Rabi.ul.awal gives us the message of unity, love , forgiveness, determination and devotion

...

....

وظائف

مختلف وظائف کے لیے کلک کریں

دار المطالعہ

اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی

صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں

گوشہءِ غزل

بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں

5/22/23

نماز میں قرات کیسے کریں؟ how to recite in Pray | فرض نماز سنت نفل کیا ہیں

نماز کی مختلف رکعات میں کیا پڑھا جائے گا ؟ یہ اکثر سوال کیا جاتا ہے آج اس سوال کا تفصیل کے ساتھ جواب دیا جا رہا ہے ۔ آپ سے گزارش ہے کہ چند منٹ کا وقت نکال کر اس تفصیل کو آرام سے پڑھیں تا کہ آئندہ کے لیے آپ کی الجھن ختم ہو جائے۔یاد رہے کہ مکمل تفصیل فقہ حنفی کے مطابق ہے ۔

سب سے پہلے یہ معلوم ہونا چاہیے کہ لازم ہونے یا نہ ہونے کے اعتبار سے  رکعات کی اقسام کتنی  ہیں ۔ درج ذیل ٹیبل میں آپ بخوبی سمجھ سکتے ہیں:

نماز کا نام

سنت مؤکدہ

سنت غیر مؤکدہ

فرض

سنت مؤکدہ

نفل

واجب

نفل

میزان

فجر

2

--

2

--

 

--

--

4

ظہر

4

--

4

2

2

--

--

12

عصر

--

4

4

--

 

--

--

8

مغرب

--

--

3

2

2

--

--

7

عشاء

--

4

4

2

2

3 وتر

2

17

جمعۃ المبارک

4

--

2

4+2

2

--

--

14

 

مختلف رکعات سے متعلق احکام:

فرض: فرض چھوڑنے پر انسان گناہ گار ہوتا ہے اور اللہ تعالی کی طرف سے عتاب کا شکار ہوتا ہے احادیث مبارکہ میں نماز چھوڑنے کی سخت وعید بیان کی گئی ہے۔ فرض کی قضا واجب ہے قضا نماز کی ادائی کسی بھی مکروہ یعنی زوال کے وقت کے علاوہ کی جا سکتی ہے۔

سنت مؤکدہ: فرض رکعات کے علاوہ وہ  بارہ (12)رکعات ہیں جو مختلف نمازوں میں فرض رکعات کے علاوہ پڑھی جاتی ہیں نبی کریم ﷺ نے ان رکعات کو باقاعدگی سے ادا فرمایا تھا اور ان پر مواظبت  اختیار فرمائی تھی اور امت کو ان کے پڑھنے کی تلقین اور فضیلت بیان فرمائی  ہے جیسے : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، ‏‏‏‏‏‏قَالَ:‏‏‏‏ سَأَلْتُ عَائِشَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ التَّطَوُّعِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ يُصَلِّي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا فِي بَيْتِي، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ الْمَغْرِبَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَرْجِعُ إِلَى بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُصَلِّي بِهِمُ الْعِشَاءَ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَدْخُلُ بَيْتِي فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ تِسْعَ رَكَعَاتٍ فِيهِنَّ الْوِتْرُ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ يُصَلِّي لَيْلًا طَوِيلًا قَائِمًا وَلَيْلًا طَوِيلًا جَالِسًا، ‏‏‏‏‏‏فَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَائِمٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَائِمٌ، ‏‏‏‏‏‏وَإِذَا قَرَأَ وَهُوَ قَاعِدٌ رَكَعَ وَسَجَدَ وَهُوَ قَاعِدٌ، ‏‏‏‏‏‏وَكَانَ إِذَا طَلَعَ الْفَجْرُ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ صَلَاةَ الْفَجْرِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .(صحیح مسلم: 730 ،  سنن ابی داود:1251)

 عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ ﷺ کے نوافل کے متعلق معلوم کیا تو انہوں نے کہا :’’ آپ ظہر سے پہلے میرے گھر میں چار رکعتیں پڑھتے تھے ۔ پھر تشریف لے جاتے اور لوگوں کو نماز پڑھاتے ۔ پھر میرے گھر میں لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے ۔ اور آپ لوگوں کو مغرب کی نماز پڑھاتے ، پھر میرے گھر میں لوٹ آتے اور دو رکعتیں پڑھتے ۔ اور آپ انہیں عشاء کی نماز پڑھاتے ، پھر میرے گھر میں تشریف لاتے اور دو رکعتیں پڑھتے اور آپ رات میں نو رکعات پڑھتے ان میں وتر ( بھی ) ہوتا ۔ آپ ایک لمبی رات کھڑے ہو کر نماز پڑھتے اور ایک لمبی رات بیٹھ کر نماز پڑھتے ۔ جب آپ کھڑے ہو کر قراءت کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہو کر کرتے اور سجدہ کرتے اور جب آپ بیٹھ کر قراءت کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر ہی کرتے اور سجدہ کرتے ۔ اور جب فجر طلوع ہو جاتی تو دو رکعتیں پڑھتے ، پھر آپ ( مسجد ) تشریف لے جاتے اور لوگوں کو فجر کی نماز پڑھاتے ۔

فضیلت: أُمَّ حَبِيبَةَ تَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ صَلَّى اثْنَتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً فِي يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ بُنِيَ لَهُ بِهِنَّ بَيْتٌ فِي الْجَنَّةِ (صحیح مسلم:1694)

ترجمہ: حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنھا  کہتی تھیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ’’ جس نے ایک دن اور رات میں بارہ رکعتیں ادا کیں اس کے لیے ان کے بدلے جنت میں ایک گھر بنا دیا جاتا ہے ۔‘‘

حکم: چونکہ نبی کریم ﷺ نے ہمیشگی اختیار فرمائی ہے لہذا کہ واجب کے حکم میں ہیں  ، لہذا انتہائی مجبوری کے بغیر چھوڑنا ہدایت اور افضلیت اور خیر کثیر سے محرومی کا باعث ہے۔ بعض لوگ گناہ گار ہونے کا فتوی بھی دیتے ہیں۔ ان سنتوں کی قضا لازم نہیں ہے۔

سنت غیر مؤکدہ: سنت غیر موکدہ وہ سنتیں اور رکعتیں ہیں جو نبی کریم ﷺ نے کبھی پڑھیں اور کبھی بغیر عذر کے چھوڑی بھی ہیں ۔ ییہ نفل کے حکم میں ہیں پڑھ لینے سے ثواب ہے اور نہ پڑھنے کی صورت میں بندہ گناہ گار نہیں ہوتا ۔ سنت غیر موکدہ صرف عصر اور عشا ء کی فرض نماز سے پہلے ادا کی جاتی ہیں۔

نفل: اضافی رکعات ہیں جن کو پڑھ لینے سے ثواب ہے اور نہ پڑھنے سے گناہ نہیں ہوتا ۔ نہ ان کی قضا ہوتی ہے، نہ ان کو چھوڑنے والے پر کوئی کسی قسم کا فتوی لگایا جا سکتا ہے۔

نماز کی رکعتوں میں کیا کیا؟ کیسے پڑھا جائے گا؟: recitation in salah  

How to pray for offering

دو رکعتوں والی کوئی بھی نماز ہو : فرض ہو ، سنت موکدہ ہو ، نفل ہو  ان میں قراءت کی ترتیب درج ذیل ہے:

پہلی رکعت: ثناء + تعوذ+ تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

دوسری رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

نوٹ : تمام نمازوں میں چار رکعات  پڑھنی ہوں ، تین پڑھنی ہوں یا دو ہی پڑھنی ہوں : پہلی دو رکعتوں میں اسی طرح اسی ترتیب سے تلاوت کی جائے گی  البتہ:   ( surah to read in namaz) 

ظہر ، عصر ، مغرب اور عشاء کی فرض نماز کی تیسری  اور چوتھی رکعت میں صرف  تسمیہ+سورہ فاتحہ پڑھی جائے گی۔(اگر  سورہ فاتحہ کے بعد کوئی سورت پڑھ لی غلطی سے تو سجدہ سہو واجب نہیں ہو گا ۔ البتہ جان بوجھ کر نہ پڑھی جائے)

عصر اور عشاء کی سنت غیر مؤکدہ  کی تیسری اور چوتھی رکعتوں میں پہلی دورکعتوں کی طرح ہی تلاوت کی جائے گی وضاحت ہر رکعت کی درج ذیل ہے:

پہلی رکعت: ثناء + تعوذ+ تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

دوسری رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

                   درمیانی قعدہ : یَوْمَ یَقُوْمُ الْحِسَابِ تک پڑھا جائے گا

تیسری  رکعت: ثناء + تعوذ+ تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

چوتھی رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

ظہر کی چار رکعات والی سنت موکدہ کی تلاوت کی ترتیب درج ذیل ہے:

پہلی رکعت: ثناء + تعوذ+ تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

دوسری رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

                   درمیانی قعدہ : عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ  تک پڑھا جائے گا

تیسری  رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

چوتھی رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

وتر کی رکعتوں کی تفصیل درج ذیل ہے:

پہلی رکعت: ثناء + تعوذ+ تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

دوسری رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت

                   درمیانی قعدہ : عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ  تک پڑھا جائے گا

تیسری  رکعت: تسمیہ+سورہ فاتحہ + کوئی بھی قرآن مجید کی سورت یا تین آیات کے برابر تلاوت  + اللہ اکبر کہتے ہوئے رفع یدین کیا جائے گا + دعائے قنوت

 


Share:

5/21/23

Arabic Grammar | علم النحو | عربی قواعد | اسمائے مبنیہ | اسم اشارہ | اسماء استفہام | اسم ضمیر

اسمائے مبنیہ کا اجمالی تعارف

        وہ اسماء، جن کا اعراب عامل کے بدلنے سے نہیں بدلتا ، درج ذیل ہیں :

اسمائے اشارہ: وہ اسماء ہیں، جن کے ساتھ کسی معین چیز کی طرف اشارہ کیا جا تا ہے، جس کی طرف اشارہ کیا جائے ،اسے مُشَار اِلَیْہ کہتے ہیں۔

 مُشَار اِلَیْہ کے قریب اور بعید ہونے کے اعتبار سے اسم اشارہ کی دو قسمیں ہیں: ا۔اسم اشارہ قریب، جیسے هَذَا كِتَابٌ (یہ کتاب ہے )، هٰذِهٖ شَجَرَةٌ (یہ درخت ہے)۔ ۲۔اسم اشارہ بعید، جیسے ذٰلِکَ دُوْلَابٌ (وہ الماری ہے)، تِلْکَ غُرْفَةٌ (وہ کمرہ ہے )

 

اسمائے موصولات: وہ اسماء ہیں ، جوصلہ کے بغیر جملہ کا مکمل جز نہیں بنتے۔ یہ صلہ جملہ اسمیہ ہوتا ہے یا فعلیہ اور اس میں ایک ضمیر ہوتی ہے جو اسم موصول کے مطابق ہوتی ہے، اسے ضمیر عائد کہتے ہیں، می درج ذیل ہیں:

 مذكر: اَلَّذِی (جو) اَلَّلذَانِ (جودو) اَلَّذِيْنَ (جوسب) مؤنث:اَلَّتِیْ (جو) اَلَّلتَانِ (جودو) اَلَّاتِيْ، اَللَّوَاتِيْ، اَللَّاءِ (جوسب)

 

 اسمائے استفہام: وہ اسماء ہیں، جن کے ساتھ سوال کیا جا تا ہے۔ جیسے اَیْنَ (کہاں)، مَتٰی (کب)، مَنْ (کون)، مَا( کیاچیز)

 

 اسمائے ضمائر: وہ اسلام میں جو غائب، مخاطب اور متکلم پر دلالت کرتے ہیں۔ جیسے هُوَ (ره)،اَنْتَ (تو)، اَنَا (میں) اسم ضمیر کی دو قسمیں ہیں: 1:منفصل 2: متصل

 1:منفصل ( جدا): وہ اسم ضمیر ہے، جسے دوسرے کلمہ کے ساتھ ملائے بغیر بولا جائے ۔ اس کی دو قسمیں ہیں:1:مرفوع منفصل 2: منصوب منفصل

مرفوع منفصل: جیسے هُوَ، هُمَا، هُمْ، هِيَ، هُمَا، هُنَّ، اَنْتَ، اَنْتُمَا، اَنَا، نَحْنُ

منصوب منفصل:جیسے اِيَّاهُ، اِيَّاهُمَا، اِيَّاهُمْ، اِيَّاهَا، اِيَّاهُنَّ، اِيَّاكَ، اِيَّاىَ، اِيَّانَا

2:متصل: وہ اسم ضمیر ہے، جو دوسرے کلمہ کے ساتھ ملائے بغیر نہ بولا جائے ، اس کی تین قسمیں ہیں:

 ا: مرفوع متصل، جیسے تَ، تُمَا، تُمْ، تِ، تُمَا، تُنَّ وغيره

۲:منصوب متصل،جیسے نَصَرَهٗ، نَصَرَهُمَا، نَصَرَهُنَّ، نَصَرَكَ، نَصَرَنَا وغيره

۳۔ مجرور متصل، یہ اسم اور حرف جر کے ساتھ متصل ہوتی ہیں۔ جیسے، اسم کی مثالیں: كِتَابُهٗ، كِتَابُهُمَا، كِتَابُهُمْ، كِتَابُهُمَا، كِتَابُهُمْ، كِتَابُهَا، كِتَابُهُمَا، كِتَابُهُنَّ الخ، حرف کی مثالیں: لَہٗ، لَهُمَا، لَهُمْ، لَهَا، لَهُمَا، لَهُنَّ، لَكَ، لَكُمَا، لَكُمْ، لَكِ، لَكُمَا، لَكُنَّ، لِيْ، لَنَا

 

اسمائے افعال: وہ اسماء ہیں ، جوفعل کا معنٰی دیں اور اس کی علامتوں کو قبول نہ کریں۔ جیسے هَیْهَاتَ (دور ہوا)، دُوْنَکَ (پکڑ)، بَلْهَ ( چھوڑ )

 

 اسمائے اصوات: وہ اسماء ہیں، جو کسی جاندار یا بے جان چیز کی آواز کو ظاہر کرنے کے لیے ہوں یا حیوانات کو بلانے کے لیے ۔ جیسے اُحْ اُحْ، بَخَّ بَخَّ (وہ آواز جو خوشی کے وقت نکلتی ہے) نِخْ نِخْ۔

 

 مرکبات امتزاجیہ :جیسے سِيْبَوَيْهِ، اَحَدَ عَشَرَ

 

کنایات: وہ اسماء ہیں، جوعد د مبہم یا امر مبہم کو بیان کرنے کے لیے آئیں۔ جیسے کَمْ، كَذَا، كَاَيِّنْ، كَيْتَ ذَيْتَ

 

 ظروف مبنیہ: وہ اسماء ہیں، جو زمان یا مکان پر دلالت کر یں۔ جیسے اِذْ، اِذَا، قَبْلُ، مَتٰی وغیره

 

کلمات شرط: یہ وہ کلمات ہیں جو شرط کا معنی دیتے ہیں اور دو جملوں پر داخل ہوتے ہیں۔جیسے اِنْ، مَنْ، مَا وغيره


Share:

Followers

SUBSCRIBE BY EMAILL

Online People

Blog Archive

Blog Archive