Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

1/11/26

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

 

سیاسی آزادی اور سیاسی مساوات کے حوالے سے ابن رشد کے افکار

ابن رشد کے نزدیک سیاسی آزادی

                    ابن رشد نے ایک ایسے دور میں سیاسی آزادی کی فکر پیش کی جب ہر طرف سیاسی تسلط کا دور دورا تھا۔خود ابن رشد کو اپنی فلسفیانہ افکار کی وجہ سے صعوبتوں سے گزرتا پڑا اور جلا وطنی کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں لیکن اسکے باوجود انہوں نے سیاسی آزادی کے نقطۂ نظر کو پوری صراحت کے ساتھ بیان کیا۔اور جہاں اس کی فکری بنیادوں کو استوار کیا وہیں اپنی معاصر سیاسیات پر بھی نقد کیا۔انہوں نے واضح کیا کہ کیسے بعض اوقات سیاسی آزادی محض ایک فریب ہوتی ہے اور حقیقی سیاسی آزادی کیسے اس سے مختلف ہوتی ہے۔اپنے دور کی سیاست پر انتقادی تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے:

جو دور حکومت ہماری سرزمین یعنی قرطبہ پر سن پانچ سو سال کے بعد قائم ہواوہ جمہوری طرزِ حکومت کے قریب قریب تھا۔ سن پانچ سو چالیس کے بعد یہ آمریت میں بدل گیا۔

          ابن رشد جب سیاسی آزادی کے بارے میں بات کرتےہیں  تو اس کے متوازی سماجی آزادی کی بات بھی کر رہے ہوتے ہیں ۔جب ابن رشد آمریت کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس سے طبعی طور پر سماجی آزادی کے در بھی وا ہوتے ہیں۔جب وہ بدترین حکومت میں جمہور کی آواز کو دبانے کے خلاف بات کرتے ہیں  تو اس وقت وہ سیاسی آزادی ہی کی بات کر رہے ہوتے ہیں ۔ابن رشد کے نزدیک آمریت واستبداد کے دور میں اہل علم وفضل ظلم کا شکار ہوتے ہیں:

’’ یہ بھی ظلم ہے کہ عادل ونیک اور تمام اہل فضل ودانش کو ان کے اوصاف حمیدہ کی وجہ سے تکلیفیں پہنچائی جاتی ہیں۔‘‘              

سیاسی مساوات

کسی بھی معاشرے میں سیاسی برابری اس بات کا تعین کرتی ہے کہ اس معاشرے میں سیاسی آزادی کس قدر ہے اور نظام حکومت بہتر ہے یا بدتر۔ابن رشدنے جہاں مدینہ فاضلہ یا اچھی حکومت کے اوصاف گنوائے اور اس کی فکری بنیادوں کو واضح کیا،وہیں اس ضمن میں یہ بھی بتایا کہ کوئی بھی مملکت اس وقت تک بہتر مملکت کہلانے کی حق دار نہیں جب تک اس کے شہریوں کو ہر ہر لحاظ سے سیاسی مساوات حاصل نہ ہو۔اگر کوئی مملکت ظلم وستم کرتی ہے اور اپنے شہریوں کو سیاسی مساوات نہیں دیتی یا دولت و جاگیر کی بنا پر یا صنف کی بنیاد پر سیاسی درجہ بندی کرتی ہے تو وہ مملکت واضح طور پر بدترین حکومت ہے۔ابن رشد نے مختلف مثالوں سے اس امر کو واضح کیا کہ جس مملکت میں جس قدر زیادہ یا کم سیاسی مساوات ہوگی،اس مملکت کے بہتر یا بدتر ہونے کی درجہ بندی اسی لحاظ سے کی جائے گی۔اسی ضمن میں ابن رشد نے عورت اور مرد کی سیاسی برابری کی بات کی اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اس کی عدم موجودگی کی طرف بڑے درد دل کے ساتھ اشارہ کیا اور عورتوں کے پیچھے رہ جانے اور معاشرے میں فقر وافلاس کی افزودنی کا تجزیہ بھی پیش کیا:

ترجمہ:ہمارا موجودہ طرز حیات ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ہم عورتوں کی چھپی ہوئی صلاحتیوں کی طرف دیکھ سکیں۔وہ تو گویا صرف بچے جننے اور بچوں کو دودھ پلانے ہی کے لیے پیدا کی گئی ہیں اور ان کی یہ بے چارگی ان میں سے کسی بڑے کام کوسامنے لانے کی صلاحیت کو چھین لیتی ہے۔اور یہی وہ وجہ ہے کہ ہماری عورتوں میں سے کوئی بھی دنیاوی لحاظ سے بڑی عورت سامنے نہیں آتی۔مزید برآں یہ کہ ان کی زندگی درختوں کی زندگی کی طرح ہے۔وہ مردوں کی ذمے داری ہیں،اسی وجہ سے ہمارے علاقوں میں غربت بہت زیادہ ہے کیونکہ عورتوں کی تعداد مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہے اور وہ اپنا قوت لایموت بھی نہیں کما سکتیں۔

 

 

Share:

0 comments:

Post a Comment

Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Join Forsage

Online People

Blog Archive

Blog Archive