باہر
سے ٹھیک ٹھاک ہوں میں پر میرے حضور
کچھ
ٹوٹ پھوٹ ہے میرے اندر میرے حضور
اللہ میری شکستہ دلی برقرار رکھ
آتے ہیں یاد پہلے سے بڑھ کر میرے حضور
میں
غم زدہ ہوں میری طرف مسکرائیے
میں
گر رہا ہوں تھام لیں آ کر میرے حضور
دست طلب کو چاہے تو نہ بھی دراز کر
دے دیں گے بھیک خود ہی بلا کر میرے حضور
سب
امتوں کی ساری خطائیں ہیں اک طرف
اور
اک طرف عطا کا سمندر میرے حضور
روداد
اپنی کس سے کہوں آپ کے سوا
کوئی
نہیں ہے آپ سے بڑھ کر میرے حضور
قدموں میں بیٹھ کر یہ کرے آپ کی ثنا
دانش کو بھی بلائیے در پر میرے حضور









0 comments:
Post a Comment
Please Give Us Good Feed Back So that we can do more better for man kind. Your Comments are precious for US. Thank You