أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ عُقْبَةَ
أَخْبَرَتْهُ ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ
وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : لَيْسَ
الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ فَيَنْمِي خَيْرًا أَوْ يَقُولُ خَيْرًا
(بخاری)
ترجمہ: حضرت ام کلثوم
بن عقبہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا تھا کہ جھوٹا وہ نہیں ہے
جو لوگوں میں باہم صلح کرانے کی کوشش کرے اور اس کے لیے کسی اچھی بات کی چغلی
کھائے یا اسی سلسلہ کی اور کوئی اچھی بات کہہ دے۔۔۔
وضاحت: اس حدیث پاک
میں اس بات کی طرف رہنمائی کی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص دو مسلمانوں کے درمیان صلح
کی کوشش کرے اور اسے اس کوشش میں کچھ نا کچھ جھوٹ سے کام لینا پڑے تو اسے اس جھوٹ
بولنے پر گناہ نہیں اور نہ ہی اس کی اس بات کو جھوٹ لکھا جاتا ہے۔

























