Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

1/5/22

درویش کی زندگی | درویش کیا ہے؟ | صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی

 

سفر ایک ہی ہے۔۔ اپنے اندر کا سفر

دین وہ ہے جس کی روشنی میں ہم اپنی زندگی کو ترتیب دیتے ہیں ، آسان لفظوں میں یوں سمجھیے کہ آپ کی زندگی دین ( ضابطہ حیات) ہے نہ کہ وہ عقیدہ جس کا آپ دعوی کرتے ہیں۔

 

درویش اپنی زندگی کو کیلنڈر کی نذر نہیں کرتے، اُنکے لیے زندگی ہست و نیست ( ہونے اور نہ ہونے) کے مابین درمیانی وقفہ کا نام ہے۔

اُن دوستوں کے لیے جو زندگی کو کیلنڈروں میں اُلجھائے ماضی کی یاد اور مستقبل کے اندیشوں میں گزرا نے کے عادی ہو چکے ہیں۔ صرف اتنا سا مشورہ کہ آپ اپنے مستقبل کو واضح اور دانشمندی سے تبھی ترتیب دے سکتے ہیں، جب اُس راستے کو جان لیں گے جس پر چلنے کے باعث اس حال تک پہنچے ہیں جس سے آپ مطمئن نہیں۔

اپنی ساکھ سے زیادہ اپنے کردار کی فکر کریں۔ آپ کا کردار وہی ہے جو آپ واقعی ہیں اور آپ کی ساکھ صرف وہ ہے جو دوسرے آپ کے متعلق سوچتے ہیں۔ ایک “ کانا” شخص حقیقت میں “کانا “ ہی رہتا ہے چاہے اندھوں کے معاشرے میں اُس شخص کی ساکھ ایک “ بینا” شخص ہی کی کیوں نہ ہو۔

جو کچھ آپ صرف اپنے لیے کرتے ہیں وہ آپ کے ساتھ ہی مر جاتا ہے۔ جو کچھ آپ دوسروں کے لیے کرتے ہیں چاہے وہ اچھا ہے یا برا وہ باقی رہتا ہے لافانی رہتا ہے جب تک کہ آپ اُس کی جزا کو نہ پا لیں یا سزا کو نہ بھگت لیں۔

درویش یہ نہیں سمجھتے کہ غلطی نہ کرنا بہت بڑا کمال ہے، بلکہ اُن کا ماننا ہے کہ انسان کی بڑی خوبی اس میں پنہاں ہے کہ وہ اپنی غلطیوں کو درست کر سکتا ہے اور مسلسل اپنے آپ کو ایک نیا آدمی بناتا ہے۔

آپ کے وجود اور آپ کی زندگی کو ایک موثر واعظ ہونا چاہیے، صرف خطبات پر انحصار کھبی بھی تبلیغ کا باعث نہیں بنتا ۔

انسان سُنتا ہے اور بھول جاتا ہے

انسان دیکھتا ہے اور اُسے یاد رہتا ہے

انسان کرتا ہے اور اُسے سمجھ جاتا ہے

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی   زید مجدہ


Share:

صحیح جگہ پر ہی تمہاری صحیح قدر ہو گی | Golden Words

باپ کی بیٹے کو نصیحت:

اپنی وفات سے قبل، ایک والد نے اپنے بیٹے سے کہا،" میری یہ گھڑی میرے والد نے مجھے دی تھی۔ جو کہ اب 200 سال پرانی ہو چکی ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ یہ میں تمھیں دوں کسی سنار کے پاس اس لے جاؤ اور ان سے کہو کہ میں اسے بیچنا چاہتا ہوں۔ پھر دیکھو وہ اس کی کیا قیمت لگاتا ہے۔"


بیٹا سنار کے پاس گھڑی لے گیا۔ واپس آ کر اس نے اپنے والد کو بتایا کہ سنار اسکے 25 ہزار قیمت لگا رہا ہے، کیونکہ یہ بہت پرانی ہے۔

والد نے کہا کہ اب گروی رکھنے والے کے پاس جاؤ۔ بیٹا گروی رکھنے والوں کی دکان سے واپس آیا اور بتایا کہ گروی رکھنے والے اس کے 15 سو قیمت لگا رہے ہیں کیونکہ یہ بہت زیادہ استعمال شدہ ہے۔

اس پر والد نے بیٹے سے کہا کہ اب عجائب گھر جاؤ اور انہیں یہ گھڑی دکھاؤ۔ وہ عجائب گھر سے واپس آیا اور پرجوش انداز میں والد کو بتایا کہ عجائب گھر کے مہتمم نے اس گھڑی کے 8 کروڑ قیمت لگائی ہے کیونکہ یہ بہت نایاب ہے اور وہ اسے اپنے مجموعہ میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

اس پر والد نے کہا،" میں تمہیں صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ صحیح جگہ پر ہی تمھاری صحیح قدر ہو گی۔ اگر تم غلط جگہ پر

بے قدری کئے جاؤ تو غصہ مت ہونا۔ صرف وہی لوگ جو تمھاری قدر پہچانتے ہیں وہی تمھیں دل سے داد دینے والے بھی ہوں گے۔ اسلئے اپنی قدر پہچانو، اور ایسی جگہ پر مت رکنا جہاں تمھاری قدر پہچاننے والا نہیں-

 

Share:

12/12/21

اجمیر شریف میں نعتیہ مشاعرہ | جگر مراد آبادی | اک رند ہے اور مدحتِ سلطانِ مدینہ

جب ایک شرابی نے نعت رسول مقبول پڑھی

 

اجمیر شریف میں نعتیہ مشاعرہ تھا،

فہرست بنانے والوں کے سامنے یہ مشکل تھی کہ جگر مرادآبادی صاحب کو اس مشاعرے میں کیسے بلایا جائے ،

وہ کھلے رند تھے اورنعتیہ مشاعرے میں ان کی شرکت ممکن نہیں تھی۔ اگر فہرست میں ان کا نام نہ رکھا جائے تو پھر مشاعرہ ہی کیا ہوا۔ منتظمین کے درمیان سخت اختلاف پیداہوگیا۔ کچھ ان کے حق میں تھے اور کچھ خلاف۔

دراصل جگرؔ کا معاملہ تھا ہی بڑا اختلافی۔

بڑے بڑے شیوخ اور عارف باللہ اس کی شراب نوشی کے باوجود ان سے محبت کرتے تھے۔ انہیں گناہ گار سمجھتے تھے لیکن لائق اصلاح۔شریعت کے سختی سے پابند علماء حضرات بھی ان سے نفرت کرنے کے بجائے افسوس کرتے تھے کہ ہائے کیسا اچھا آدمی کس برائی کا شکار ہے۔عوام کے لیے وہ ایک اچھے شاعر تھے لیکن تھے شرابی۔ تمام رعایتوں کے باوجود علماء حضرات بھی اور شاید عوام بھی یہ اجازت نہیں دے سکتے تھے کہ وہ نعتیہ مشاعرے میں شریک ہوں۔

آخر کار بہت کچھ سوچنے کے بعد منتظمین مشاعرہ نے فیصلہ کیا کہ جگر ؔ کو مدعو کیا جانا چاہیے۔یہ اتنا جرات مندانہ فیصلہ تھا کہ جگرؔ کی عزت کا اس سے بڑا اعتراف نہیں ہوسکتا تھا۔

جگرؔ کو مدعو کیا گیا تووہ سر سے پاؤں تک کانپ گئے۔

’’میں گنہگار، رند، سیہ کار، بد بخت اور نعتیہ مشاعرہ! نہیں صاحب نہیں‘‘ ۔

اب منتظمین کے سامنے یہ مسئلہ تھا کہ جگر صاحب ؔکو تیار کیسے کیا جائے۔ ان کی تو آنکھوں سے آنسو اور ہونٹوں سے انکار رواں تھا۔نعتیہ شاعر حمید صدیقی نے انہیں آمادہ کرنا چاہا، ان کے مربی نواب علی حسن طاہر نے کوشش کی لیکن وہ کسی صورت تیار نہیں ہوتے تھے، بالآخر اصغرؔ گونڈوی نے حکم دیا اور وہ چپ ہوگئے۔

سرہانے بوتل رکھی تھی، اسے کہیں چھپادیا، دوستوں سے کہہ دیا کہ کوئی ان کے سامنے شراب کا نام تک نہ لے۔ دل پر کوئی خنجر سے لکیر سی کھینچتا تھا، وہ بے ساختہ شراب کی طرف دوڑتے تھے مگر پھر رک جاتے تھے،

لیکن مجھے نعت لکھنی ہے ،اگر شراب کا ایک قطرہ بھی حلق سے اتراتو کس زبان سے اپنے آقا کی مدح لکھوں گا۔ یہ موقع ملا ہے تو مجھے اسے کھونانہیں چاہیے،

شاید یہ میری بخشش کا آغاز ہو۔ شاید اسی بہانے میری اصلاح ہوجائے، شاید اللّه کو مجھ پر ترس آجائے!

ایک دن گزرا، دو دن گزر گئے، وہ سخت اذیت میں تھے۔ نعت کے مضمون سوچتے تھے اور غزل کہنے لگتے تھے، سوچتے رہے، لکھتے رہے، کاٹتے رہے، لکھے ہوئے کو کاٹ کاٹ کر تھکتے رہے، آخر ایک دن نعت کا مطلع ہوگیا۔

پھر ایک شعر ہوا، پھر تو جیسے بارش انوار ہوگئی۔ نعت مکمل ہوئی تو انہوں نے سجدۂ شکر ادا کیا۔ مشاعرے کے لیے اس طرح روانہ ہوئے جیسے حج کو جارہے ہوں۔ کونین کی دولت ان کے پاس ہو۔ جیسے آج انہیں شہرت کی سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچنا ہو۔

انہوں نے کئی دن سے شراب نہیں پی تھی، لیکن حلق خشک نہیں تھا۔ادھر تو یہ حال تھا دوسری طرف مشاعرہ گاہ کے باہر اور شہرکے چوراہوں پر احتجاجی پوسٹر لگ گئے تھے کہ ایک شرابی سے نعت کیوں پڑھوائی جارہی ہے۔ لوگ بپھرے ہوئے تھے۔

اندیشہ تھا کہ جگرصاحب ؔ کو کوئی نقصان نہ پہنچ جائے یہ خطرہ بھی تھاکہ لوگ اسٹیشن پر جمع ہوکر نعرے بازی نہ کریں۔ ان حالات کو دیکھتے ہوئے منتظمین نے جگر کی آمد کو خفیہ رکھا تھا۔ وہ کئی دن پہلے اجمیر شریف پہنچ چکے تھے جب کہ لوگ سمجھ رہے تھے کہ مشاعرے والے دن آئیں گے۔

جگر اؔپنے خلاف ہونے والی ان کارروائیوں کو خود دیکھ رہے تھے اور مسکرا رہے تھے۔

 

کہاں پھر یہ مستی، کہاں ایسی ہستی

جگرؔ کی جگر تک ہی مے خواریاں ہیں

 

آخر مشاعرے کی رات آگئی۔جگر کو بڑی حفاظت کے ساتھ مشاعرے میں پہنچا دیا گیا۔

اسٹیج سے آواز ابھری’’رئیس المتغزلین حضرت جگر مرادآبادی!‘‘ ۔۔۔۔۔۔

اس اعلان کے ساتھ ہی ایک شور بلند ہوا، جگر نے بڑے تحمل کے ساتھ مجمع کی طرف دیکھا… اور محبت بھرے لہجے میں گویاں ہوئے۔۔

’’آپ لوگ مجھے ہُوٹ کررہے ہیں یا نعت رسول پاک کو،جس کے پڑھنے کی سعادت مجھے ملنے والی ہے اور آپ سننے کی سعادت سے محروم ہونا چاہتے ہیں‘‘۔

شور کو جیسے سانپ سونگھ گیا۔ بس یہی وہ وقفہ تھا جب جگر کے ٹوٹے ہوئے دل سے یہ صدا نکلی ہے…

 

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ

ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

 

جوجہاں تھا ساکت ہوگیا۔ یہ معلوم ہوتا تھا جیسے اس کی زبان سے شعر ادا ہورہا ہے اور قبولیت کا پروانہ عطا ہورہا ہے۔

نعت کیا تھی گناہگار کے دل سے نکلی ہوئی آہ تھی،خواہشِ پناہ تھی، آنسوؤں کی سبیل تھی، بخشش کا خزینہ تھی۔وہ خود رو رہے تھے اور سب کو رلا رہے تھے، دل نرم ہوگئے، اختلاف ختم ہوگئے، رحمت عالم کا قصیدہ تھا، بھلا غصے کی کھیتی کیونکر ہری رہتی۔

’’یہ نعت اس شخص نے کہی نہیں ہے، اس سے کہلوائی گئی ہے‘‘۔مشاعرے کے بعد سب کی زبان پر یہی بات تھی.نعت یہ تھی..

 

اک رند ہے اور مدحتِ سلطان مدینہ

ہاں کوئی نظر رحمتِ سلطان مدینہ

 

دامان نظر تنگ و فراوانیِ جلوہ

اے طلعتِ حق طلعتِ سلطانِ مدینہ

 

اے خاکِ مدینہ تری گلیوں کے تصدق

تو خلد ہے تو جنت ِسلطان مدینہ

 

اس طرح کہ ہر سانس ہو مصروفِ عبادت

دیکھوں میں درِ دولتِ سلطانِ مدینہ

 

اک ننگِ غمِ عشق بھی ہے منتظرِ دید

صدقے ترے اے صورتِ سلطان مدینہ

 

کونین کا غم یادِ خدا ور شفاعت

دولت ہے یہی دولتِ سلطان مدینہ

 

ظاہر میں غریب الغربا پھر بھی

یہ عالم سطوتِ سلطان مدینہ

 

اس امت عاصی سے نہ منہ پھیر خدایا

نازک ہے بہت غیرتِ سلطان مدینہ

 

کچھ ہم کو نہیں کام جگر اور کسی سے

کافی ہے بس اک نسبت ِسلطان مدینہ

 

اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے

 

Share:

احمد کہ احد میں کیا سمجھوں، یہ کون ہے میم کی چلمن میں | ساجد چشتی مہروی | پوربی زبان میں نعتیہ کلام


 

احمد کہ احد میں کیا سمجھوں، یہ کون ہے میم کی چلمن میں

حیرت کی ہے جا سایہ بھی نہیں، لگتا بھی ہے انساں دیکھن میں

 

تورے نام سے سب سنسار ہوا، تورے نام سے بیڑا پار ہوا

اللہ  بھی ہے تورے گن گائے، قرآن آیا توری شانن میں

 

لولاک کی پگڑی سر سوہے، طہ سہرا ماتھے پہ سجے

والیل کی زلفیں کاندھوں پر، مازاغ کا کجرا نینن میں

 

توہے یاد کرت مورا انگ انگ ہے، مورا بھاگ سہاگ تورے سنگ ہے

اک بار جو آ مورے آنگن میں، ہو جاؤں سہاگن سکھین میں

 

طیبہ کے سجیلے سانوریا، للہ مجھے اب درش دکھا

بن درشن مر نہ جاؤں کہیں، مورا جیون ہے تورے درشن میں

 

موہے برہا پیا کی مار گئی ، پیا جیت گئے میں ہار گئی

میں ہار کے بھی بلہار گئی ایسو پریم بسا مورے تن من میں


میں نیچ کمینی اور پاپن، ماہ راج توری اونچی شانن

توری لاج پہ مان کرت ہوں میں گن کوئی نہیں ہے بے گن میں


موہے دیس عرب من بھاوت ہے، موہے یاد مدینہ آوت ہے

بے زر بےپر کی کوک سنو، ساجد کو بلا لو چرنن  میں


ساجد چشتی مہروی

Share:

11/23/21

پھر نظر میں وہی کوچہ وہی بازار پھرے || پھر تصور میں درِ سیدِ ابرارﷺ پھرے || سید ساجد چشتی مہروی

 

پھر نظر میں وہی کوچہ وہی بازار پھرے

پھر تصور میں درِ سیدِ ابرارﷺ پھرے

 

عمر گزری ہے اسی ایک تمنا میں شہا ﷺ

اب تو اک چشمِ کرم سوئے گناہگار پھرے

 

فردِ عصیاں وہ قیامت میں کبھی پیش نہ ہوا

جس پہ تیرا قلم اے احمد مختار ﷺ پھرے

 

رب نے اس واسطے قرآں میں کہا لاتنھر

تیرے در سے کوئی محروم نہ اے یار پھرے

 

کعبہ قبلہ ہے مگر ہے یہ تمنا یا رب

جب مروں منہ طرفِ روضۂِ سرکار پھرے

 

رب کی مرضی ہے ادھر آپ کی مرضی ہے جدھر

کعبہ قبلہ بنے جس وقت رخِ یار پھرے

 

پھر بھی آغوش میں لے لیتی ہے رحمت اس کو

 چاہے توبہ سے گنہگار وہ سو بار پھرے

 

مجھ سے دربارِ محمد ﷺ کی نہ پوچھو ساجدؔ

ایسا دربار نہ دیکھا کئی دربار پھرے


Share:

11/21/21

ہے مصطفےﷺ دا چین تے قرار فاطمہؓ || منقبت سیدہ خاتون جنت فاطمہ زہرہ رضی اللہ تعالی عنھا

ہے مصطفےﷺ دا چین تے قرار فاطمہؓ

مولا علیؓ دے گھر دا سنگھار فاطمہؓ

 

بنت رسول پارسا ہے طیبہ طاہرہ

شرم وحیا دے ملک دی سالار فاطمہؓ

 

زہرہ جدوں ہے آوندی ہوندے کھڑے حضورﷺ

ایہنوں تعظیم کہہ دیواں یا پیار فاطمہؓ

 

 اعلان ہوسی حشر نوں نظراں جھکا لوو

والد دی لے کے آئی اے دستار فاطمہؓ

 

خیر النسائے عالمیں  فرمانِ مصطفےﷺ

نسلِ رسول پاک دی ہے بہار فاطمہؓ


Share:

11/4/21

بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے || کب کا رسوا میرے اعمال مجھے کر دیتے || دے بھی سکتاہوں نصیر اینٹ کا پتھر سے جواب || کلام نصیر الدین نصیر شاہ رحمۃ اللہ علیہ


 

بس یہی سوچ کے پہروں نہ رہا ہوش مجھے

 کر دیا ہو نہ کہیں تُو نے فراموش مجھے

 

تیری آنکھوں کا یہ میخانہ سلامت ساقی

 مست رکھتا ہے ترا بادہ ء سرجوش مجھے

 

 ہچکیاں موت کی آنے لگیں اب تو آجا

 اور کچھ دیر میں شاید نہ رہے ہوش مجھے

 

 کب کا رسوا میرے اعمال مجھے کر دیتے

میری قسمت کہ ملا تجھ سا خطا پوش مجھے

 

 کس کی آہٹ سے یہ سویا ہوا دل جاگ اُٹھا

 کر دیا کس کی صدا نے ہمہ تن گوش مجھے

 

 یاد کرتا رہا تسبیح کے دانوں پہ جسے

 کردیا ہے اُسی ظالم نے فراموش مجھے

 

ایک دو جام سے نیت مری بھر جاتی تھی

 تری آنکھوں نے بنایا ہے بلانوش مجھے

 

 جیتے جی مجھ کو سمجھتے تھے جو اک بارِ گراں

 قبر تک لے کے گئے وہ بھی سرِ دوش مجھے

 

 مجھ پہ کُھلنے نہیں دیتا وہ حقیقت میری

حجلہ ء ذات میں رکھتا ہے وہ رُو پوش مجھے

 

 صحبتِ میکدہ یاد آئے گی سب کو برسوں

 نام لے لے کے مرا روئیں گے مے نوش مجھے

 

 بُوئے گُل مانگنے آئے مرے ہونٹوں سے مہک

 چومنے کو ترے مل جائیں جو پاپوش مجھے

 

 زندگی کے غم و آلام کا مارا تھا میں

 ماں کی آغوش لگی قبر کی آغوش مجھے

 

دے بھی سکتاہوں نصیر اینٹ کا پتھر سے جواب

وہ تو رکھا ہے مرے ظرف نے خاموش مجھے

 

 سید نصیر الدین نصیر رحمۃ اللہ علیہ

Share:

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جاناناں مجھے || اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا میرا || کلام پیر نصیر الدین نصیر شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ


 

ہر طرف سے جھانکتا ہے روئے جاناناں مجھے

محفلِ ہستی ہے گویا   آئینہ خانہ مجھے

 

اک قیامت ڈھائے گا دنیا سے اٹھ جانا میرا

یاد کر کے روئیں گے یارانِ میخانہ مجھے

 

دل ملاتے بھی نہیں دامن چھڑاتے بھی نہیں

تم نے آخر کیوں بنا رکھا ہے دیوانہ مجھے

 

یا کمالِ قرب ہو یا انتہائے بعد ہو

یا نبھانا ساتھ یا پھر بھول ہی جانا مجھے

 

انگلیاں شب زادگانِ شہر کی اٹھنے لگیں

میرے ساقی دے ذرا قندیلِ میخانہ مجھے

 

تو ہی بتلا اس تعلق کو بھلا کیا نام دوں

ساری دنیا کہہ رہی ہے تیرا دیوانہ مجھے

 

جس کے سنّاٹے ہوں میری خاموشی سے ہمکلام

کاش مل جائے نصیرؔ اک ایسا ویرانہ مجھے

Share:

10/11/21

میلاد النبی ﷺ | خطابت کے لیے قیمتی الفاظ | وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ | حضرت عباس رضی اللہ تعالی عنہ کا قصیدہ | وَرَدْتَ نارَ الخَلِيلِ مُكْتَتَمًا في صُلْبِهِ أنتَ، كيفَ يَحتَرِقُ

وَ اِذْ اَخَذَ اللّٰهُ مِیْثَاقَ النَّبِیّٖنَ لَمَاۤ اٰتَیْتُكُمْ مِّنْ كِتٰبٍ وَّ حِكْمَةٍ ثُمَّ جَآءَكُمْ رَسُوْلٌ مُّصَدِّقٌ لِّمَا مَعَكُمْ لَتُؤْمِنُنَّ بِهٖ وَ لَتَنْصُرُنَّهٗؕ اور یاد کرو جب اللہ نے پیغمبروں سے ان کا عہد لیا جو میں تم کو کتاب اور حکمت دوں پھر تشریف لائے تمہارے پاس وہ رسول کہ تمہاری کتابوں کی تصدیق فرمائے تو تم ضرور ضرور اس پر ایمان لانا اور ضرور ضرور اس کی مدد کرنا۔


اس آیہ مبارکہ میں کچھ باتیں ظاہر ہوتی ہیں: (اللہ نے عہد لیا انبیاء کرام سے حالانکہ اللہ تعالی نے نبی بھیجنا نہیں تھا کسی بھی نبی کے زمانے میں تو معلوم ہوتا ہے اللہ چاہتا تھا کہ تمام انبیاء کرام اپنے اپنے زمانے میں میرے محبوب کو ذکر کرتے رہیں۔)

اس آیہ مبارکہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اللہ پاک نے سب سے پہلے اپنے محبوب کو پیدا فرمایا تھا اور حضور ﷺ کا عہدہ بھی چن لیا تھا  اس لیے اب ان سے عہد لیا جا رہا ہے یعنی پہلے سب کچھ طے ہو چکا ہے۔حضورﷺ کے فضائل، کمالات، درجات، عہدے ، مقامِ محمود سب کچھ طے ہو چکا تھا۔  حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت اللہ نے تیرے نبی کے نور کو ساری کائنات سے پہلے پیدا فرمایا: (اس پر کچھ لوگوں نے کہا کہ سب سے پہلے لوح و قلم کو پیدا کیا گیا ) میں نے کہا ہاں ایسا ہی ہے جب کائنات کی تخلیق کی بات کی جائے تو ایسا ہی ہے لوح و قلم کوسب سے پہلے  پیدا کیا مگر سن! یہ لوح وقلم کائنات کا راز ہیں ان پر کائنات کی ہر بات لکھی گئی ہے کائنات کے راز لکھے گئے ، تو لوح و قلم کی تخلیق کا مقصد کائنات کے رازوں کو لکھنا تھا  :: لوح وقلم کی تخلیق سے پہلے یہ سارا منصوبہ جو اللہ تعالی نے بنایا تھا کائنات کی تخلیق کا ،وہ اپنے محبوب ﷺ کے لیے تھا ۔تو  کائنات کی تخلیق کا مقصد مصطفے ﷺ ہیں تخلیق کائنات کا سبب مصطفے ﷺ ہیں، (عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالی عنھما حدیث قدسی بیان کرتے ہیں::وعزتي و جلالي لولاک ما خلقت الجنّة ولولاک ما خلقت الدّنيا. ’’میری عزت و عظمت کی قسم، اگر میں آپ کو پیدا نہ کرتا تو جنت کو بھی پیدا نہ کرتا اور اگر آپ کو پیدا نہ کرتا تو پھر دنیا کو بھی پیدا نہ کرتا۔‘‘ ديلمي، الفردوس بمأثور الخطاب):: لوح و قلم کائنات کا راز ہیں جو بعد میں ہے اور مصطفے ﷺ خدا کا راز ہیں  جو سب سے پہلے ہے۔)

v  ایک یہودی جو کہ مکہ میں تجارت کے لیے آیا تھا کہ ایک دن صبح صبح لوگوں میں شور کرتا آیا اے قریشیو جلدی آو آج کسی کے گھر میں بچہ پیدا ہوا ہے ۔ کسی سردار کے گھر تو حضرت عبد المطلب کے گھر گئے آپ کے ہاں پوتا پیدا ہوا تو دیکھنے کی اجازت دی گئی جب اس نے دیکھا  پشت پر مہر نبوت دیکھی اور چیخا اور بولا ۔ ذھبت النبوۃ من بنی اسرائیل۔ اے بنی اسماعیل اے قریشیو مبارک ہو اللہ کا آخری نبی تم میں پیدا ہو گیا ہے۔

v  دوسری طرف حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں میں 7 یا 8 سال کا لڑکا تھا کہ ایک دن مدینہ میں ایک یہودی عالم شور کرنے لگا لوگو جلدی آو لوگ جب جمع ہو گئے تو کہنے لگا ‘‘احمد کا ستارہ طلوع ہو گیا ہے آج رات کسی بھی لمحے پیدا ہو سکتا ہے’’

محمد سہیل عارف معینیؔ لاہور

 

مِنْ قَبْلِها طِبْتَ في الظِّلالِ وفي

مُسْتَوْدَعٍ حيثُ يُخْصَفُ الوَرَقُ

 

ثُمَّ هَبَطْتَ البِلادَ لا بَشَ رٌ

أنتَ ولا مُضْغةٌ ولا عَلَقُ

 

بَلْ نُطْفةٌ تَرْكَبُ السَّفِينَ وقدْ

أَلْجَمَ نَسْرًا وأهْلَهُ الغَرَقُ

 

وَرَدْتَ نارَ الخَلِيلِ مُكْتَتَمًا

في صُلْبِهِ أنتَ، كيفَ يَحتَرِقُ

 

تُنْقَلُ مِنْ صَالِبٍ إلى رَحِمٍ

إذا مَضىٰ عالَمٌ بَدا طَبَقُ

 

حتَّى احْتَوَىٰ بَيتُكَ المُهَيْمِنُ مِنْ

خِنْدِفَ عَلْياءَ تَحْتَها النُّطُقُ

 

وأنتَ لمَّا وُلِدْتَ أشْرَقَتِ الْ

أرْضُ وضاءَتْ بِنُورِكَ الأُفُقُ

 

فنحنُ في ذلكَ الضِّياءِ وفي النْـ

ـنُورِ، وسُبْلَ الرَّشادِ نَخْتَرِقُ

 

 

عید نبوی کا زمانہ آگیا

آ گیا موسم سوہانا آ گیا

نعرۂِ صل علی کی دھوم ہے

وجد میں سارا زمانہ آ گیا

ہر ستارے میں بڑھی ہے روشنی

ہر کلی کو مسکرانا آ گیا

میرے ہونٹوں پر ہے نعت مصطفےﷺ

ہاتھ بخشش کا خزانہ آ گیا

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive