Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

1/26/26

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی | Salam us par k jis nai lyrics


 

سلام اس پر کہ جس نے بے کسوں کی دستگیری کی

سلام اس پر کہ جس نے بادشاہی میں فقیری کی

سلام اس پرکہ اسرارِ محبت جس نے سکھلائے

سلام اس پر کہ جس نے زخم کھا کر پھول برسائے

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو قبائیں دیں

سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

سلام اس پر کہ دشمن کو حیاتِ جاوداں دے دی

سلام اس پر ابو سفیان کو جس نے اماں دے دی

سلام اس پر کہ جس کا ذکر ہے سارے صحائف میں

سلام اس پ ہوا مجروح جو بازارِ طائف میں

سلام اس پر وطن کے لوگ جس کو تنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ گھر والے بھی جس سے جنگ کرتے تھے

سلام اس پر کہ جس کے گھر میں چاندی تھی نہ سونا تھا

سلام اس پر کہ ٹوٹا بوریا جس کا بچھونا تھا

سلام اس پر جو سچائی کی خاطر دکھ اٹھاتا تھا

سلام اس پر جو بھوکا رہ کے اوروں کو کھلاتا تھا

سلام اس پر جو امت کے لیے راتوں کو روتا تھا

سلام اس پر جو فرشِ خاک پر جاڑے میں سوتا تھا

سلام اس پر جو دنیا کے لئے رحمت ہی رحمت ہے

سلام اس پر کہ جس کی ذات فخرِ آدمیّت ہے

 سلام اس پر کہ جس نے جھولیاں بھردیں فقیروں کی

 سلام اس پر کہ مشکیں کھول دیں جس نے اسیروں کی

 سلام اس پر کہ جس کی چاند تاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس کی سنگ پاروں نے گواہی دی

سلام اس پر کہ جس نے زندگی کا راز سمجھایا

سلام اس پر کہ جو خود بدر کے میدان میں آیا

سلام اس پر کہ جس کا نام لے کر اس کے شیدائی

 الٹ دیتے ہیں تختِ قیصریت اوجِ دارائی

 سلام اس پر کہ جس کے نام لیوا ہر زمانے میں

 بڑھا دیتے ہیں ٹکڑا سرفروشی کے فسانے میں

 سلام اس ذات پر کہ جس کے یہ پریشاں حال دیوانے

 سنا سکتے ہیں اب بھی خالد و حیدر کے افسانے

 درود اس پر کہ جس کی بزم میں قسمت نہیں سوتی

 درود اس پر کہ جس کے ذکر سے سیری نہیں ہوتی

 درود اس پر کہ جس کے تذکرے ہیں پاک بازوں میں

 درود اس پر کہ جس کا نام لیتے ہیں نمازوں میں

 درود اس پر، جسے شمعِ شبستان ازل کہیے

 درود اس ذات پر فخرِ بنی آدم جسے کہیے

Share:

1/11/26

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

 

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

ابن رشد کے نزدیک سیاسی آزادی

                    ابن رشد نے ایک ایسے دور میں سیاسی آزادی کی فکر پیش کی جب ہر طرف سیاسی تسلط کا دور دورا تھا۔خود ابن رشد کو اپنی فلسفیانہ افکار کی وجہ سے صعوبتوں سے گزرتا پڑا اور جلا وطنی کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں لیکن اسکے باوجود انہوں نے سیاسی آزادی کے نقطۂ نظر کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا۔اور جہاں اس کی فکری بنیادوں کو استوار کیا وہیں اپنی معاصر سیاسیات پر بھی نقد کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ کیسے بعض اوقات سیاسی آزادی محض ایک فریب ہوتی ہے اور حقیقی سیاسی آزادی کیسے اس سے مختلف ہوتی ہے۔اپنے دور کی سیاست پر انتقادی تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے:

جو دور حکومت ہماری سرزمین یعنی قرطبہ پر سن پانچ سو سال کے بعد قائم ہواوہ جمہوری طرزِ حکومت کے قریب قریب تھا۔ سن پانچ سو چالیس کے بعد یہ آمریت میں بدل گیا۔

          ابن رشد جب سیاسی آزادی کے بارے میں بات کرتےہیں  تو اس کے متوازی سماجی آزادی کی بات بھی کر رہے ہوتے ہیں ۔جب ابن رشد آمریت کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس سے طبعی طور پر سماجی آزادی کے در بھی وا ہوتے ہیں۔جب وہ بدترین حکومت میں جمہور کی آواز کو دبانے کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس وقت وہ سیاسی آزادی ہی کی بات کر رہے ہوتے ہیں ۔ابن رشد کے نزدیک آمریت واستبداد کے دور میں اہل علم وفضل ظلم کا شکار ہوتے ہیں:

’’ یہ بھی ظلم ہے کہ عادل ونیک اور تمام اہل فضل ودانش کو ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔‘‘              

سیاسی مساوات

کسی بھی معاشرے میں سیاسی برابری اس بات کا تعین کرتی ہے کہ اس معاشرے میں سیاسی آزادی کس قدر ہے اور نظام حکومت بہتر ہے یا بدتر۔ابن رشدنے جہاں مدینہ فاضلہ یا اچھی حکومت کے اوصاف گنوائے اور اس کی فکری بنیادوں کو واضح کیا،وہیں اس ضمن میں یہ بھی بتایا کہ کوئی بھی مملکت اس وقت تک بہتر مملکت کہلانے کی حق دار نہیں جب تک اس کے شہریوں کو ہر ہر لحاظ سے سیاسی مساوات حاصل نہ ہو۔اگر کوئی مملکت ظلم وستم کرتی ہے اور اپنے شہریوں کو سیاسی مساوات نہیں دیتی یا دولت و جاگیر کی بنا پر یا صنف کی بنیاد پر سیاسی درجہ بندی کرتی ہے تو وہ مملکت واضح طور پر بدترین حکومت ہے۔ابن رشد نے مختلف مثالوں سے اس امر کو واضح کیا کہ جس مملکت میں جس قدر زیادہ یا کم سیاسی مساوات ہوگی،اس مملکت کے بہتر یا بدتر ہونے کی درجہ بندی اسی لحاظ سے کی جائے گی۔اسی ضمن میں ابن رشد نے عورت اور مرد کی سیاسی برابری کی بات کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی عدم موجودگی کی طرف بڑے درد دل کے ساتھ اشارہ کیا اور عورتوں کے پیچھے رہ جانے اور معاشرے میں فقر وافلاس کی افزودنی کا تجزیہ بھی پیش کیا:

ترجمہ:ہمارا موجودہ طرز حیات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم عورتوں کی چھپی ہوئی صلاحتیوں کی طرف دیکھ سکیں۔وہ تو گویا صرف بچے جننے اور بچوں کو دودھ پلانے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور ان کی یہ بے چارگی ان میں سے کسی بڑے کام کوسامنے لانے کی صلاحیت کو چھین لیتی ہے۔اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہماری عورتوں میں سے کوئی بھی دنیاوی لحاظ سے بڑی عورت سامنے نہیں آتی۔مزید برآں یہ کہ ان کی زندگی درختوں کی زندگی کی طرح ہے۔وہ مردوں کی ذمے داری ہیں،اسی وجہ سے ہمارے علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے کیونکہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہے اور وہ اپنا قوت لایموت بھی نہیں کما سکتیں۔

 

 

Share:

1/10/26

نظریہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود | مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ  کے  نظریہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود سے متعلق افکار

فلسفہ وحدۃالوجود: وحدت الوجودیعنی ‘‘ہمہ اوست’’  کہ خداکائنات ہے اورکائنات خدا ، اس سےزیادہ نہ کم۔اسے توحیدعینی بھی کہاجاتاہےاس فلسفےکےبانی شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔

فلسفہ وحدت الشہود:  وحدت الشہود یعنی ‘‘ہمہ ازاوست’’ کہ کائنات خداکاپرتوہے۔ اسے توحیدظلی بھی کہاجاتاہےاس فلسفےکےبانی  مجددالف ثانی شیخ احمدسرہندی ہیں انہوں نے وحدت الوجودمیں اصلاح کی خاطروحدت الشہودکانظریہ پیش کیاتھا۔

شیخ مجددلکھتے ہیں کہ تصوف کی تاریخ میں نظریہ وحدۃالوجود ایک نئی چیز ہے ۔ابن عربی سے قبل اسے کسی نے بھی پیش نہیں کیا تھا۔اس سے قبل صرف توحید شہودی تھی،نہ کہ توحید وجودی(مکتوبات،ج1، م272، ص653)اور اس نظریہ کو انبیاء کرام کے بیان کردہ تصور توحید کے منافی قرار دیتے ہیں۔( مکتوبات،ج1،م272،ص650) فرماتے ہیں کہ یہ اسلام کے بہت سے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔آپؒ اس کی مختلف صوررتیں بیان کی ہیں:

۱: نظریہ بت پرستی کے لیے جواز فراہم کرتا ہے،چوں کہ یہ نظریہ کائنات کو خداکا عین قرار دیتا ہے،اس لیے کائنات کی کسی بھی چیز کی عبادت عین خدا کی عبادت قرار پاتی ہے،بہ شرطیہ کہ اس کی عبادت مظہر خداوندی سمجھ کر کی جائے۔( مکتوبات،ج1،م272،ص1۔650)عام طور پر بت پرست بھی اپنے معبودوں کی عبادت خدا کا مظہر سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔

۲: اس سے انسان کا ہر غلط عقیدہ اور ہر برا فعل اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جاتا ہے(مکتوبات،ج142،853)

۳: انسان کے اختیار اور ارادے کا خاتمہ ہوجاتا ہے(مکتوبات،ج1،م286،ص8۔697)

۴: کچھ ارواح کی ابدیت لازم آتی ہے (مکتوبات،ج1، م286، ص698)

۵: ہر چیز خیر بن جاتی ہے۔کوئی چیز خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو وہ خیر مطلق کا ظہور ہے،اس لیے وہ بھی خیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے قائلین کفروالحاد کو خیر کہتے ہیں۔

وحدۃ الشہود

شیخ مجدد الف ثانی نے وحدۃالوجود کی جگہ وحدۃالشہود کا نظریہ پیش کیا جو آپ کے نزدیک توحید نبوی کے مطابق ہے اور صوفیہ کے مشاہدے (وجود واحد کے شہود)سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔اس کی رو سے صوفی کو اپنے تجربے میں جو وحدت نظر آتی ہے،وہ صرف مشاہدے کی چیز ہے ،نہ کہ کوئی معروضی حقیقت ۔آپ کے فلسفے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات سے بالکل مختلف اور کلیتاً غیر ہے۔کائنات کسی معنی میں خداکے ساتھ متحد نہیں ہے،وجود کے معنی میں تو قطعاً اشتراک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا وجود ایک وجود ہے اور کائنات کا وجود بالکل دوسرا وجود ہے۔( تصوف اور شریعت،1/143) شیخ مجددؒ اس فلسفہ کو مثالوں سےواضح کرتے ہیں کہ جیسےآئینے میں کسی موجودشئےکاعکس گویاایک ’’شئے‘‘ ہےاوراس موجوداوراس کےعکس کےدرمیان کوئی موازنہ نہیں، اسی طرح اللہ تعالی ٰکی ذات اورکائنات کےدرمیان کوئی موازنہ نہیں۔ کسی چیز کاسایہ اس چیزکاعین نہیں، بلکہ اسکی ایک شبیہ اورمثال  ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہے وہ  وجودہویااس کی صفات، و ہ اللہ تعالی ٰکی طرف سےعطاشدہ اورذاتِ باری تعالیٰ کےکمالاتِ ذاتیہ کا پرتَوہے۔اس کی دوسری مثال ایسےہےجیسےسورج اوراس کی روشنی، کہ روشنی کاوجودہرلمحہ سورج ہی کےدم سےہےمگراس کےباوجودروشنی سورج سےعلیحدہ وجودکی حامل ہے۔ گویا آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خالق و مخلوق الگ الگ ہیں ہر چیز خدا نہیں ہے نہ ہی ہر چیز میں خدا ہے  جیسا کہ فلسفہ وحدت الوجود کے حاملین مانتے ہیں ۔

شیخ احمد نے توحید وجودی (وحدۃ الوجود)اور توحید شہودی(وحدۃ الشہود) میں فرق کرتے ہوئے لکھا:’’توحید شہودی صرف ایک ذات کے مشاہدے کا نام ہے،یعنی یہ کہ سالک کے مشاہدے میں ایک ذات کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں توحید وجودی اس اعتقاد کا نام ہے کہ خارج میں صرف ایک ہی ذات کا وجود ہے۔اس کے علاوہ کوئی اور شئے وجود نہیں رکھتی اور یہ کہ تمام اشیا باوجود غیر موجود ہونے کے ایک ہی وجود کے مظاہر اور اشکال ہیں۔‘‘( مکتوبات،ج1،م43،ص148)

آپ وحدۃ الشہود پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:’’ فنا کے حصول کے لیے توحید شہودی ہی کافی ہے اور اس کے ذریعہ بھی وہ اخلاص حاصل ہوتا ہے جو صوفیہ کے سلوک کی غایت ہے۔جب کہ وحدۃ الوجود کے راستے سے سالک کے گم ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ دریا کو چھوڑ کر قطروں کے پیچھے بھاگتے ہیں ، حقیقت کو چھوڑ کر محض سراب اور اظلال کے پیچھے سرگرداں رہتے ہیں۔مجھے اس حقیقت کا ادراک اپنے ذاتی تجربے سے حاصل ہوا ہے۔‘‘)مکتوبات،ج1، م272،ص654،م43،ص147)

 

 

Share:

1/6/26

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی | Mere Khaja Pia


 

تم ہو جانِ علی داتا ہند الولی

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

مولا علی کے نور نظر ہو

پیارے نبی کے لختِ جگر ہو

مجھ پہ عنایت شام و سحر ہو

سیدِ محترم کر دو کر دو کرم

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

جس نے بھی تم کو دکھ میں پکارا

اس کو دیا ہے تم نے سہارا

میرا بھی دامن بھر دو خدارا

والئی بے کساں خواجۂ خواجگاں

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

عثماں کے پیارے دکھیوں کے والی

کوئی بھکاری کوئی سوالی

در سے تمہارے لوٹا نہ خالی

تم نے سب کو دیا صدقۂ چشتیہ

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

یاد جو آئے تمری نگریا

چندا کے جیسی توری اٹریا

تڑپوں میں جیسے جل بِن مچھریا

اب تو کرپا کرو ہاتھ سر پہ دھرو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

 

نصرت ہے تم پر قربان خواجہ

انور کا ہے یہ ارمان خواجہ

کر دو مجاہد پہ احسان خواجہ

اک نظر ڈال دو مشکلیں ٹال دو

میرے خواجہ پیا میرے خواجہ پیا

Share:

1/2/26

دل جو ٹوٹا حضورﷺ یاد آئے | Dil jo toota Huzur Yaad AAi


 

دل جو ٹوٹا حضورﷺ یاد آئے

 اشک نکلا حضورﷺ یاد آئے

 

سوچ کر یہ کے میں اکیلا ہوں

میں جو رویا حضورﷺ یاد آئے

 

نعت سرور میں ڈوب کر جب بھی

خود کو بُھولا حضورﷺ یاد آئے

 

 غرض و غایت کی بھری دنیا سے

جب میں نکلا حضورﷺ یاد آئے

 

وہ خدا کے قریب ہے اتنا

 جس کو جتنا حضورﷺ یاد آئے

 

بے خودی میں جو آنکھ بھر آئی

ضبط بکھرا حضورﷺ یاد آئے

 

فلسفہ عشق حقیقی کیا ہے

 میں جو سمجھا حضورﷺ یاد آئے

 

ابن حیدر حسین کے غم میں

دل جو تڑپا حضورﷺ یاد آئے

 

کون ہر بار بھرم رکھتا ہے

 جب بھی سوچا حضورﷺ یاد آئے

 

 رات سجدہ کیا خدا کیلئے

 سر اٹھایا حضورﷺ یاد آئے

 

 میری آنکھوں نے پہلی بار ضیاءؔ

 کعبہ دیکھا حضورﷺ یاد آئے

 

میں نے سادات کے ہاتھوں کو ضیاءؔ

جب بھی چوما حضورﷺ یاد آئے

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive