اللّٰهُمَّ
رَبَّنَآ اَنْزِلْ عَلَیْنَا مَآئِدَةً مِّنَ السَّمَآء تَکُوْنُ لَنَا عِیْدًا
لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَاٰیَةً مِّنْکَ ج وَارْزُقْنَا وَاَنْتَ خَیْرُ
الرّٰزِقِیْنَ۔
ترجمہ: عیسیٰ بن مریم
نے عرض کی: اے اللہ ! اے ہمارے رب! ہم پر آسمان سے ایک دسترخوان اُتار دے جو ہمارے
لئے اور ہمارے بعد میں آنے والوں کے لئے عید اور تیری طرف سے ایک نشانی ہوجائے
اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔
3.
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی الله عنه قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ ﷲِ صلی الله علیه
وآله وسلم: فَإِذَاکَانَ یَوْمُ عِیْدِهِمْ یَعْنِي یَوْمَ فِطْرِهِمْ بَاهٰی
بِهِمْ مَـلَائِکَتَهٗ فَقَالَ: یَا مَـلَائِکَتِيْ، مَا جَزَاء أَجِیْرٍ وَفّٰی
عَمَلَهٗ، قَالُوْا: رَبَّنَا، جَزَائُهٗ أَنْ یُوَفّٰی أَجْرُهٗ. قَالَ:
مَـلَائِکَتِيْ، عَبِیْدِيْ وَإِمَائِيْ قَضَوْا فَرِیْضَتِي عَلَیْهِمْ
ثُمَّ خَرَجُوْا یَعُجُّوْنَ إِلَيَّ بِالدُّعَائِ وَعِزَّتِي وَجَـلَالِي
وَکَرَمِي وَعُلُوِّي وَارْتِفَاعِ مَکَانِي لَأُجِیْبَنَّهُمْ
فَیَقُوْلُ: ارْجِعُوْا قَدْ غَفَرْتُ لَکُمْ وَبَدَّلْتُ سَیِّاٰتِکُمْ حَسَنَاتٍ
قَالَ: فَیَرْجِعُوْنَ مَغْفُوْرًا لَّهُمْ. رَوَاهُ الْبَیْهَقِيُّ.
میری
عزت کی قسم !جب تک تم میرا خیال رکھوگے میں تمہاری لغزشوں پر ستاری کرتا رہوں گا
(اور اُن کو چھپاتا رہوں گا)، میری عزت کی قسم اور میرے جلال کی قسم! میں تمہیں
مجرموں (اور کافروں) کے سامنے ذلیل اور رُسوا نہیں کروں گا ۔ بس! اب بخشے بخشائے
اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ ! تم نے مجھے راضی کردیا اور میں تم سے راضی ہوگیا۔
يَا
عِبَادِي، سَلُونِي، فَوَعِزَّتِي وَجَلَالِي لَا تَسْأَلُونِي الْيَوْمَ شَيْئًا
فِي جَمْعِكُمْ لِآخِرَتِكُمْ إِلَّا أَعْطَيْتُكُمْ، وَلَا لِدُنْيَاكُمْ إِلَّا
نَظَرْتُ لَكُمْ، فَوَعِزَّتِي لَأَسْتُرَنَّ عَلَيْكُمْ عَثَرَاتِكُمْ مَا
رَاقَبْتُمُونِي، فَوَعِزَّتِي لَا أُخْزِيكُمْ وَلَا أَفْضَحُكُمْ بَيْنَ يَدَيْ
أَصْحَابِ الْحُدُودِ۔( رواه البيهقي في شعب
الإيمان"الحديث رقم 3421)
فَهُوَ
فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ (21) فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ (22) قُطُوْفُهَا دَانِیَةٌ(23)
كُلُوْا وَ اشْرَبُوْا هَنِیْٓــٴًـۢا بِمَاۤ اَسْلَفْتُمْ فِی الْاَیَّامِ
الْخَالِیَةِ ( سورہ الحاقہ)
ترجمہ:
تو وہ پسندیدہ زندگی میں ہوگا۔ بلند باغ میں ۔ اس کے پھل قریب ہوں گے۔ (کہا جائے
گا:) گزرے ہوئے دنوں میں جو تم نے آگے بھیجا اس کے بدلے میں خوشگواری کے ساتھ
کھاؤ اور پیو۔
جرم
عصیاں سے رہا ہونے کا چارہ مانگو مانگنے والو محمد کا سہارا مانگو
روز
محشر سے نہ گھبراؤ تڑپنے والو میری سرکار کی رحمت کا اشارا مانگو
ساقیٔ
طیبہ کا ہر جام صدا دیتا ہے جینا چاہو تو مدینے کا نظارا مانگو
اور
مانگو نہ ظہوریؔ بس اس کے سوا اپنے اللہ سے اللہ کا پیارا مانگو
بخدا
اس طرح مانگو جیسے
جناب
ابراہیم علیہ السلام نے اللہ سے اسماعیل علیہ السلام کو مانگا۔۔۔جیسے زکریا علیہ
السلام نے یحی علیہ السلام کو مانگا ۔۔۔ایسے مانگو جیسے جیسے نوح علیہ السلام نےطوفاں
میں اللہ سے نجات طلب کی ، جیسے لوط علیہ السلام نے اپنی قوم سے پناہ مانگی ، جیسے
موس علیہ السلام ی نے سمندر میں رستہ مانگا ، جیسے یونس علیہ السلام نے مچھلی کے
پیٹ میں نجات مانگی ، جیسے جناب مریم علیہا السلام نے سکون مانگا، جیسے ایوب علیہ
السلام نے بیماری سے نجات طلب کی، بخدا ،
نوح علیہ السلام کو طوفاں سے نجات ملی ، لوط علیہ السلام کو قوم سے نجات ملی ،
موسی علیہ السلام کو سمندر میں رستہ ملا، یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ سے نجات
ملی ، مریم علیہا السلام کوسکون ملا ، زکریا علیہ السلام کو یحی علیہ السلام ملے ،
ابراہیم علیہ السلام کو اسماعیل علیہ السلام ملے، جناب ایوب علیہ السلام کو سب کچھ
ملا بلکہ اللہ نے فرماما فَكَشَفْنَا
مَا بِهٖ مِنْ ضُرٍّ وَّ اٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ وَ مِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ رَحْمَةً
مِّنْ عِنْدِنَا یعنی جتنا اس کا تھا
وہ بھی دیا اور اس کی مثل اور بھی دیا ۔۔ تو آؤ آج اپنے رب سے مانگیں کتنا
مانگیں کیا کیا مانگیں ساری حدیں توڑیں اور اللہ سے مانگیں جتنا وہ کریم ہے ، جتنا
رزاق ہے جتنا وہ عظیم ہے ۔۔۔۔۔
میں
نہیں کہتا مجھے کم یا زیادہ دے دے
جتنا
اچھا لگے تجھ کو مجھے اتنا دے دے
اے
کریم آل کا تیری مجھے صدقہ دے دے
میں
کہ ذرہ ہوں مجھے وسعت صحرا دے دے
کہ
تیرے بس میں قطرے کو بھی دریا دینا
سارے
عالم کو ملا فیض جو تیرے گھر سے
یہ
ہے وہ ابر کرم سب پہ برابر برسے
کیوں
گدا تیرا کسی چیز کی خاطر ترسے
تو
کسی کو بھی اٹھاتا نہیں اپنے در سے
کہ
تیری شان کے شایاں نہیں ایسا کرنا
مجھ
پہ بھی چشم کرم اے میرے آقا کرنا
حق
تو میرا بھی ہے رحمت کا تقاضا کرنا