمہارے اعمال میں سے سب سے اچھا عمل نہ بتاؤں جو تمہارے مالک کے ہاں بہتر اور پاکیزہ ہے، تمہارے درجات میں سب سے بلند ہے، تمہارے سونے اور چاندی کی خیرات سے بھی افضل ہے، اور تمہارے دشمن کا سامنا کرنے یعنی جہاد سے بھی بہتر ہے درآنحالیکہ تم انہیں قتل کرو اور وہ تمہیں؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا : کیوں نہیں! آپ ﷺ نے فرمایا : وہ عمل اللہ کا ذکر ہے۔‘‘

 

5۔ عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ بُسْرٍ رضي الله عنه أَنَّ رَجُلًا قَالَ : یَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّ شَرَائِعَ الْإِسْلَامِ قَدْ کَثُرَتْ عَلَيَّ فَأَخْبِرْنِي بِشَيْئٍ أَتَشَبَّثُ بِهِ۔ قَالَ : لَا یَزَالُ لِسَانُکَ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللهِ۔ رَوَاهُ التِّرْمِذِيُّ وَقَالَ : هَذَا حَدِيْثٌ حَسَنٌ۔

ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے عرض کیا : یا رسول اللہ! احکام اسلام مجھ پر غالب آگئے ہیں مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جسے میں انہماک سے کرتا رہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تیری زبان ہر وقت ذکر الٰہی سے تر رہنی چاہیے۔‘‘۔

6۔ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ أَنَّهُ قَالَ : مَنْ قَعَدَ مَقْعَدًا لَمْ یَذْکُرِ اللهَ فِيْهِ کَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ وَمَنِ اضْطَجَعَ مُضْطِجَعًا لَا یَذْکُرُ اللهَ فِيْهِ کَانَتْ عَلَيْهِ مِنَ اللهِ تِرَةٌ۔ رَوَاهُ أَبُوْ دَاوُدَ۔

ترجمہ: ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو اپنے بیٹھنے کی جگہ سے اُٹھ گیا اور اس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس پر ندامت وارد ہو گی اور جو بستر میں لیٹے اور اس میں اللہ تعالی کا ذکر نہ کرے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسے بھی ندامت ہو گی۔‘‘

 

عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : أَکْثِرُوْا ذِکرَ اللهِ حَتَّی یَقُوْلُوْا : مَجْنُوْنٌ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَابْنُ حِبَّانَ وَأَبُو یَعْلَی، وَقَالَ الْحَاکِمُ : صَحِيْحُ الْإِسْنَادِ۔

ترجمہ:’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کرو کہ لوگ تمہیں دیوانہ کہیں۔‘‘

عَنْ مُعَاذٍ رضي الله عنه عَنْ رَسُوْلِ اللهِ ﷺ : أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ : أَيُّ الْجِهَادِ أَعْظَمُ أَجْرًا؟ قَالَ : أَکْثَرُهُمْ ِللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ذِکْرًا۔ قَالَ : فَأَيُّ الصَّائِمِيْنَ أَعْظَمُ أجْرًا؟ قَالَ : أَکْثَرُهُمْ ِللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ذِکْرًا۔ ثُمَّ ذَکَرَ لَنَا الصَّلَاةَ وَالزَّکَاةَ وَالْحَجَّ وَالصَّدَقَةَ کُلُّ ذَلِکَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ یَقُوْلُ : أَکْثَرُهُمْ ِللهِ تَبَارَکَ وَتَعَالَی ذِکْرًا۔ فَقَالَ أَبُوْ بَکْرٍ لِعُمَرَ رضي الله عنهما : یَا أَبَا حَفْصٍ، ذَهَبَ الذَّاکِرُوْنَ بِکُلِّ خَيْرٍ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَجَلْ۔ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ۔

ترجمہ: ’’حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے حضور نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : کون سے مجاہد کا ثواب زیادہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اُن میں سے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔ اس نے دوبارہ عرض کیا : روزہ داروں میں سے کس کا ثواب زیادہ ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اُن میں سے جو اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔ پھر اُس نے ہمارے لیے نماز، زکوٰۃ، حج اور صدقے کا ذکر کیا۔ حضور نبی اکرم ﷺ ہر بار فرماتے رہے : جو اُن میں سے اللہ تبارک و تعالیٰ کا ذکر زیادہ کرتا ہے۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا : اے ابو حفص! اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والے تمام نیکیاں لے گئے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بالکل(درست ہے)۔‘‘

ذکر الہی اور قرآنی آیات  پڑھنے کے لیے کلک کریں

عَنْ أَبِي الْجَوْزَاءِ رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : أَکْثِرُوْا ذِکْرَ اللهِ حَتَّی یَقُوْلَ الْمُنَافِقُوْنَ : إِنَّکُمْ مُرَاؤُوْنَ۔ رَوَاهُ الْبَيْهَقِيُّ۔

ترجمہ: ’’حضرت ابو جوزا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورنبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اللہ کا ذکر اتنی کثرت سے کیا کرو کہ منافق تمہیں ریاکار کہیں۔‘‘

10۔ عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رضي الله عنه قَالَ : إِنَّ آخِرَ کَـلَامٍ فَارَقْتُ عَلَيْهِ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ أَنْ قُلْتُ : أَيُّ الْأَعْمَالِ أَحَبُّ إِلَی اللهِ؟ قَالَ : أَنْ تَمُوْتَ وَلِسَانُکَ رَطْبٌ مِنْ ذِکْرِ اللهِ۔ رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَالطَّبَرَانِيُّ وَاللَّفْظُ لَهُ۔

ترجمہ: ’’حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے بیان کیا ہے کہ میں نے حضور نبی اکرم ﷺ سے جدا ہوتے ہوئے جو آخری بات کی وہ یہ تھی : میں نے عرض کیا : اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا : سب سے زیادہ پسندیدہ عمل یہ ہے کہ جب توفوت ہو تو تیری زبان اللہ کے ذکر سے تر ہو۔‘‘

11۔ عَنْ أَبِي سَعِيْدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عنه أَنَّ رَسُوْلَ اللهِ ﷺ قَالَ : لَیَذْکُرَنَّ اللهَ قَوْمٌ فِي الدُّنْیَا عَلَی الْفُرُشِ الْمُمَهَّدَةِ یُدْخِلُهُمُ الدَّرَجَاتِ الْعُلَی۔ رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ یَعْلَی۔رَوَاهُ ابْنُ حِبَّانَ وَأَبُوْ یَعْلَی۔

ترجمہ: ’’حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : کچھ لوگ دنیا میں بچھے ہوئے پلنگوں پر اللہ تعالیٰ کا ذکر کریں گے اور وہ انہیں (جنت کے) بلند درجات میں داخل کر دے گا۔‘‘ اسے امام ابن حبان اور ابو یعلی نے روایت کیا ہے۔

12۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مالِکٍ رضي الله عنه قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : إِنَّ الشَّيْطَانَ وَاضِعٌ خُطُمَهُ عَلَی قَلْبِ ابْنِ آدَمَ فَإنْ ذَکَرَ اللهَ خَنَسَ وَإِنْ نَسِيَ الْتَقَمَ قَلْبَهُ فَذَلِکَ الْوَسْوَاسُ الْخَنَّاسُ۔ رَوَاهُ أَبُو یَعْلَی۔

’’حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : شیطان نے ابن آدم کے دل پر اپنی رسیاں ڈالی ہوئی ہیں۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرے تو وہ بھاگ جاتا ہے اور اگر وہ بھول جائے تو وہ اُس کے دل میں داخل ہو جاتا ہے اور یہی وسوسہ ڈالنے والا خناس ہے۔‘‘

13۔ عَنْ أُمِّ أَنَسٍ رضي الله عنها أَنَّهَا قَالَتْ : یَا رَسُوْلَ اللهِ، أَوْصِنِي۔ قَالَ : اهْجُرِي الْمَعَاصِي فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْهِجْرَةِ وَحَافِظِي عَلَی الْفَرَائِضِ فَإِنَّهَا أَفْضَلُ الْجِهَادِ وَأَکْثِرِي ذِکْرَ اللهِ فَإِنَّکِ لَا تَأْتِيْنَ اللهَ بِشَيْئٍ أَحَبَّ إِلَيْهِ مِنْ کَثْرَةِ ذِکْرِهِ۔رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ جَيِّدٍ۔

ترجمہ: ’’حضرت اُم انس رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں عرض کیا : یا رسول اللہ! آپ مجھے کوئی وصیت فرمائیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : گناہوں کو چھوڑ دے یہ سب سے افضل ہجرت ہے اور فرائض کی پابندی کر یہ سب سے افضل جہاد ہے۔ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کر۔ تم اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں کثرتِ ذکر سے زیادہ پسندیدہ کوئی چیز پیش نہیں کر سکتیں۔‘‘

14۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عنهما قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : مَنْ عَجَزَ مِنْکُمْ عَنِ اللَّيْلِ أَنْ یُکَابِدَهُ وَبَخِلَ بِالْمَالِ أَنْ یُنْفِقَهُ وَجَبُنَ عَنِ الْعَدُوِّ أَنْ یُجَاهِدَهُ فَلْیُکْثِرْ ذِکْرَ اللهِ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِیُّ وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ وَاللَّفْظُ لَهُ۔

ترجمہ: ’’حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : تم میں سے جو شخص پوری رات (عبادت کرنے کی) مشقت سے عاجز ہے، دولت خرچ کرنے میں بخیل ہے اور دشمن کے ساتھ جہاد کرنے میں بزدل ہے، اُسے زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنا چاہیے۔‘‘

اسے امام طبرانی اور عبد بن حمید نے روایت کیا ہے۔ مذکورہ الفاظ عبد بن حمید کے ہیں۔

15۔ عَنْ أَبِي مُوْسَی رضي الله عنه قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللهِ ﷺ : لَوْ أَنَّ رَجُلًا فِي حِجْرِهِ دَرَاهِمُ یَقْسِمُهَا وَآخَرُ یَذْکُرُ اللهَ کَانَ الذَّاکِرُ ِللّٰهِ أَفْضَلَ۔ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ۔

ترجمہ: ’’حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اگر ایک آدمی کے دامن میں درہم ہوں اور وہ اِنہیں تقسیم کر رہا ہو اور دوسرا اللہ کا ذکر کر رہا ہو تو (اُن دونوں میں) اللہ کا ذکر کرنے والا افضل ہو گا۔‘‘ اسے امام طبرانی نے سندِ حسن کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

16۔ عَنْ أَبِي الْمُخَارِقِ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ ﷺ : مَرَرْتُ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِي بِرَجُلٍ مُغَيَّبٍ فِي نُوْرِ الْعَرْشِ، قُلْتُ : مَنْ هَذَا؟ مَلَکٌ؟ قِيْلَ : لَا۔ قُلْتُ : نَبِيٌّ؟ قِيْلَ : لَا، قُلْتُ : مَنْ هُوَ؟ قَالَ : هَذَا رَجُلٌ کَانَ فِي الدُّنْیَا لِسَانُهُ رَطْبًا مِنْ ذِکْرِ اللهِ وَقَلْبُهُ مُعَلَّقًا بِالْمَسَاجِدِ وَلَمْ یَسْتَسِبَّ لِوَالِدَيْهِ قَطُّ۔ رَوَاهُ ابْنُ أَبِي الدُّنْیَا فِي کِتَابِ الْأَوْلِیَاء۔۔

ترجمہ: ’’حضرت ابو المخارق نے بیان کیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : معراج کی رات میں ایک آدمی کے پاس سے گزرا۔ وہ عرش کے نور میں ڈوبا ہوا تھا۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے؟ کیا یہ فرشتہ ہے؟ کہا گیا : نہیں۔ میں نے پوچھا : کیا یہ کوئی نبی ہے؟ جواب ملا : نہیں۔ میں نے پوچھا : یہ کون ہے؟ (کہنے والے نے) کہا : یہ وہ آدمی ہے جس کی زبان دنیا میں اللہ کے ذکر سے تر رہتی تھی اور اس کا دل مسجد میں معلق رہتا تھا اور اس نے کبھی اپنے والدین کو گالی نہیں دلوائی۔‘‘

اسے ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب ’’الأولیاء‘‘ میں بیان کیا ہے۔

 

Share:

12/8/20

bad emotions :: Regret Worry Indecision Hatred Impatience :: how do you get rid of emotions?

Simply put, these are the emotions you should banish from your life. I just picked the five worst emotions I could think of because the list would get quite lengthy otherwise :) 

Regret

is feeling bad for something you have done in the past, something you cannot change. Maybe you’re feeling it because of guilt or simply because you did something foolish. Either way, regret is not doing you any good. The past is the past, and your regret is not going to change or mend it. Every hour you spend regretting is an hour you could have been using to do something good with the knowledge from your mistake.


Worry

is like regret but for the future. The future cannot be controlled so worrying is just sucking up your focus and energy in the current moment. Most things tend to just work out if you let me them and if they don’t mind, you’ll deal with it then. This is life! It’s not supposed to go right all the time or even most of the time. Expect and accept problems and look at them as learning experiences, fun little mole hills in your life experience. I also like the saying, “If you’re thinking about the millions of ways you could miss the baseball, how in the hell are you going to hit it?” Worrying is not only useless, it’s toxic to confidence and ability.  Read any self-help book out there and you’ll see stated very clearly that worry is extremely counter-intuitive to success

Indecision

What do you want? You should decide what you want out of this life and do everything to get it. Indecision is laziness. Choose and act upon your decision!

Hatred

I am far from Christian but I agree with this the “Love thy enemy” concept completely. First off, if you hate someone so much that you know you won’t be able to drop it, refer to Part 1 of this series. Otherwise you should try to acknowledge that hatred is hurting you more than it’s hurting the object of your hatred. If someone has given you reason to hate them, I seriously doubt they care how you feel about them. Now please ask yourself “is this hatred bettering my life in any way?” If your answer is yes, I’d love to hear some reasons in the comments! If that isn’t good enough, think about how satisfying it would be to give an honest, warm hearted smile to someone that hates your guts :)

Impatience

You’re sitting in traffic, the doctor’s office or maybe your date is running late. You’re a pretty patient person but this wait is just too much and you’re starting to get anxious and annoyed. But why? You are putting yourself in bad mood over something you cannot change. Nothing you do (besides maybe jumping out of your car and running through traffic) is going to help things move faster! I hope you’re seeing the trend of futility here…


So how do you get rid of these?

1) Rationalize — Give yourself some sound logic as to why the emotion is not doing you any good or even harming you.

2) Stop and Smile — Whenever you find yourself feeling that emotion, stop for a moment. Take a deep breath, smile and think about something positive. Associate some happiness with whatever is causing that emotion.

3) Freak Out! — If you’re still seething with hatred through those smiles, you’ll need to take this a step further. Just go crazy. Scream, pound on walls, feel that negative emotion burn through your soul. Get it out of your system with a bang and maybe some broken furniture. It’s worth it to get that crappy emotion out of your head for good.

Have any other emotions you hate or release techniques you want to share? Please take out your anger on the comment section below!



Share:

12/7/20

درود پڑھنے کی عادت مجھے پڑی ہوئی ہے :: میرے لیے میرے آقا نے بات کی ہوئی ہے


 

درود پڑھنے کی عادت مجھے پڑی ہوئی ہے

اسی سبب سے فرشتوں سے ودستی ہوئی ہے

 

اسی خیال میں دل کو تسلیاں دی ہیں

عاصیوں کی ضمانت انہوں دی ہوئی ہے

 

نہ روکیے مجھے رضوان بابِ جنت پر

داخلے کی اجازت نبیﷺ نے دی ہوئی ہے

 

یہ سراٹھائے جو میں جا رہا ہوں جانبِ خلد

میرے لیے میرے آقا نے بات کی ہوئی ہے


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive