Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

4/11/23

اناجیل کا تعارف what is bible? | Introduction of Bible

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انجیل مقدس (۱۲رمضان المبارک نزول انجیل مقدس کے موقع پرخصوصی تحریر)

 ڈاکٹر ساجد خاکوانی (اسلام آباد،پاکستان)

 drsajidkhakwani@gmail.com

حضرت عیسیٰ علیہ  السلام

اللہ تعالی کی شان ہے کہ اس قادرمطلق نے حضرت آدم علیہ السلام کوبغیرماں باپ کے پیداکیا،حضرت اماں حواؑ کو بغیروالدہ کے پیداکیا اورحضرت مسیح علیہ السلام کوبغیرباپ کے پیداکیا۔حضرت مسیح علیہ السلام کوپچیس (۲۵)سال کی عمرمیں نبوت ملی  اور انجیل مقدس آپ پرنازل کی گئی۔آپ حضرت مریم علیہ السلام کے بیٹے تھے اوربنی اسرائیل کی طرف اللہ تعالی کے ہاں سے مبعوث کیے گئے تھے۔

معجزات:

آپ علیہ السلام سے متعددمعجزات منسوب ہیں،سب سے پہلاتویہی معجزہ کی آپ علیہ السلام نے بغیرباپ کے وجودپایا،آپ علیہ السلام نے چنددن کی عمرمیں پنگھوڑے کے اندرکلام کیااور اپنی والدہ محترمہ کی پاکدامنی اوراپنی نبوت کااعلان بھی کیا۔آپ مادرزادنابیناکو اللہ تعالی کے حکم سے بینائی عطاکرتے تھے،کوڑھ کے مریض کو شفایاب کرتے تھے،مردوں کوزندہ کردیتے تھے اورمائدہ نامی دسترخوان بھی آپ علیہ السلام کے معجزات میں سے تھاجس پرایک وقت میں ہزارہالوگ کھاناکھاتے تھے لیکن دسترخوان چلتارہتاتھا اورآپ علیہ السلام پرندہ بناکراس میں پھونک مارتے تووہ اللہ تعالی کے حکم سے زندہ ہوکراڑنے لگتاتھا۔

حضرت عیسی علیہ السلام کوچالیس (۴۰)سال کی عمرمیں آسمانون پراٹھالیاگیاتھا،اب وہ قرب قیامت میں اذن الہی سے ایک بارپھرتشریف لائیں گے اوراپنی طبعی عمرپوری کریں گے۔

بائبل کا تعارف:

بائیبل کے بڑے بڑے دوحصے ہیں عہدنامہ قدیم اورعہدنامہ جدید۔پہلے حصے میں انجیل سے گزشتہ کتب ہیں اورعہدنامہ جدید دراصل انجیلوں پرہی مشتمل ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام کے بعدان کے بہت سارے شاگردوں نے آپ علیہ السلام کے حالات زندگی تحریرکیے ۔ان شاگردوں کو مسیحی کتب میں "رسول" اورقرآن مجید نے "حواری"کے نام دیے ہیں۔چونکہ حضرت مسیح علیہ السلام  سے ایسی کوئی روایت منسوب نہیں ہے کہ انہوں نے انجیل مقدس کی املاکروائی ہو اس لیے ان شاگردوں کی تصنیفات کواناجیل کانام دیاگیا جب کہ لفظ "انجیل" کالفظی مطلب"خوشخبری"ہے۔یہ نفوس قدسیہ تعلیمات مسیح علیہ السلام کے زندہ رہنے کاباعث بنے اور اللہ تعالی کے وعدوں کے مطابق آج بہشتوں میں خداوندخداکی میزبانی سے لطف اندوزہورہے ہوں گے۔تین صدیوں تک پیروان مسیح علیہ السلام دنیاکے آلام و مصائب کے سامنے صبرکاپہاڑ بن کرکھڑے رہے۔پھرجب مسیحیت کو سرکاری مذہب کادرجہ ملاتو شاہی فرمان کے مطابق چاراناجیل کاانتخاب کرکے توانہیں بائبل مقدس کاحصہ بنادیاگیااورباقی کتب اناجیل کو تلف کردیاگیا۔اس وقت تک چونکہ قلمی نسخے ہوتے تھے اوران کی نقول کارواج نہیں تھااس لیے جو کتب تلف ہوئیں وہ ہمیشہ کے لیے نابودہو چکیں۔باقی رہ جانے والی  چارانجیلیں حضرت مسیح علیہ السلام کے چارمقدس شاگردوں کی تحریریں ہیں اورانہیں کے ناموں سے منسوب ہیں ،جن میں انہوں نے اپنے نبی کے حالات زندگی اوراوران پرنازل ہونے والی آسمانی الہامی کےکتاب "انجیل"کے متعددمندرجات واحکامات شامل کیے تھے۔

متی کی انجیل

مرقس کی انجیل

لوقاکی انجیل

 یوحناکی انجیل

یہ چارکتب عہدنامہ جدیدکاحصہ ہیں اور "پولوس"کے جوکہ پہلے یہودی تھااورپھرایمان لے آیا،اس کے چودہ خطوط بھی عہدنامہ جدیدکے آخرمیں درج کردیے گئے ہیں۔پہلی تین انجیلوں میں کافی حدتک اتفاقات موجودہیں اس لیے ان تینوں کو"اناجیل متوافقہ"بھی کہتے ہیں جب کہ چوتھی انجیل اور باقی تینوں اناجیل کے بیانات میں بہت تضادنظرآتاہے۔تاریخ میں گاہے گاہے ان کے علاوہ بھی اناجیل دریافت ہوتی رہیں کیونکہ بادشاہ کے حکم پر جب ان چاراناجیل  کے علاوہ باقی اناجیل تلف کی جانے لگیں تو بعض لوگوں نے انہیں مٹی میں،زمین میں یاقبروں میں یادیگرخفیہ مقامات پر دبادیایاچھپادیا۔بعدمیں کھدائیوں کے دوران ہاتھ سے لکھے ہوئے یہ نسخے دریافت ہوتے رہے

اجیل برنباس کا تعارف :

انہیں میں ایک نسخہ "برناباس"کی انجیل بھی ہے۔برناباس بھی حضرت مسیح علیہ السلام  کے بہت قریبی شاگرداور اللہ تعالی اوراپنے نبی کے مقربین میں سے تھے۔باقی چاروں انجیلوں میں ان کابکثرت ذکرملتاہے،یہ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ ساتھ رہتے تھے اورآپ علیہ السلام ان پر بہت مہربان اورشفیق تھے ۔برناباس کی انجیل کا یہ نسخہ  ماضی قریب میں دریافت ہوااور تقریباََدنیاکی تمام بڑی بڑی زبانوں میں ترجمہ ہوکر پھیل گیا۔اس انجیل میں آپﷺ کی آمدکی خبردی گئی ہے اورختم نبوت کی بہت ساری نشانیوں کابھی تفصیل سے ذکر موجودہے۔

انجیل مقدس آسمان سے نازل ہونے والی اللہ تعالی کی سچی کتاب ہے جوسچے نبی پر نازل ہوئی،محتاط اندازے کے مطابق یہ کتاب آج بھی شرک سے پاک ہے۔انجیل سے منسوب جوعقائداسلام سے ٹکراتے ہیں وہ اصل میں تو ان چودہ خطوط میں درج ہیں جو "پولوس"کی تحریر ہیں  اوربعدکے کسی زمانے میں عہدنامہ جدیدمیں داخل کردیے گئے تھے۔جب کہ پولوس نے اہل ایمان پر بے پناہ ظلم ڈھائے تھے اورحضرت مسیح علیہ السلام کے مقدس ساتھیوں کے ساتھ اکثراس کاجھگڑابھی رہتاتھا۔ اناجیل جس  زبان میں لکھی گئیں  وہ آج نابودہے۔ان کتب کے متعددزبانوں میں ترجمے ہوتے رہے اور ترجمے سے موادکی اصلیت کافی حدتک حقیقت سے دورہوجاتی ہے۔پھرجب بہت سی زبانوں میں ترجمے ہوکریہ  کتب موجودہ حالت تک پہنچیں توان میں سوفیصداصلیت اورحقیقت کاباقی رہ جاناممکن نہیں خاصٍ طورپر جب ترجمے کے ساتھ اصل متن موجودہی نہ ہوتو حقیقت بالکل ہی مشکوک ہوجاتی ہے۔تاہم ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ قرآن مجیداوراناجیل مقدسہ ایک ہی سوتے سے پھوٹنے والے چشمے ہیں۔لیکن چونکہ اناجیل سمیت کل گزشتہ کتب آج اپنی اصلی حالت میں موجودنہیں ہیں اس لیے انسانوں کی ہدایت کے لیے ایک ایسی کتاب کی ضرورت ہے جواصل شکل میں موجودہواوروہ تحریف و تبدیلی اورکسی طرح کے انسانی تصرف سے پاک ہواوراس کی اصل زبان بھی زندہ ہو۔یہ کتاب صرف قرآن مجیدہے جس میں تمام نبیوں کے عقائدکامجموعہ اور کل کتب کے احکامات کاخلاصہ آج تک اپنی اصلی حالت میں موجودہے اورتاقیامت موجودرہے گا۔کل انسانیت خاص طورپراورہرہرفردعام طورپر اگرہدایت خداوندی پرچلناچاہتے ہیں اوردوزخ سے محفوظ رہ کر جنت میں داخل ہوناچاہتے ہیں توصرف  قرآن مجیداس کاضامن ہے۔

 

Share:

4/10/23

مسجد اقصی | بیت المقدس فلسطین | قبلہ اول | سرزمین شام | سر زمین انببیا | میدان حشر کہاں ہو گا

💝*فضائل مسجد اقصیٰ*

💝 تین اہم مساجد میں سے ایک:

اس مسجد کی ایک فضیلت اور خصوصیت یہ ہے کہ یہ مسجد اُن تین مساجد میں شامل ہے جن کی طرف سفر کرنے کی بطورخاص اجازت دی گئی ہے اور اس کی طرف سفر کرنے کو عبادت کا درجہ دیا گیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: تین مساجد کے علاوہ کسی اور مسجد کی طرف سفر نہ کیا جائے(اور وہ تین مساجد یہ ہیں): مسجد حرام ، مسجد نبوی، مسجد اقصیٰ ‘‘ (بخاری،١١٨٩) یعنی: اگر کوئی انسان عبادت اور تقرب الی اللہ کی نیت سے کسی مسجد کی طرف سفر کرکے جانا چاہتا ہے تو باقی مساجد ثواب کے اعتبار سے برابر ہیں اس لیے ان مساجد میں کسی کو کسی پر ترجیح حاصل نہیں لیکن یہ تین مساجد اس حکم سے مستثنیٰ ہیں، اس لیے ان کی طرف سفر کرنا جائز ہے۔

مسلمانوں کا قبلہ اول تھا جب تک مسلمانوں کے لیے کعبہ شریف کا قبلہ مقرر نہیں کیا گیا تھا اُس وقت تک مسلمانوں کے لیے قبلہ یہی ’’مسجد اقصیٰ‘‘ تھی، اس طرح یہ مسلمانوں کا پہلا قبلہ تھی، اس بنیاد پر اس کی جو فضیلت اور مسلمانوں کے دل میں اس کا جو مقام ہونا چاہیے وہ بالکل واضح ہے۔ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے تقریباً سولہ یا سترہ مہینوں تک نبی کریمﷺ کے ساتھ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نمازیں پڑھیں پھر ہمارا قبلہ کعبہ کو مقرر کردیا گیا (بخاری: 3392)

زمین پر قائم ہونے والی دوسری مسجد: مسجد اقصی کی فضیلت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس زمین پر بیت اللہ کے بعد جو مسجد قائم ہوئی وہ یہی مسجد اقصی ہے۔ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! زمین پر سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟ تو آپ نے جواب میں فرمایا: مسجد حرام… میں نے پھر پوچھا: اس کے بعد؟ (یعنی مسجد حرام کے بعدکون سی مسجد بنائی گئی؟) تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا: مسجد اقصیٰ‘‘… (بخاری: 3344)

مبارک سرزمین سے نسبت: مسجد اقصی کی ایک فضیلت یہ ہے کہ یہ مسجد جس سرزمین پر واقع ہے اللہ تعالی نے اس سرزمین کو مبارک قراردیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: سبحان الذی اسریٰ بعبدہ لیلا من المسجد الحرام الی المسجد الاقصی الذی بارکنا حولہ (الاسرائ:۱) ترجمہ: پاک ہے وہ ذات جس نے راتوں رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصی تک سیر کرائی جس کے ارد گرد ہم نے برکت رکھی ہے بعض اہل علم فرماتے ہیں: اگر اس مسجد کے لیے اس قرآنی فضیلت کے علاوہ اور کوئی فضیلت نہ ہوتی تب بھی یہی ایک فضیلت اس کی عظمت و بزرگی اور شان کے لیے کافی تھی۔

سرزمین محشر: مسجد اقصی کی ایک فضیلت یہ بھی ہے کہ یہ جس سرزمین پر واقع ہے وہ سرزمین حشر کی جگہ ہے۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! ہمیں بیت المقدس کے بارے میں بتلائیے؟ تو آپﷺ نے فرمایا: وہ سرزمین حشر کی جگہ ہے… ( ابن ماجہ: ۱٤٠٧)

معراج رسولﷺ کی ایک منزل: مسجد اقصیٰ کی ایک یہ فضیلت بھی قابل ذکرہے کہ جس وقت اللہ تعالی نے خاتم النبیینﷺ کو عظیم اعزاز معراج کی صورت میں عطاء فرمایا، جو ایک عظیم معجزہ بھی ہے، تو سفر میں ایک اہم منزل پرپڑاؤ تھاجو آپ نے مسجد اقصیٰ میں فرمایا، پھریہی وہ جگہ ہے جہاں سے آپ کو آسمان کی بلندیوں کی طرف لےجایا گیا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث ملاحظہ فرمائیں۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: ’’میرے پاس براق لایا گیا، یہ ایک سفیدرنگت کی لمبی سواری تھی ، گدھے سے کچھ بڑی اورخچرسے کچھ چھوٹی، اس کا ایک قدم انتہائے نظر کی مسافت پر پڑتا تھا۔ نبی کریمﷺ فرماتے ہیں: میں اُس پر سوار ہوا، یہاں تک کہ میں بیت المقدس پہنچ گیا، وہاں پہنچ کر اس سواری کواس حلقے سے باندھ دیا جس حلقے سے دیگر انبیاء کرام علیہم السلام (اپنی سواریاں)باندھتے ہیں، پھر میں مسجد میں داخل ہوا، اس میں دورکعات ادا کیں، پھر باہر نکل آیا، حضرت جبرئیل علیہ السلام دودھ اورشراب کا ایک الگ الگ برتن میرے پاس لائے، میں نے ان میں سے دودھ والا برتن لے لیا،اس پر حضرت جبرئیل علیہ السلام نے فرمایا: آپ نے فطرت ( کے عین مطابق چیز کو) پسند فرمایا ہے۔ اس کے بعد وہ ہمیں آسمان کی طرف لے کر چل پڑے‘‘…(مسلم:162)

نماز کے اجر و ثواب میں کئی گنا اضافہ: اس مسجد کی ایک اہم فضیلت یہ بھی ہے کہ اسلام کے اہم ترین رکن نماز کااجر وثواب اس مسجد میں کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس مسجد کا مقام ومرتبہ دیگر مساجد کے مقابلے میں ایک امتیازی شان رکھتا ہے۔ حضرت ابوذررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:ایک مرتبہ ہم رسول اللہ ﷺ کے پاس بیٹھے اس موضوع پر گفتگو کررہے تھے کہ آیارسول اللہﷺ کی مسجد (یعنی مسجد نبوی) کی فضیلت زیادہ ہے یا بیت المقدس والی مسجد(یعنی مسجد اقصیٰ) کی؟چنانچہ یہ باتیں سن کر رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’میری مسجد میں پڑھی جانے والی ایک نماز اُس مسجد(مسجد اقصیٰ) کی چار نمازوں سے افضل ہے۔ اور وہ نماز کی جگہ تو بہت ہی خوب ہے!۔ عنقریب ایسا زمانہ آئے گا کہ لوگوں کو اگرگھوڑے کی ایک لگام کے برابر بھی کوئی ایسی جگہ مل جائے کہ جس سے وہ مسجد اقصیٰ کی زیارت کرسکیں تو ان کے نزدیک یہ زیارت پوری دنیا سے بہتر ہوگی‘‘۔ (حاکم:4/509) اللہ اکبر! یہ حدیث نبی کریمﷺ کی نبوت کی نشانیوں میں سے اور پیشین گوئیوں میں سے ہے، اس میں آپ نے اس بات کی طرف اشارہ فرمادیا کہ ایک وہ وقت آئے گا جب مسلمانوں کے دلوں میں اس مسجد کی قدروقیمت بہت بڑھ جائے گی اور اس مسجد کے بارے میں دشمنان اسلام کی عداوتیں بہت بڑھ جائیں گی، ان کی عداوتوں کی وجہ سے مسلمان اس مسجد کے لیے ترسیں گہ حتیٰ کہ انسان یہ سوچے گا کہ کاش اگر مجھے گھوڑے کی لگام جتنی کو ئی ایسی جگہ بھی مل جاتی جہاں سے میں مسجد اقصیٰ کی دیکھ لیتا تو وہ اس خوشی کو دنیا بھر کی خوشیوں سے بہتر سمجھے گا!!

تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی اجتماع گاہ: ایک طویل حدیث میں، جسے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ نے راویت کیا ہے کہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اِسی مسجد میں سب انبیاء علیہم السلام کی ایک نمازمیں امامت کرائی، حدیث کے الفاظ کچھ اس طرح ہیں : نمازکا وقت آیا تومیں نے ان کی امامت کرائی ( صحیح مسلم: 172 )

دجال سے محفوظ جگہ: مسجد اقصیٰ ایک ایسی پاکیزہ سرزمین میں واقع ہے، جہاں ’’کانا دجال‘‘ بھی داخل نہیں ہوسکے گا، جیسا کہ حدیث میں فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے : ’’ وہ دجال ساری زمین گھومے گا مگر حرم اوربیت المقدس میں داخل نہیں ہوسکے گا ( مسنداحمد : 19665 )

مسجد اقصیٰ میں نماز گناہوں کی معافی کا سبب: سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ :جب سلیمان بن داؤد علیہ السلام بیت المقدس کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے تین دعائیں کیں: (۱)یا اللہ!میرے فیصلے تیرے فیصلے کے مطابق (درست)ہوں۔ (۲)یا اللہ!مجھے ایسی حکومت عطا فرما کہ میرے بعد کسی کو حکومت نہ ملے (۳)یااللہ! جو آدمی اس مسجد (بیت المقدس)میں صرف نماز پڑھنے کے ارادے سے آئے وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہوجائے جیسے وہ اس دن گناہوں سے پاک تھا جب اس کی ماں نے اسے پیدا کیا تھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے سلیمان علیہ السلام کی پہلی دودعائیں تو قبول فرمالی ہیں(کہ ان کا ذکر توقرآن مجید میں موجود ہے)مجھے امید ہے کہ ان کی تیسری دعا بھی قبول کرلی گئی ہوگی۔(سن، ابن ماجہ :۱۴۰۸)

فتنوں سے امن اور فتح کی بشارت:  عوف بن مالک رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا: قیامت کی چھ نشانیاں شمار کرلو،ایک میری موت اور پھر بیت المقدس کی فتح. (صحیح البخاری،٣١٧٦) سرزمین بیت المقدس اور قرب قیامت قیامت سے قبل فتنوں کے ادوار میں ان علاقوں خصوصاً شام (بیت المقدس) میں رہائش اختیار کرنے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ (جامع ترمذی:۲۲۱۷) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری والدہ نے خواب دیکھاتھا کہ ان سے ایک نور نکلا جس سے شام کے محلات روشن ہوگئے۔ (مستدرک حاکم:3544، ابن حبان:6404) قیامت کے قریب جب فتنے بکثرت ہونگے تو ایمان اور اہل ایمان (زیادہ تر) شام کے علاقوں میں ہی ہونگے۔ (مستدرک حاکم:۸٤١٣) شام کیلئے خوشخبری ہے اللہ کے فرشتوں نے اس پر(حفاظت کیلئے) اپنے پرپھلارکھے ہونگے۔ (جامع ترمذی،۳۹۵٤) فتنوں کے زمانے میں اہل اسلام کی مختلف علاقوں میں مختلف جماعتیں اور لشکرہونگے اس دور میں آپﷺ نے شام اور اہل شام کے لشکر کو اختیار کرنے کی ترغیب دلائی کیونکہ اس دور میں ان کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نےلی ہوگی۔(یہ مہدی اور عیسیٰ علیہ السلام کا لشکر ہوگا ) ابو داود ،2483) آخری وقت زمانہ قرب قیامت میں خلافت اسلامیہ کامرکز ومحور ارض مقدسہ ہوگی۔( ابو داود،2533) قیامت سے قبل مدینہ منورہ()ویران ہوجائے گا اوربیت المقدس آباد ہوگا تو یہ زمانہ بڑی لڑائیوں اور فتنوں کا ہوگا، اس کے بعد دجال کا خروج ہوگا۔ (ابو داود،٤٦٩٤) دجال کا فتنہ اس امت کابہت بڑا فتنہ ہے اس سے ہر نبی نے اپنی قوم کو ڈرایا ہے (بخاری:3337) مگر دجال چارمقامات پر داخل نہیں ہو سکے گا (۱)مکۃ المکرمہ (۲)مدینہ منورہ (۳)بیت المقدس ،مسجد الاقصیٰ ( ٤)طور۔ (مسند احمد:۲۳٤٨٣) حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول بھی ان ہی علاقوں دمشق کے مشرق میں سفید مینار کے پاس ہوگا۔ ( ابن ماجہ :4075) حضرت عیسیٰ علیہ السلام دجال کو’’باب لد‘‘ کے پاس قتل کردیں گے۔ (صحیح مسلم:2937) باب لد فلسطین کے علاقے میں بیت المقدس کے قریب ہے، پر جس اسرائیل غاصب نے قبضہ کیا ہوا ہے فتنہ یاجوج وماجوج کی ہلاکت اور انتہاء بھی بیت المقدس کے قریب’’جبل الخمر‘‘ کے پا س ہوگی۔(صحیح مسلم:۲۹۳۷) قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہوگی کہ جب تک یہودیوں کو صفحہ ہستی سے مٹا نہ دیاجائے، قیامت سے پہلے یہ وقت ضرور آئے گاکہ مسلمان یہودیوں کو چن چن کر قتل کریں گے حتی کہ اگر کوئی یہودی کسی درخت یا پتھر کے پیچھے چھپے گا تو وہ بھی بول اٹھے گا کہ اے مسلمان! میرے پیچھے یہودی چھپاہوا ہے آکر اسے قتل کردو۔ (صحیح بخاری:2926،3593،صحیح مسلم:۲۲،۲۹۲۱)

تحریر: قاری ساجد حسین معینی 0347-2379338

 

Share:

4/2/23

صالحین کی صحبت | سفارش اور مقربین کی نسبت | اولیا اللہ سے نسبت | اصلاح عقائد | تفہیم آیات و احادیث مبارکہ | لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰى | وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ

سفارش اور صالحین و مقربین کو اللہ تعالی کی محبت اور قرب کا ذریعہ سمجھنے سے متعلق عقیدہ صحیحہ کی وضاحت

درج بالا عنوان کے تحت تین آیات کی وضاحت کی جارہی ہے جو عموماً بیان کر کے مشرکین سے مناسبت اور مطابقت پیدا کی جاتی ہے اور اولیاء اللہ و مقربین کےساتھ تعلق پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہیں۔

مختصراً تین آیات درج کی جارہی ہے:

1: اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ-وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ۬ؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ(سورۃ الزمر :3) سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے اور وہ جنہوں نے اس کے سوا اور مددگار بنارکھے ہیں (وہ کہتے ہیں :) ہم تو ان بتوں کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں تاکہ یہ ہمیں اللہ کے زیادہ نزدیک کردیں ۔ اللہ ان کے درمیان اس بات میں فیصلہ کردے گا جس میں یہ اختلاف کررہے ہیں بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں دیتا جو جھوٹا، بڑا ناشکرا ہو۔

2: أُولَـئِكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إِلَى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبِّكَ كَانَ مَحْذُورًاO(سورۃ بنی اسرائیل:57) وہ مقبول بندے جن کی یہ کافر عبادت کرتے ہیں وہ خود اپنے رب کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں کہ ان میں کون زیادہ مقرب ہے ۔وہ اللہ کی رحمت کی امید رکھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تمہارے رب کا عذاب ڈرنے کی چیز ہے۔

3: وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَضُرُّهُمْ وَ لَا یَنْفَعُهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ هٰۤؤُلَآءِ شُفَعَآؤُنَا عِنْدَ اللّٰهِؕ-قُلْ اَتُنَبِّــٴُـوْنَ اللّٰهَ بِمَا لَا یَعْلَمُ فِی السَّمٰوٰتِ وَ لَا فِی الْاَرْضِؕ-سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ(سورۃ یونس :18) اور (یہ مشرک) اللہ کے سوا ایسی چیزکی عبادت کرتے ہیں جو نہ انہیں کوئی نقصان دے سکے اور نہ نفع دے سکے اوریہ کہتے ہیں کہ یہ (بت) اللہ کی بارگاہ میں ہمارے سفارشی ہیں ۔ تم فرماؤ: کیا تم اللہ کو وہ بات بتاتے ہو جو اس کے علم میں نہ آسمانوں میں ہے اورنہ زمین میں ۔ وہ ان کے شرک سے پاک اور بلندو بالا ہے۔

اسی طرح آپ یہ آیات بھی پڑھیں

سورۃ البقرہ: 165-167 | سورۃ الانعام :70 ، 94 ، 64 | سورۃ یونس : 27-30 | سورۃ ابراہیم : 21-22 | سورۃ النحل : 86-87 | سورۃ الکھف : 52 | سورۃ مریم: 81-82 | سورۃ المومنون : 101-103 | سورۃ الفرفقان : 117-119

تفہیم آیات: ان آیات میں لوگوں کو صرف یہ بات نظر آئی کہ وہ بتوں کو(حضرت عزیر علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصویریں اور مورتیاں بنا کر) اللہ کےساتھ قرب کا ذریعہ سمجھتے تھے مگر علمی جہالت کا عالم دیکھیں اور علمی بد دیانتی دیکھیں کہ یہ جملہ بیان ہی نہیں کیا جاتا کہ وہ ان کی عبادت کرتے تھے  یعنی بتوں کو سجدہ کرتے تھے اور ان کی عبادت کرتے تھے، ان بتوں اور مظاہر قدت (چاند ،سورج، ستارے)کو معبود سمجھتے تھے،  ان کو اللہ تعالی کی بیٹیاں اور اولاد سمجھتے تھے(سورۃ الصفت:150-157) (سورۃ الزخرف: 19)، نعوذ باللہ ان کی مدد کے بغیر یعنی ان خود ساختہ بتوں کی مدد کے بغیر کائنات میں کچھ بھی نہیں ہوتایہ عقیدہ رکھتے تھے،اپنی قربانی اور نذر و نیاز کا رخ مطلقاً بتوں کی طرف کرتے تھے(سورۃ الانعام :136) ، اسی طرح نصاری عیسی علیہ السلام اور عزیر علیہ السلام کو نعوذ باللہ اللہ تعالی کا بیٹا اور تثلیثی عقائد کے تحت خدا سمجھتے تھے(سورۃ المائدہ:72-73)، مگر دوسری طرف اولیاءاللہ اور نیک لوگوں کو اللہ تعالی کا نا شریک سمجھا جاتا ہے، نا ان کی عبادت کی جاتی ہے، نا انہیں اللہ تعالی کی اولاد (نعوذ باللہ)کہا جاتا ہے، نہ ان کے سامنے سجدہ کیا جاتا ہے، ۔ تو اول الذکر کا حکم اٹھا کر ایمان والوں ، خالص توحید پرست اور صرف ایک اللہ تعالی کو معبود ِ حقیقی ماننےوالوں پر عائد کرنا علمی بد دیانتی اور علمی جہالت(مخصوص ترکیب) کی عکاسی ہے۔

 (جہاں بات قیامت کے دن سفارش اور مدد کی ہے تو یاد رہے مشرکین تو قیامت کے دن کے قائل ہی نہیں تھے اس طرح ان سے مماثلت ممکن ہی نہیں۔)

اب یہ کہنا کہ کافر بھی اسی طرح کا عقیدہ رکھتے تھے اور یہ لوگ بھی اولیا ءاللہ کے حوالے سے ایسا عقیدہ رکھتے ہیں تو یاد رکھیں یہ جو مشابہت پیدا کر کے موازنہ کیا جا رہا ہے یہ لوگوں کی اپنی اختراع ہے اور اسلامی تعلیمات کے تقاضے کے منافی ہے۔ اور دوسری بات یہ کہ اگر اس طرح من گھڑت مطابقت پیدا کرنی ہے تو پھر بات بہت دور چلی جائے گی اور بہت سے ایسے معاملات پیدا ہو جائیں گے کہ کسی سے کوئی جواب نہیں بن پائے گا سوائے یہ کہ اسلام نے ان کی اجازت دی ہے بلکل اسی طرح کہ کفر و شرک کے معاملے میں مدد اور سفارش کی نفی کی گئی ہے اور صاحب ایمان لوگوں کو اجازت دی گئی ہے۔ اور ان متقین اور اللہ تعالی کا ذکر کرنے والوں کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ان کے ساتھ اپنا تعلق مضبوط کرو ان کے ساتھ جڑے رہو آیات ملاحظہ ہوں:

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ-تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا(سورۃ الکھف:28)اور اپنی جان کو ان لوگوں کے ساتھ مانوس رکھ جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے ہیں اور تیری آنکھیں دنیوی زندگی کی زینت چاہتے ہوئے انہیں چھوڑ کر اوروں پر نہ پڑیں اور اس کی بات نہ مان جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا۔

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ كُوْنُوْا مَعَ الصّٰدِقِیْنَ(سورۃ التوبہ: 119)اے ایمان والو اللہ سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ ہوجاؤ۔

تفہیم آیات: ان آیات میں اللہ تعالی کے مقرب اور صالحین کے تعلق مضبوط کرنے کی تعلیم دی گئ ہے ۔ اگر ان کا قرب اور تعلق فائدہ نہیں دیتا لا یعنی ، فضول اور گمراہی کا سبب ہے تو قرآن مجید میں اس کا حکم کیوں دیا گیا ہے۔ یقیناً ان مقربین کا ساتھ اور قرب فائدہ دیتا ہے ایمان پر استقامت اور حفاظت کا ذریعہ ہے۔ان کے قرب سے اللہ تعالی کی یاد قائم رہتی ہے اور غفلت سے انسان بچا رہتا ہے، گناہوں سے بچا رہتا ہے، ہدایت کا نور ملتا ہے، معرفتِ الہی نصیب ہوتی ہے، اسی قرب کا اثر ایک حدیث پاک میں سمجھیں :

عَنْ حَنْظَلَةَ الْأُسَيِّدِيِّ قَالَ وَكَانَ مِنْ كُتَّابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقِيَنِي أَبُو بَكْرٍ فَقَالَ كَيْفَ أَنْتَ يَا حَنْظَلَةُ قَالَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ قَالَ سُبْحَانَ اللَّهِ مَا تَقُولُ قَالَ قُلْتُ نَكُونُ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ فَنَسِينَا كَثِيرًا قَالَ أَبُو بَكْرٍ فَوَاللَّهِ إِنَّا لَنَلْقَى مِثْلَ هَذَا فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبُو بَكْرٍ حَتَّى دَخَلْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْتُ نَافَقَ حَنْظَلَةُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا ذَاكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَكُونُ عِنْدَكَ تُذَكِّرُنَا بِالنَّارِ وَالْجَنَّةِ حَتَّى كَأَنَّا رَأْيُ عَيْنٍ فَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ عَافَسْنَا الْأَزْوَاجَ وَالْأَوْلَادَ وَالضَّيْعَاتِ نَسِينَا كَثِيرًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنْ لَوْ تَدُومُونَ عَلَى مَا تَكُونُونَ عِنْدِي وَفِي الذِّكْرِ لَصَافَحَتْكُمْ الْمَلَائِكَةُ عَلَى فُرُشِكُمْ وَفِي طُرُقِكُمْ وَلَكِنْ يَا حَنْظَلَةُ سَاعَةً وَسَاعَةً ثَلَاثَ مَرَّاتٍ (صحیح مسلم:2750)

ترجمہ: جعفر بن سلیمان نے سعید بن ایاس جریری سے ، انہوں نے ابوعثمان نہدی سے اور انہوں نے حضرت حنظلہ ( بن ربیع ) اسیدی رضی اللہ عنہ سے روایت کی ، انہوں نے کہا ۔۔۔ اور وہ رسول اللہ ﷺ کے کاتبوں میں سے تھے ۔۔۔ کہا : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مجھ سے ملے اور دریافت کیا : حنظلہ ! آپ کیسے ہیں ؟ میں نے کہا : حنظلہ منافق ہو گیا ہے ، ( حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ) کہا : سبحان اللہ ! تم کیا کہہ رہے ہو ؟ میں نے کہا : ہم رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں حتی کہ ایسے لگتا ہے گویا ہم ( انہیں ) آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، پھر جب ہم رسول اللہ ﷺ کے ہاں سے نکلتے ہیں تو بیویوں ، بچوں اور کھیتی باڑی ( اور دوسرے کام کاج ) کو سنبھالنے میں لگ جاتے ہیں اور بہت سی چیزیں بھول بھلا جاتے ہیں ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : اللہ کی قسم ! یہی کچھ ہمیں بھی پیش آتا ہے ، پھر میں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ چل پڑے اور رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ۔ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! حنظلہ منافق ہو گیا ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :’’ وہ کیا معاملہ ہے ؟‘‘ میں نے عرض کی : اللہ کے رسول ! ہم آپ کے پاس حاضر ہوتے ہیں ، آپ ہمیں جنت اور دوزخ کی یاد دلاتے ہیں ، تو حالت یہ ہوتی ہے گویا ہم ( جنت اور دوزخ کو ) اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں اور جب ہم آپ کے ہاں سے باہر نکلتے ہیں تو بیویوں ، بچوں اور کام کاج کی دیکھ بھال میں لگ جاتے ہیں ۔۔۔ ہم بہت کچھ بھول جاتے ہیں ۔۔۔ اس پر رسول اللہ ﷺ نے تین بار ارشاد فرمایا :’’ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے ! اگر تم ہمیشہ اسی کیفیت میں رہو جس طرح میرے پاس ہوتے ہو اور ذکر میں لگے رہو تو تمہارے بچھونوں پر اور تمہارے راستوں میں فرشتے ( آ کر ) تمہارے ساتھ مصافحے کریں ، لیکن اے حنظلہ ! کوئی گھڑی کسی طرح ہوتی ہے اور کوئی گھڑی کسی ( اور ) طرح ۔

تفہیم حدیث: جہاں اس حدیث پاک میں بے شمار اسباق اورحکمتیں ہیں وہاں قرب ، صحبت اور نسبت کا درس بھی موجود ہے کہ جب آپ کے پاس بیٹھے ہوتے ہیں کیفیت کچھ اور ہوتی ہے اور اٹھ کر جاتے ہیں تو کیفیت کچھ اور ہوتی ہے۔ اسی مناسبت سے اگر دیکھیں تو ان صالحین اور مقربین کی نسبت اور قربت فائدہ دیتی ہے اور یاد الہی ، معرفت الہی اور فکر آخرت کا باعث ہے۔

قیامت کے دن نیک لوگ اور جنھیں اللہ چاہے گا اور جن سے اللہ پاک راضی ہو گا وہ سفارش کریں گےاور لوگوں کی نجات کا ذریعہ و وسیلہ بنیں گے۔ سفارش کے معاملے میں  باذنہ  یا باذن ربہ  والی آیات  ملاحظہ کریں اور آیات کے بعد صحیح بخاری کتاب الایمان کی ایک صحیح حدیث پاک جس کا انکار ممکن نہیں ہے، ملاحظہ کریں۔

وہ آیات جن میں قیامت کے دن کی سختی اور معاملات کو بیان کیا گیا ہے ارشاد فرمایا : وَ اتَّقُوْا یَوْمًا لَّا تَجْزِیْ نَفْسٌ عَنْ نَّفْسٍ شَیْــٴًـا وَّ لَا یُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَّ لَا یُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَّ لَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ(سورۃ البقرۃ :48)اور اس دن سے ڈروجس دن کوئی جان کسی دوسرے کی طرف سے بدلہ نہ دے گی اور نہ کوئی سفارش مانی جائے گی اور نہ اس سے کوئی معاوضہ لیا جائے گا اور نہ ان کی مددکی جائے گی۔

تفہیم آیت: اس آیت میں شفاعت کی نفی کی گئی ہے اور اس جیسی دوسری کچھ آیات کو لے کر لوگ اولیاء اللہ اور اللہ تعالی کے محبوب بندوں کے حوالے سے لوگوں کے نظریات  وعقائد اور احساسات سے کھلواڑ کرتے ہیں معصوم لوگوں کو بہکانے کی کوشش کرتے ہیں کہ قیامت کے دن کوئی کسی کی شفاعت نہیں کر سکے گا اور نہ کوئی سفارش کر سکے گا اور اسی طرح یہ آیات بھی بیان کرتے ہیں کہ نفسا نفسی کا عالم ہو گا کوئی کسی کا نہیں ہو گا :

فَاِذَا جَآءَتِ الصَّآخَّةُ٘(۳۳)یَوْمَ یَفِرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِیْهِۙ(۳۴)وَ اُمِّهٖ وَ اَبِیْهِۙ(۳۵)وَ صَاحِبَتِهٖ وَ بَنِیْهِؕ(۳۶)لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ یَوْمَىٕذٍ شَاْنٌ یُّغْنِیْهِؕ(۳۷)(سورۃ عبس :33-37) پھر جب وہ کان پھاڑنے والی چنگھاڑآئے گی ۔اس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا ۔اور اپنی ماں اور اپنے باپ۔اوراپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔ان میں سے ہر شخص کو اس دن ایک ایسی فکر ہوگی جو اسے (دوسروں سے) بے پروا کردے گی۔

تفہیم آیت : یاد رہے کہ حکم صرف بے ایمان اور کافروں کے لیے ہے  اور برے اعمال کرنے والوں کے لیے جبکہ نیک لوگ اور صاحبِ ایمان لوگوں کے لیے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍؕ-كُلُّ امْرِئٍۭ بِمَا كَسَبَ رَهِیْنٌ (سورۃ الطور :21) اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس) اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم نے ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملا دیا اور اُن (والدین) کے عمل میں کچھ کمی نہ کی، ہر آدمی اپنے اعمال میں گِروی ہے۔

تفہیم آیت : یعنی ایمان والوں کا حال کچھ الگ ہو گا اور ان کے لیے قیامت کے دن کوئی مشکل اور پریشانی نہیں ہو گی۔وہ ایمان والے نورہی نور میں ہوں گے  ارشاد باری تعالی ہے:

یَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِیْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتِ یَسْعٰى نُوْرُهُمْ بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَ بِاَیْمَانِهِمْ بُشْرٰىكُمُ الْیَوْمَ جَنّٰتٌ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاؕ-ذٰلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(سورۃ الحدید :12) جس دن تم ایمان والے مردوں اور ایمان والی عورتوں کو دیکھو گے کہ اُن کا نور ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے ان سے فرمایا جارہا ہے کہ آج تمہاری سب سے زیادہ خوشی کی بات وہ جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہیں تم اُن میں ہمیشہ ر ہو یہی بڑی کامیابی ہے

شفاعت کے معاملے میں جہاں نفی کی گئی ہے وہاں مطلق قیامت کے دن کی ہولناکی کو بیان کیا گیا ہے اور اعمال کی سختی کو بیان کیا گیا ہے قرآن مجید میں کئی مقامات پر سفارش کے حوالے سے اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا: آیات ملاحظہ کریں۔

1: یَوْمَىٕذٍ لَّا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ رَضِیَ لَهٗ قَوْلًا (سورۃ طہ: 109) اس دن کسی کی شفاعت کام نہ دے گی سوائے اس کے جسے رحمٰن نے اجازت دیدی ہو اور اس کی بات پسند فرمائی ہو۔

2: وَ لَا تَنْفَعُ الشَّفَاعَةُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا لِمَنْ اَذِنَ لَهٗؕ-حَتّٰۤى اِذَا فُزِّعَ عَنْ قُلُوْبِهِمْ قَالُوْا مَا ذَاۙ-قَالَ رَبُّكُمْؕ-قَالُوا الْحَقَّۚ-وَ هُوَ الْعَلِیُّ الْكَبِیْرُ (سورۃ سبا: 23) اور اللہ کے پاس شفاعت کام نہیں دیتی مگر (اس کی) جس کے لیے وہ اجازت دیدے یہاں تک کہ جب ان کے دلوں سے گھبراہٹ دور فرمادی جاتی ہے تووہ ایک دوسرے سے کہتے ہیں : تمہارے رب نے کیا فرمایا ہے؟تو وہ کہتے ہیں : حق فرمایا ہے اور وہی بلندی والا، بڑائی والاہے۔

3: )یَوْمَ یَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىٕكَةُ صَفًّا لَّا یَتَكَلَّمُوْنَ اِلَّا مَنْ اَذِنَ لَهُ الرَّحْمٰنُ وَ قَالَ صَوَابًا (سورۃ النبا :38) جس دن جبریل اور سب فرشتے صفیں بنائے کھڑے ہوں گے۔ کوئی نہ بول سکے گا مگر وہی جسے رحمٰن نے اجازت دی ہو اور اس نے ٹھیک بات کہی ہو

4: مَنْ ذَا الَّذِیْ یَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖؕ (سورۃ البقرۃ: 255) کون ہے جو اس کے ہاں اس کی اجازت کے بغیرسفارش کرے؟

5: مَا مِنْ شَفِیْعٍ اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اِذْنِهٖؕ-ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبُّكُمْ فَاعْبُدُوْهُؕ-اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ (سورۃ یونس: 3) اس کی اجازت کے بعد ہی کوئی سفارشی ہوسکتا ہے۔ یہ اللہ تمہارا رب ہے تو تم اس کی عبادت کرو تو کیا تم سمجھتے نہیں ؟

6: وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِی السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِیْ شَفَاعَتُهُمْ شَیْــٴًـا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ اَنْ یَّاْذَنَ اللّٰهُ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَرْضٰى(سورۃ النجم :26)اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دیدے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے۔

تفہیم آیت: درج بالا آیات میں واضح الفاظ میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کوئی قیامت کے دن اللہ تعالی کے سامنے کوئی کسی کی سفارش نہیں کر سکے گا مگر جس کو اللہ پاک اجازت دے گا جس سے وہ راضی ہو گا جس کو وہ چاہے گا وہ بات بھی کرے گا اور سفارش بھی کرے  گا۔ ‘‘ اِلَّا بِاِذْنِہٖ ’’   کے الفاظ پہلے جملے میں بیان کردہ نفی کا اثبات ہیں یعنی جو پہلے انکار کیا گیا ہےمطلق انکار ہے مگر پھر لفظ ‘‘ اِلَّا ’’کے ساتھ فرمایا جن کو اجازت ہو گی وہ سفارش کریں گے۔

 

یہ جو رٹ لگاتے ہیں کہ سفارش نہیں کر سکیں گے کچھ بول نہیں سکیں گے وہ صرف کافر اور مشرک ہیں انہیں اجازت نہیں ہو گی۔ جیسے ارشاد فرمایا:

وَ یَوْمَ نَبْعَثُ مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِیْدًا ثُمَّ لَا یُؤْذَنُ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ لَا هُمْ یُسْتَعْتَبُوْنَ (سورۃ النحل :84) اور یاد کروجس دن ہم ہر امت سے ایک گواہ اٹھائیں گے پھر کافروں کو اجازت نہیں دی جائے گی اور نہ ان سے رجوع کرنا،طلب کیا جائے گا۔

وَ بَرَزُوْا لِلّٰهِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَكْبَرُوْۤا اِنَّا كُنَّا لَكُمْ تَبَعًا فَهَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اللّٰهِ مِنْ شَیْءٍؕ-قَالُوْا لَوْ هَدٰىنَا اللّٰهُ لَهَدَیْنٰكُمْؕ-سَوَآءٌ عَلَیْنَاۤ اَجَزِعْنَاۤ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ (سورۃ ابراھیم : 21) اورسب اللہ کے حضور اعلانیہ حاضر ہوں گے تو جو کمزور تھے بڑے لوگوں سے کہیں گے : ہم تمہارے تابع تھے توکیا تم اللہ کے عذاب میں سے کچھ ہم سے دور کرسکتے ہو۔وہ کہیں گے: اگر اللہ ہمیں ہدایت دیتا تو ہم تمہیں بھی ہدایت دیدیتے ۔ (اب) ہم پر برابر ہے کہ بے قراری کا اظہار کریں یا صبرکریں ۔ہمارے لئے کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ۔

هٰذَا یَوْمُ لَا یَنْطِقُوْنَۙ(۳۵)وَ لَا یُؤْذَنُ لَهُمْ فَیَعْتَذِرُوْنَ(۳۶)وَیْلٌ یَّوْمَىٕذٍ لِّلْمُكَذِّبِیْنَ(۳۷)(سورۃ المرسلات :35-37)یہ وہ دن ہے جس میں وہ بول نہ سکیں گے۔اور نہ انہیں اجازت ملے گی کہ معذرت کریں ۔اس دن جھٹلانے والوں کیلئے خرابی ہے۔

تفہیم آیت: درج بالا آیات میں مشرکین اور کفار اور بد عقیدہ لوگوں کے متعلق فرمایا کہ انہیں اجازت نہیں ہو گی کہ اللہ تعالی کے سامنے بات کریں یا سفارش کریں یا ان کے بارے میں کسی کی سفارش کو قبول نہیں کیا جائے گا ۔

کون لوگ ہیں جن کو اللہ تعالی قیامت کے دن اذن دے گا اور وہ لوگوں کی سفارش کریں گے۔ آئیں بخاری شریف کی حدیث مبارکہ پڑھیں یقیناً کوئی اس حدیث مبارکہ کا انکار نہیں کر سکے گا اس حدیث مبارکہ میں نسبت ، تعلق ، قرب، ساتھ رہنے ، نجات اور بخشش جیسے عقائد کی وضاحت ملتی ہے پڑھیں سمجھیں اور اپنی اصلاح کریں اور: طویل حدیث مبارکہ ہے اس میں سے یہ مطلوبہ حصہ مذکور ہے اگر مکمل حدیث پاک پڑھنی ہے تو حدیث نمبر موجود ہے آپ حدیث کی کتاب سے مطالعہ کر سکتے ہیں۔

فَمَا أَنْتُمْ بِأَشَدَّ لِي مُنَاشَدَةً فِي الْحَقِّ قَدْ تَبَيَّنَ لَكُمْ مِنَ الْمُؤْمِنِ يَوْمَئِذٍ لِلْجَبَّارِ ، وَإِذَا رَأَوْا أَنَّهُمْ قَدْ نَجَوْا فِي إِخْوَانِهِمْ ، يَقُولُونَ : رَبَّنَا إِخْوَانُنَا كَانُوا يُصَلُّونَ مَعَنَا وَيَصُومُونَ مَعَنَا وَيَعْمَلُونَ مَعَنَا ، فَيَقُولُ اللَّهُ تَعَالَى : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ دِينَارٍ مِنْ إِيمَانٍ فَأَخْرِجُوهُ ، وَيُحَرِّمُ اللَّهُ صُوَرَهُمْ عَلَى النَّارِ ، فَيَأْتُونَهُمْ وَبَعْضُهُمْ قَدْ غَابَ فِي النَّارِ إِلَى قَدَمِهِ وَإِلَى أَنْصَافِ سَاقَيْهِ ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا ، ثُمَّ يَعُودُونَ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ نِصْفِ دِينَارٍ ، فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا ، ثُمَّ يَعُودُونَ ، فَيَقُولُ : اذْهَبُوا فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِي قَلْبِهِ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ ، فَأَخْرِجُوهُ ، فَيُخْرِجُونَ مَنْ عَرَفُوا ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ : فَإِنْ لَمْ تُصَدِّقُونِي ، فَاقْرَءُوا : إِنَّ اللَّهَ لا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا سورة النساء آية 40 فَيَشْفَعُ النَّبِيُّونَ وَالْمَلَائِكَةُ وَالْمُؤْمِنُونَ (صحیح بخاری:7439)

ترجمہ : تم لوگ آج کے دن اپنا حق لینے کے لیے جتنا تقاضا اور مطالبہ مجھ سے کرتے ہو اس سے زیادہ مسلمان لوگ اللہ سے تقاضا اور مطالبہ کریں گے اور جب وہ دیکھیں گے کہ اپنے بھائیوں میں سے انہیں نجات ملی ہے تو وہ کہیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہمارے بھائی بھی ہمارے ساتھ نماز پڑھتے تھے اور ہمارے ساتھ روزے رکھتے تھے اور ہمارے ساتھ دوسرے ( نیک ) اعمال کرتے تھے ( ان کو بھی دوزخ سے نجات فرما ) چنانچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ایک اشرفی کے برابر بھی ایمان پاؤ اسے دوزخ سے نکال لو اور اللہ ان کے چہروں کو دوزخ پر حرام کر دے گا ۔ چنانچہ وہ آئیں گے اور دیکھیں گے کہ بعض کا تو جہنم میں قدم اور آدھی پنڈلی جلی ہوئی ہے ۔ چنانچہ جنہیں وہ پہچانیں گے انہیں دوزخ سے نکالیں گے ، پھر واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ ان سے فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں آدھی اشرفی کے برابر بھی ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ ۔ چنانچہ جن کو وہ پہچانتے ہوں گے ان کو نکالیں گے ۔ پھر وہ واپس آئیں گے اور اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جاؤ اور جس کے دل میں ذرہ برابر ایمان ہو اسے بھی نکال لاؤ ۔ چنانچہ پہچانے جانے والوں کو نکالیں گے ۔ ابوسعید رضی اللہ عنہ نے اس پر کہا کہ اگر تم میری تصدیق نہیں کرتے تو یہ آیت پڑھو ” اللہ تعالیٰ ذرہ برابر بھی کسی پر ظلم نہیں کرتا ۔“ اگر نیکی ہے تو اسے بڑھاتا ہے ۔ پھر انبیاء اور مومنین اور فرشتے شفاعت کریں گے۔

تفہیم حدیث: درج بالا حدیث پاک کا مفہوم اور مطلب الفاظ میں واضح ہے اور سادہ ترجمہ بھی واضح ہے۔ اس حدیث پاک کو بار بار پڑھیں اور سمجھیں۔وہ نیک لوگ  اللہ تعالی سے کس انداز میں مطالبہ اور تقاضا کریں گے آپ الفاظ کو دیکھیں اللہ پاک ان سے کس طرح محبت کا معاملہ فرمائے گا!۔  نیک لوگ جو کامیاب ہوں گے وہ اپنے ساتھ رہنے والوں کی سفارش کریں گےاور دوزخ سے نکال نکال کر جنت میں بھیجیں گے۔ اب وہ دوزخ میں جانے والے دوزخ میں کیوں گئے تھے یقیناً اپنے ان کے اعمال کمزور تھے اور نیک اعمال کم تھے تو دوزخ میں پہنچے مگر نیک لوگوں کا قرب ، ساتھ ، نسبت  اور محبت ان کی نجات کا ذریعہ بنی۔

بے شک بے شک بے شک

اللہ تعالی گناہ معاف کرنے والا ہے اللہ تعالی سننے والا ہے اسے سننے ، دیکھنے ، قبول کرنے ، معاف کرنے میں کسی وسیلے اور ذریعے کی قطعاً حاجت اور ضرورت نہیں اور نا وہ محتاج ہے۔ وہ مطلقا سنتا ہے جانتا ہے دیکھتا ، جو چاہتا ہے وہ کرتا ہے۔ اور سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔  لوگوں کو اللہ تعالی کے ساتھ تعلق مضبوط بنانے کی تعلیم دینا ایک عنوان اور موضوع ہے اور لوگوں کو اللہ تعالی کے نیک بندوں اور صالحین کی نسبت اور محبت کے رشتے سے روکنا اور اس کے خلاف قرآن مجید میں مشرکین کے لیے نازل کردہ آیات بیان کرنا یہ ہر گز درست عمل نہیں ہے۔ لوگوں کو اللہ تعالی کےساتھ تعلق مضبوط بنانے کا درس ضرور دیں مگر اولیاء اللہ اور مقربین باری تعالی کے فضائل کا ہر گز انکار اور تنقیص نہ کریں۔

یاد رکھیں! قبروں کو سجدہ کرنا ، جاہل اور خلاف شریعت اعمال کرنے والے کو اپنا مرشد بنانا ، نشئی ، چرسی بھنگی کو اللہ والا سمجھنا ، ڈھول باجے اور شیطانی خرافات کو دین کا حصہ سمجھنا اور ہدایت کا ذریعہ سمجھنا  ، ان عقائد و نظریات کا اہلِ سنت  و جماعت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ جہاں یہ اعمال ہو رہے ہوں یقیناً نصیحت کی جائی سمجھایا جائے مگر ان کو بنیاد بنا کر اہلِ سنت و جماعت کے عقائد پر ہرزہ سرائی نہ کی جائے۔ الحمد للہ تمام عقائد ِ اہلِ سنت و جماعت قرآن و سنت کے تقاضوں کے مطابق ہیں ۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ

تحقیق و تدوین : محمد سہیل عارف معینی

 

Share:

3/30/23

سجناں نے مل لئے نے کنارے جےدور دے | sajna ne mal lay ny lyrics | کلام محمد علی سجنن | تعزیتی کلام


 

سجناں نے مل لئے نے کنارے  جےدور دے

زندگی گزار لاں گے سہارے حضور دے

 

چنگی نبھا کے ٹر گئیوں دلدار جانیاں

رب بخشے تینوں صدقے پیارے حضور دے

 

میں کوئی نواں تے نئیں گداگر حضور دا

بیٹھا ہاں میں ازل توں دوارے حضور دے

 

نسبت سجن جنہاں دی نبی نال ہو گئی

ویکھن گے اوہ حشر نوں نظارے حضور دے

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive