Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

1/10/26

نظریہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود | مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ

مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ  کے  نظریہ وحدۃ الشہود اور وحدۃ الوجود سے متعلق افکار

فلسفہ وحدۃالوجود: وحدت الوجودیعنی ‘‘ہمہ اوست’’  کہ خداکائنات ہے اورکائنات خدا ، اس سےزیادہ نہ کم۔اسے توحیدعینی بھی کہاجاتاہےاس فلسفےکےبانی شیخ محی الدین ابن عربی ہیں۔

فلسفہ وحدت الشہود:  وحدت الشہود یعنی ‘‘ہمہ ازاوست’’ کہ کائنات خداکاپرتوہے۔ اسے توحیدظلی بھی کہاجاتاہےاس فلسفےکےبانی  مجددالف ثانی شیخ احمدسرہندی ہیں انہوں نے وحدت الوجودمیں اصلاح کی خاطروحدت الشہودکانظریہ پیش کیاتھا۔

شیخ مجددلکھتے ہیں کہ تصوف کی تاریخ میں نظریہ وحدۃالوجود ایک نئی چیز ہے ۔ابن عربی سے قبل اسے کسی نے بھی پیش نہیں کیا تھا۔اس سے قبل صرف توحید شہودی تھی،نہ کہ توحید وجودی(مکتوبات،ج1، م272، ص653)اور اس نظریہ کو انبیاء کرام کے بیان کردہ تصور توحید کے منافی قرار دیتے ہیں۔( مکتوبات،ج1،م272،ص650) فرماتے ہیں کہ یہ اسلام کے بہت سے بنیادی اصولوں سے متصادم ہے۔آپؒ اس کی مختلف صوررتیں بیان کی ہیں:

۱: نظریہ بت پرستی کے لیے جواز فراہم کرتا ہے،چوں کہ یہ نظریہ کائنات کو خداکا عین قرار دیتا ہے،اس لیے کائنات کی کسی بھی چیز کی عبادت عین خدا کی عبادت قرار پاتی ہے،بہ شرطیہ کہ اس کی عبادت مظہر خداوندی سمجھ کر کی جائے۔( مکتوبات،ج1،م272،ص1۔650)عام طور پر بت پرست بھی اپنے معبودوں کی عبادت خدا کا مظہر سمجھ کر ہی کرتے ہیں۔

۲: اس سے انسان کا ہر غلط عقیدہ اور ہر برا فعل اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب ہو جاتا ہے(مکتوبات،ج142،853)

۳: انسان کے اختیار اور ارادے کا خاتمہ ہوجاتا ہے(مکتوبات،ج1،م286،ص8۔697)

۴: کچھ ارواح کی ابدیت لازم آتی ہے (مکتوبات،ج1، م286، ص698)

۵: ہر چیز خیر بن جاتی ہے۔کوئی چیز خواہ کتنی ہی بری کیوں نہ ہو وہ خیر مطلق کا ظہور ہے،اس لیے وہ بھی خیر ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس کے قائلین کفروالحاد کو خیر کہتے ہیں۔

وحدۃ الشہود

شیخ مجدد الف ثانی نے وحدۃالوجود کی جگہ وحدۃالشہود کا نظریہ پیش کیا جو آپ کے نزدیک توحید نبوی کے مطابق ہے اور صوفیہ کے مشاہدے (وجود واحد کے شہود)سے بھی پوری طرح ہم آہنگ ہے ۔اس کی رو سے صوفی کو اپنے تجربے میں جو وحدت نظر آتی ہے،وہ صرف مشاہدے کی چیز ہے ،نہ کہ کوئی معروضی حقیقت ۔آپ کے فلسفے کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کائنات سے بالکل مختلف اور کلیتاً غیر ہے۔کائنات کسی معنی میں خداکے ساتھ متحد نہیں ہے،وجود کے معنی میں تو قطعاً اشتراک نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کا وجود ایک وجود ہے اور کائنات کا وجود بالکل دوسرا وجود ہے۔( تصوف اور شریعت،1/143) شیخ مجددؒ اس فلسفہ کو مثالوں سےواضح کرتے ہیں کہ جیسےآئینے میں کسی موجودشئےکاعکس گویاایک ’’شئے‘‘ ہےاوراس موجوداوراس کےعکس کےدرمیان کوئی موازنہ نہیں، اسی طرح اللہ تعالی ٰکی ذات اورکائنات کےدرمیان کوئی موازنہ نہیں۔ کسی چیز کاسایہ اس چیزکاعین نہیں، بلکہ اسکی ایک شبیہ اورمثال  ہے۔ کائنات میں جو کچھ ہے وہ  وجودہویااس کی صفات، و ہ اللہ تعالی ٰکی طرف سےعطاشدہ اورذاتِ باری تعالیٰ کےکمالاتِ ذاتیہ کا پرتَوہے۔اس کی دوسری مثال ایسےہےجیسےسورج اوراس کی روشنی، کہ روشنی کاوجودہرلمحہ سورج ہی کےدم سےہےمگراس کےباوجودروشنی سورج سےعلیحدہ وجودکی حامل ہے۔ گویا آپ نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ خالق و مخلوق الگ الگ ہیں ہر چیز خدا نہیں ہے نہ ہی ہر چیز میں خدا ہے  جیسا کہ فلسفہ وحدت الوجود کے حاملین مانتے ہیں ۔

شیخ احمد نے توحید وجودی (وحدۃ الوجود)اور توحید شہودی(وحدۃ الشہود) میں فرق کرتے ہوئے لکھا:’’توحید شہودی صرف ایک ذات کے مشاہدے کا نام ہے،یعنی یہ کہ سالک کے مشاہدے میں ایک ذات کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ہے۔اس کے مقابلے میں توحید وجودی اس اعتقاد کا نام ہے کہ خارج میں صرف ایک ہی ذات کا وجود ہے۔اس کے علاوہ کوئی اور شئے وجود نہیں رکھتی اور یہ کہ تمام اشیا باوجود غیر موجود ہونے کے ایک ہی وجود کے مظاہر اور اشکال ہیں۔‘‘( مکتوبات،ج1،م43،ص148)

آپ وحدۃ الشہود پر زور دیتے ہوئے کہتے ہیں:’’ فنا کے حصول کے لیے توحید شہودی ہی کافی ہے اور اس کے ذریعہ بھی وہ اخلاص حاصل ہوتا ہے جو صوفیہ کے سلوک کی غایت ہے۔جب کہ وحدۃ الوجود کے راستے سے سالک کے گم ہونے کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ایسے لوگ دریا کو چھوڑ کر قطروں کے پیچھے بھاگتے ہیں ، حقیقت کو چھوڑ کر محض سراب اور اظلال کے پیچھے سرگرداں رہتے ہیں۔مجھے اس حقیقت کا ادراک اپنے ذاتی تجربے سے حاصل ہوا ہے۔‘‘)مکتوبات،ج1، م272،ص654،م43،ص147)

 

 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive