Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

11/16/23

علامہ ابن خلدون | مقدمہ ابن خلدون | علمی مقام و مرتبہ

علامہ ابن خلدون کا تعارف اور علمی مقام

علامہ ابن خلدون کا مختصر تعارف:                     

                   ابن خلدون کا اصل نام عبد الرحمن بن محمد بن محمد  ہے ان کے اجداد میں ایک خلدون  نام آتا ہے  آپ انہیں کی نسبت سے ابن خلدون کے نام سے مشہور ہوئے۔ ابن خلدون تیونس میں بروز بدھ پہلی رمضان المبارک 732 ہجری[1] میں پیدا ہوئے بچپن میں  ہی ابو عبد اللہ محمد بن سعد بن بُرَّال انصاری سے قرآن مجید حفظ کیا جو قراءت میں امام مانے جاتے  تھے ۔ حفظ کے بعد ابن خلدون نے سبع قراءت پڑھی اور کمال حاصل کیا ۔ قرآن مجید حفظ اور قراءت کا علم حاصل کرنے کے بعد ابن خلدون عربی زبان و ادب کی طرف متوجہ ہوئے اس میدا ن کے عظیم ائمہ لغت سے عربی زبان و ادب کی تعلیم  حاصل کی۔ عربی زبان و ادب کے بعد علم حدیث اور علم فقہ حاصل کیا اور اپنے اساتذہ سے روایت کی سند حاصل کی۔ [2] آپ ایک بھرپور علمی زندگی گزارنے کے بعد 76 سال کی عمر میں 808 ہجری دار فانی سے رخصت ہو گئے۔

          ابن خلدون ہمہ جہت شخصیت کے مالک تھے ذہانت و متانت ، فکر و تدبر ابن خلدون کا خاصہ تھے ۔وہ ایک ماہر تعلیم ،ماہر زبان و ادب ،عظیم محدث ،قابل فقیہ ،ماہر عمرانیات ومعاشیات اور عظیم مورخ تھےاور جدید عمرانیات کے بانی تصور کیے جاتے ہیں۔ تاریخ  میں ایسی شخصیات کم ہی ملتی ہیں جو علوم ِعقلیہ و نقلیہ میں کمال درجہ کو پہنچی ہوں اور لوگوں نے ان کے کام سے کما حقہ استفادہ کیا ہو۔ ماہر تعلیم ہونے کے ساتھ ساتھ آپ ماہر نفسیات بھی تھے ،انہوں نے حصول تعلیم کے لیے نفسیات کےکردار کو واضح کیا ہے۔

علامہ ابن خلدون کا علمی مقام ومرتبہ

          ابن خلدون کی تصنیف مقدمہ کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ فاضل مصنف کا اس زمین کے جغرافیائی خدو خال، انسانی معاشرے، علوم انسانی ، سلاطین اور سلطنتوں ، ریاست کی ضروریات اور اس کے اداروں  سے متعلق کتنا گہرا مطالعہ تھامزید برآں مسلم مفکر ، تاریخ دان اورماہر معاشیات و عمرانیات ہونے کے ساتھ ساتھ اسلامی علوم یعنی قرآن اور تفسیر قرآن، حدیث اور اصول حدیث ، فقہ اور اصول فقہ ، علوم اللسان ، علوم تصوف اورعلم الکلام  پر بھی دسترس حاصل تھی۔ علم الاعداد و ہندسہ پر بھی ید طولی حاصل تھا۔ علامہ ابن خلدون کے سیاسی افکار ان کے  عملی سیاسی مطالعہ کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔علامہ ابن خلدون کے مقدمہ سے چند ایک اقتباسات ان کے علمی مقام و مرتبہ کے بیان کے لیے ذیل میں ذکر کیے جا رہے ہیں:

جغرافیائی تقسیم :

          علامہ ابن خلدون کے افکار کے مطابق جغرافیہ کا اثر  انسانی نفسیات ، رنگ و نسل پر بہت زیادہ ہوتا ہے  ۔اسی طرح اقالیم میں آنے والی قدرتی آفات کا بھی انسانی احوال پر بڑا اثر ہوتا ہے۔ اس حوالے سے علامہ نے جغرافیہ کو ہفت اقلیم میں تقسیم کیا اور وہاں کی آبادی کے خواص ان کے رہن سہن اور تہذیب و تمدن کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان اقالیم میں آبادی کا تناسب اور آبادیوں کے رجحان ، علاقوں کے ماہیت یعنی پہاڑ ، دریا ، ریگستان اور میدانی علاقے کہاں کہاں پائے جاتے ہیں ، یہ تفصیلات مختلف مورخین اور تاجروں کے مشاہدات کی روشنی میں درج کی ہے۔

آبادی کی تقسیم:

          علامہ ابن خلدون نے آبادی کی تقسیم دو طرح سے کی ایک حضری آبادی یعنی شہروں میں آباد اقوام اور دوسرے بدوی لوگ ہیں یعنی دیہاتوں ، پہاڑوں اور ریگساتوں میں  رہنے والے لوگ۔علامہ نے بدوی لوگوں کو حضری لوگوں پر ترجیح دی اور بہت تعریف کی ہے کہ یہ لوگ نیکی کرنے میں حضریوں سے زیادہ  بہتر ہوتے ہیں اسی طرح شجاعت و بہادری کا عنصر میں زیادہ پایا جاتا ہے اور عصبیت جو کہ سلطنت کی مضبوطی کی بنیادی اکائی ہوتی ہے ان بدوی لوگوں میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ دوسری علامہ طرف علامہ لکھتے ہیں کہ بدوی نظام زندگی چلانے کے  شہریوں کے محتاج اور مغلوب ہوتے ہیں کہ انہیں زندگی کی ضروریات شہروں ےس پوری کرنا پڑتی ہیں انہیں اپنا ساز و سامان بیچنے کے لیے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔کھیتی باڑی کے آلات خریدنے کے لیے شہروں میں جانا پڑتا ہے۔

علم تاریخ:

          علامہ ابن خلدون نے  علم تاریخ کی اہمیت بیان کی اور اس کی فضیلت میں لکھتے ہیں کہ یہ ایسا علم ہے کہ اس کے ذریعے ہمیں پہلے لوگوں کے حالات ان کے رہن سہن کے انداز ، مختلف سلطنتوں اور سلاطین کے احوال جاننے کو ملتے ہیں اور سب سے بڑھ کر ہمیں انبیا ئے کرام علیھم السلام کے حالات زندگی اور تعلیمات بھی سیکھنے کو ملتی ہیں ۔ تاریخ کی تدوین کے حوالے سے علامہ نے جو  اسلوب اپنائے ہیں وہ ماقبل مورخین میں ناپید ہیں ۔ علامہ ابن خلدون نے تدوین تاریخ سے متعلق لکھتے ہیں کہ : فللعمران طبائع فی احوالہ ترجع الیھا الاخبار و تحمل علیھا الروایات و الآثار [3]۔ترجمہ: تاریخی روایات کا تعلق عمرانی احوال و طبائع سے ہوتا ہے اس لیے ان آثار اور روایات کو عمرانی احوال و طبائع پر پرکھا جاتا ہے۔  اس اصول کے تحت علامہ نے مختلف مورخین کی تعریف کی ہے جن میں ابن اسحاق ابن جریر طبری وغیرہ اور کچھ مورخین پر جرح بھی کی اور ان کی مختلف روایات پر تبصرہ بھی درج کیا ہے۔ جیسے مسعودی اور واقدی پر بڑی تنقید کی ہے ، مسعودی کے حوالے سے لکھتے ہیں مسعودی نے فرعون سے آزادی کے وقت بنی اسرائیل کی فوج کی تعدا 6 لاکھ بتائی ہے جبکہ حضرت یعقوب علیہ السلام اور حضرت موسی علیہ السلام کے زمانے تک کا عرصہ، اس وقت کے جغرافیائی خد و خال اور عمرانی احوال اس بات کی تصدیق نہیں کرتے ۔ اسی طرح سلاطین یمن و عرب اور سلاطین فارس کے احوال میں ایسے ایسے واقعات بیان کیے گئے جنہیں نا عقل تسلیم کرتی ہے نا جغرافیہ اورنا عمرانی احوال ۔علامہ نے تدوینِِ تاریخ میں روایات کو قبول کرنے اور درج کرنے میں ہونے والی اغلاط کے اسباب بھی بڑی تفصیل سے درج کیے ہیں۔

علم اللسان 

علوم لسانیات میں آپ نے عربی و غیر عربی اور دیہاتی و شہری زبانوں میں فرق بیان کیا۔ زبان کی ترقی کے مراحل زبان کی خصوصیات و نقائص کھول کھول کر بیان کیے ہیں۔علوم لسانیات میں فن شعر و نثر، شعر کی جملہ اصناف،شہری اور دیہاتی شعرا کے کلام کی خصوصیات اور باہمی فرق، شعر اور نثر کے تعلم کے طریقہ کار ، اسلوب ، زباندانی میں کلام یعنی تکلم کی اہمیت کو بیان کیا۔علامہ نے شعری اصناف کا ذکر کرتے ہوئے اشعار بیان کر کے اس کی مثالیں دی ہیں۔

علم الکلام

علم الکلام اور عقلی دلائل سے عقیدہ اسلامیہ پر بحث کی اور عقیدہ توحید کو آسان عقلی دلائل کے ساتھ ثابت کیا ہے۔بعد ازاں علم الکلام کی ضرورت و اہمیت اور اس علم کو اپنانے کی وجوہات تفصیل سے ذکر کی ہیں۔ اس بحث میں قرآنی آیات کو ذکر کر کے مزید جازب بنایا ہے۔علم الکلام، منطق ،فلسفہ کے جملہ جزئیات اور مہارتیں، علم الکلام کی صفات، استدلال اور استدلال کے طریقہ کار، جواب اوراس کے جملہ خواص کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ آپ نے علم الکلام کے ذریعے فرقہ معتزلہ ، امامیہ کے عقائد کی عقلی دلائل سے نفی کی ہے آخر میں علم الکلام کے حوالے سے جنید بغدادی رحمۃ اللہ علیہ کا قول نقل کیا ‘‘طالبان علم کو یہ علم ضرور مفید ہےاس لیے کہ حاملان سنت کو اپنے مذہب کےادلہ عقلیہ  سے بے خبر نہیں رہنا چاہیے’’۔[4]

علم الاعداد و سحر

ابن خلدون سحر اور طلسمات کو بھی زیر بحث لائے اور خاطر خواہ معلومات درج کی ہیں ۔اسی ضمن میں علم الاعداد اور اعداد سے زائچے نکالنے کے انداز اور طریقہ کار کو باقاعدہ زائچے اور نقوش بنا کر ان کی وضاحت کی ہے۔

تصوف

تصوف کے بارے میں تفصیلات بیان کی ہیں تصوف کا معنی و مفہوم بیان کیا ،کہ تصوف صوف سے مشتق ہے صوفیہ نے اپنے لیےیہ لفظ اس لیے استعمال کیا کہ وہ عام لوگوں سے ہٹ کر سادہ اور موٹے اونی کپڑے پہنتے تھے اس لیے صوفیہ کہلائے۔ پھر آپ نے اہلِ تصوف کے  انداز تربیت اورصوفیہ کے مشاہدات و مجاہدات کا ذکر کیا۔ اہلِ شریعت و طریقت اور صوفیہ کے انداز تعلیم و تربیت میں فرق کا ذکر کیا ہے۔مقدمہ میں آپ نے  متقدمین و متاخرین کے ہاں مروج تصوف کے احوال تحریر کیے ہیں۔ امام غزالی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ انہوں نے شریعت و طریقت اور تصوف کو یکجا کر دیا۔[5]

علم تفسیر:

علم تفسیر ، حدیث ، فقہ اور منطق پر آپ نے قرآنی آیات اور دلائل عقلیہ و نقلیہ سے بحث کی۔  آپ نے قرآنی تفسیر کی بنیادی طور پر دو اقسام بیان کی ہیں۔ ایک نقلی تفسیر یعنی صحابہ کرام تابعین اور تبع تابعین کے اقوال ذکر کیے جاتے ہیں اور دوسری قسم کی وہ تفسیر ہےجس میں علم الکلام علم اللسان کا سہارا لیا جاتا ہے اور حروف و الفاط پر بحث کرتے ہوئے مفاہیم اخذ کیے جاتے ہیں۔ اس میں آپ نے علامہ جار اللہ زمحشری کی تفسیر کشاف کا ذکر کیا اور اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں چونکہ علامہ زمحشری معتزلی تھے تو معتزلہ کے ہاں مروج کلم الکلام کا غلبہ زیادہ ہونے کی وجہ سے عموماً اہل سنت نے اس تفسیر کو پسند نہیں کیا۔قرآں مجید کی تفسیر میں درج چند تاریخی واقعات(باغ ِارم اور شداد) درج کرنے پر مفسرین  پر بھی علامہ نے جغرافیائی اور عمرانی احوال کو سامنے رکھتے ہوئے تنقید کی ۔

علم حدیث:

علم حدیث کے ضمن میں ناسخ و منسوخ کا تذکرہ کیا اور اس پر جن علما نے کام کیا اور اس کی تفصیلات درج کیں ان کا تذکرہ کیا جن میں خاص   امام شافعی اور امام زہری کا ذکر کیا۔جرح و تعدیل اور فن حدیث پر بات کرتے ہوئے صحیح اورضعیف احادیث پر تبصرہ کیا ہے۔احادیث کے قبول ہونے یا ناقابل قبول ہونے کے حوالے سے اصولِ حدیث کے ائمہ کی بیان کردہ اقسام کو بھی زیرِ بحث لائے ہیں۔

Writer: Muhammad Sohail Arif Moeeni (Doctoral Student at University of Education Lahore)

[1]  الحنبلی، عبد الحیی بن العماد، شذرات الذھب ، دار المسیرہ ، بیروت ، لبنان 1979، ج 7 ص76

[2]  ابن خلدون، عبد الرحمن، التعریف بابن خلدون ورحلتہ غربا وشرقا، دارالکتاب اللبنانی ، 1979، صفحہ 20

[3]  ابن خلدون، عبد الرحمن بن محمد، مقدمہ ابن خلدون ، دار الھلال، بیروت لبنان  ،1984، ص 4

[4]  مقدمہ ابن خلدون ، ص467

[5]   ایضاً ، صفحہ 469

 

Share:

11/15/23

امام اور مقتدی | مسجد کا امام | ائمہ کے مسائل | حضرت سعد بن ابی وقاصؓ | امام صحابی

ہر مسجد میں تین چار ایسے بندے لازمی ہوتے ہیں جو امام کے ساتھ مفت کی دشمنی پالتے ہیں۔

 مسجد کا امام ہونا بھی عجیب منصب ہے کوئی بھی شخص امام پر اعتراض کر سکتا ہے اور کوئی بھی ڈانٹ ڈپٹ کا حق رکھتا ہے۔ امام کیسا بھی عالی مرتبہ اور عظیم کردار کا مالک کیوں نہ ہو مقتدیوں کی جلی کٹی باتوں سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

 حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو دیکھیےجلیل القدر صحابی ہیں، پہلے پہلے اسلام لانے والوں میں سے ہیں اور عشرہ مبشّرہ میں سے ہیں۔ رسول اللہﷺ جنہیں اپنا ماموں فرما رہے ہیں ،ان کے حق میں قرآن کی آیتیں نازل ہو رہی ہیں ،واحد ایسے صحابی ہیں جن کے لئے رسول اللہﷺ نے اپنے والد اور والدہ کو جمع کرتے ہوئے فرمایا: فِدَاكَ اَبِیْ وَاُمِّی تجھ پہ میرے ماں اور باپ قربان ۔جن کے دل میں کسی مسلمان کے لئے بغض وحسد نہ تھا ،مستجاب الدّعوات تہے، رسول اللہﷺ کی معیت میں تمام تر غزوات میں شریک ہوتے ہیں ،راہِ خُدا کے پہلے تیر انداز ہیں ،خود رسول اللہﷺ آپ کو سالارِ لشکر مقرر فرما کر خرار کی جانب روانہ فرماتے ہیں، آپ کے ہاتھ پر بہت سی فتوحات ہوئیں ،لیکن جب امارتِ کوفہ کے دوران مصلائے امامت پہ کھڑے ہوتے ہیں تو کوفہ والوں کے اعتراضات کا محور بن جاتے ہیں کوفہ والے حضرت عمر فاروقؓ کو شکایات بھجواتے ہیں اور ان میں ایک شکایت یہ بھی ہوتی ہے کہ سعد بن ابی وقاصؓ نماز ٹھیک نہیں پڑھاتے وہ شخص جس نےنماز اللہ  کے نبی ﷺ سے سیکھی اس شخص کی نماز پر دیہاتیوں کا اعتراض.!!!.....

بالکل آج کل جیسے حالات کا منظر پیش کر رہا ہے آج کے آئمہ نے نماز اگرچہ براہ راست رسول اللہﷺ سے نہیں سیکھی مگر رسول اللہﷺ کے اقوال سے سیکھی ہے، ان علماء کو نشانۂ تنقید بنایا جاتا ہے۔

 بہر حال! جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت حضرت عمر فاروقؓ تک پہنچتی ہے تو عمر فاروقؓ تحقیقِ احوال کے لیے کوفہ والوں کی طرف محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللہ بن ارقمؓ  کو بھیجتے ہیں جو ایک ایک مسجد میں جا کرحضرت سعد بن ابی وقاصؓ کے بارے میں پوچھتے ہیں، حیرت کی بات ہے کہ شکایات کوفہ سے چل کر مدینہ پہنچیں، لیکن محمد بن مسلمہؓ اور عبد اللہ بن ارقمؓ جس سے بھی سوال کرتے ہیں تو جواب میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی تعریف ہی سننے کو ملتی ہے ۔ایک ایک مسجد میں جا کر پوچھا لیکن کسی کی طرف سے کوئی اعتراض موصول نہیں ہو،ا البتہ جب پوچھتے پوچھتے سلسلہ بنو عبس کی مسجد تک پہنچا تو صرف ایک شخص "اسامہ بن قتادۃ" نامی اٹھ کر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کی شکایت کرتا ہے کہ آپ کی نماز ٹھیک نہیں۔یہ جہاد کے سلسلے میں کوتاہی کرتے ہیں اور فیصلے میں عدل وانصاف سے کام نہیں لیتے. اعتراض کچھ بھی تھا لیکن یہاں انتہائی قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ شکایات کوفہ سے مدینہ بھیجی گئیں لیکن کوفہ کی کسی مسجد میں ایک شخص کے علاوہ کوئی اعتراض کرنے والا نہیں ملتا، یہ حقیقت تاریخ کا حصہ اور لائقِ اعتماد کتب میں موجود ہے کہ جانچ پڑتال کے دوران صرف ایک ہی ایسا آدمی ملا جسے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ پر اعتراض تھا لیکن شکایات مدینہ بھجوائی گئیں اور یہ تاثر دیا گیا کہ اگر حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول نہ کیا گیا تو فتنہ وفساد کا اندیشہ ہے اور پھر عمر فاروقؓ نے حضرت سعد بن ابی وقاصؓ کو معزول کر بھی دیا اس حقیقت کے پیشِ نظر یہ کہنا ہرگز بے جا نہ ہو گا

کہ بعض اوقات صرف ایک یادو افراد ‘‘مقتدیوں’’  کو امام سے شکایت ہوتی ہے لیکن ان کا پروپیگنڈہ اتنا شدید ہوتا ہے کہ وہ دوسروں کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں کہ "یہ شخص اس منصب کے لائق نہیں"

میں اس مقام پر پروپیگنڈہ کرنے والوں کو دل کے کانوں سے متوجہ ہونے کی دعوت دوں گا اس میں شک نہیں کہ مجھ جیسے ائمہ مساجد لائقِ تعریف نہیں لیکن میرے بھائیو! کبھی آپ کی مسجد کا امام بے قصور بھی ہوتا ہے اور آپ کے اعتراضات بے جا بھی ہوتے ہیں ایسی حالت میں اپنی "انا" کی تسکین کے بجائے اللہ تعالٰی کی پکڑ سے ڈریے اور ذہن میں رکھیے کہ: جب حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نےمعترض کی ناحق باتیں سنی تھیں تو اپنے ہاتھ اللہ جلّ جلالہٗ کے دربار میں اُٹھا کر یہ دعا کی:

 اَللّٰهُمَّ إِنْ كَانَ عَبْدُكَ هٰذَا كَاذِبًا قَامَ رِيَاءً وَسُمْعَةً فَأَطِلْ عُمْرَهٗ وَأَطِلْ فَقْرَهٗ وَعَرِّضْهٗ بِالْفِتَنِ

 اے اللہ! اگر تیرا یہ بندہ جھوٹا ہے اور نام ونمود کی خواہش میں اٹھا ہے تو اس کی عمر کو لمبا کر اس کی محتاجی میں اضافہ کر اور اسے فتنوں میں مبتلا کر۔

 وقت گزر گیا حضرت سعد بن ابی وقاصؓ معزول بھی ہو گئے پروپیگنڈہ جیت گیا لیکن سعد بن ابی وقاصؓ کی دُعا اللہ جلّ جلالہٗ کے ہاں محفوظ رہی اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ وہ شخص انتہائی بڑھاپے کو پہنچا اس کی بھنویں آنکھوں پر گر چکی تھیں راستے میں کھڑے ہو کر بھیک مانگتا اور جب کوئی عورت سامنے سے گزرتی تو اس کے ساتھ چھیڑخانی کرتا۔ لوگ کہتے: اے بوڑھے! تمہیں عورتوں کو چھیڑتے ہوئے حیاء نہیں آتی؟ جواب میں کہتا: میں کیا کروں؟ مجھ بڈھے کو سعد بن ابی وقاصؓ کی بد دعا لگ گئی ہے (صحيح البخاري كتاب الأذان باب وجوب القراءة للإمام والمأموم : 755)

 آج کے دور کا کوئی امام حضرت سعد بن ابی وقاصؓ جیسا تو نہیں لیکن کسی بھی مسلمان پر ناحق اعتراضات کرتے وقت اللہ تعالٰی کی پکڑ کو بھول جانا انتہائی بد نصیبی کی علامت ہے ہم اپنے پروپیگنڈہ میں جیت سکتے ہیں لیکن اللہ جلّ جلالہٗ کے ہاں فیصلے حقائق کی بنیاد پر ہوتے ہیں ان فیصلوں سے بے خوف نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالٰی ہمیں مسجدوں کے نظام میں بہتری لانے کی توفیق بخشے اور مسجد کے امام، خطیب اور انتظامیہ میں سے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری سمجھنے اور اسے حتٰی المقدور نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین۔

 

Share:

11/8/23

تدوین حدیث | علم روایت و علم درایت | مقدمہ ابن صلاح | تدوین اصول حدیث | حدیث کی اقسام

تدوین حدیث |   علم روایت و علم درایت |  مقدمہ ابن صلاح | تدوین اصول حدیث

تدوین و روایت حدیث میں صحابہ کرام انتہائی احتیاط کرتے تھے۔ جب کوئی حدیث مبارکہ بیان کرتا تو حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ اس سے گواہ مانگتے تھے۔ جیسے سیدنا عبید بن عمیر سے روایت ہے انہوں نے کہا: سیدنا ابو موسیٰ اشعری ؓ نے سیدنا عمر فاروق ؓ سے اجازت طلب کی لیکن سیدنا عمر بن خطاب ؓ کو کسی کام میں مصروف پاکر آپ واپس چلے گئے۔ پھر (فراغت کے بعد) سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے کہا: کیا میں نے ابھی عبداللہ بن قیس ؓ کی آواز نہیں سنی تھی؟ انہیں اجازت دے دو۔ جب انہیں بلایا گیا تو سیدنا عمر ؓ نے ان سے پوچھا: تم نے ایسا کیوں کیا؟ انہوں نے کہا: ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے۔ سیدنا عمر ؓ نے کہا: ہمیں یہی حکم دیا گیا ہے سیدنا عمر ؓ نے کہا: اس پر کوئی گواہ پیش کرو بصورت دیگر میں تمہارے ساتھ ایسا ایسا کروں گا۔ سیدنا ابو موسیٰ ؓ یہ سن کر انصار کی مجلس میں گئے تو انہوں نے کہا: اس کے لیے تو ہمارا چھوٹے سے چھوٹا شخص بھی گواہی دے سکتا ہے، پھر سیدنا ابو سعید خدری ؓ اٹھے اور انہوں نے کہا: ہمیں یہی حکم دیا گیا تھا۔ سیدنا عمر ؓ نے فرمایا: مجھ سے نبی ﷺ کا حکم مخفی رہا کیونکہ مجھے منڈیوں میں تجارت نے مشغول کر رکھا تھا۔(صحیح بخاری:7353) اسی طرح سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالی عنہ قسم لیا کرتے تھے۔ سیدنا ابن سیرین رحمۃ اللہ علیہ پوچھا کرتے تھے کہ یہ بات کہاں سے سنی؟ یعنی سند کی پڑتال کرتے تھے اور یہ معاملہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت کے فتنوں کے زمانے سے شروع ہوا۔

علوم حدیث سے متعلقہ چند مشہور تصانیف؛

          1: المحدث الفاصل بین الراوی والواعی  مصنفہ ابن خلاد رامہرمزی (متوفی 360ھ)

          2: معرفۃ علوم الحدیث مصنفہ امام حاکم (متوفی405ھ)

          3:المستخرج علی معرفۃ علوم الحدیث مصنفہ امام ابو نعیم (متوفی 430ھ)

          4:الکفایۃ فی علوم الروایۃ مصنفہ خطیب بغدادی (متوفی 463 ھ)

          5:الجامع لاخلاق الراوی و آداب السامع مصنفہ خطیب بغدادی (متوفی 463ھ)

          6:الماع الی معرفۃ اصول الروایۃ و تقیید السماع مصنفہ قاضی عیاض مالکی (متوفی544ھ)

          7: مالایسع المحدث جھلہ مصنفہ علامہ میان جی (متوفی 580ھ)

          8: علوم الحدیث  المشہور بہ مقدمہ ابن صلاح  مصنفہ حافظ ابن صلاح (متوفی 643ھ)

نوٹ: یہ بہت مشہور اور عمدہ کتاب تھی ، اس کتاب کے بعد ائمہ نے اسی کتاب پر کام کیا ہے۔

 

مقدمہ ابن صلاح

·        امام نووی نے مختصر کیا  اور 676ھ  میں کتاب لکھی :: التقریب و التیسیر لمعرفۃ سنن البشیر النذیر

·        التقریب کی شرح میں امام جلال الدین سیوطی نے911ھ  کتاب لکھی : تدریب الراوی فی شرح تقریب لنواوی

·        806 ھ میں امام عراقی نے اشعار کی صورت میں مقدمہ ابن صلاح میں بیان کردہ اصول و ضوابط بیان کیے ہیں  کتاب کا نام : نظم الدرر فی علم الاثر اس میں ایک ہزار اشعار تھے یہ کتاب   الفیہ عراقی کے نام سے مشہور ہوئی۔

·        الفیہ عراقی کتاب کی شرح لکھی  902ھ میں امام سخاوی نے  فتح المغیث فی شرح الفۃ الحدیث

·        852ھ میں علامہ ابن حجر عسقلانی نے  کتاب  نخبۃ الفکر فی مصطلح الاثر لکھی  یہ کتاب بہت عمدہ تھی ، ترتیب اور نظم بہت اچھا تھا مگر مختصر بہت تھی پھر خود ہی اس کی شرح لکھ دی : نزھۃ النظر شرح نخبۃ الفکر

·        1080 میں امام بیقونی نے علوم حدیث سے متعلق اشعار کی صورت مین کتا ب لکھی: المنظومۃ بیقونیۃ

·        1331 میں جمال الدین قاسمی نے  فوائد الحدیث کتاب لکھی

چند جدید کتب میں درج ذیل کتابیں شامل ہیں:

·        نور الدین عتر   منھج النقد فی علوم الحدیث

·        ڈاکٹر صبحی صالح   علوم الحدیث و مصطلحہ

·        عبد اللہ بن یوسف الجدیع   تحریر علوم الحدیث

·        ڈاکٹر محمود طحان   تیسیر مصطلح الحدیث

 علم الحدیث کی دو قسمیں ہیں

۱: علم الحدیث روایۃً              ۲: علم الحدیث درایۃً

علم الحدیث روایۃً  : (روایتِ حدیث ) علم یشتمل علی نقل الحدیث یعنی ایسا علم جو حدیث کے نقل کرنے پر مشتمل ہوتا ہے  یعنی راوی نے علم الحدیث آگے لوگوں تک روایت کیا ہےے یعنی راوی نے ایک حدیث سنی اور اسے آگے بیان کر دیا اس میں متن اور سند دونوں حصے شامل ہیں

علم الحدیث درایۃً: علم حدیث  کی گہرائی میں جا کر جانچنا یعنی پرکھنا یعنی حدیث کو پرکھنا جانچنا تحقیق کرنا اس میں حدیث کا متن اور سند دونوں شامل ہوتے ہیں۔

علم باصولٍ وقواعدٍ یعرف بھا احوال السند و المتن من حیث القبول و الرد

روایت: نقل الحدیث

درایت: نقد الحدیث

 

حدیث کی چار اقسام ہیں : قول ، فعل ، تقریر، صفت (یعنی جس میں نبی کریم وکی صفات کا بیان ہو)

 

حدیث ، خبر ، اثر

خبر : اس میں تین اقوال ہیں : ۱: حدیث اور خبر ایک ہی چیز ہیں           ۲: خبر حدیث کے متضاد ہے یعنی حدیث کے علاوہ سب خبر ہوتے ہیں         ۳: خبر عام ہے یعنی اس میں حدیث اور خبر دوونوں شامل ہیں۔

اثر: اس میں دو قول ہیں ۱: اثر اور حدیث دونوں ایک ہی چیز ہیں ۲: اقوال صحابہ اور تابعین کے لیے اثر کا لفظ استعمال ہوتا ہے۔

مسند : مسند حدیث : مرفوع متصل حدیث کو مسند کہتے ہیں ۲: مسند کتاب : جس میں صحابہ کے ناموں کی الف بائی ترتیب سے احادیث جمع کی گئی ہوں۔

مُحَدِّث: جو روایت و درایت کے اعتبار سے علم حدیث کے کام مین مثغول ہو جائے اور اس میں حدیث کا حافظ ہونا شرط نہیں اور اسے بہت سی احادیث اور راویوں کا علم ہو۔

الحافظ: تین اقوال ہیں : ۱: محدث کے مترادف ہے ۲: محدث سے درجہ اوپر ہوتا ہے ۳: جس کو ایک لاکھ احادیث یاد ہوں۔

الحجۃ : ایسا محدث جس کو تین لاکھ احادیث یاد ہوں۔

الحاکم : ایسا محڈث جس کو سند و متن اور جرح و تعدیل کے اعتبار سے تقریبا تمام احادیث کا علم ہو ، بہت کم کوئی ایسی حدیث ہو جو اس کو یاد نہ ہو یا اس کو علم نہ ہو۔

 

حدیث کا تعارف اور تقسیمات

حدیث کا تعارف

۱: حدیث کا لغوی معنی: جدید ، گفت گو اور بات

۲: حدیث کی اصطلاحی تعریف: ہر وہ قول ،فعل،تقریر یا صفت جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو حدیث کہلاتی ہے۔

۳: سنت : معنی ، طریقہ راستہ جیسا سُنَّةَ اللّٰهِ الَّتِیْ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۚۖ-وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللّٰهِ تَبْدِیْلًا(سورۃ الفتح:23)

·       محدیثین کی اصطلاح میں سنت حدیث کے ہی مترادف ہے۔

·       جبکہ فقہا کی اصطلاح میں سنت وہ ہے جو فرض کے مقابلے میں استعمال ہو۔

حدیث و سنت میں فرق: علی الاطلاق: حدیث و سنت مترادف ہیں ، اور علی التقابل دونوں میں فرق ہے اور وہ یہ ہے کہ حدیث عام ہے جس میں قول ، فعل، تقریراور صفت چاروں شامل ہیں جبکہ سنت خاص ہے افعال کے ساتھ۔

حدیث نبوی اور حدیث قدسی میں فرق: درذیل چار فرق ہیں :

          ۱: حدیث قدسی میں نبی ﷺ اللہ تعالی کی طرف نسبت کرتے ہیں جبکہ حدیث نبوی میں ایسی کوئی نسبت نہیں ہوتی۔

          ۲: حدیث قدسی تعداد میں بہت کم ہیں جب کہ حدیث نبوی کی تعداد بہت زیادہ ہے۔

          ۳: حدیث قدسی میں خوف ، رج ااور مخلوق کے ساتھ کلام کے بارے میں گفت گو ہوتی ہے، جبکہ حدیث نبوی میں ان تمام موضوعات کت ساتھ ساتھ دیگر موضوعات بھی شامل ہوتے ہیں۔

          ۴: حدیث قدسی بالعموم قولی ہوتی ہے  ، جبکہ حدیث نبوی قولی فعلی تقریر  ہر طرح کی ہوتی ہے۔

حدیث قدسی اور قرآن مجید میں کیا فرق ہے؟:

          ۱: قرآن مجید میں جبریل علیہ السلام کا واسطہ شرط ہے، جبکہ حدیث قدسی میں ایسی کوئی شرط نہیں ہے

          ۲؛ قران مجید سارے کا سارا متواتر ہے جبکہ حدیث قدسی میں صحیح بھی ہیں اور ضعیف بھی ہیں۔

          ۳: قراان مجید کی اجر و ثواب کی نیت سے تلاوت کی جاتی ہے جبکہ حدیث قدسی کی تلاوت نہیں کی جاتی ۔

          ۴: قرآن مجید لفظی اور معنوی طور پر اللہ تعالی کا کلام ہے جبکہ حدیث قدسی میں معنی اللہ تعالی کی طرف سے اور الفاظ نبی کریم ﷺکی طرف سے ہوتے ہیں۔

حدیث کی تقسیمات:

·       نبی کریم ﷺ کی طرف نسبت کے اعتبار سے:

قولی

فعلی

تقریری

وصفی

·       انتہائے سند یا اختتام سند کے اعتبار سے :

حدیث قدسی

مرفوع

موقف

مقطوع (تابعی یا تبع تابعی)

·       راویوں کی تعداد کے اعتبار سے:

۱: متواتر(کم از کم کسی طبقہ میں تعداد دس ہو )

۲: آحاد

آحاد کی تین اقسام ہیں:

مشہور(کم از کم تین راویوں کی تعداد ہو ،

۲: عزیز(کم از کم تعداد دو رہ گئی ہو) 

۳: غریب (کم از کم تعدادایک ہو)

·       قبول ورد کے اعتبار سے  ۱: قبول اور مردود

مقبول کی دو اقسام ہیں :

 مقبول معمول بہ  

مقبول غیر معمول بہ

مقبول معمول بہ کی چار اقسام ہیں

 ۱: صحیح لذاتہ  ۔

 حسن لذاتہ ، 

صحیح لغیرہ

 حسن لغیرہ

مقبول غیر معمول بہ:

۱: مختلف الحدیث

 ۲: منسوخ الحدیث

مردود / ضعیف

1: انقطاع سند کے لحاظ سے: سقوط ظاہر  ۲: سقوط خفی

سقوط ظاہری:      ۱:معنی ،۲: مرسل ،۳: معضل ،۴: منقطع

سقوط خفی:         ۱: مدلس ۲: مرسل خفی

راوی کی عدالت میں طعن کے اعتبار سے : تقوی، پرہیز گاری، دین داری

۱: الکذب (موضوع) ۲: تہمت بالکذب (متروک) ۳: الفسق (منکر) ۴: البدعۃ (ضعیف) ۵: الجھالہ (ضعیف)

راوی کے ضبط میں طعن کے اعتبار سے: حافظہ میں طعن ہونا

فحش الغلط ( منکر)  ۲: کثرت غفلت (نکر) ۳: سوء الحفظ(ضعیف)  ۴: کثرت اوہام ( معلل) ۵: مخالفت ثقات  (شاذ)

۵: مخالفت ثقات  (شاذ)  اس کی مزید پانچ اقسام ہیں : مُدرج  ۲: مقلوب ، ۳: مزید فی متصل الاسانید  ۴: مضطرب ۵: مُصَحَّف/مُحرَّفّ

ماخوذ ازلیکچرز : ڈاکٹر شہزادہ عمران ایوب صاحب

سبجیکٹ: علوم الحدیث

کلاس PHD سیشن 2023  ایجوکیشن یونیورسٹی  لوئر مال کیمپس لاہور

 

Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive