عطرِ ہستی ، شمعِ محفل ، اے نسیمِ
جانفزا
میں ہوں شاعر بے نوا میں نغمہ بلبل
نہیں
مت سناؤ جان جاں مجبوریوں کی داستاں
جانتا ہوں میں تمھارے عشق کے قابل
نہیں
جب سے تیرا غم ملا ہر غم سے فرصت مل
گئی
اب تو کوئی غم بھی تیری یاد میں حائل
نہیں
میری بیماریِ
دل پر ہر
معالج نے کہا
معذرت خواہ ہیں کہ حامیؔ اِس کا کوئی
حل نہیں
زندگی کی وہ حسیں یادیں کہاں اب کھو
گئی
بے تکلف دوستوں میں بھی کوئی محفل
نہیں
اک چوانی لے کہ جو سو سو دعائیں دیتے
تھے
کیا تمھارے شہر میں ایسا کوئی سائل نہیں ؟
دل کو راہِ عشق میں جا کر نچھاور
کیجئے
نقشِ پائے یار جب تک چوم لے یہ دل
نہیں
اب تو تنہائی سے حامیؔ ہو گئی ہے
دوستی
اب تو راتوں کو گئے تک جاگنا مشکل
نہیں
سردار حمادؔ منیر
عطر ہستی نظم، شمع محفل شاعری، سردار حماد منیر شاعری، اداس اردو شاعری، رومانوی اردو نظم
itr e hasti nazm, shama e mehfil poetry, sardar hammad munir poetry, sad urdu poetry, romantic urdu nazm













