دل جو ٹوٹا حضورﷺ یاد آئے
اشک نکلا حضورﷺ
یاد آئے
سوچ کر یہ کے میں اکیلا ہوں
میں جو رویا حضورﷺ یاد آئے
نعت سرور میں ڈوب کر جب بھی
خود کو بُھولا حضورﷺ یاد آئے
غرض و غایت کی
بھری دنیا سے
جب میں نکلا حضورﷺ یاد آئے
وہ خدا کے قریب ہے اتنا
جس کو جتنا
حضورﷺ یاد آئے
بے خودی میں جو آنکھ بھر آئی
ضبط بکھرا حضورﷺ یاد آئے
فلسفہ عشق حقیقی کیا ہے
میں جو سمجھا
حضورﷺ یاد آئے
ابن حیدر حسین کے غم میں
دل جو تڑپا حضورﷺ یاد آئے
کون ہر بار بھرم رکھتا ہے
جب بھی سوچا
حضورﷺ یاد آئے
رات سجدہ کیا
خدا کیلئے
سر اٹھایا حضورﷺ
یاد آئے
میری آنکھوں نے
پہلی بار ضیاءؔ
کعبہ دیکھا
حضورﷺ یاد آئے
میں نے سادات کے ہاتھوں کو ضیاءؔ
جب بھی چوما حضورﷺ یاد آئے













