...
....
وظائف
مختلف وظائف کے لیے کلک کریں
دار المطالعہ
اچھے اچھے عنوانات پر کالم پڑھنے کے لیے کلک کریں
صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی
صاحبزادہ محمد عاصم مہاروی چشتی صاحب کی خوبصورت تحریریں پڑھنے کے لیے کلک کریں
گوشہءِ غزل
بہت خوبصورت اردو غزلیں پڑھنے کے لیے کلک کریں
9/29/16
Islamic Informition for All
1. جہاد کے لغوی معنی کوشش کے ہیں۔
2. رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فریضہ حج دس ہجری میں ادا فرمایا۔
3. سنن نسائی کے مصنف امام عبدالرحمان احمد بن علی انسانی ہیں۔
4. حضرت ابوبکر رضہ نے قرآن مجید کی تدوین کا کام حضرت زید بن
ثابت کے سپرد کیا۔
5. جس نے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کی اس نے بلاشبہ اللہ
تعالی کی اطاعت کی۔
6. قرآن مجید کی سب سے طویل سورة البقرہ ہے۔
7. آیت کے معنی عربی زبان میں نشانی کے ہیں۔
8. زبور حضرت داود ؑ پر نازل ہوئی۔
9. آخری الہامی کتاب قرآن مجید ہے۔
10. آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دادا کا نام عبدالمطلب ہے۔
11. پہلی وحی غارِ حرا میں ناذل ہوئی۔
12. قرآن پاک میں کل6666 آیات ہیں۔
13. قرآن مجید میں 114 سورتیں ہیں۔
14. حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے
دادا نے رکھا۔
15. قرآن میں کل سات منزلیں ہیں۔
16. قرآن کی سورة التوبہ کے شروع میں بسم اللہ نہیں پڑھی جاتی۔
17. صلوة تراویح حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دنوں تک پڑھائی۔
18. حسد نیکیوں کو اسطرح کھاجاتا ہے جیسے آگ خشک لکڑی کو کھا جاتی
ہے۔
19. قرآن مجید میں540 رکوع ہیں۔
20. تلاوتِ قرآن پاک کے وقت سکون اور رحمت کا نزول ہوتا ہے۔
21. عقیدہ ختم نبوت قرآن، حدیث اور اجماع تینوں سے ثابت ہوا ہے۔
22. بہترین دعا نماز ہے۔
23. سب سے پہلی لڑائی جو کفار سے ہوئی اسے غزوہ بدر کہتے ہیں اور
آخری کو غزوہ تبوک کہتے ہیں۔
24. نمود و نمائش بھی جھوٹ ہی کی ایک قسم ہے۔
25. عقد کے معنی باندھنا اور گرہ لگانا کے ہیں۔
26. عقیدہ کے معنی باندھی ہوئی چیز کے ہیں۔
27. انسان کے پختہ اور اٹل نظریات کو عقائد کہا جاتا ہے۔
28. تمام پیغمبروں نے اپنی تبلیٰغ کا آغاز عقائد کی اصلاح سے کیا۔
29. اسلامی عقائد میں سب سے پہلا عقیدہ توحید کا ہے۔
30. دنیا کا پہلا انسان عقیدہ توحید ہی کا قائل تھا۔
31. سب سے پہلے انسان حضرت آدمؑ تھے۔
32. شرک کے معنی حصہ داری کے ہیں۔
33. شرک کی تین اقسام ہیں۔
34. اللہ تعالی انسان کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔
35. توحید کے بعد رسالت کا درجہ ہے
36. نبی کے معنی ہیں خبر دینے والا۔
37. انبیاء کی تعدادکم و بیش ایک لاکھ چوبیس ہزار بیان کی گئی ہے۔
38۔رسالت
کے معنی پیغام پہنچانے کے ہیں۔
8/11/16
8/4/16
Important Steps for The Social Reforms :: قرآن مجید اور معاشرتی اصلاح کے رہنما اصول :: مسجد کی معاشرتی اہمیت:: مسجد کی اہمیت
ہمارےے
نزدیک اصلاح کے لئے درج ذیل اقدام نہایت مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔
1۔سب سے پہلے افراد کے ذہنوں میں خدا کا صحیح تصور اور عقیدۂ آخرت
کی اہمیت پر زور دیا جائے۔ نیز شرک سے اجتناب کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔ تاکہ لوگ
اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے افعال میں خداوند کریم کے سامنے جواب دہی کے
تصور کو مردہ نہ ہونے دیں اور صحیح نصب العین اور اعلیٰ و ارفع اقدارِ حیات کے
حصول کی خاطر کوشاں رہیں۔
2۔معاشرے کے اندر کسی ایسے ادارہ کی تشکیل کی جائے جو اصلاح و فساد
کا تعین کرے اور ان تدابیر کو قابلِ عمل بنائے جن سے بگاڑ کی روک تھام ہو سکے۔
دینی نقطۂ نظر سے اس کو ادارہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کہہ سکتے ہیں۔ کیونکہ
امت مسلمہ کی خصوصیت میں یہی بات بیان فرمائی گئی ہے۔
کنتم خیر امت اخرجت للناس
تامرون بالمعروف وتنھون عن المنکر (آل عمران: ۱۱۵)’’تم
وہ بہترین امت ہو جو لوگوں کو بھلائی کا حکم دیتی اور برائی سے روکتی ہے۔‘‘
امت
کے ایک گروہ کیلئے امر بالمعروف ونہی عن المنکر کو فریضہ قرار دیا ہے۔
ولتکن منکم امۃ یدعون الی
الخیر ویامرون بالمعروف وینھون عن المنکر واولئک ھم المفلحون۔
(آل عمران: ۱۰۴)
’’تم
میں سے ایک گروہ ایسا ہونا چاہئے جو بھلائی کی طرف بلائے، اچھے کاموں کا حکم دے
اور برائی سے روکے یہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔‘‘
اس
طرح اگر امت مسلمہ اپنے فریضہ کو پہچانے، اس کا صالح عنصر مجتمع ہو جائے اور اس کا
اپنا ذاتی اور اجتماعی رویہ خالص راستبازی، انصاف، حق پسندی، خلوص اور دیانت پر
مضبوطی سے قائم ہو جائے تو منظم نیکی کے سامنے منظم بدی اپنے لشکروں کی کثرت کے
باوجود شکست کھا جائے گی اور اگر خیر کے علمبردار سرے سے میدا ن میں ہی نہ آئیں
تو میدان لا محالہ علمبردارانِ شر کے ہاتھ میں رہے گا۔
3۔حکومت کو ان صالح لوگوں کے ہاتھ میں ہونا چاہئے جو خیر کو قائم
کریں اور شر کو روک سکیں۔ ’’النَّاسُ عَلٰی دِیْنِ مُلُوْکِھِمْ‘‘
ایک پرانا مقولہ ہے اور غالباً حدیث نبوی سے ہی اخذ کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد
ہے:
اَلْاِسْلَامُ
وَالسُّلْطَانُ اَخَوَانِ تَوْأَمَانِ لَا یَصْلُحُ وَاحِدٌ مِّنْھُمَا اِلَّا
بِصَاحِبِہ فَالْاِسْلَامُ اُسٌّ وَالسُّلْطَانُ حَارِسٌ وَّمَا لَا اُسَّ لَہُ
ھَادِمٌ وَّمَا لَا حَارِسَ لَہ ضَائِعٌ (کنز العمال)
اسلام
اور حکومت و ریاست، دو جڑواں بھائی ہیں۔ دونوں میں سے کوئی ایک دوسرے کے بغیر زندہ
نہیں رہ سکتا۔ پس اسلام کی مثال ایک عمارت کی ہے اور حکومت گویا اس کی نگہبان ہے
جس عمارت کی بنیاد نہ ہو ،گر جاتی ہے اور جس کا نگہبان نہ ہو وہ لوٹ لیا جاتا ہے۔
ایک
اور حدیث ہے:
اِنَّ اللہَ لَیَزَعُ
بِالسُّلْطَانِ مَا لَا یَزَعُ بِالْقُرْآنِ (تفسیر
ابن کثیرؒ ج ۳
ص ۵۹)
’’اللہ
تعالیٰ حکومت کی طاقت سے ان چیزوں کا سد باب کر دیتا ہے جن کا سد باب قرآن سے
نہیں ہو سکتا۔‘‘
حدیث
میں قوم کے بناؤ اور بگاڑ کی ذمہ داری اس کے علماء اور امراء پر رکھی گئی ہے۔
کیونکہ زمامِ کار انہی لوگوں کے ہاتھ ہوتی ہے۔ اگر فرمانروا خدا پرست اور صالح ہوں
تو زندگی کا سارا نظام خیر و صلاح پر چلے گا۔ اور حکومتِ وقت ‘‘ادارہ امر بالمعروف
و نہی عن المنکر‘‘ کی سفارشات پر غور کرے گی۔
4۔معاشرے کا اجتماعی شعور بیدار کیا جائے کہ کوئی شخص بھی بگاڑ کی
طرف مائل نہ ہو۔ اس کے شعور کی تعمیر و ترقی کے لئے ’’ادارہ امر بالمعروف و نہی عن
المنکر‘‘ مندرجہ ذیل طریق اختیار کر سکتا ہے۔
(الف) تعلیم و تبلیغ کے زریعے وہ تمام صورتیں اختیار کی جا سکتی ہیں۔ جو
دورِ حاضر میں نشر و اشاعت کے کام میں لائی جاتی ہیں۔ مثلاً اخبارات، ریڈیو، ٹیلی
ویژن مذاکرات وغیرہ کے ذریعہ سے دینی اقدار اور اسلامی طرزِ حیات کی تفہیم کو فروغ
دینے کی کوشش کی جائے، حقیقت یہ ہے کہ دورِ حاضر میں یہ ذرائع عوامی رجحانات کو
بدلنے اور نیا رخ دینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرے کے اندر غلط رجحانات کی
ترویج میں ان اداروں کا بڑا حصہ ہے۔
(ب)
یہ ادارہ معیاری معاشرت
کے لئے عمدہ نمونہ اور مثال پیش کرے جس کی نہج پر پورے معاشرے کو ڈھالا جا سکے۔
نبی کریم ﷺ نے جن اصولوں کو بیان کیا تھا، ان اصولوں پر مبنی ایک سوسائٹی مدینہ
طیبہ میں تشکیل دی تھی اس معاشرہ کا ہر فرد ان اصولوں کی جیتی جاگتی تصویر تھا۔
لہٰذا اصلاح معاشرہ کے لئے یہ ضروری ہے کہ نمونے کے چند افراد پر مشتمل ایک ایسی
وحدت قائم ہونی چاہئے جس کو سامنے رکھ کر پورے معاشرے کو استوار کیا جا سکے۔
5۔معاشرے میں مسجد کی دینی اور سماجی حیثیت کو اجاگر کیا جائے اور
اصلاح معاشرہ کے لئے مسجد کو مرکزی حیثیت دی جائے کیونکہ نظمِ اجتماعی کے لئے ایک
مرکز کا ہونا ضروری ہے۔ جب تک مسلم سوسائٹی مسجد سے اپنا تعلق مضبوط نہیں کرتی اور
مسجدیں پورے معاشرے پر اثر انداز ہونے کی صلاحیتوں کی حامل نہیں بن جاتیں، اس وقت
تک اصلاح کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔
6۔تعلیمی ادارے معاشرے میں اہمیت کے حامل ہیں۔ معاشرے کے اجتماعی
شعور اور انفرادی تشخص کے ارتقاء کا دارومدار تعلیمی اداروں پر ہے جہاں اساتذہ اہم
کردار ادا کر سکتے ہیں اس لئے ایسے اساتذہ کا انتظام کیا جائے جو طالب علموں میں
اسلامی اقدار کو راسخ کر دیں۔ اس کے علاوہ تعلیمی اداروں میں نصابات کی بھی جانچ
پڑتال کی جائے اور ایسی تمام چیزیں جو روحِ دین کے منافی ہوں، ان کو پڑھاتے وقت
تنقیدی طریقہ اختیار کیا جائے تاکہ طالب علم ان کی حقیقت سے واقف ہو جائیں، نیز ان
داروں میں بنیادی دینی تعلیمات کا انتظام کیا جائے تاکہ طلباء اسلام کی اصلیت اور
اس کی روح سے مکمل واقفیت حاصل کر سکیں۔
7۔دولت اور وسائلِ دولت پر تصرف اس طرح ہو کہ معاشرے میں معاشی نا
انصافی، اسراف، بتذیر، بخل و ظلم اور ارتکازِ دولت نہ ہونے پائے۔ حکومت ان تمام
ذرائع پر پابندی عائد کر دے جو عوامی بہبود کے لئے ضرر رساں ہیں۔ معاشی نظام میں
سود، احتکار و اکتناز، رشوت اور لوٹ کھسوٹ کی تمام صورتیں قانوناً اور حکماً بند
کر دی جائیں تاکہ معاشرہ طبقاتی معاشرت کا شکار نہ ہو۔
8۔معاشرے کی اصلاح کی خاطر حدود و تعزیرات کا نظام بھی قائم کیا
جائے۔ جن کے ذریعے معاشرہ کو ان افراد سے محفوظ کیا جائے جو تعلیمی ترغیبات اور
اخلاقی ذرائع سے اصلاح قبول نہ کریں اور معاشرے کے قانون کی خلاف ورزی کریں۔ حدود
و تعزیرات کے نفاذ سے سماجی جرائم کا انسداد ہو گا اور معاشرہ غیر صالح عناصر کی
فتنہ انگیزیوں سے محفوظ رہے گا۔
9۔سب سے آخر میں اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کا پورا نظام
اسلامی ہو جس میں افراد اور معاشرہ روحِ دین سے سرشار ہو اور غیر اسلامی نظریات سر
نہ اُٹھا سکیں۔ نظام کی تشکیل اس طرح ہو کہ غیر اسلامی نظریات کی بجائے اسلامی
تعلیمات کی گرفت مضبوط ہو۔
لیکن
اس کے ساتھ اتنی ہی اہم بات یہ ہے کہ ہر فرد ’’اپنی اصلاح آپ‘‘ کے اصول کو اپنائے
اور دوسروں کی اصلاح کرنے کے بجائے اپنی اصلاح کرے۔ اصلاح معاشرہ کا آغاز انسان
کی اپنی ذات سے ہوا ہے۔ اس سے وہ پیچیدگی دور ہو جائے گی جو دوسروں کی اصلاح کرنے
کی صورت میں پیش آتی ہے۔ ’’اپنی اصلاح آپ‘‘ کے اصول کا ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ
افراد کے سامنے معیار کا تصور واضح ہو گا اور ہر شخص اس معیار کے مطابق اپنے آپ
کو ڈھالتا چلا جائے گا۔
8/3/16
7/31/16
Pakistani National Things
- قومی دن - یوم پاکستان، 23 مارچ کو منایا جاتا ہے۔ 23 مارچ 1940 کو قرار داد پاکستان منظور ہوئی اور اسی دن پاکستان پا پہلا آئین 1956ء میں منظور ہوا۔
- قومی شاعر - حکیم الامت حضرت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال
- قومی پرچم - اصل مضمون کے لیے دیکھیں قومی پرچم
- گہرا سبز رنگ جس پر ہلال اور پانچ کونوں والا ستارہ بنا ہوا ہے۔ جھنڈے میں شامل سبز رنگ مسلمانوں کی، سفید رنگ کی پٹی پاکستان میں آباد مختلف مذہبی اقلیتوں کی نمائندگی کرتی ہے۔ قومی پرچم گیارہ اگست 1947ء کو لیاقت علی خان نے دستور ساز اسمبلی میں پیش کیا۔
- قومی پھول - یاسمین
- قومی لباس - شلوار قمیض، جناح کیپ، شیروانی (سردیوں میں)
- جانور - مارخور قومی جانور ہے۔ اس کے علاوہ ملک میں پائے جانے والے منفرد جانور نیل گائے، چنکارہ، کالا ہرن، ہرن، چیتا، لومڑی، مارکوپولو بھیڑ، سبز کچھوا، نابینا ڈولفن، مگرمچھ ہیں۔
- قومی پرندہ - پاکستان کا قومی پرندہ چکور ہے۔
- قومی مشروب - گنے کا رس
- قومی کھانا - غیر سرکاری طور پر نہاری۔
- قومی نعرہ - پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا للہ
- یہ نعرہ مشہور شاعر اصغر سودائی نے 1944ء میں لگایا جو تحریک پاکستان کے دوران بہت جلد زبان زدوعام ہو گیا۔ (قابل اعتبار حوالہ درکار ہے) ان کا تعلق سیالکوٹ سے ہے۔
7/28/16
عورت کی فضیلت کے دس اصول A Woman in Islam
عورت کی فضیلت
کے دس اصول:
پہلا اصول: مرد و زن میں
موجود فرق پر ایمانے کا وجوب۔
دوسرا اصول: عمومی پردہ۔
تیسرا صول: خصوصی پردہ۔
چوتھا اصول: گھروں میں رہنا۔
پانچواں اصول:غیر مردوں سے میل جول شرعاً حرام۔
چھٹا اصول:زیب و زینت کا اظہار اور بے پردگی دونوں شرعاً حرام۔
ساتواں اصول:جب اللہ نے زنا حرام کیا تو اس کی طرف لے جانے والے اسباب
بھی حرام کیے۔
آٹھواں اصول:شادی فضیلت کا بہترین تاج ہے۔
نواں اصول:بچوں کو گمراہ کن بنیادوں سے محفوظ رکھنا واجب ہے۔
دسواں اصول:محرم رشتوں اور مومنوں
کی عورتوں کے بارے میں غیرت ہونا لازم ہے۔
مزید تفصیل کے لیے
کتاب ڈاؤن لوڈ کریں اور خود بھی پڑھیں اور دوسروں کو بھی معاشرتی اصلاح کی دعوت دیں۔
7/12/16
Dried fruit and Fruit and their benefits
پس
تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو
جھٹلاؤ گے(القران)
پھل اور
میوہ جات انسانی طبیعت کے لیے موافق ہیں پھلوں اور مواجات میں شکر اور کئی طاقتور
اجزاء پائے جاتے ہیں۔ ان میں زیادہ حصہ پانی کا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ان میں
چکنائی بھی ہوتی ہے۔ بعض میں نشاستہ اور شکر زیادہ ہوتی ہے۔ یہ تمام اجزاء انسانی
جسم کی پرورش کرنے اور طاقت دینے میں بے نظیر ہیں۔
بعض پھلوں میں نمک ، ترش مادہ اور فاسفورس بھی
ہوتا ہے جو جسم میں خون کی خرابی کی اصلاح کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پھلوں اور میوہ
جات میں فولاد اور دیگر مقویات شامل ہوتے ہیں اور ان کے استعمال سے اکثر امراض میں
افاقہ ہوتا ہے۔
ذیل
میں مختصراً چند پھلوں اور میوہ جات کے افعال و خواص کے بارے میں ذکر کیا جا رہا
ہے۔ تا کہ ان کی افادیت سے ہر خاص و عام مستفید ہو سکیں۔
انار: انار بہت ذائقہ دار اور مفید پھل ہے۔ اس کا ہر
جزو مفید ہے۔ طب یونانی میں انار کے دانوں کے علاوہ انار کا چھلکا ، درخت کی چھال
اور جڑ بھی استعمال کی جاتی ہے۔ قدرت نے انار کو مخصوص فوائد سے نوازا ہے۔ میٹھا
انار سرد تر ہے۔ مفرح ہونے کے علاوہ بدن میں تازہ اور عمدہ خون پیدا کرتا ہے۔ جگر
کی حدت اور جگر کی کمزوری میں بے حد مفید ہے۔ کھٹا انار سرد خشک ہوتا ہے۔ خون اور
صفراء کے جوش کو کم کرتا ہے۔ حاملہ خواتین کے لیے بہت مفید ہے۔ جدید تحقیقات کی رو
سے انار کے درخت کی چھال ، پرانی پیچش، پرانے دستوں اور آنتوں کے کیڑوں کو مارنے
میں مفید ہے۔ ریسرچ کے مطابق انار میں لحمیات ، روغنیات نمکیات، فاسفورس اور فولاد
پائے جاتے ہیں جو جسم میں خون کی کمی کو دور اور رنگ کو سرخ کرنے میں مدد گار معاون ہوتے ہیں۔
امراض ہضم میں انار دانہ اور پودینہ کی
چٹنی مفید ہوتی ہے۔ انار موسم سرما کا مفید پھل ہے۔
آم: برطانیہ کے مشہور طبی ڈاکٹر ایڈتھ پیری
کی تحقیق کے مطابق آم میں حیاتین الف اور ج بہت زیادہ مقدار میں ہوتے ہیں۔ قدرت
نے آم میں اور بھی بہت سے غذائی اجزا رکھے ہیں۔جن میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ دار
اجزاء چونا، فاسفورس اور فولاد شامل ہیں۔ غرضیکہ آم لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ طبی
فوائد بھی رکھتا ہے۔ طب یونان کے مطابق آم گرم تر ہے۔ یہ دل دماغ، جگر، معدہ،
آنتوں ، گردہ اور مثانہ کو طاقت دیتا ہے۔ مقوی باہ ہے۔ قبض اور خون کی کمی کو دور
کرتا ہے۔ پیشاب کے ذریعے جسم کے فاضل مادوں کو خارج کرتا ہے۔ خفقان اور کھانسی میں
مفید ہے۔ رنگ بھی نکھارتا ہے۔ بلند فشار خون اور ذیابیطس کے مریضوں کو اسے احتیاط
سے استعمال کرنا چاہیے۔
آم کے پھول مسوڑھوں اور منہ میں ہونے والے دانوں کے لیے بہت مفید
ہیں۔ کچا آم یا کیری کا شربت لو لگ جانے کے علاوہ خون کی خرابی اور پیاس میں بھی
مفید ہے۔
خربوزہ: موم گرما کا مشہور اور بہت
زیادہ کھایا جانے والا پھل ہے۔ خربوزہ
حیاتین سے بھرپور قوت بخش اور بے پناہ غذائیت کا حامل ہے۔ ایک ریسرچ کے مطابق اس
میں تمام پروٹین ، کاربوہائیڈریٹ ، چکنائی، کیلشیم، فاسفورس، فولاد، تانبا اور اس
کے علاوہ وٹامن اے، وٹامن بی اور وٹامن سی
پائے جاتے ہیں۔
موسم
گرما میں بدن کے تیزابی مادے میں اضافہ ہو جاتا ہے جس سے سینے اور معدے میں جلن ،
کھٹی ڈکاروں کا آنا ، پنڈلیوں اور دیگر اعضاء میں درد کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے ۔
ان کیفیات میں خربوزہ کا استعمال بہت زیادہ مفید ہے۔ خربوزہ بدن سے تیزابیت کو
خارج کرتا ہے۔ گردے اور مثانے کو صاف کرتا ہے نیز گردے اور مثانے کی پتھری کو بھی
توڑ کر نکالتا ہے۔ جسم کی کمزوری کو دور کرتا ہے۔ دل اور دماغ کو فرحت بخشتا ہے۔
خربوزے کے چھلکے امراض نسواں میں استعمال ہوتے ہیں۔ خربوزے کے بیجوں کو تربوز،خیارین
اور کدو کے بیجوں کے ساتھ پیس کر دودھ میں ملا کر پینے سے دماغ کی کمزوری اور جسم
کی نقاہت میں افاقہ کرتا ہے۔ خربوزے کے تمام اجزاء بڑے مفید اور کار آمد ہیں۔
بادام: جدید تحقیقات کے مطابق میوہ جات کا
استعمال بھی انسانی جسم کو طاقت پہنچانے اور توانائی کو برقرار رکھنے میں مفید ہے۔
خصوصاً بادام کا ستعمال کہ جس میں پروٹین، چکنائی، نشاستہ دار شکریلے اجزاء ، چونا
اور فاسفورس کے علاوہ حیاتین الف، ب اور ج بھی موجود ہیں۔ یوں بادام غذائی قوت کے
اعتبار سے اکثر غذاؤ ں سے بہتر ہے۔
چکنائی جسم کو فربہ کرتی ہے۔ بادام میں موجود لحمی مواد سے بدن میں طاقت و حرارت
پیدا ہوتی ہے۔ چونا اور فاسفورس دماغ اور اعصاب کیلیے مفید ہیں۔ فولاد خون کی کمی
کو دور کرتا ہے۔ بادام حاملہ خواتین کیلے بہت زیادہ مفید ہوتا ہے۔ جنسی کمزوری دور
کرنے کیلیے بھی اس کا استعمال مفید ہے۔ خصوصاً دماغی کام کرنے والوں کیلیے کسی
نعمت سے کم نہیں۔ سر درد اور دماغ کی خشکی کیلیے روغن بادام کی مالش بھی ایک موثر
علاج ہے۔
پستہ: بادام کا ذکر پستہ کے ذکر کے بغیر
ادھورا لگتا ہے۔ کیونکہ پستہ اور بادام دونوں بہترین مغزیات ہیں یہ ایک ساتھ کئی
پکوانوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ خصوصاً فرنی کی سجاوٹ ان مغزیات کے بغیر مکمل نہیں
ہوتی ۔ پستہ تاثیر میں گرم تر ہے ۔ دل اور دماغ کو قوت دیتا ہے۔ بدن کو موٹا کرتا
ہے، بلغم کو نکالتا ہے، دماغی صلاحیت بڑھاتا ہے اور کھانسی میں بھی مفید ہے۔اطباء
کا تجربہ ہے کہ پستہ گردوں کی کمزوری
کیلیے مفید ہے۔ یہ معدہ اور آنتوں کو قوت
دیتا ہے۔ متلی ، قے اور اسہال میں مفید ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ مغزیات کا مستقل
پروسٹیٹ گلینڈ کو ٹھیک کرتا ہے۔
ناریل؛ طب
یونانی کے مطابق ناریل بڑی مقوی غذاء ہے۔ یہ بدن کو فربہ کرتا ہے اس کے استعمال سے
جسم میں عمدہ اور صاف خون پیدا ہوتا ہے۔ اور اس سے قوت مدافعت بڑھتی ہے۔ نظر کی
کمزوری کو دور کرتا ہے۔ جگر اور گردوں کو طاقت دیتا ہے۔ پیٹ کے کیڑے مارنے کیلیے
بہت مفید ہے۔ جدید طبی تحقیق کے مطابق ناریل بڑی جامع غذاؤں میں شامل ہوتا ہے۔ اس
کے لحمی اجزاء جسم کی افزائش میں حصہ لیتے ہیں۔ ناریل میں موجود نشاستہ دار اجزاء
اور چکنائی جسم میں قوت پیدا کرتی ہے۔ ناریل میں موجود حیاتین الف، ب اور ج جسم کے
مختلف اعضاء یعنی دل ، دماغ ، جلد اور آنکھوں کیلیے بہت مفید ہیں۔ وٹامن سی
انسانی نسل کی بقاء کیلیے بہت اہم ہے اور ناریل میں اس کی موجودگی کی وجہ سے حاملہ
خواتین کے لیے ناریل کا ستعمال بہت مفید ہے۔ اس کے علاوہ وٹامن اے حمل گرنے کے
خطرے کو دور کرتا ہے۔ اس کے کھانے سے بچہ صحت مند اور خوبصورت پیدا ہوتا ہے۔ ناریل
کا تیل بالوں کی نشوو نما کیلیے بہت مفید ہے۔اکثر خواتین کے لمبے اور خوبصورت
بالوں کا راز روغن ناریل میں پوشیدہ ہے۔

























